وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Islamic History› غزوۂ تبوک: جیشِ عسرت کے سنہرے ورق — رجب 9 ہجری کا آخری غزوہ

غزوۂ تبوک: جیشِ عسرت کے سنہرے ورق — رجب 9 ہجری کا آخری غزوہ

نAuthor Nawab
غزواتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم • غزوۂ تبوک — رجب 9 ہجری

غزوۂ تبوک: جیشِ عسرت کے سنہرے ورق — رجب 9 ہجری کا آخری غزوہ

سخت گرمی، قحط اور پھلوں کے موسم میں سات سو کلومیٹر کا سفر — وہ غزوہ جس میں تلوار نہیں چلی مگر ہر دل کا امتحان ہوا۔

غزوۂ تبوک رجب 9 ہجری (630ء) میں پیش آیا۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا آخری غزوہ تھا، سب سے بڑا لشکر تھا اور سب سے لمبا سفر — مدینہ سے شمال میں تقریباً سات سو کلومیٹر دور تبوک تک، جو آج سعودی عرب اور اردن کی سرحد کے قریب ہے۔ قرآن نے اس لشکر کو «ساعۃ العسرۃ» — تنگی کی گھڑی — میں نکلنے والے کہا، اسی لیے یہ جیشِ عسرت کہلایا:

لَّقَد تَّابَ ٱللَّهُ عَلَى ٱلنَّبِىِّ وَٱلْمُهَـٰجِرِينَ وَٱلْأَنصَارِ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ فِى سَاعَةِ ٱلْعُسْرَةِ مِنۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّهُۥ بِهِمْ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
«بے شک اللہ نے نبی پر اور ان مہاجرین و انصار پر توجہ فرمائی جنہوں نے تنگی کی گھڑی میں ان کا ساتھ دیا، اس کے بعد کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ٹیڑھے ہونے کے قریب تھے؛ پھر اللہ نے ان پر توجہ فرمائی، بے شک وہ ان پر بہت شفیق، مہربان ہے۔» (التوبہ 9:117)

یہ مضمون قرآنِ کریم، صحیح بخاری و مسلم اور سنن کی صحیح روایات پر مبنی ہے؛ لشکر کی تعداد اور سفر کی تفصیلات سیرت کی کتابوں سے ہیں اور ان کی حیثیت ساتھ بتائی گئی ہے۔

صحرا میں غروبِ آفتاب کے وقت اونٹوں کا قافلہ اور دور مسجد کے مینار
جیشِ عسرت کا سفر — گرمی، قحط اور لمبا راستہ (تصویر علامتی ہے)

پس منظر: موتہ کے بعد روم کا خطرہ

8 ہجری میں موتہ کے میدان میں مسلمانوں کا پہلا ٹکراؤ رومی سلطنت اور اس کے عیسائی عرب حلیفوں سے ہوا تھا (غزوۂ موتہ)۔ 9 ہجری میں شام سے آنے والے تاجروں کے ذریعے خبریں آئیں کہ قیصر ہرقل اور غسانی حکمران سرحد پر فوج جمع کر رہے ہیں۔ عام طور پر آپ غزوے کی سمت پوشیدہ رکھتے تھے، مگر اس بار راستہ لمبا اور دشمن بڑا تھا، اس لیے آپ نے کھل کر بتایا کہ ہم روم کی طرف جا رہے ہیں تاکہ لوگ پوری تیاری کریں (صحیح بخاری 4418)۔ موسم سخت گرمی کا تھا، قحط تھا اور کھجوریں پکنے کو تھیں — سائے میٹھے لگتے تھے اور سفر کڑوا۔ قرآن نے پیچھے رہنے کا خیال رکھنے والوں کو جھنجھوڑا:

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ ٱنفِرُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱثَّاقَلْتُمْ إِلَى ٱلْأَرْضِ ۚ أَرَضِيتُم بِٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا مِنَ ٱلْـَٔاخِرَةِ ۚ فَمَا مَتَـٰعُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ
«اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو تم زمین سے چمٹ جاتے ہو؟ کیا تم آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے؟ دنیا کی زندگی کا سامان آخرت کے مقابلے میں بہت تھوڑا ہے۔» (التوبہ 9:38)

سخاوت کا مقابلہ: عثمان، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کی تیاری کے لیے مال کی اپیل کی اور فرمایا: «جس نے جیشِ عسرت کو تیار کیا اس کے لیے جنت ہے»؛ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بعد میں اپنے محاصرے کے دنوں میں لوگوں کو یہ یاد دلایا اور کہا: «میں نے اسے تیار کیا» اور لوگوں نے تصدیق کی (صحیح بخاری 2778)۔ حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ ایک ہزار دینار اپنی آستین میں لائے اور آپ کی گود میں ڈال دیے؛ آپ انہیں الٹتے پلٹتے فرما رہے تھے:

مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ
«آج کے بعد عثمان جو بھی کرے، اسے نقصان نہ دے گا۔» (جامع ترمذی 3701 (حسن))

(تین سو اونٹ کجاووں سمیت دینے کی روایت مسندِ احمد اور سیرت میں ہے۔) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ نے صدقے کا حکم دیا اور اس دن میرے پاس مال تھا؛ میں نے کہا آج میں ابوبکر سے آگے نکل جاؤں گا، اور آدھا مال لے آیا۔ آپ نے پوچھا: گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا؟ میں نے کہا: اتنا ہی۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال لے آئے؛ آپ نے پوچھا: گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا؟ انہوں نے کہا: «ان کے لیے اللہ اور اس کا رسول چھوڑا ہے»۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا، میں کبھی کسی چیز میں ان سے آگے نہیں بڑھ سکتا (سنن ابی داؤد 1678؛ جامع ترمذی 3675)۔ یہ مقابلہ نیکی کا تھا، اور اس میں ہارنے والا بھی جیتا ہوا تھا۔

رونے والے: جن کے پاس سواری نہ تھی

کچھ غریب صحابہ آئے کہ ہمیں بھی سواری دیجیے؛ آپ نے فرمایا: «میرے پاس کچھ نہیں جس پر تمہیں سوار کروں»۔ وہ اس غم میں روتے ہوئے لوٹے کہ ان کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں۔ قرآن نے انہیں معذور قرار دیا:

وَلَا عَلَى ٱلَّذِينَ إِذَا مَآ أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَآ أَجِدُ مَآ أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوا۟ وَّأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ ٱلدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا۟ مَا يُنفِقُونَ
«اور نہ ان پر (کوئی الزام ہے) جو آپ کے پاس آئے کہ آپ انہیں سواری دیں، تو آپ نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں جس پر تمہیں سوار کروں؛ وہ اس حال میں لوٹے کہ ان کی آنکھیں غم سے آنسو بہا رہی تھیں کہ ان کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں۔» (التوبہ 9:92)

تاریخ انہیں «البکّاؤون» کہتی ہے۔ اور آپ نے راستے میں فرمایا: «مدینہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم جو بھی راستہ چلے اور جو وادی طے کی، وہ (اجر میں) تمہارے ساتھ رہے؛ انہیں عذر نے روکا ہے» (صحیح بخاری 4423)۔ نیت کا وزن اللہ کے ہاں قدموں سے زیادہ ہے۔

علی رضی اللہ عنہ مدینہ میں: «تم مجھ سے ہارون کی طرح ہو»

آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنے اہل و عیال پر نگران چھوڑا۔ انہیں یہ ناگوار ہوا کہ عورتوں اور بچوں میں رہ جائیں۔ آپ نے فرمایا:

أَلاَ تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلاَّ أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِي
«کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تم مجھ سے وہ نسبت رکھو جو ہارون کو موسیٰ سے تھی، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں؟» (صحیح بخاری 4416)

(منافقین کے طعنے پر علی رضی اللہ عنہ کے دوڑ کر لشکر تک پہنچنے کی تفصیل سیرتِ ابنِ ہشام میں ہے۔) اسی غزوے میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا اونٹ سست پڑ گیا تو وہ سامان کندھے پر اٹھا کر پیدل لشکر سے آ ملے؛ آپ نے فرمایا: «اللہ ابوذر پر رحم کرے، اکیلا چلتا ہے، اکیلا مرے گا اور اکیلا اٹھایا جائے گا» (سیرتِ ابنِ ہشام؛ مستدرک حاکم)۔

تپتے صحرا میں اونٹوں کا لمبا قافلہ اور دور ایک نخلستان
سات سو کلومیٹر — گرمی، پیاس اور کم سواریاں (تصویر علامتی ہے)

سفر: حجر کا سبق اور تبوک کا چشمہ

سیرت کی کتابوں میں لشکر کی تعداد تیس ہزار اور کئی آدمیوں کے باری باری ایک اونٹ پر سوار ہونے کا ذکر ہے۔ راستے میں لشکر حجر سے گزرا — قومِ ثمود کی بستی جہاں پہاڑ تراش کر گھر بنائے گئے تھے۔ آپ نے فرمایا:

لاَ تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلاَّ أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ
«ان لوگوں کے گھروں میں داخل نہ ہو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، مگر روتے ہوئے — کہیں تمہیں بھی وہ نہ پہنچے جو انہیں پہنچا۔» (صحیح بخاری 3380)

آپ نے چادر سے چہرہ ڈھانپا اور سواری تیز کر دی۔ تبوک کے قریب پہنچ کر آپ نے فرمایا: «کل ان شاء اللہ تم تبوک کے چشمے پر پہنچو گے؛ جو پہنچے وہ پانی کو ہاتھ نہ لگائے جب تک میں نہ آؤں»۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چشمے سے جوتے کے تسمے جتنی باریک دھار بہہ رہی تھی۔ آپ نے چلو بھر پانی لے کر منہ ہاتھ دھویا اور اسے چشمے میں ڈال دیا تو وہ زور سے بہہ نکلا اور لوگوں نے سیر ہو کر پیا۔ آپ نے فرمایا: «معاذ! اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو تم دیکھو گے کہ یہ جگہ باغوں سے بھر جائے گی» (صحیح مسلم 706)۔ (آندھی اور دعا سے بارش کی روایت سیرت کی کتابوں میں ہے۔)

تبوک میں: بغیر جنگ کے نتیجہ

لشکر تبوک پہنچا تو رومی فوج سامنے نہ آئی؛ سیرت کے مطابق آپ تقریباً بیس دن یہاں ٹھہرے۔ اس دوران شمالی علاقوں کے عیسائی حکمران — ایلہ (عقبہ) کا یوحنا بن رؤبہ، جرباء اور اذرح کے لوگ — خود آ کر جزیے پر صلح کر گئے، اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دومۃ الجندل کے حکمران اُکیدر کی طرف بھیجا گیا جو پکڑ کر لایا گیا اور صلح پر رہا ہوا (سیرتِ ابنِ ہشام)۔ مدینہ کی شمالی سرحد محفوظ ہو گئی اور عرب قبائل نے دیکھ لیا کہ روم کی سرحد تک جانے والی طاقت سے لڑنا اب ممکن نہیں؛ 9 ہجری «عام الوفود» بنا (سنۃ الوفود)۔

منافقین: گرمی کا بہانہ اور مسجدِ ضرار

قرآن نے پیچھے رہنے والوں کے بہانے کھول کر رکھ دیے: «اگر قریب کا مال اور درمیانی سفر ہوتا تو ضرور تمہارے پیچھے چلتے، مگر انہیں راستہ دور لگا» (التوبہ 9:42)۔ انہوں نے کہا: «گرمی میں نہ نکلو»؛ جواب آیا:

فَرِحَ ٱلْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلَـٰفَ رَسُولِ ٱللَّهِ وَكَرِهُوٓا۟ أَن يُجَـٰهِدُوا۟ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَقَالُوا۟ لَا تَنفِرُوا۟ فِى ٱلْحَرِّ ۗ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّا ۚ لَّوْ كَانُوا۟ يَفْقَهُونَ
«پیچھے چھوڑے جانے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے اور انہیں ناگوار ہوا کہ اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کریں، اور کہنے لگے: گرمی میں نہ نکلو۔ کہہ دیجیے: جہنم کی آگ کہیں زیادہ گرم ہے — کاش وہ سمجھتے۔» (التوبہ 9:81)

واپسی پر کچھ منافقین نے ایک گھاٹی میں رات کے وقت آپ کی سواری بدکانے کی کوشش کی؛ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو آپ نے ان کے نام بتائے اور وہ «صاحبِ سرِّ رسول» کہلائے (صحیح مسلم 2779؛ تفصیل سیرت میں)۔ مدینہ پہنچنے سے پہلے قبا کے قریب منافقین کی بنائی ہوئی مسجد کا معاملہ سامنے آیا جو مومنوں میں تفرقہ ڈالنے کے لیے بنائی گئی تھی؛ قرآن نے اسے «مسجدِ ضرار» کہا اور حکم دیا: «آپ اس میں کبھی کھڑے نہ ہوں؛ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی، زیادہ حق دار ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں» (التوبہ 9:107–108)۔ آپ کے حکم سے وہ عمارت گرا دی گئی (سیرت)۔

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ: پچاس راتیں اور سچ کی جیت

صحیح بخاری کی طویل ترین روایتوں میں سے ایک حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی زبانی ان کی اپنی کہانی ہے (صحیح بخاری 4418)۔ وہ کہتے ہیں: میں کبھی اتنا خوش حال اور تیار نہ تھا جتنا اس سال؛ مگر «کل کر لوں گا» کرتے کرتے لشکر نکل گیا۔ جب آپ واپس آئے تو حسبِ معمول پہلے مسجد میں دو رکعت پڑھیں اور پھر لوگوں سے ملے۔ اسّی سے زیادہ منافقین نے جھوٹی قسمیں کھائیں اور آپ نے ان کا ظاہر قبول کر لیا۔ کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں جانتا تھا کہ اگر آج جھوٹ بول کر بچ گیا تو اللہ آپ کو میرے خلاف ناراض کر دے گا؛ میں نے کہا: «اللہ کی قسم! میرا کوئی عذر نہ تھا»۔ آپ نے فرمایا: «اس نے سچ کہا؛ اٹھو، یہاں تک کہ اللہ تمہارا فیصلہ کرے»۔

آپ نے مسلمانوں کو ان تینوں — کعب، مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہم — سے بات کرنے سے منع کر دیا۔ کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: زمین میرے لیے اجنبی ہو گئی؛ میں نماز میں آتا، آپ کو سلام کرتا اور دیکھتا کہ آپ کے ہونٹ جواب میں ہلے یا نہیں۔ چالیس دن بعد حکم آیا کہ بیوی سے بھی الگ رہو۔ اسی دوران غسان کے بادشاہ کا خط آیا: «ہم نے سنا ہے تمہارے ساتھی نے تم پر سختی کی ہے؛ ہمارے پاس آ جاؤ»؛ میں نے کہا: یہ بھی آزمائش ہے، اور خط تنور میں ڈال دیا۔ پچاسویں رات کی صبح، فجر کے بعد، میں چھت پر تھا کہ جبلِ سلع سے آواز آئی: «کعب بن مالک! خوش ہو جاؤ!» میں سجدے میں گر گیا۔ لوگ مبارک دینے دوڑے، طلحہ رضی اللہ عنہ اٹھ کر گلے ملے۔ میں مسجد پہنچا تو آپ کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا — آپ خوش ہوتے تو چہرہ چاند کا ٹکڑا لگتا — آپ نے فرمایا:

أَبْشِرْ بِخَيْرِ يَوْمٍ مَرَّ عَلَيْكَ مُنْذُ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ
«خوش ہو جاؤ اس بہترین دن سے جو تم پر تب سے آیا جب سے تمہاری ماں نے تمہیں جنا۔» (صحیح بخاری 4418)

کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: میری توبہ یہ ہے کہ سارا مال صدقہ کر دوں؛ آپ نے فرمایا: «کچھ مال اپنے پاس رکھو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے»۔ انہوں نے کہا: اللہ نے مجھے سچ کی وجہ سے بچایا، اور میں جب تک زندہ رہوں گا صرف سچ بولوں گا۔ اللہ نے ان کے بارے میں آیت اتاری:

وَعَلَى ٱلثَّلَـٰثَةِ ٱلَّذِينَ خُلِّفُوا۟ حَتَّىٰٓ إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ ٱلْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنفُسُهُمْ وَظَنُّوٓا۟ أَن لَّا مَلْجَأَ مِنَ ٱللَّهِ إِلَّآ إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ ۝ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَكُونُوا۟ مَعَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
«اور ان تینوں پر بھی (توجہ فرمائی) جن کا معاملہ ملتوی رکھا گیا تھا، یہاں تک کہ جب زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور ان کی جانیں بھی ان پر تنگ ہو گئیں، اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کی کوئی پناہ نہیں مگر اسی کی طرف؛ پھر اللہ نے ان پر توجہ فرمائی تاکہ وہ توبہ کریں۔ بے شک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔» (التوبہ 9:118–119)
سبز پس منظر پر سنہری خطاطی: اتقوا اللہ وکونوا مع الصادقین
«اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ» (9:119) — وہ آیت جو تین سچوں کی شان میں اتری

نتائج

تبوک میں کوئی تلوار نہیں چلی مگر نتائج بڑے تھے: شمالی سرحد محفوظ ہوئی، روم کو پیغام ملا کہ عرب اب بکھرے قبیلے نہیں، منافقین کا پردہ چاک ہوا، اور سورۂ توبہ کا بڑا حصہ اسی غزوے کے گرد نازل ہوا۔ اگلے مہینوں میں وفود آئے، حج کا اعلان ہوا، اور 10 ہجری میں حجۃ الوداع۔ تبوک آپ کا آخری غزوہ تھا؛ اس کے بعد تلوار نہیں، وفود اور تعلیم کا دور تھا۔ آگے: سنۃ الوفود، حجۃ الوداع۔

نوٹ: اس مضمون کی ہر حدیث صحیح بخاری، صحیح مسلم یا سنن کی صحیح/حسن روایات سے ہے (سنن ابی داؤد 1678، جامع ترمذی 3701 و 3675)۔ لشکر کی تعداد، قیام کے دن، اُکیدر اور ابوذر رضی اللہ عنہ کے واقعات سیرتِ ابنِ ہشام سے ہیں۔

غزوۂ تبوک سے پانچ سبق

  1. مشکل وقت میں نکلنا ہی ایمان کی پہچان ہے: «ساعۃ العسرۃ» کے ساتھی قرآن میں یاد رکھے گئے۔
  2. سخاوت میں مقابلہ کرو، حسد نہیں: ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کا مقابلہ۔
  3. نیت عمل کا وزن ہے: رونے والے بھی اجر میں شریک ہوئے۔
  4. عبرت کے مقامات سے روتے ہوئے گزرو: حجر کا سبق۔
  5. سچ بچاتا ہے، جھوٹ نہیں: اسّی جھوٹی قسمیں اور تین سچے — اور قرآن تین کے ساتھ۔

خلاصہ

تبوک ایک ایسا غزوہ تھا جس کا میدان دل تھا۔ جو نکلا اس کا ایمان ثابت ہوا، جو مال دے گیا اس کے لیے جنت کی بشارت ہوئی، جو رو کر رہ گیا وہ بھی ساتھ گنا گیا، اور جو سچ بول کر پچاس راتیں کاٹ گیا اسے قرآن نے «صادقین» میں لکھ دیا۔ یہی اس غزوے کا سنہرا ورق ہے۔

مسجدِ نبوی کا رات کا منظر، سبز گنبد اور روشن مینار
مدینہ منورہ — جہاں تبوک سے لوٹ کر آپ نے پہلے دو رکعت پڑھیں (تصویر علامتی ہے)
یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments