اسرائے بدر کے ساتھ سلوک: فدیہ، رہائی اور حسنِ سلوک — قرآن اور صحیح روایات کی روشنی میں
اسرائے بدر کے ساتھ سلوک: فدیہ، رہائی اور حسنِ سلوک — قرآن اور صحیح روایات کی روشنی میں
ستر کے قریب قیدی، ایک مشورہ جس میں دو بڑے صحابہ کی رائے مختلف تھی، اگلے دن آنسو، اور ایک وحی جس نے فیصلے پر تبصرہ کیا — بدر کے قیدیوں کا معاملہ سیرت کے سب سے سبق آموز ابواب میں سے ہے۔
غزوۂ بدر کے واقعات الگ مضمون میں آ چکے ہیں۔ یہ مضمون صرف جنگ کے بعد کے ایک سوال پر ہے: قیدیوں کے ساتھ کیا ہوا، فیصلہ کیسے ہوا، قرآن نے اس پر کیا کہا، اور کون سی مشہور تفصیلات صحیح حدیث کی ہیں اور کون سی سیرت اور تاریخ کی۔
بدر کے بعد کا سوال: پہلے فیصلہ، پھر تفصیل
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بدر کے دن جب قیدی پکڑے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: «ان قیدیوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟» ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ ہمارے چچا زاد اور قبیلے کے لوگ ہیں؛ میری رائے ہے کہ ان سے فدیہ لیں، جو کافروں کے مقابلے میں ہماری قوت بنے گا، اور شاید اللہ انہیں اسلام کی ہدایت دے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میری رائے یہ نہیں؛ آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم ان کی گردنیں ماریں، ہر ایک اپنے قریبی رشتہ دار کی — یہ کفر کے سردار اور ائمہ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے پسند فرمائی اور فدیہ لیا۔ اگلے دن عمر رضی اللہ عنہ آئے تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ رو رہے ہیں۔ پوچھا تو آپ نے فرمایا: «مجھ پر تمہارے ساتھیوں کے فدیہ لینے کی وجہ سے (عذاب) پیش کیا گیا، اس درخت سے بھی زیادہ قریب» — اور اللہ نے یہ آیات نازل فرمائیں — صحیح مسلم 1763۔ اسی روایت میں قیدیوں کی تعداد ستر کے قریب بتائی گئی ہے۔
قرآن 8:67-70: تنبیہ، فدیہ اور قیدیوں سے خطاب
مَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَن يَكُونَ لَهُۥٓ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ ٱلدُّنْيَا وَٱللَّهُ يُرِيدُ ٱلْـَٔاخِرَةَ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
«کسی نبی کے لیے مناسب نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک وہ زمین میں (دشمن کا) خون اچھی طرح نہ بہا لے؛ تم دنیا کا سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے» (سورۂ انفال 8:67)
لَّوْلَا كِتَـٰبٌ مِّنَ ٱللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَآ أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
«اگر اللہ کی طرف سے پہلے لکھا ہوا (فیصلہ) نہ ہوتا تو جو تم نے لیا اس پر تمہیں بڑا عذاب پہنچتا» (سورۂ انفال 8:68)
فَكُلُوا۟ مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَـٰلًا طَيِّبًا ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
«پس جو غنیمت تم نے حاصل کی اسے حلال اور پاکیزہ سمجھ کر کھاؤ، اور اللہ سے ڈرو؛ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے» (سورۂ انفال 8:69)
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّمَن فِىٓ أَيْدِيكُم مِّنَ ٱلْأَسْرَىٰٓ إِن يَعْلَمِ ٱللَّهُ فِى قُلُوبِكُمْ خَيْرًا يُؤْتِكُمْ خَيْرًا مِّمَّآ أُخِذَ مِنكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
«اے نبی! جو قیدی تمہارے ہاتھوں میں ہیں ان سے کہہ دو: اگر اللہ تمہارے دلوں میں بھلائی جانے گا تو جو تم سے لیا گیا اس سے بہتر تمہیں دے گا اور تمہیں بخش دے گا؛ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے» (سورۂ انفال 8:70)
ان آیات کو پڑھنے کا درست طریقہ یہ ہے: 8:67-68 فیصلے کی حکمت پر تنبیہ ہیں — یہ کہ ابھی اسلام کی قوت قائم نہیں ہوئی تھی اور دنیا کے سامان کی طرف میلان خطرناک تھا؛ 8:69 لیے ہوئے فدیے کو حلال قرار دیتی ہے؛ اور 8:70 قیدیوں کو امید اور بخشش کی خبر دیتی ہے۔ آیات نہ ہر فرد کے انجام کا ریکارڈ ہیں نہ یہ ثابت کرتی ہیں کہ سب کو فوراً معاف کر دیا گیا۔ اور یہ کہ تنبیہ کے باوجود فیصلہ منسوخ نہیں کیا گیا — فدیہ لیا گیا اور حلال ٹھہرا۔
قیدیوں کے ساتھ خیر کا حکم: ابو عزیز کی روایت
بدر کے قیدیوں کے عملی سلوک کے لیے ایک خاص روایت ابو عزیز بن عمیر سے منقول ہے، جو خود بدر کے قیدیوں میں تھے (اور مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے)۔ طبرانی کی معجم کبیر (22/393) میں ان سے نقل ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت قبول کرو»؛ ابو عزیز کہتے ہیں کہ انصار کا جو گروہ مجھے کھانا دیتا، صبح شام مجھے روٹی دیتا اور خود کھجور کھاتا، اور اگر کسی کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا آ جاتا تو مجھے دے دیتا؛ میں شرم سے واپس کرتا تو وہ پھر لوٹا دیتا۔ ہیثمی نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔ یہ روایت صحیح بخاری یا مسلم کی نہیں — اسے اسی درجے سے بیان کرنا چاہیے۔ قرآن کا عمومی اصول اسی رویے کی تائید کرتا ہے:
وَيُطْعِمُونَ ٱلطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا
«اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں» (سورۂ دہر 76:8)
مفسرین نے اس سورت کے مکی یا مدنی ہونے پر گفتگو کی ہے؛ اس لیے یہ آیت یہاں قیدی کے ساتھ غذا اور انسانی رویے کے عمومی قرآنی اصول کے طور پر دی گئی ہے، بدر کے واقعے کی براہِ راست سند کے طور پر نہیں۔
صحیح بخاری میں ایک اور منظر ہے: بدر کے قیدیوں میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) لائے گئے تو ان پر کپڑا نہیں تھا؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے قمیص تلاش کرائی، اور عبداللہ بن ابی کی قمیص ان کے ناپ کی نکلی جو انہیں پہنائی گئی — صحیح بخاری 3008۔ اور مطعم بن عدی — جس نے طائف سے واپسی پر آپ کو مکہ میں پناہ دی تھی — کے بارے میں آپ نے فرمایا: «اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور ان (قیدیوں) کے بارے میں مجھ سے بات کرتا تو میں انہیں اس کے لیے چھوڑ دیتا» — صحیح بخاری 4024۔ یہ جملہ احسان کا بدلہ احسان سے دینے کی نبوی خو دکھاتا ہے۔
فدیہ، رہائی اور زینب رضی اللہ عنہا کا ہار
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب اہلِ مکہ نے اپنے قیدیوں کا فدیہ بھیجا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر ابو العاص بن ربیع کے فدیے میں ایک ہار بھیجا جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تھا اور انہوں نے زینب کو رخصتی کے وقت دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو سخت رقت طاری ہوئی اور فرمایا: «اگر تم مناسب سمجھو تو اس کا قیدی چھوڑ دو اور اس کا ہار واپس کر دو»؛ صحابہ نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے ابو العاص سے وعدہ لیا کہ وہ زینب کو مدینہ بھیج دیں گے — سنن ابی داود 2692 (محدثین نے اسے حسن/صحیح کہا ہے)۔ اس روایت میں فیصلے کا طریقہ قابلِ غور ہے: قائد نے اپنی بیٹی کے معاملے میں خود حکم نہیں دیا بلکہ صحابہ کی رضامندی مانگی، کیونکہ فدیہ ان سب کا حق تھا۔
فدیے کی مقدار، کس نے ادا کی، کون رہا ہوا — یہ تفصیلات سیرت اور تذکروں کی الگ نقلوں میں مختلف ہیں؛ سیرت میں چار ہزار درہم سے کم تر مقداروں تک کے بیانات اور غریب قیدیوں کو بغیر فدیہ چھوڑنے کا ذکر ہے۔ ہر تفصیل کا مآخذ ساتھ دینا چاہیے۔
ہر قیدی کا ایک ہی انجام نہیں تھا
«سب کو فدیے پر چھوڑ دیا گیا» کہنا بھی سادہ کاری ہے۔ صحیح مسلم 1763 فدیے کے فیصلے کو ریکارڈ کرتی ہے، جب کہ سیرت کی کتابیں دو نامزد افراد (نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط) کے قتل کا ذکر کرتی ہیں، جن کے پچھلے جرائم مکی دور میں ایذا رسانی سے متعلق بیان ہوتے ہیں۔ یہ تاریخی بیانات ہیں؛ ہر شخص کے معاملے میں مآخذ، اس کے پچھلے عمل اور محدثین کی جانچ الگ دیکھنی چاہیے۔ اسی لیے ہر قیدی کو ایک خانے میں رکھنا یا انفرادی معاملات کو نظرانداز کرنا درست نہیں۔
تعلیم کے بدلے رہائی: مشہور روایت کا درجہ
بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشہور بیان ہے کہ جو فدیہ ادا نہیں کر سکتے تھے ان میں سے کچھ نے انصار کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھایا اور یہی ان کا فدیہ بنا۔ یہ بات مسند احمد (ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے) اور سیرت کی کتابوں میں ہے، اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے سیکھنے کا ذکر اسی سلسلے میں آتا ہے۔ مگر «ہر قیدی کو دس بچے پڑھانے تھے» جیسی مخصوص شرط اور ہر قیدی پر اس کے لاگو ہونے کے دعوے کو صحیح بخاری یا مسلم کی روایت کہنا درست نہیں۔ اصل بات اتنی ہے کہ تعلیم کو فدیے کے برابر قدر دی گئی — جو ایک نئی ریاست کی ترجیحات بتاتی ہے — اور یہ بات تاریخی مآخذ کے درجے پر ہے۔
بنی مصطلق اور ثمامہ سے موازنہ: ملتے جلتے الفاظ، الگ واقعات
قیدیوں کے معاملات بعد کے غزوات میں بھی آئے، مگر ہر ایک کا سیاق الگ ہے۔ بنی مصطلق میں حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے سبب قبیلے کے قیدی آزاد ہوئے؛ اور بنو حنیفہ کے سردار ثمامہ بن اثال کو مسجدِ نبوی کے ستون سے باندھا گیا، تین دن تک آپ ان سے نرمی سے پوچھتے رہے، پھر بغیر فدیہ آزاد کر دیا — انہوں نے غسل کیا اور اسلام قبول کیا — صحیح بخاری 462۔ ان واقعات کو بدر کے فیصلے کے ساتھ ملا کر ایک عمومی «پالیسی» نہ بنائیں؛ قرآن نے خود دونوں راستے کھلے رکھے:
فَإِذَا لَقِيتُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فَضَرْبَ ٱلرِّقَابِ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا۟ ٱلْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَآءً حَتَّىٰ تَضَعَ ٱلْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ۚ ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَآءُ ٱللَّهُ لَٱنتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ ۗ وَٱلَّذِينَ قُتِلُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَـٰلَهُمْ
«… پھر جب تم انہیں خوب قابو کر لو تو مضبوط باندھو، پھر یا تو احسان کر کے چھوڑ دو یا فدیہ لے لو، یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار رکھ دے …» (سورۂ محمد 47:4)
مشہور دعووں پر احتیاط
- «قرآن 8:70 ثابت کرتی ہے کہ ہر قیدی کو فوراً معاف کر کے رہا کر دیا گیا» — آیت امید اور مغفرت کی خبر دیتی ہے؛ ہر فرد کے انجام کا ریکارڈ نہیں۔
- «ابو عزیز کا کھانا بخاری میں ہے» — نہیں؛ طبرانی کی معجم کبیر میں ہے، سند حسن۔
- «سب قیدیوں کا ایک ہی انجام ہوا» — مسلم 1763 فدیے کا فیصلہ بتاتی ہے؛ سیرت دو افراد کے قتل کا ذکر کرتی ہے۔
- «ہر قیدی کو دس بچے پڑھانا صحیح حدیث سے ثابت ہے» — تعلیمی فدیہ مسند احمد اور سیرت میں ہے؛ مخصوص عدد اور عمومی اطلاق قطعی نہیں۔
- «فدیہ لینا غلط ثابت ہوا» — تنبیہ آئی مگر 8:69 نے فدیے کو حلال قرار دیا اور فیصلہ برقرار رہا۔
آج کے قاری کے لیے سبق
- بڑے فیصلے مشورے سے ہوئے، اور مختلف رائے رکھنے والے دونوں صحابہ معزز رہے۔
- قیدی کو کھانا، لباس اور عزت دینا نبوی تعلیم ہے — دشمن ہونے کے باوجود۔
- احسان کا بدلہ یاد رکھا جاتا ہے (مطعم بن عدی)۔
- ذاتی تعلق میں بھی اجتماعی حق پر خود فیصلہ نہیں کیا گیا (زینب رضی اللہ عنہا کا ہار)۔
- تعلیم کی قدر فدیے کے برابر — علم ریاست کی ترجیح تھا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
بدر میں کتنے قیدی تھے؟
صحیح مسلم 1763 کے مطابق ستر کے قریب۔
کیا فدیہ لینا غلط تھا؟
8:67-68 میں تنبیہ آئی، مگر 8:69 نے اسے حلال قرار دیا؛ فیصلہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے پر ہوا اور برقرار رہا۔
زینب رضی اللہ عنہا کے ہار کا کیا ہوا؟
صحابہ کی رضامندی سے ہار واپس کر دیا گیا اور ابو العاص بغیر فدیہ رہا ہوئے، اس وعدے پر کہ زینب کو مدینہ بھیجیں گے (ابو داود 2692)۔
حوالہ جات
- صحیح مسلم 1763 — مشورہ، فدیہ اور آنسو۔
- سورۂ انفال 8:67، 8:68، 8:69، 8:70؛ سورۂ محمد 47:4؛ سورۂ دہر 76:8۔
- صحیح بخاری 3008 — عباس رضی اللہ عنہ کی قمیص۔
- صحیح بخاری 4024 — مطعم بن عدی۔
- سنن ابی داود 2692 — زینب رضی اللہ عنہا کا ہار۔
- صحیح بخاری 462 — ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ۔
- طبرانی، معجم کبیر 22/393 — ابو عزیز کی روایت (ہیثمی: حسن)۔
آیت اور حدیث کے متن، سیرت کی تفصیل اور مصنف کی تشریح کو الگ رکھا گیا ہے؛ تمام صحابہ کا ذکر ادب کے ساتھ لازم ہے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment