غزوۂ بنی مصطلق (مریسیع): صحیح روایت، حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا اور واقعے کے بعد کے مناظر
غزوۂ بنی مصطلق (مریسیع): صحیح روایت، حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا اور واقعے کے بعد کے مناظر
ایک پانی کے گھاٹ پر غیر متوقع مقابلہ، قیدیوں کی زندگیوں پر اثر، اور ایک خاتون کی آزادی کے لیے کی گئی درخواست — بنی مصطلق کا واقعہ صرف لشکر کی روانگی تک محدود نہیں۔
غزوۂ بنی مصطلق، جسے مریسیع کے چشمے کی نسبت سے غزوۂ مریسیع بھی کہتے ہیں، مدنی دور کا وہ غزوہ ہے جس کے ساتھ تین الگ الگ موضوع جڑے ہیں: خود مہم، حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ، اور واپسی پر منافقین کی باتیں اور واقعۂ افک۔ اس مضمون میں ہر موضوع کو اس کے اپنے حوالے کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ اس غزوے کا سن (5 یا 6 ہجری) سیرت نگاروں میں مختلف ہے، اس لیے یہاں ترتیب پر قطعی حکم کے بجائے ثابت شدہ واقعات پر توجہ ہے۔
صحیح روایت میں مہم کا منظر
صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نافع کے واسطے سے روایت ہے: ابنِ عون نے نافع کو لکھ کر پوچھا کہ کیا قتال سے پہلے دعوت دینا ضروری ہے؟ نافع نے جواب دیا کہ یہ ابتدائی دور میں تھا، پھر بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مصطلق پر اس وقت حملہ کیا جب وہ غافل تھے اور ان کے جانور پانی پر پلائے جا رہے تھے؛ ان کے لڑنے والے قتل ہوئے، باقی قیدی بنائے گئے، اور اسی دن جویریہ (رضی اللہ عنہا) قیدی بنائی گئیں۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما خود اس لشکر میں تھے — صحیح بخاری 2541؛ صحیح مسلم 1730۔
اس روایت سے جو ثابت ہے: مقابلہ پانی کے گھاٹ پر ہوا، قبیلہ تیار نہیں تھا، لڑنے والوں اور غیر لڑنے والوں میں فرق رکھا گیا، اور حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا اسی دن قیدیوں میں آئیں۔ جو اس روایت میں نہیں: مہم کا فوری سبب، لشکر کی تعداد، بنی مصطلق کی کسی سازش کی تفصیل۔ یہ باتیں سیرت کی کتابوں میں ہیں — انہیں سیرت ہی کے حوالے سے بیان کرنا چاہیے۔
مقصدِ مہم: صحیح حدیث کیا بتاتی ہے — اور کیا نہیں
سیرت نگار لکھتے ہیں کہ بنی مصطلق کا سردار حارث بن ابی ضرار مدینہ پر حملے کی تیاری کر رہا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملنے پر آپ نے پیش قدمی کی۔ یہ پس منظر معقول اور مشہور ہے مگر صحیح بخاری اور مسلم کی مذکورہ روایت میں درج نہیں؛ اس لیے ہم اسے "سیرت کے مطابق" کہہ کر بیان کرتے ہیں۔ نافع کے جواب کا اصل سیاق ایک فقہی سوال تھا — قتال سے پہلے دعوت — اور یہ کہ جن لوگوں تک اسلام کی دعوت پہلے پہنچ چکی ہو ان کے لیے دوبارہ اعلان شرط نہیں۔ روایت کا یہی زاویہ ہے؛ اسے ایک مکمل جنگی رپورٹ کے طور پر پڑھنا درست نہیں۔
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کی درخواست اور آزادی کا معاملہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے کہ حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا تقسیم میں ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں؛ انہوں نے اپنی آزادی کے بدلے رقم (مکاتبت) طے کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدد مانگنے آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «کیا تم اس سے بہتر چاہتی ہو؟ میں تمہاری مکاتبت کی رقم ادا کر دوں اور تم سے نکاح کر لوں۔» انہوں نے قبول کیا۔ جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جویریہ سے نکاح کر لیا ہے تو انہوں نے کہا: «رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی رشتہ دار!» اور بنی مصطلق کے جو قیدی ان کے پاس تھے سب آزاد کر دیے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کسی عورت کو اپنی قوم کے لیے ان سے زیادہ بابرکت نہیں دیکھا — سنن ابی داود 3931 (سند حسن؛ یہ تفصیل صحیح بخاری کے متن میں نہیں، اس لیے درجہ الگ لکھا گیا)۔
یہ روایت واقعے کا رخ بدل دیتی ہے: جنگ کے قیدی ایک نکاح کے سبب آزاد ہو گئے اور ایک قبیلہ اسلام کے قریب آیا۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا امہات المومنین میں شامل ہوئیں؛ ان کی عبادت کے بارے میں صحیح مسلم میں روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح ان کے پاس سے گزرے تو وہ ذکر میں تھیں اور چاشت کے بعد بھی اسی حال میں پائیں۔
قیدیوں کا ذکر: صحیحین کی ایک دوسری روایت
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوۂ بنی مصطلق میں عرب قیدی ملے، صحابہ نے عزل کے بارے میں سوچا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپ نے فرمایا: «تم ایسا کرو یا نہ کرو، قیامت تک جو جان پیدا ہونی ہے وہ ہو کر رہے گی» — صحیح بخاری 4138؛ صحیح مسلم 1438۔ یہ ایک فقہی اور عقیدے کی روایت ہے — تقدیر کے بارے میں — اور اسے اس غزوے کے ساتھ اس لیے ذکر کیا جاتا ہے کہ راوی نے مہم کا نام لیا۔ اس روایت کو حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے واقعے سے ملا کر ایک ہی بیان بنا دینا سند کی امانت کے خلاف ہے؛ ہر روایت اپنے راوی اور اپنے موضوع کے ساتھ پڑھی جائے۔
واپسی کے سفر میں منافقین کی بات
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوے میں تھے کہ ایک مہاجر نے ایک انصاری کو مارا؛ انصاری نے پکارا «اے انصار!» اور مہاجر نے «اے مہاجرین!» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «یہ جاہلیت کی پکار کیسی؟ … اسے چھوڑ دو، یہ بدبودار ہے۔» عبداللہ بن ابی نے یہ سن کر کہا: «مدینہ لوٹ کر عزت والا ذلیل کو نکال دے گا۔» حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس منافق کی گردن مارنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «چھوڑ دو، لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے» — صحیح بخاری 4905، صحیح بخاری 4907۔ محدثین اور مفسرین کے نزدیک یہ غزوہ بنی مصطلق ہی تھا، اور اسی پر سورۂ منافقون کی آیات اتریں:
يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَآ إِلَى ٱلْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ ٱلْأَعَزُّ مِنْهَا ٱلْأَذَلَّ ۚ وَلِلَّهِ ٱلْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِۦ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَـٰكِنَّ ٱلْمُنَـٰفِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ
«وہ کہتے ہیں: اگر ہم مدینہ لوٹے تو عزت والا ذلیل کو ضرور نکال دے گا؛ حالانکہ عزت اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے لیے ہے، مگر منافق جانتے نہیں» (سورۂ منافقون 63:8)
اس منظر میں قیادت کا ایک درس ہے: ایک اندرونی فتنے کو فوری سزا کے بجائے حکمت سے دبایا گیا، قبائلی نعروں کی مذمت کی گئی، اور امت کے وقار کو ذاتی تکلیف پر مقدم رکھا گیا۔
واپسی کے بعد: افک کا مختصر پس منظر
واقعۂ افک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کا الگ اور بہت بھاری امتحان تھا۔ صحیح بخاری میں وہ خود بیان کرتی ہیں کہ ایک غزوے سے واپسی پر ان کا ہار گم ہوا، وہ قافلے سے پیچھے رہ گئیں، حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا اور قافلے تک پہنچایا؛ بعد میں ان پر بہتان پھیلایا گیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور میں ان کی براءت نازل فرمائی — صحیح بخاری 4141۔ سیرت نگاروں کے مطابق یہ واپسی بنی مصطلق ہی سے تھی۔ اس واقعے کی مکمل تفصیل الگ مضمون کا موضوع ہے؛ یہاں صرف اتنا کہ قرآن نے بہتان کو صرف ایک فرد کا معاملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کا امتحان قرار دیا:
إِنَّ ٱلَّذِينَ جَآءُو بِٱلْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنكُمْ ۚ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَّكُم ۖ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ لِكُلِّ ٱمْرِئٍ مِّنْهُم مَّا ٱكْتَسَبَ مِنَ ٱلْإِثْمِ ۚ وَٱلَّذِى تَوَلَّىٰ كِبْرَهُۥ مِنْهُمْ لَهُۥ عَذَابٌ عَظِيمٌ
«بے شک جو لوگ یہ بہتان لائے وہ تم ہی میں سے ایک گروہ ہیں؛ اسے اپنے لیے برا نہ سمجھو بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے …» (سورۂ نور 24:11)
لَّوْلَآ إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ ٱلْمُؤْمِنُونَ وَٱلْمُؤْمِنَـٰتُ بِأَنفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا۟ هَـٰذَآ إِفْكٌ مُّبِينٌ
«جب تم نے اسے سنا تو مومن مردوں اور عورتوں نے اپنے بارے میں نیک گمان کیوں نہ کیا اور کیوں نہ کہا کہ یہ کھلا بہتان ہے؟» (سورۂ نور 24:12)
قرآن کے اس بیان کو آج کے دور میں افواہ، آن لائن الزام یا بغیر دلیل کسی کی عزت پر حملے کے معاملے میں کبھی ہلکا نہیں لینا چاہیے۔
واقعے کے حوالے سے عام غلط فہمیاں
- غلط فہمی 1: مہم کا سبب صحیح بخاری میں تفصیل سے ہے — نہیں؛ بخاری 2541 اور مسلم 1730 مہم اور انجام بتاتی ہیں، سبب سیرت سے لیا جاتا ہے۔
- غلط فہمی 2: حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کا نکاح جبر تھا — نہیں؛ انہوں نے خود مکاتبت کی مدد مانگی اور نکاح کی پیشکش قبول کی (ابو داود 3931)۔
- غلط فہمی 3: قیدیوں والی روایت (4138) اور جویریہ کی روایت ایک ہی ہیں — نہیں؛ راوی، موضوع اور کتاب الگ ہیں۔
- غلط فہمی 4: افک کا پورا واقعہ بنی مصطلق کے مضمون کا حصہ ہے — نہیں؛ یہ ایک الگ آزمائش ہے جس کا تعلق صرف واپسی کے سفر سے ہے۔
اس مہم کو کیسے یاد رکھیں؟
بنی مصطلق کو تین لفظوں میں یاد رکھیں: گھاٹ، آزادی، اور آزمائش۔ گھاٹ پر مقابلہ (بخاری 2541)؛ ایک نکاح سے پورے قبیلے کی آزادی (ابو داود 3931)؛ اور واپسی پر منافقین کی بات اور افک کی آزمائش جس کا جواب وحی نے دیا (بخاری 4905، 4141؛ سورۂ منافقون اور سورۂ نور)۔ ہر حصے کا حوالہ الگ ہے اور ہر حصے کا درس الگ۔
اہم باتیں ایک نظر میں
- مقابلہ پانی کے گھاٹ پر ہوا؛ لڑنے والے قتل ہوئے، باقی قیدی (صحیح بخاری 2541؛ صحیح مسلم 1730)۔
- حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا نے مکاتبت کی مدد مانگی؛ نکاح کے بعد صحابہ نے بنی مصطلق کے قیدی آزاد کر دیے (ابو داود 3931)۔
- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت تقدیر کے موضوع پر ہے (بخاری 4138؛ مسلم 1438)۔
- واپسی پر منافقین کی بات اور سورۂ منافقون کا نزول (بخاری 4905، 4907؛ 63:8)۔
- افک کا امتحان اور سورۂ نور 24:11-20 کی براءت (بخاری 4141)۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
غزوۂ بنی مصطلق کب ہوا؟
سیرت نگاروں میں 5 ہجری اور 6 ہجری دونوں اقوال ہیں؛ صحیح حدیث سن متعین نہیں کرتی۔
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کون تھیں؟
بنی مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی، جو قیدیوں میں آئیں، مکاتبت کے ذریعے آزادی چاہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ بنیں؛ ان کے نکاح کے سبب قبیلے کے قیدی آزاد ہوئے۔
کیا واقعۂ افک اسی غزوے سے واپسی پر ہوا؟
صحیح بخاری 4141 میں «ایک غزوے» کا ذکر ہے؛ سیرت نگار اسے بنی مصطلق سے واپسی بتاتے ہیں۔
حوالہ جات
- صحیح بخاری 2541؛ صحیح مسلم 1730 — مہم کا منظر۔
- سنن ابی داود 3931 — حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کی مکاتبت اور نکاح۔
- صحیح بخاری 4138؛ صحیح مسلم 1438 — قیدیوں کے بارے میں سوال۔
- صحیح بخاری 4905، 4907؛ سورۂ منافقون 63:8 — منافقین کی بات۔
- صحیح بخاری 4141؛ سورۂ نور 24:11، 24:12 — واقعۂ افک۔
سیرت کی تفصیل اور صحیح حدیث کے متن کو الگ رکھا گیا ہے؛ امہات المومنین اور صحابہ کا ذکر ادب کے ساتھ لازم ہے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment