خلافتِ عثمان رضی اللہ عنہ: ذوالنورین کا بارہ سالہ دور — مصحفِ عثمانی، فتوحات اور صبر
خلافتِ عثمان رضی اللہ عنہ: ذوالنورین کا بارہ سالہ دور — مصحفِ عثمانی، فتوحات اور صبر
وہ خلیفہ جس سے فرشتے حیا کرتے تھے — جس نے امت کو ایک مصحف پر جمع کیا اور اپنی جان دے کر مدینہ کا خون بچایا۔
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت محرم 24 ہجری سے ذوالحجہ 35 ہجری تک — تقریباً بارہ سال — خلافتِ راشدہ کا سب سے طویل دور ہے۔ پہلے چھ سال فتوحات اور خوشحالی کے، اور آخری برس فتنے کے۔ اس مضمون میں ان کا مقام صحیح احادیث سے، ان کے دور کے کارنامے معتبر تاریخ سے، اور فتنے کا بیان ادب اور اختصار کے ساتھ کیا گیا ہے — کیونکہ یہ وہ باب ہے جہاں زبان کی لغزش سب سے زیادہ خطرناک ہے۔
مقام: ذوالنورین، حیا اور جنت کی بشارت
آپ کو «ذوالنورین» کہا جاتا ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیاں — رقیہ، پھر ان کی وفات کے بعد ام کلثوم رضی اللہ عنہما — یکے بعد دیگرے ان کے نکاح میں آئیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپ لیٹے ہوئے تھے، ابو بکر اور عمر آئے تو آپ اسی حالت میں رہے؛ عثمان آئے تو آپ اٹھ بیٹھے اور کپڑے درست کیے؛ پوچھنے پر فرمایا: «کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں؟» (صحیح مسلم 2401)۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت میں آپ نے ان کے لیے فرمایا: «دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی بشارت دو — ایک آزمائش کے ساتھ جو اسے پہنچے گی»؛ عثمان نے سن کر کہا: «اللہ مدد کرنے والا ہے» (صحیح بخاری 3695؛ صحیح مسلم 2403)۔ غزوۂ تبوک میں جیشِ عسرت کے لیے انہوں نے ایک ہزار دینار آپ کی گود میں ڈالے، اور آپ انہیں الٹتے پلٹتے فرماتے رہے: «آج کے بعد عثمان جو بھی کرے اسے نقصان نہیں دے گا» (جامع ترمذی 3701 — حسن غریب)؛ سیرت میں سیکڑوں اونٹوں کا بھی ذکر ہے۔ بیعتِ رضوان میں وہ قریش کے پاس سفیر تھے؛ آپ نے اپنا دایاں ہاتھ بایاں پر رکھ کر فرمایا: «یہ عثمان کا ہاتھ ہے» — ان کی طرف سے بیعت کی (صحیح بخاری 3698)۔ بئرِ رومہ انہوں نے خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کیا (صحیح بخاری 3696)۔
شوریٰ اور خلافت کا آغاز
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت چھ اصحاب کی شوریٰ کے سپرد کی تھی۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے خود کو الگ کر کے تین دن تک مدینہ کے ہر شخص سے — یہاں تک کہ پردہ نشین عورتوں اور مسافروں سے — رائے لی، پھر علی اور عثمان رضی اللہ عنہما سے کتاب و سنت اور شیخین کی سیرت پر عمل کا عہد لیا اور عثمان کے ہاتھ پر بیعت کی؛ علی اور تمام مہاجرین و انصار نے بیعت کی (صحیح بخاری 3700؛ صحیح بخاری 7207)۔ یہ یکم محرم 24 ہجری کا واقعہ ہے۔ انہوں نے پہلے خطبے میں نرمی اور اتباعِ سنت کا وعدہ کیا اور عمر رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ عاملوں کو ایک سال تک نہیں بدلا (طبری)۔
فتوحات اور پہلا بحری بیڑا
ان کے دور میں فتوحات مشرق و مغرب دونوں طرف بڑھیں: آرمینیا اور آذربائیجان، طبرستان اور خراسان کے علاقے؛ 31 ہجری میں آخری کسریٰ یزدگرد مرو کے قریب مارا گیا اور ساسانی سلطنت کا باب بند ہوا۔ مغرب میں عبداللہ بن سعد بن ابی سرح نے افریقیہ (تیونس) میں فتح پائی، اور معاویہ رضی اللہ عنہ کی درخواست پر — جسے عمر رضی اللہ عنہ نے سمندر کے خطرے کی وجہ سے رد کر دیا تھا — 28 ہجری میں پہلا اسلامی بحری بیڑا قبرص کی طرف گیا۔ اس میں ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا شریک تھیں جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: «میری امت کا پہلا لشکر جو سمندر میں جہاد کرے گا، اس نے (جنت) واجب کر لی» — وہ قبرص میں سواری سے گر کر وفات پا گئیں (صحیح بخاری 2799؛ صحیح بخاری 2924)۔ 34 ہجری میں ذات الصواری کی بحری جنگ میں رومی بیڑے کو شکست ہوئی (تاریخ)۔
مصحفِ عثمانی: امت ایک رسم الخط پر
آرمینیا و آذربائیجان کی مہم میں شام اور عراق کے فوجی ایک ساتھ تھے تو حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ قراءت کے اختلاف پر جھگڑ رہے ہیں۔ وہ گھبرا کر عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: «امیر المومنین! اس امت کو سنبھالیے اس سے پہلے کہ یہ کتاب میں یہود و نصاریٰ کی طرح اختلاف کرے»۔ عثمان نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور کے صحیفے منگوائے اور زید بن ثابت، عبداللہ بن زبیر، سعید بن العاص اور عبدالرحمٰن بن الحارث رضی اللہ عنہم کو ان کی نقل کا حکم دیا — اور ہدایت کی کہ اختلاف ہو تو قریش کی زبان میں لکھیں کیونکہ قرآن انہی کی زبان میں اترا۔ پھر ہر صوبے کو ایک مصحف بھیجا اور باقی صحیفوں اور مصاحف کو جلانے کا حکم دیا (صحیح بخاری 4987)۔ یہ کام 25 ہجری کے لگ بھگ ہوا۔ ابو بکر کا جمع «حفاظت» تھا، عثمان کا جمع «توحیدِ رسم الخط» — اور آج دنیا کا ہر مصحف اسی رسمِ عثمانی پر ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «عثمان نے مصاحف کے بارے میں جو کیا، ہم سب کے مشورے سے کیا؛ اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو یہی کرتا» (ابن ابی داؤد، المصاحف)۔
حرمین کی توسیع اور دیگر کام
26 ہجری میں مسجدِ حرام کی توسیع کی اور ارد گرد کے مکانات خرید کر شامل کیے؛ 29 ہجری میں مسجدِ نبوی کو وسیع کیا، منقش پتھروں کے ستون اور ساگوان کی چھت بنائی — اس کا ذکر صحیح بخاری میں ہے (صحیح بخاری 446)۔ جمعہ کی پہلی اذان (زوراء پر) آبادی بڑھنے پر انہی کے دور میں شروع ہوئی (صحیح بخاری 912)۔ انہوں نے بیت المال سے وظائف بڑھائے، جدہ کو مکہ کی بندرگاہ بنایا، اور بیت المال سے اپنا کوئی وظیفہ نہ لیا — خود تاجر تھے اور اپنے مال سے گزارہ کرتے تھے (تاریخ)۔
فتنے کا آغاز اور محاصرہ
آخری برسوں میں کوفہ، بصرہ اور مصر سے عاملوں کے خلاف شکایات اٹھیں — بعض درست، بعض مبالغہ آمیز — اور اس میں وہ لوگ سرگرم ہوئے جو فتنہ چاہتے تھے؛ تاریخ میں عبداللہ بن سبا کا نام آتا ہے (اس کی تفصیلات پر محققین کا اختلاف ہے)۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے شکایات سننے کے لیے صحابہ کو صوبوں میں بھیجا، 34 ہجری کے حج میں عاملوں کو جمع کیا، اور شکایت کنندگان سے بات کی۔ 35 ہجری میں مصر، کوفہ اور بصرہ سے لوگ مدینہ آئے؛ ایک خط کا معاملہ اٹھا جس میں مصریوں کو سزا دینے کا حکم تھا — عثمان نے قسم کھائی کہ انہوں نے وہ نہیں لکھا اور علما نے اسے جعلی قرار دیا ہے (ابنِ کثیر)۔ باغیوں نے ان کے گھر کا محاصرہ کر لیا جو تقریباً چالیس دن رہا؛ پانی تک بند کر دیا گیا۔ انہوں نے مدینہ میں خون بہانے سے صاف انکار کیا، اور جو صحابہ — علی، زبیر، طلحہ رضی اللہ عنہم اور ان کے بیٹے حسن، حسین، عبداللہ بن زبیر — دفاع کے لیے آئے، انہیں تلوار روکنے کا حکم دیا (طبری؛ ابنِ کثیر)۔
محاصرے میں انہوں نے چھت سے لوگوں کو مخاطب کیا اور قسم دے کر پوچھا: کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: «جو بئرِ رومہ خریدے اس کے لیے جنت ہے» — میں نے خریدا؛ «جو جیشِ عسرت کو تیار کرے اس کے لیے جنت ہے» — میں نے تیار کیا؟ لوگوں نے تصدیق کی (صحیح بخاری 2778)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہلے ہی فرما دیا تھا: «عثمان! شاید اللہ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا؛ اگر لوگ اسے اتارنا چاہیں تو ان کے لیے مت اتارنا» (جامع ترمذی 3705 — حسن)۔ اسی لیے انہوں نے خلافت سے دستبرداری سے انکار کیا۔
شہادت: 18 ذوالحجہ 35 ہجری
جمعہ کے دن، روزے کی حالت میں، قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے باغی دیوار پھاند کر گھر میں داخل ہوئے اور انہیں شہید کر دیا؛ ان کا خون مصحف پر گرا — تاریخ کے مطابق آیت «فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ» پر۔ ان کی اہلیہ نائلہ نے بچانے کی کوشش میں انگلیاں کٹوا لیں۔ عمر بیاسی سال کے لگ بھگ تھی (اختلاف ہے) اور انہیں رات کے اندھیرے میں بقیع میں دفن کیا گیا (طبری؛ ابنِ سعد)۔ انہوں نے شہادت سے ایک رات پہلے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جو فرما رہے تھے: «عثمان! ہمارے ساتھ روزہ افطار کرو» (ابنِ سعد — سند حسن)۔ اس شہادت کے بعد وہ دروازہ کھلا جسے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے «فتنہ کا دروازہ» کہا تھا — جب عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا تھا کہ دروازہ کھلے گا یا ٹوٹے گا، اور جواب ملا تھا: ٹوٹے گا، پھر کبھی بند نہ ہو گا (صحیح بخاری 525)۔
ذوالنورین رضی اللہ عنہ سے پانچ سبق
- سخاوت بے لوث ہو: بئرِ رومہ، جیشِ عسرت — اور خلافت میں بیت المال سے ایک درہم نہیں۔
- امت کا اتحاد ذاتی رائے سے بڑا ہے: مصحف کا رسم الخط اور سب کا اتفاق۔
- خون کی حرمت: اپنی جان دے دی مگر مدینہ میں تلوار نہ چلنے دی۔
- افواہ کی تحقیق: «إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا» (الحجرات 49:6) — جعلی خط اور بغیر تحقیق کا فتنہ۔
- حیا ایمان کی شاخ ہے: فرشتوں کا حیا کرنا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
خلافت کتنا عرصہ رہی؟
محرم 24 ہجری سے ذوالحجہ 35 ہجری — تقریباً بارہ سال۔
مصحفِ عثمانی اور جمعِ ابو بکر میں کیا فرق ہے؟
ابو بکر نے قرآن کو ایک جگہ محفوظ کیا؛ عثمان نے اسی کی نقلیں ایک رسم الخط میں صوبوں کو بھیجیں تاکہ قراءت کا جھگڑا ختم ہو (صحیح بخاری 4986–4987)۔
انہوں نے باغیوں سے جنگ کیوں نہ کی؟
وہ مدینہ میں مسلمانوں کا خون بہانا نہیں چاہتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق «قمیص» بھی نہ اتاری — صبر کا راستہ چنا۔
خلاصہ
عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا دور فتوحات کی وسعت، مصحف کے اتحاد اور حرمین کی توسیع کا دور ہے — اور اس کا اختتام ایک ایسی شہادت پر ہوا جس نے امت کو صبر اور حرمتِ خون کا سب سے بڑا سبق دیا۔ ان کے بارے میں صحابہ کا یہی موقف تھا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: «اللہ کی قسم، میں نے نہ قتل کیا، نہ حکم دیا، نہ راضی ہوا» (تاریخ)۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment