وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Islamic History› ہرقل کے نام پیغام: دعوتِ اسلام دربارِ روم تک (صحیح بخاری کی روایت)

ہرقل کے نام پیغام: دعوتِ اسلام دربارِ روم تک (صحیح بخاری کی روایت)

نAuthor Nawab
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم • مدنی دور

ہرقل کے نام پیغام: دعوتِ اسلام دربارِ روم تک (صحیح بخاری کی روایت)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں کچھ پیغامات ایسے ہیں جو مدینہ کی حدود سے باہر، دور کے حکمرانوں تک پہنچے۔ ان میں ہرقل، رومی سلطنت کے بادشاہ، کے نام بھیجا گیا خط اور اس کے گرد پیش آنے والا واقعہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس واقعے کا بنیادی حوالہ صحیح بخاری کی روایت ہے، جس میں ابو سفیان خود ہرقل کے سوالات کا ذکر کرتے ہیں۔ روایت صرف ایک خط کا متن نہیں دیتی؛ وہ ایک ایسے لمحے کو بھی دکھاتی ہے جب مکہ کے مخالف سرداروں میں سے ایک شخص، اپنے ہی الفاظ میں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کی سچائی کے ممکنہ اثر کو محسوس کر رہا تھا۔

لکڑی کی میز پر مہر لگا خط، قلم اور دوات

ہرقل کے نام بھیجے گئے پیغام کی علامت: مہر بند خط اور قلم۔

خط کا پس منظر

صحیح بخاری کی پہلی طویل روایت (حدیث 7) کے مطابق ابو سفیان بن حرب شام کے تجارتی سفر پر تھے۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان صلح حدیبیہ کا معاہدۂ امن قائم تھا۔ ہرقل نے انہیں اور ان کے قافلے کے لوگوں کو ایلیاء (بیت المقدس) میں اپنے پاس بلایا۔ روایت بتاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے ذریعے بصریٰ کے حاکم کو دیا گیا، جس نے اسے ہرقل تک پہنچایا۔ اس طرح خط کا سفر دربار تک ایک واسطے سے ہوا؛ یہ کہنا ضروری نہیں کہ حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ نے خط سیدھا ہرقل کے ہاتھ میں دیا، کیونکہ بخاری کی اسی روایت میں حاکمِ بصریٰ کے ذریعے بھیجنے کا ذکر ہے۔

یہ پیغام اس دور سے متعلق ہے جب مدینہ میں مسلم جماعت مضبوط ہو چکی تھی اور باہر کے علاقوں سے رابطہ ممکن تھا۔ سیرت کی عام ترتیب اسے حدیبیہ کے بعد (6–7 ہجری) بادشاہوں کے نام بھیجے گئے خطوط کے سلسلے میں رکھتی ہے، جن میں نجاشی، مقوقس اور کسریٰ کے نام خطوط بھی شامل تھے۔ اس خط کا مقصد ہرقل کے ساتھ کسی فوجی مقابلے کا اعلان نہیں، بلکہ اسلام کی دعوت پیش کرنا تھا۔

پہاڑی راستے پر غروبِ آفتاب کے وقت مسافر کا سامان

شام کے تجارتی راستے: ابو سفیان کا قافلہ بھی اس وقت اسی علاقے میں تھا۔

دربار میں ابو سفیان سے سوال

ہرقل نے اپنے ترجمان کے ذریعے ابو سفیان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سوالات کیے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندانی مقام کیا ہے؟ کیا پہلے کسی نے ایسا دعویٰ کیا؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء و اجداد میں کوئی بادشاہ تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار زیادہ تر کمزور طبقے سے ہیں یا سرداروں میں سے؟ پیروکار بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟ کوئی اسلام لا کر دین سے ناراض ہو کر پلٹا؟ دعوائے نبوت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ کا الزام لگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عہد توڑتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز کا حکم دیتے ہیں؟ ابو سفیان اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف تھے، مگر انہوں نے کہا:

فَوَاللَّهِ لَوْلاَ الْحَيَاءُ مِنْ أَنْ يَأْثُرُوا عَلَىَّ كَذِبًا لَكَذَبْتُ عَنْهُ
«اللہ کی قسم! اگر مجھے اس بات کی شرم نہ ہوتی کہ یہ لوگ (میرے ساتھی) میرا جھوٹ نقل کریں گے تو میں آپ کے بارے میں جھوٹ بول دیتا۔» (صحیح بخاری، حدیث 7)

انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شریف خاندان سے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نے ان کے درمیان ایسا دعویٰ نہیں کیا، آباء میں کوئی بادشاہ نہ تھا، اور عام طور پر کمزور لوگ پہلے ایمان لائے۔ پیروکار بڑھ رہے ہیں اور کسی کے ایمان لا کر پلٹنے کا علم نہیں۔ جھوٹ کا الزام کبھی نہیں لگا۔ عہد کے بارے میں ابو سفیان نے جواب دیا کہ معاہدہ قائم ہے اور معلوم نہیں اس مدت میں وہ کیا کریں گے؛ روایت میں وہ خود کہتے ہیں کہ یہی ایک جملہ تھا جس میں انہیں کچھ کمی کی بات ملانے کا موقع ملا۔ آخر میں بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں: صرف اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، باپ دادا کی باتیں چھوڑ دو؛ اور نماز، سچائی، پاک دامنی اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔ یہ ایک مخالف کی گواہی تھی، لیکن اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کے خلاف کوئی پہلے کا الزام پیش نہیں کیا۔

ہرقل کا استدلال

ہرقل نے ہر جواب پر اپنی سوچ بیان کی: رسول اپنی قوم کے شریف خاندان میں بھیجے جاتے ہیں؛ اگر پہلے کسی نے ایسا دعویٰ کیا ہوتا تو میں کہتا کہ یہ شخص پہلے والے کی نقل کر رہا ہے؛ اگر آباء میں بادشاہ ہوتا تو کہتا کہ یہ اپنے باپ کی بادشاہت مانگ رہا ہے؛ کمزور لوگ ہی رسولوں کے پہلے پیروکار ہوتے ہیں؛ ایمان یہی ہے کہ دل میں اس کی بشاشت اتر جائے تو کوئی پلٹتا نہیں؛ اور:

فَقَدْ أَعْرِفُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَذَرَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ وَيَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ … فَإِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَسَيَمْلِكُ مَوْضِعَ قَدَمَىَّ هَاتَيْنِ، وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ لَمْ أَكُنْ أَظُنُّ أَنَّهُ مِنْكُمْ، فَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لَتَجَشَّمْتُ لِقَاءَهُ
«میں جانتا ہوں کہ جو شخص لوگوں پر جھوٹ نہیں بولتا وہ اللہ پر جھوٹ نہیں بول سکتا … اگر جو تم کہہ رہے ہو سچ ہے تو وہ عنقریب میرے ان دونوں قدموں کی جگہ کا مالک ہوگا۔ میں جانتا تھا کہ وہ (نبی) آنے والا ہے مگر یہ گمان نہ تھا کہ تم میں سے ہوگا۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ میں اس تک پہنچ سکتا ہوں تو ملاقات کی مشقت ضرور اٹھاتا۔» (صحیح بخاری، حدیث 7)

یہ ہرقل کا روایت میں نقل ہوا استدلال ہے؛ اسے قرآن کی آیت یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا فرمان نہ سمجھا جائے۔ اس سے ہرقل کے دل کا آخری فیصلہ یا ایمان لانا ثابت نہیں ہوتا۔ روایت دربار کے اندر اٹھنے والے شور اور ابو سفیان کے قافلے کے لوگوں کو وہاں سے نکالے جانے پر ختم ہوتی ہے؛ ابو سفیان کہتے ہیں کہ باہر نکل کر میں نے ساتھیوں سے کہا: «ابنِ ابی کبشہ (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کا معاملہ تو بڑا ہو گیا، بنو اصفر (روم) کا بادشاہ بھی اس سے ڈرتا ہے»، اور تب سے مجھے یقین رہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غالب آئیں گے، یہاں تک کہ اللہ نے مجھے اسلام میں داخل کیا۔ سیرت کا مطالعہ روایت کی اسی حد تک رہنا چاہیے۔

سنگِ مرمر کے ستونوں اور نقش دار فرش والا خالی شاہی دربار

دربار کا خالی ہال: روایت میں سوالات اور جواب کا ایک یادگار منظر۔

خط کا متن اور قرآنی ربط

روایت کے مطابق ہرقل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوا کر پڑھوایا۔ اس میں لکھا تھا:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ. سَلاَمٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الإِسْلاَمِ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الأَرِيسِيِّينَ
«اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا ہے۔ محمد، اللہ کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے ہرقل عظیمِ روم کے نام۔ سلام اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اما بعد: میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام لاؤ، سلامت رہو گے؛ اللہ تمہیں دوہرا اجر دے گا۔ اور اگر منہ موڑو گے تو تم پر (تمہاری) رعایا کا گناہ بھی ہوگا۔» (صحیح بخاری، حدیث 7؛ 2940)

اس کے بعد خط میں سورۂ آل عمران کی یہ آیت تھی:

يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ
«اے اہلِ کتاب! ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے: یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے۔ پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو: گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں۔» (سورۃ آل عمران 3:64)

خط کی دعوت کو زبردستی یا شور شرابے کے بجائے مختصر اور واضح الفاظ میں پیش کیا گیا۔ اس میں توحید اور اللہ کی بندگی مرکزی تھی۔ آیت 3:64 کا حوالہ دکھاتا ہے کہ پیغام اہلِ کتاب سے گفتگو کے لیے ایک مشترکہ بنیاد سامنے لاتا ہے، بغیر اس بات کو چھپائے کہ عبادت صرف اللہ کے لیے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام میں عزت کے ساتھ مخاطب کرنا («عظیمِ روم») اور دعوت کو صاف رکھنا، دونوں پہلو نمایاں ہیں۔

لکڑی کی میز پر مہر لگا خط، زیتون کی شاخ اور نقشہ

خط کی مہر اور دعوت کا پیغام، ایک دور کے حکمران تک۔

اس واقعے سے ملنے والے سبق

پہلا سبق سچائی کا ہے۔ ابو سفیان مخالف تھے، لیکن اپنے قافلے کے سامنے جھوٹ بولنے سے رک گئے۔ ان کی گواہی کا اثر اسی لیے نمایاں ہے کہ وہ اس وقت مسلمان نہیں تھے اور پھر بھی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان، پہلے کے کردار اور پیروکاروں کے بارے میں حقیقت بیان کی۔ دوسرا سبق گفتگو کے ادب کا ہے: پیغام حکمران تک پہنچایا گیا، اسے عزت سے مخاطب کیا گیا اور مضمون کو واضح رکھا گیا۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ کسی کے سوال یا کچھ صحیح اندازوں کو اس کے ایمان کا قطعی ثبوت نہ سمجھا جائے۔ روایت ہرقل کی گفتگو بتاتی ہے؛ دلوں کا فیصلہ اللہ جانتا ہے۔

اس واقعے کو سیرت میں سمجھنا ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے وسیع دائرے کا احساس دیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام صرف ایک قبیلے یا علاقے تک محدود نہیں تھا؛ قرآن نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجے گئے (سبا 34:28)۔ ساتھ ہی، دعوت کا انداز انسانی عزت، سچائی اور دلیل کے ساتھ تھا۔ آج بھی مختلف لوگوں سے بات کرتے ہوئے دوسرے کی حیثیت اور عقیدے کا احترام، اپنی بات کو صاف رکھنا، اور اپنی دلیل کو غلط نسبت سے بچانا ضروری ہے۔ سیرت کا واقعہ اسی لیے صرف دربار کا پرانا قصہ نہیں، بلکہ گفتگو اور امانت کا درس بھی ہے۔

عملی سبق

  • مخالف کے سامنے بھی سچ بولیں؛ ابو سفیان کی گواہی اسی سچائی کی وجہ سے وزنی بنی۔
  • دعوت مختصر، واضح اور باعزت الفاظ میں دیں: «أسلم تسلم»۔
  • اہلِ کتاب سے گفتگو کی قرآنی بنیاد توحید کا مشترکہ کلمہ ہے (آل عمران 3:64)۔
  • کسی کے دل کے فیصلے کے بارے میں قطعی دعویٰ نہ کریں؛ روایت جہاں رکتی ہے وہیں رکیں۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت عالمگیر تھی (سبا 34:28)۔

خلاصہ

صحیح بخاری 7 کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے ذریعے حاکمِ بصریٰ کی معرفت ہرقل کو خط بھیجا جس میں «أسلم تسلم» کی دعوت اور آل عمران 3:64 کی آیت تھی۔ ہرقل نے ایلیاء میں ابو سفیان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب، پیروکاروں، سچائی اور عہد کے بارے میں سوال کیے؛ ابو سفیان نے مخالف ہونے کے باوجود سچ کہا۔ ہرقل نے جوابات سے نبوت کی علامات کا استدلال کیا اور کہا کہ اگر یہ سچ ہے تو وہ میرے قدموں کی جگہ کا مالک ہوگا؛ مگر دربار میں شور اٹھا اور قافلہ نکال دیا گیا۔ روایت سے ہرقل کے ایمان کا قطعی نتیجہ نہیں نکلتا۔ سبق: سچائی، دعوت کا ادب اور توحید کی واضح بنیاد۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

۱۔ ہرقل کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط کس نے پہنچایا؟

صحیح بخاری 7 کے مطابق حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے خط بصریٰ کے حاکم کو دیا، جس نے اسے ہرقل تک پہنچایا۔

۲۔ ہرقل نے ابو سفیان سے کیا پوچھا؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان، پہلے کسی دعوے، پیروکاروں کی حیثیت اور تعداد، سچائی، عہد کی پابندی اور دعوت کے مضمون کے بارے میں سوالات کیے۔

۳۔ خط میں کیا پیغام تھا؟

بسم اللہ سے آغاز، «اللہ کے بندے اور رسول محمد کی طرف سے ہرقل عظیمِ روم کے نام»، اسلام لانے کی دعوت، دوہرے اجر کی خوشخبری، انکار پر رعایا کے گناہ کی ذمہ داری، اور آل عمران 3:64 کی آیت۔

۴۔ کیا اس روایت سے ہرقل کا ایمان لانا ثابت ہوتا ہے؟

نہیں۔ بخاری کی روایت سوالات، استدلال اور دربار کے ردِ عمل کا ذکر کرتی ہے؛ اس سے ہرقل کے ایمان لانے کا قطعی نتیجہ نہیں نکلتا۔

کتابیں اور حوالے

  • صحیح بخاری 7: ابو سفیان اور ہرقل کا مکالمہ، دحیہ رضی اللہ عنہ کے ذریعے خط اور خط کا مضمون۔
  • صحیح بخاری 2940، 2941: کتاب الجہاد میں اسی واقعے کی روایت۔
  • القرآن الکریم: آل عمران 3:64: اہلِ کتاب کو توحید کی مشترکہ بات کی دعوت؛ سبا 34:28۔
  • ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ؛ ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ: بادشاہوں کے نام خطوط کی سیرتی ترتیب؛ تفصیل کو حدیث سے الگ رکھا جائے۔

حدیث میں موجود متن کو صحیح روایت کے طور پر، اور سیرت کی ترتیب کو تاریخی پس منظر کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments