وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Islamic History› صحیفۂ مدینہ (میثاقِ مدینہ): عہد، امن اور مشترکہ ذمہ داری

صحیفۂ مدینہ (میثاقِ مدینہ): عہد، امن اور مشترکہ ذمہ داری

نAuthor Nawab
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم • مدنی دور

صحیفۂ مدینہ (میثاقِ مدینہ): عہد، امن اور مشترکہ ذمہ داری

مدینہ میں مسجد بن چکی تھی اور مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم ہو رہا تھا۔ مگر ایک شہر صرف عبادت گاہ اور نیک نیت لوگوں سے نہیں چلتا؛ روزمرہ زندگی میں امن، ذمہ داری، دفاع، معاملات اور جھگڑے سلجھانے کا طریقہ بھی درکار ہوتا ہے۔ یثرب میں مختلف قبائل اور مذہبی گروہ رہتے تھے۔ ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک ایسا معاشرہ بنانے کا کام تھا جہاں لوگ اپنی پہچان کے ساتھ ایک مشترکہ شہری ذمہ داری نبھا سکیں۔

لکڑی کی میز پر لپٹا ہوا پرانا صحیفہ اور قلم

صحیفۂ مدینہ کا متن سیرت کی ابتدائی کتابوں میں محفوظ رہا۔

صحیفۂ مدینہ کیا تھی؟

سیرت کی قدیم روایت میں ایک تحریری عہد یا دستاویز کا ذکر ملتا ہے جسے بعد کی اصطلاح میں «صحیفۂ مدینہ» یا «میثاقِ مدینہ» کہا جاتا ہے۔ اس کے متن کو ابن اسحاق کی سیرت کے ابنِ ہشام والے نسخے میں اور ابو عبید قاسم بن سلام کی کتاب الاموال میں روایت کیا گیا۔ یہ صحیح بخاری یا صحیح مسلم کی سند والی حدیث نہیں؛ اس لیے اس کی ہر شق کو صحیح حدیث کہنا درست نہیں۔ اسے سیرت اور سیاسی تاریخی روایت کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ اصل دستاویز آج ہمارے پاس نہیں؛ متن قدیم تحریری نقلوں میں محفوظ ہوا، اور اس کی تقسیم اور کچھ الفاظ پر محققین میں گفتگو ملتی ہے۔

اس احتیاط کا مطلب یہ نہیں کہ واقعے کو بے معنی سمجھا جائے۔ اس دستاویز کا قدیم سیرت کے مآخذ میں محفوظ ہونا، اور اس میں مختلف جماعتوں کے حقوق اور فرائض کا ذکر، مدینہ کی ابتدائی سیاست کا قیمتی پس منظر دیتا ہے۔ لیکن کسی مشہور آن لائن «دستور» کی نمبر وار فہرست کو لفظ بہ لفظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل فرمان کہہ دینا بھی ٹھیک نہیں۔ مختلف ایڈیشن ترجمے، شقوں کی نمبرنگ اور دستاویز کو کتنے حصوں میں سمجھا جائے، ان باتوں میں فرق رکھتے ہیں۔ اس لیے یہاں مشترکہ مضامین کا خلاصہ کیا گیا ہے، نہ کہ تمام الفاظ کو قطعی سند کے ساتھ منسوب کیا گیا ہے۔

صحیح حدیث میں اس تحریر کی طرف اشارہ بھی ملتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک «صحیفہ» کے سوا کچھ نہیں جسے ہم لکھتے ہیں، اور اس میں تھا:

الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى كَذَا، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ … ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ
«مدینہ عائر سے فلاں مقام تک حرم ہے؛ جو اس میں کوئی بدعت (فساد) نکالے یا کسی فسادی کو پناہ دے، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے … مسلمانوں کی ذمہ داری (امان) ایک ہے، ان کا ادنیٰ شخص بھی اسے نبھا سکتا ہے؛ جو کسی مسلمان کے دیے ہوئے عہدِ امان کو توڑے، اس پر اللہ کی لعنت ہے۔» (صحیح بخاری، حدیث 3179؛ صحیح مسلم 1370)

یہ الفاظ صحیفۂ مدینہ کے ان مضامین سے ملتے ہیں جو سیرت کے متن میں آتے ہیں (مدینہ کا حرم ہونا، فساد کرنے والے کو پناہ نہ دینا، مسلمانوں کی امان کا ایک ہونا)۔ یوں صحیح حدیث سے دستاویز کے بنیادی مزاج کی تائید ہوتی ہے، اگرچہ پوری تحریر کا لفظ بہ لفظ متن سیرت کی روایت ہے۔

قدیم شہر کے محلوں کا نقشہ — مختلف قبائل کے علاقے

یثرب کے مختلف قبائل اور گروہوں کو ایک شہری نظام میں جوڑنے کی کوشش۔

ایک امت اور قبائل کی ذمہ داری

صحیفے کے ابتدائی حصوں میں قریش کے مہاجرین، یثرب کے انصار اور ان لوگوں کا ذکر ہے جو ان کے ساتھ مل کر اس سمجھوتے میں شامل ہوں۔ روایتی متن مومنوں کو دوسرے لوگوں سے الگ «ایک امت» بتاتا ہے، مگر ساتھ ہی قبائل کے موجودہ بندوبست کو بھی فوراً مٹا نہیں دیتا۔ ہر گروہ پر اپنے لوگوں کی ذمہ داریاں، دیت اور قیدیوں کی رہائی جیسے معاملات میں تعاون کا ذکر آتا ہے۔ یعنی نیا معاشرہ صرف ایک نعرہ نہیں تھا؛ اس میں خرچ، جواب دہی اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کو سنبھالنے کے عملی اصول بھی تھے۔

یہ پہلو مؤاخات کے واقعے سے متصل نظر آتا ہے۔ بھائی چارہ فرد اور گھرانے کے درمیان سہارا بناتا ہے، جبکہ تحریری عہد قبیلے اور شہری جماعت کے درمیان فرض واضح کرتا ہے۔ دونوں قدم مل کر لوگوں کو یہ سمجھاتے ہیں کہ امن صرف حکمران کا کام نہیں ہوتا؛ معاشرے کے افراد بھی اپنے حقوق کے ساتھ ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ قبائل کے درمیان پرانے تنازعات اور بدلے کی روش کو کم کرنے کے لیے مشترکہ قواعد ضروری تھے۔ قرآن نے مہاجرین اور انصار کے باہمی تعلق کو ولایت اور نصرت کا رشتہ کہا (الانفال 8:72)۔

مختلف مذہبی گروہوں کے ساتھ معاملہ

صحیفے کے متن میں یہودی قبائل اور ان کے حلیفوں کا بھی ذکر آتا ہے۔ بنو عوف کے یہود کے حوالے سے «یہود کا دین ان کے لیے اور مسلمانوں کا دین ان کے لیے» جیسا جملہ روایت کیا گیا ہے؛ اس کے بعد دوسرے گروہوں کے لیے ملتے جلتے بندوبست کا ذکر آتا ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ شہری عہد نے مذہبی پہچانوں کو ایک جیسا قرار نہیں دیا۔ مختلف جماعتوں کے درمیان کچھ مشترکہ امن اور دفاع کی ذمہ داریوں کا تصور تھا، جبکہ ان کی اپنی دینی پہچان برقرار تھی۔ ان الفاظ کے عین ترجمے اور شق کی قراءت میں نسخوں کے فرق کو یاد رکھنا چاہیے۔

اسے آج کے کسی جدید قانونی نظام کے ساتھ بالکل برابر قرار دینا ضروری نہیں۔ یہ اپنے زمانے کے یثرب کے قبائل، عہد اور حفاظتی حالات میں سمجھی جانے والی دستاویز ہے۔ مگر اس میں موجود ایک قیمتی اصول سامنے آتا ہے: مختلف لوگ شہر کے امن اور اپنے معاہدوں کی پابندی پر تعاون کر سکتے ہیں، بغیر اس کے کہ سب کا مذہب ایک ہو۔ عہد صرف دوسرے سے فائدہ لینے کا نام نہیں؛ اس میں اپنے وعدے پورے کرنا، ظلم سے بچنا اور مشترکہ خطرے میں اپنا فرض نبھانا بھی شامل ہے۔ بعد میں جب بنو قینقاع اور دوسرے قبائل نے عہد توڑا تو معاملہ اسی عہد کی روشنی میں دیکھا گیا۔

لکڑی کا پرانا ترازو — انصاف اور توازن کی علامت

عہد میں مشترکہ ذمہ داری کے ساتھ انصاف بھی ضروری تھا۔

فیصلہ سازی، امن اور دفاع

روایتی دستاویز میں شہر کے دفاع، مشترکہ خرچ، معاہدوں کی پابندی اور بڑے اختلاف میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع جیسے مضامین آتے ہیں۔ اس کا مقصد ہر تفصیل میں قبائل کی الگ پہچان ختم کرنا نہیں، بلکہ ایسے اختلاف کو روکنا تھا جو خون ریزی یا شہر کے امن کو نقصان پہنچائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت مدینہ کے نئے معاشرے میں فیصلے اور رہنمائی کا مرکز بنی۔ یہ نظام ان لوگوں کے لیے اہم تھا جو ہجرت کے بعد ایک نئے شہر میں رہ رہے تھے اور جن کے درمیان پہلے سے مختلف روابط اور معاہدے موجود تھے۔

قرآن انصاف، عہد پورا کرنے اور ناانصافی سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے: «اور اللہ کا عہد پورا کرو جب تم عہد کرو» (النحل 16:91)۔ اور فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ
«اے ایمان والو! اللہ کے لیے انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور انصاف کی گواہی دو۔ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔» (سورۃ المائدہ 5:8)

آیت کا یہ اصول مدینہ کی زندگی کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، لیکن اسے صحیفے کی ہر شق کی سند نہیں سمجھنا چاہیے۔ قرآن اپنی دلیل ہے؛ صحیفے کا متن سیرت کے مآخذ میں محفوظ تاریخی دستاویز ہے۔ دونوں کو الگ پہچان کر پڑھنا علم اور امانت کا تقاضا ہے۔

اس واقعے سے کیا سمجھ آتا ہے؟

مدینہ کی نئی زندگی میں مسجد، مؤاخات اور صحیفہ الگ الگ مگر ایک دوسرے سے متصل پہلو تھے۔ مسجد نے عبادت اور مشورے کی جگہ دی؛ مؤاخات نے لوگوں کے درمیان قریبی مدد اور اپنائیت پیدا کی؛ صحیفے نے شہر میں رہنے والوں کے لیے مشترکہ عہد اور ذمہ داری کا نقشہ پیش کیا۔ ان تینوں میں سے کسی کو اکیلا دیکھنے سے ہجرت کے بعد کے معاشرے کی پوری تصویر نہیں بنتی۔ نئے شہر کو بسانے کے لیے روحانی تربیت، انسانی تعلقات اور معاملات کے قواعد، تینوں درکار تھے۔

آج کے لیے بھی پیغام یہ ہے کہ امن کا دعویٰ کرنا کافی نہیں۔ وعدے پورے کرنا، اختلاف میں انصاف کرنا، مختلف لوگوں کی پہچان کا احترام اور مشترکہ ذمہ داری اٹھانا لازم ہے۔ تاریخی مثال کو اپنے مقصد کے لیے غلط نقل کرنے کے بجائے اس کے مستند حصوں اور حدود کو سمجھنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ میں قیادت کا سیرتی پہلو یہی تھا کہ نئے معاشرے کے بنیادی مسائل کا جواب صرف جذبے سے نہیں، بلکہ عہد، انصاف اور ذمہ داری سے دیا گیا۔

قلعہ نما شہر کا کھلا دروازہ اور اندر سایہ دار راستہ — امن اور حفاظت

امن اور حفاظت کے لیے شہر کے لوگوں کا باہمی تعاون۔

آج کے لیے عملی سبق

  • ہر مشترکہ رشتے میں حقوق کے ساتھ فرائض بھی واضح ہوں۔
  • اختلاف یا پرانی رنجش انصاف چھوڑنے کا جواز نہیں (المائدہ 5:8)۔
  • معاہدہ تبھی قیمتی ہے جب اس پر عمل اور وفاداری ہو (النحل 16:91)۔
  • مختلف پہچان والے لوگ امن، دفاع اور شہری ذمہ داری میں ساتھ دے سکتے ہیں۔
  • تاریخی دستاویز کو اس کے مأخذ اور سند کی حیثیت کے ساتھ پیش کریں؛ سیرت کی روایت کو صحیح حدیث نہ کہیں۔

خلاصہ

صحیفۂ مدینہ سیرت کے مآخذ (ابن اسحاق/ابن ہشام، کتاب الاموال) میں محفوظ ایک تحریری عہد ہے جس میں مہاجرین، انصار اور یہودی قبائل کے درمیان امن، دفاع، دیت اور ذمہ داری کے اصول آتے ہیں؛ صحیح بخاری 3179 میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے «صحیفے» کے الفاظ (مدینہ حرم ہے، مسلمانوں کی امان ایک ہے) اس کے مزاج کی تائید کرتے ہیں۔ یہ صحیح حدیث کی سند والا متن نہیں، مگر مدینہ کی ابتدائی سیاست کا قیمتی پس منظر ہے۔ بنیادی سبق: امن، انصاف اور مشترکہ ذمہ داری کے لیے واضح عہد اور اس پر وفاداری ضروری ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

۱۔ صحیفۂ مدینہ کیا تھی؟

سیرت کے مآخذ میں محفوظ ایک تحریری عہد یا دستاویز، جو مدینہ کے مختلف گروہوں کے درمیان ذمہ داری اور معاہدوں کا پس منظر دیتی ہے۔

۲۔ کیا یہ صحیح بخاری کی حدیث ہے؟

پورا متن نہیں۔ اس کا متن ابن اسحاق کی سیرت، ابن ہشام کے نقل کیے ہوئے نسخے اور ابو عبید کی کتاب الاموال جیسے تاریخی مآخذ میں آتا ہے۔ البتہ صحیح بخاری 3179 اور مسلم 1370 میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے صحیفے کے کچھ مضامین (مدینہ کا حرم، مسلمانوں کی امان) موجود ہیں۔

۳۔ کیا عہد میں مختلف مذہبی گروہ شامل تھے؟

جی، سیرت کے روایتی متن میں یہودی قبائل اور ان کے حلیفوں کا ذکر ہے۔ الفاظ اور شقوں کی قراءت کے نسخوں میں فرق ہو سکتا ہے۔

۴۔ اس واقعے سے بنیادی سبق کیا ہے؟

امن، انصاف اور مشترکہ ذمہ داری کے لیے واضح عہد اور اس پر وفاداری ضروری ہے۔

کتابیں اور حوالے

  • القرآن الکریم: المائدہ 5:8: اختلاف کے باوجود انصاف کا حکم؛ النحل 16:91: عہد پورا کرنا؛ الانفال 8:72۔
  • صحیح بخاری 3179؛ صحیح مسلم 1370: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا صحیفہ؛ مدینہ کا حرم اور مسلمانوں کی امان۔
  • ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ (ابن اسحاق کی سیرت کا نقل شدہ متن): صحیفے کے روایتی مضامین۔
  • ابو عبید القاسم بن سلام، کتاب الاموال: عہد کے متن کی ایک دوسری قدیم نقل۔
  • محمد حمید اللہ، «عہدِ نبوی کے میدانِ جنگ» / The First Written Constitution in the World: صحیفے کے متن اور اس کی تحقیق کا مطالعہ۔

صحیفے کی تفصیلات یہاں سیرت اور تاریخی روایت کے طور پر بیان ہوئی ہیں، صحیح حدیث کے طور پر نہیں؛ صرف وہ الفاظ حدیث کے حوالے سے ہیں جو بخاری و مسلم میں آئے۔

یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments