سرایا اور ان کی اہمیت: چھوٹے لشکر، امیر کی تقرری، جنگ کے آداب اور جواب دہی — صحیح حدیث کی روشنی میں
سرایا اور ان کی اہمیت: چھوٹے لشکر، امیر کی تقرری، جنگ کے آداب اور جواب دہی — صحیح حدیث کی روشنی میں
ہر مہم میدانِ جنگ نہیں ہوتی۔ کبھی خبر لانا، کبھی قافلے کی نگرانی، کبھی مدد کی پکار — اور ہر صورت میں عہد، امان اور جواب دہی کی حدود۔
سیرت کی کتابوں میں «سریہ» (جمع: سرایا) عام طور پر اس مہم یا دستے کے لیے استعمال ہوتا ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی صحابی کی قیادت میں بھیجا اور آپ خود اس میں شریک نہ ہوئے؛ جس مہم میں آپ خود نکلے اسے «غزوہ» کہتے ہیں۔ یہ اصطلاحی تقسیم بعد کے سیرت نگاروں کی ہے، حدیث کا لفظی حکم نہیں۔ اس مضمون میں سرایا کو ایک وسیع تاریخی اور موضوعاتی جائزے کے طور پر دیکھا گیا ہے؛ ہر مثال میں قرآن، صحیح حدیث، سیرت کی رپورٹ اور مصنف کی تشریح کا فرق واضح رکھا گیا ہے۔ غزوات کی تفصیل بدر سے تبوک تک الگ مضامین میں ہے۔
سریہ کا مطلب صرف «چھوٹی جنگ» نہیں
سرایا کے مقاصد مختلف تھے: دشمن کی نقل و حرکت کی خبر لانا، قافلوں کی نگرانی، کسی قبیلے کی طرف دعوت یا پیغام لے جانا، کسی حلیف کی مدد، یا کسی خطرے کا پیشگی سدِ باب۔ بعض سرایا میں کوئی لڑائی ہوئی ہی نہیں۔ اس لیے سرایا کو صرف «چھوٹی جنگیں» کہنا ان کے اصل کردار کو چھپا دیتا ہے — یہ مدینہ کی نئی ریاست کے انتظامی ڈھانچے کا حصہ تھے: اطلاعات، سفارت، دفاع اور تربیت۔
امیر کی تقرری اور جنگ کے آداب
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو لشکر یا سریے کا امیر مقرر فرماتے تو خاص طور پر اسے اللہ کے تقویٰ اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کی وصیت کرتے، پھر فرماتے: «اللہ کے نام سے، اللہ کی راہ میں لڑو … مالِ غنیمت میں خیانت نہ کرو، عہد نہ توڑو، لاشوں کی بے حرمتی نہ کرو اور بچے کو قتل نہ کرو۔» پھر دشمن کو تین باتوں کی دعوت دینے کا حکم — اسلام، پھر جزیہ، پھر قتال — اور یہ ہدایت کہ اگر وہ امان مانگیں تو اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ نہ دو بلکہ اپنا ذمہ دو، کیونکہ اپنا عہد توڑنا اللہ کا عہد توڑنے سے ہلکا ہے — صحیح مسلم 1731۔
اس ایک حدیث میں سرایا کا پورا نظام نظر آتا ہے: امیر مقرر ہوتا ہے؛ اسے اپنے لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی ہدایت ملتی ہے؛ طاقت کے استعمال کی حدود بتائی جاتی ہیں؛ اور عہد کو اتنا سنجیدہ لیا جاتا ہے کہ اللہ کے نام پر عہد دینے سے روکا جاتا ہے تاکہ کسی غلطی سے اللہ کا نام خراب نہ ہو۔ اسی طرح حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ ایک غزوے میں ایک عورت مقتول پائی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا — صحیح بخاری 3015۔
مثال 1: نخلہ — خبر، اجتہاد اور حرمت والا مہینہ
سیرت اور تفسیر کی روایات کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک چھوٹا دستہ بھیجا جس کا مقصد قریش کی نقل و حرکت کا پتا لگانا تھا؛ نخلہ کے مقام پر قریش کے ایک قافلے سے تصادم ہوا اور حرمت والے مہینے کے آخری دن یا رجب کے بارے میں شبہ پیدا ہو گیا، جس پر قریش نے پروپیگنڈا کیا۔ مؤرخین سورۂ بقرہ کی اس آیت کو اسی مہم سے جوڑتے ہیں:
يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلشَّهْرِ ٱلْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ ۖ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ ۖ وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَكُفْرٌۢ بِهِۦ وَٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِۦ مِنْهُ أَكْبَرُ عِندَ ٱللَّهِ ۚ وَٱلْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ ٱلْقَتْلِ ۗ وَلَا يَزَالُونَ يُقَـٰتِلُونَكُمْ حَتَّىٰ يَرُدُّوكُمْ عَن دِينِكُمْ إِنِ ٱسْتَطَـٰعُوا۟ ۚ وَمَن يَرْتَدِدْ مِنكُمْ عَن دِينِهِۦ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَـٰلُهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ ۖ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ
«وہ آپ سے حرمت والے مہینے میں لڑائی کے بارے میں پوچھتے ہیں؛ کہہ دیجیے: اس میں لڑنا بڑا گناہ ہے، مگر اللہ کی راہ سے روکنا، اس کا انکار، مسجدِ حرام سے روکنا اور اس کے رہنے والوں کو نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بڑا ہے …» (سورۂ بقرہ 2:217)
یہاں ایک ضروری فرق ہے: آیت خود عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ یا نخلہ کا نام نہیں لیتی؛ تفصیلی قصہ سیرت اور تفسیر سے ہے، جب کہ آیت کا متن اس سے وسیع ہے۔ اس لیے نخلہ کو صحیح بخاری یا مسلم کی مسند روایت کہنا درست نہیں۔ اس مثال کا سبق یہ ہے کہ روانگی سے پہلے مقصد اور حکم کا واضح ہونا بعد کی جواب دہی کو آسان کرتا ہے، اور یہ کہ میدان میں کیا گیا اجتہاد وحی کی روشنی میں پرکھا جاتا تھا۔
مثال 2: سریۂ عین — نگرانی اور امانت
صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ایک مہم کو سیدھا «سریۂ عین» کہتی ہے — یعنی ایسا دستہ جس کا کام خبر اور نگرانی سے متعلق تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو اس کا امیر بنایا۔ راستے میں ان کے نشان دیکھے گئے اور بنو لحیان کے ایک گروہ نے ان کا پیچھا کیا؛ عاصم رضی اللہ عنہ اور ان کے بعض ساتھی لڑتے ہوئے شہید ہوئے، اور حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو گرفتار کر کے مکہ میں بیچ دیا گیا، جہاں انہیں شہید کیا گیا — انہوں نے شہادت سے پہلے دو رکعت پڑھنے کی اجازت مانگی اور یہ سنت قائم کی — صحیح بخاری 4086۔ روایت میں پیچھا کرنے والوں کی تعداد اور بعد کی ہر تفصیل یکساں نہیں آتی؛ یہ منظر دکھاتا ہے کہ اطلاعاتی مہمیں بھی خطرناک تھیں اور عاصم رضی اللہ عنہ نے امان کی ایسی پیشکش قبول نہیں کی جس میں «کافر کے ذمے» پر اعتماد ہو۔
مثال 3: بئر معونہ — ہر مشن میدانِ جنگ نہیں ہوتا
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رِعل، ذکوان، عُصیہ اور بنو لحیان کے کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے دشمن کے مقابلے میں مدد کے لیے افراد مانگے۔ آپ نے انصار کے ستر افراد روانہ فرمائے جنہیں ان کے دور میں «قُرّاء» کہا جاتا تھا — دن کو لکڑیاں جمع کرتے اور رات کو نماز پڑھتے۔ بئر معونہ کے مقام پر انہیں دھوکے سے شہید کر دیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک فجر میں ان قبائل کے خلاف قنوت پڑھی — صحیح بخاری 4090۔
یہ مشن لڑائی کے لیے نہیں تھا؛ یہ تعلیم اور مدد کا سفر تھا۔ ہمیں صرف یہ معلوم ہے کہ افراد بھیجے گئے، وہ قراء تھے، اور انہیں دھوکا دیا گیا۔ آگے کی منصوبہ بندی کے اسباق استنباط ہیں، روایت کے الفاظ نہیں۔ اس واقعے سے صحیح مسلم 1731 کی عہد نبھانے والی ہدایت کا پس منظر سامنے آتا ہے: عہد توڑنے کا نتیجہ صرف ایک فرد نہیں بھگتتا، مستقبل کے امن کے وعدے بھی بے اعتبار ہو جاتے ہیں۔
مثال 4: بنو جذیمہ — غلط فہمی، کمان اور جواب دہی
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنو جذیمہ کی طرف بھیجا؛ انہیں اسلام کی دعوت دی گئی تو وہ «أسلمنا» (ہم اسلام لائے) کہنے کے بجائے «صبأنا» (ہم نے دین بدلا) کہنے لگے۔ خالد رضی اللہ عنہ نے بعض کو قتل کیا اور بعض کو قید کر کے ہر شخص کے حوالے کیا اور اگلے دن قیدی قتل کرنے کا حکم دیا؛ ابنِ عمر رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں نے انکار کیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی تو آپ نے دو بار ہاتھ اٹھا کر فرمایا: «اے اللہ! خالد نے جو کیا میں اس سے تیرے سامنے بری ہوں» — صحیح بخاری 4339۔
یہ روایت سرایا کے نظام کا سب سے سخت سبق دیتی ہے: کمان کی غلطی چھپائی نہیں گئی، امیر کی عزت کے باوجود اس کے عمل سے علانیہ براءت کی گئی، اور ماتحت صحابہ کا غلط حکم ماننے سے انکار محفوظ رہا۔ خالد رضی اللہ عنہ «سیف اللہ» ہیں اور ان کی فضیلت اپنی جگہ ہے؛ یہ واقعہ ان کی تنقیص نہیں بلکہ اس نظام کی خوبی دکھاتا ہے جس میں عظیم سپہ سالار بھی جواب دہ ہے۔
سرایا کی اہمیت: ادارہ، نگرانی اور امانت
ان مثالوں سے سرایا کا انتظامی پہلو سامنے آتا ہے۔ ہر سریے کے لیے چند سوال پوچھے جا سکتے ہیں: کون روانہ ہوا، کس کی قیادت میں، اسے کیا ہدایت ملی، امان کے وعدے کیسے نبھائے گئے، اور اگر غلطی ہوئی تو اسے کیسے دیکھا گیا؟ ان سوالات سے سیرت کا نظم سامنے آتا ہے، بغیر اس کے کہ ہم غیر ثابت ادارہ جاتی تفصیلات گھڑ لیں۔ سرایا نے اس نسل کو قیادت، نظم، اطلاعات اور ضبط کی عملی تربیت دی جو بعد میں خلافتِ راشدہ کے بڑے لشکروں کی بنیاد بنی۔
سرایا اور غزوات کی فہرست: تعداد مختلف کیوں؟
سیرت کی مختلف کتابوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے غزوات اور سرایا کی تعداد ایک جیسی نہیں۔ اس کا ایک سبب یہ ہے کہ مؤرخین شمار کے اصول مختلف رکھتے ہیں: کیا بغیر لڑائی کی اطلاعاتی مہم الگ سریہ گنی جائے؟ کیا ایک ہی منزل کے دو مرحلے ایک مہم ہیں یا دو؟ کیا قاصد یا امن کے وفد کو شمار کیا جائے؟ صحیح بخاری میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس غزوات کیے اور زید ان میں سے سترہ میں شریک ہوئے — یہ عدد صرف غزوات کا ہے، سرایا کا نہیں (صحیح بخاری 4471)۔ اس لیے جب کوئی «ستائیس غزوات اور کئی درجن سرایا» کہتا ہے تو وہ ایک مخصوص کتاب کے شمار کی بات کر رہا ہوتا ہے، قطعی حدیث کی نہیں۔
آج کے قاری کے لیے احتیاط اور سبق
- ہر سریے کے بیان میں پوچھیں: یہ صحیح حدیث ہے، سیرت کی رپورٹ ہے، یا مصنف کی تشریح؟
- جنگ کے آداب — عہد، غیر مقاتلین کی حفاظت، لاشوں کا احترام — حکم ہیں، رعایت نہیں (صحیح مسلم 1731؛ صحیح بخاری 3015)۔
- قیادت جواب دہ ہوتی ہے، چاہے وہ کتنی ہی عظیم ہو (صحیح بخاری 4339)۔
- بہت سی مہمیں تعلیم، اطلاع یا مدد کے لیے تھیں؛ انہیں «جنگ» کے خانے میں ڈالنا سیرت کی تحریف ہے۔
- تعداد اور فہرست پر بحث کے بجائے اصولوں اور آداب پر توجہ دیں۔
اہم باتیں ایک نظر میں
- سریہ: وہ مہم جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود شریک نہ ہوئے؛ مقاصد اطلاع، سفارت، مدد، دفاع۔
- امیر کی تقرری کے ساتھ تقویٰ، ساتھیوں سے بھلائی اور جنگ کے آداب کی ہدایت (صحیح مسلم 1731)۔
- نخلہ: تفصیل سیرت/تفسیر سے؛ آیت 2:217 کا متن وسیع ہے۔
- سریۂ عین اور بئر معونہ: عہد شکنی کے نتائج (صحیح بخاری 4086، 4090)۔
- بنو جذیمہ: کمان کی غلطی سے علانیہ براءت (صحیح بخاری 4339)۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
غزوہ اور سریہ میں کیا فرق ہے؟
سیرت نگاروں کی اصطلاح میں غزوہ وہ مہم ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود شریک ہوئے، اور سریہ وہ دستہ جو کسی صحابی کی قیادت میں بھیجا گیا۔
کیا ہر سریے میں لڑائی ہوئی؟
نہیں۔ کئی سرایا اطلاع، دعوت، مدد یا پیغام رسانی کے لیے تھے؛ بئر معونہ کا دستہ قراء پر مشتمل تھا۔
سرایا کی کل تعداد کتنی ہے؟
کتابوں میں مختلف — کیونکہ شمار کے اصول مختلف ہیں؛ کوئی ایک عدد قطعی حدیث سے ثابت نہیں۔
حوالہ جات
- صحیح مسلم 1731 — امیر کی وصیت اور جنگ کے آداب۔
- صحیح بخاری 3015 — عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت۔
- سورۂ بقرہ 2:217 — حرمت والے مہینے میں قتال۔
- صحیح بخاری 4086 — سریۂ عین، عاصم اور خبیب رضی اللہ عنہما۔
- صحیح بخاری 4090 — بئر معونہ۔
- صحیح بخاری 4339 — بنو جذیمہ۔
سیرت کی رپورٹ، صحیح حدیث کے متن اور مصنف کی تشریح کو الگ رکھا گیا ہے؛ تمام صحابہ کا ذکر ادب کے ساتھ لازم ہے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment