غزوۂ بدر: جب تھوڑے لوگوں نے بڑی تاریخ لکھی — 17 رمضان 2 ہجری
غزوۂ بدر: جب تھوڑے لوگوں نے بڑی تاریخ لکھی — 17 رمضان 2 ہجری
اسلام کی پہلی بڑی جنگ: ایمان، صبر اور اللہ پر بھروسے کا وہ سبق جو آج بھی زندہ ہے — «وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ»
بدر مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے جہاں پانی کے کنویں تھے اور تجارتی قافلے اسی راستے سے گزرتے تھے۔ 17 رمضان 2 ہجری (تقریباً مارچ 624ء) کو یہاں حق اور باطل کا پہلا بڑا معرکہ ہوا۔ ایک طرف قریش کا تقریباً ایک ہزار کا مسلح لشکر، دوسری طرف تین سو سے کچھ زیادہ مسلمان جن کے پاس صرف دو گھوڑے اور ستر اونٹ تھے۔ نتیجہ وہ نکلا جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ قرآن نے اس دن کو «يَوْمَ الْفُرْقَانِ» — فیصلے کا دن — کہا (الانفال 8:41)۔
یہ مضمون قرآنِ کریم (خاص طور پر سورۂ انفال اور آلِ عمران) اور صحیح بخاری و مسلم کی روایات پر مبنی ہے؛ سیرت کی کتابوں کی جو تفصیلات صحیحین میں نہیں وہاں وضاحت کر دی گئی ہے۔
پس منظر: ظلم، ہجرت اور دفاع کی اجازت
مکہ میں تیرہ سال مسلمانوں پر ظلم ہوا، ان کے گھر اور مال چھینے گئے، اور آخر انہیں وطن چھوڑنا پڑا۔ ہجرت کے بعد اللہ نے پہلی بار دفاع کی اجازت دی:
أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَـٰتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا۟ ۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ
«جن لوگوں سے جنگ کی جا رہی ہے انہیں اجازت دے دی گئی کیونکہ ان پر ظلم ہوا ہے؛ اور بے شک اللہ ان کی مدد پر پوری طرح قادر ہے۔» (الحج 22:39)
غور کیجیے: اجازت کی بنیاد «ظلم» ہے۔ یہ جنگ انتقام یا زمین کے لیے نہیں تھی؛ اس کا مقصد یہ تھا کہ ظلم کا سلسلہ رکے اور لوگ اللہ کی عبادت میں آزاد ہوں۔ اجازت کے ساتھ ہی مدد کا وعدہ بھی تھا۔
قافلہ اور قریش کا لشکر
2 ہجری میں ابو سفیان کی قیادت میں قریش کا ایک بڑا تجارتی قافلہ شام سے واپس آ رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اس کی طرف نکلنے کی دعوت دی۔ ابو سفیان کو خبر ہو گئی؛ اس نے راستہ بدل کر ساحل کا رخ کیا اور مکہ پیغام بھیجا۔ سیرت کی کتابوں کے مطابق ضمضم غفاری نے مکہ پہنچ کر شور مچایا، اور قریش کا تقریباً ایک ہزار کا لشکر ابو جہل کی قیادت میں نکل کھڑا ہوا۔ قافلہ بچ گیا، مگر ابو جہل نے اصرار کیا کہ بدر پہنچ کر تین دن قیام کریں گے تاکہ عرب ہماری دھاک مان لے۔ قرآن نے ان کا یہ انداز بیان کیا: «جو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھاتے ہوئے نکلے» (الانفال 8:47)۔
اللہ نے مسلمانوں سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا — قافلہ یا لشکر — اور مسلمان چاہتے تھے کہ غیر مسلح قافلہ ہاتھ آئے، مگر اللہ چاہتا تھا کہ حق اپنے کلمات سے ثابت ہو جائے اور کافروں کی جڑ کٹ جائے (الانفال 8:7)۔ مسلمانوں کی تعداد تین سو تیرہ کے لگ بھگ تھی۔ صحیح بخاری میں حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر والوں کی تعداد طالوت کے ساتھ نہر پار کرنے والوں کے برابر، تین سو دس سے کچھ زائد تھی (صحیح بخاری 3959)۔
مشورہ: مقداد اور انصار کا جواب
بدر کے قریب پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے مشورہ کیا۔ حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور وہ بات کہی جس کے بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس منظر میں مقداد کی جگہ ہونا دنیا کی ہر چیز سے زیادہ پسند کرتا:
يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لاَ نَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى: اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلاَ، وَلَكِنِ امْضِ وَنَحْنُ مَعَكَ
«اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے وہ نہیں کہیں گے جو موسیٰ کی قوم نے کہا تھا کہ «تم اور تمہارا رب جاؤ اور لڑو»؛ بلکہ آپ چلیے، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔» (صحیح بخاری 3952)
پھر آپ نے انصار کی طرف دیکھا، کیونکہ عقبہ کی بیعت مدینہ کے اندر حفاظت کی تھی۔ صحیح مسلم میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: «اللہ کی قسم! اگر آپ ہمیں حکم دیں کہ ہم اپنے گھوڑے سمندر میں ڈال دیں تو ہم ڈال دیں گے» (صحیح مسلم 1779)۔ ابنِ اسحاق کی سیرت میں یہی جذبہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی طویل تقریر میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے اور فرمایا: چلو، اللہ نے مجھ سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کیا ہے، اور اللہ کی قسم! گویا میں قوم کے گرنے کی جگہیں دیکھ رہا ہوں (صحیح مسلم 1779)۔ سیرت کی کتابوں میں یہ بھی ہے کہ حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ کے مشورے پر لشکر قریب ترین کنویں پر اترا؛ یہ روایت صحیحین میں نہیں، مگر مشورے کا اصول قرآن سے ثابت ہے: «وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ» (آلِ عمران 3:159)۔
بدر کی رات: نیند، بارش اور دعا
إِذْ يُغَشِّيكُمُ ٱلنُّعَاسَ أَمَنَةً مِّنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً لِّيُطَهِّرَكُم بِهِۦ وَيُذْهِبَ عَنكُمْ رِجْزَ ٱلشَّيْطَـٰنِ وَلِيَرْبِطَ عَلَىٰ قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ ٱلْأَقْدَامَ
«جب اس نے اپنی طرف سے اطمینان کے لیے تم پر اونگھ طاری کی اور تم پر آسمان سے پانی اتارا تاکہ اس سے تمہیں پاک کرے، تم سے شیطان کی نجاست دور کرے، تمہارے دلوں کو مضبوط کرے اور اس سے قدم جما دے۔» (الانفال 8:11)
اس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عریش (سائبان) میں اپنے رب سے فریاد کرتے رہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ نے قبلہ رخ ہو کر ہاتھ پھیلائے اور دعا کی:
اللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي، اللَّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي، اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الإِسْلاَمِ لاَ تُعْبَدْ فِي الأَرْضِ
«اے اللہ! جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے وہ پورا فرما۔ اے اللہ! جو تو نے وعدہ کیا ہے عطا فرما۔ اے اللہ! اگر اہلِ اسلام کی یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو زمین میں تیری عبادت نہ ہو گی۔» (صحیح مسلم 1763)
آپ اتنی دیر ہاتھ اٹھائے رہے کہ چادر کندھوں سے گر گئی؛ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے چادر اوڑھائی اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! بس کیجیے، اللہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا۔ تب یہ آیت اتری:
إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَٱسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّى مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةِ مُرْدِفِينَ
«جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری سن لی کہ میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرنے والا ہوں جو لگاتار آئیں گے۔» (الانفال 8:9)
فرشتوں کی مدد اور «وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ»
وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ ٱللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ أَلَن يَكْفِيَكُمْ أَن يُمِدَّكُمْ رَبُّكُم بِثَلَـٰثَةِ ءَالَـٰفٍ مِّنَ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةِ مُنزَلِينَ بَلَىٰٓ ۚ إِن تَصْبِرُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ وَيَأْتُوكُم مِّن فَوْرِهِمْ هَـٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُم بِخَمْسَةِ ءَالَـٰفٍ مِّنَ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِينَ
«اور یقیناً اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم کمزور تھے، سو اللہ سے ڈرو تاکہ شکر کرو۔ جب تم مومنوں سے کہہ رہے تھے: کیا تمہارے لیے کافی نہیں کہ تمہارا رب تین ہزار اتارے ہوئے فرشتوں سے تمہاری مدد کرے؟ کیوں نہیں! اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو اور وہ اسی وقت تم پر آ پڑیں تو تمہارا رب پانچ ہزار نشان والے فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا۔» (آلِ عمران 3:123–125)
اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا: «میں تمہارے ساتھ ہوں، سو ایمان والوں کو ثابت قدم رکھو؛ میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا» (الانفال 8:12)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریوں کی مٹھی دشمن کی طرف پھینکی، اور اللہ نے فرمایا:
فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ قَتَلَهُمْ ۚ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ رَمَىٰ ۚ وَلِيُبْلِىَ ٱلْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
«پس تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا، اور جب آپ نے پھینکا تو آپ نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا، تاکہ وہ مومنوں کو اپنی طرف سے اچھی آزمائش سے آزمائے؛ بے شک اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔» (الانفال 8:17)
فتح کے بعد بھی قرآن نے یہ یاد دلا دیا کہ قتل اور پھینکنا اللہ کی طرف سے تھا۔ بدر کا سب سے بڑا سبق یہی ہے: مومن اسباب اختیار کرتا ہے، مگر نتیجے کو اللہ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدر والوں کے بارے میں اللہ نے فرما دیا: «جو چاہو کرو، میں نے تمہیں بخش دیا» (صحیح بخاری 3983)۔
میدانِ جنگ: عمیر بن حمام اور ابو جہل کا انجام
جب قریش قریب آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اٹھو اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین جتنی ہے»۔ حضرت عمیر بن حمام رضی اللہ عنہ نے کہا: بخ بخ! پھر کھجوریں پھینک کر کہا: اگر میں ان کھجوروں کے کھانے تک زندہ رہا تو یہ لمبی زندگی ہے — اور لڑتے ہوئے شہید ہو گئے (صحیح مسلم 1901)۔
ابو جہل، جو اس امت کا فرعون تھا، دو انصاری نوجوانوں معاذ اور معوذ (بنو عفراء کے بیٹوں) کے ہاتھوں گرا؛ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دونوں نے صف میں کھڑے ہو کر مجھ سے پوچھا تھا کہ چچا! ابو جہل کون ہے؟ ہم نے سنا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتا ہے؛ اور پھر وہ باز کی طرح اس پر جھپٹے (صحیح بخاری 3141)۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اسے آخری سانسوں میں ملے (صحیح بخاری 3962)۔ امیہ بن خلف، جو مکہ میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو تپتی ریت پر لٹاتا تھا، اسی میدان میں مارا گیا؛ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اسے بچانے کی کوشش کی تھی مگر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی پکار پر انصار نے اسے گھیر لیا (صحیح بخاری 2301)۔
قریش کے ستر آدمی مارے گئے اور ستر قید ہوئے؛ مسلمانوں کے چودہ صحابہ شہید ہوئے (چھ مہاجرین، آٹھ انصار)۔ قریش کے سرداروں کی لاشیں ایک کنویں (قلیب) میں ڈالی گئیں، اور تیسرے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنویں پر کھڑے ہو کر انہیں نام لے کر پکارا: «کیا تم نے اپنے رب کا وعدہ سچا پایا؟ میں نے تو اپنے رب کا وعدہ سچا پایا»۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ ان بے جان جسموں سے کیا بات کرتے ہیں؟ فرمایا: تم ان سے زیادہ نہیں سنتے، مگر وہ جواب نہیں دے سکتے (صحیح بخاری 3976)۔
قیدی اور فدیہ
ستر قیدیوں کے بارے میں مشورہ ہوا: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فدیہ لے کر چھوڑنے کی رائے دی تاکہ وہ کفر کے مقابلے میں قوت بنے اور شاید اللہ انہیں ہدایت دے؛ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قتل کی رائے دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فدیے کو اختیار کیا، اور پھر یہ آیات اتریں جن میں اس انتخاب پر عتاب تھا (صحیح مسلم 1763):
مَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَن يَكُونَ لَهُۥٓ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ ٱلدُّنْيَا وَٱللَّهُ يُرِيدُ ٱلْـَٔاخِرَةَ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
«کسی نبی کے لیے مناسب نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک وہ زمین میں (دشمن کا) اچھی طرح زور نہ توڑ دے۔ تم دنیا کا سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے؛ اور اللہ غالب، حکمت والا ہے۔» (الانفال 8:67)
مگر اللہ نے فدیے کو حلال بھی کر دیا (الانفال 8:69)۔ جو قیدی فدیہ نہ دے سکتے تھے ان میں سے پڑھے لکھے لوگوں کو مدینہ کے بچوں کو لکھنا سکھانے کے بدلے آزاد کیا گیا (مسند احمد؛ سیرت کی کتابیں)۔ قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک پر الگ مضمون موجود ہے: اسرائے بدر کے ساتھ سلوک۔ مالِ غنیمت کے بارے میں سورۂ انفال کا آغاز ہی اس سوال سے ہوا اور پھر خمس کا حکم اترا (الانفال 8:41)۔
بدر کے بعد: اہلِ بدر کا مقام
بدر نے مدینہ کی نوزائیدہ ریاست کو عرب میں ایک حقیقت بنا دیا اور قریش کی ہیبت توڑ دی۔ مگر اس سے بڑی بات اہلِ بدر کا مقام ہے: جب حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کی لغزش پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سزا کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وہ بدر میں شریک ہوا ہے، اور تمہیں کیا معلوم، شاید اللہ نے اہلِ بدر کو دیکھ کر فرما دیا: جو چاہو کرو، میں نے تمہیں بخش دیا» (صحیح بخاری 3983)۔ جبریل علیہ السلام نے پوچھا: تم اہلِ بدر کو اپنے میں کیسا شمار کرتے ہو؟ آپ نے فرمایا: بہترین مسلمانوں میں سے؛ جبریل نے کہا: فرشتوں میں بھی بدر میں شریک ہونے والے ایسے ہی ہیں (صحیح بخاری 3992)۔
نوٹ: اس مضمون کی ہر حدیث صحیح بخاری یا صحیح مسلم سے ہے اور ہر آیت کے ساتھ لنک ہے۔ لشکر کی گنتی، کنویں کا مشورہ اور ضمضم کا واقعہ سیرت کی کتابوں سے ہیں؛ انہیں تاریخی تفصیل سمجھا جائے۔
غزوۂ بدر سے پانچ سبق
- تعداد نہیں، تعلق: «اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم کمزور تھے» (3:123)۔ کمزوری اللہ سے جوڑ دے تو طاقت بن جاتی ہے۔
- مشورہ قیادت کی کمزوری نہیں، سنت ہے: نبی ہونے کے باوجود آپ نے صحابہ سے رائے لی (3:159)۔
- اسباب بھی، دعا بھی: صف بندی، کنواں، تدبیر — اور ساری رات ہاتھ اٹھائے دعا (مسلم 1763)۔
- فتح کو اپنی طرف منسوب نہ کرو: «وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ رَمَىٰ» (8:17)۔
- دشمن کے ساتھ بھی حدود: قیدیوں کے لیے فدیہ، تعلیم کے بدلے رہائی، لاشوں کی بے حرمتی نہیں۔
خلاصہ
بدر صرف ایک جنگ نہیں، ایک کسوٹی ہے: جب مقابلہ ناممکن لگے، مومن کیا کرتا ہے؟ وہ مشورہ کرتا ہے، تدبیر کرتا ہے، رات بھر اپنے رب کے سامنے روتا ہے اور صبح میدان میں ثابت قدم رہتا ہے؛ پھر فتح ملے تو کہتا ہے: یہ اللہ نے کیا۔ «اللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي» — یہ دعا آج بھی ہر اس شخص کی دعا ہے جو حق پر ہوتے ہوئے کمزور ہو۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment