وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Islamic History› نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا واقعہ: عام الفیل، پیر کا دن اور صحیح روایات

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا واقعہ: عام الفیل، پیر کا دن اور صحیح روایات

نAuthor Nawab
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم • سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم — ولادت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا واقعہ: عام الفیل، پیر کا دن اور صحیح روایات

وہ صبح جب مکہ کی وادی میں رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے — کیا ثابت ہے، کیا مشہور ہے، اور کیا محض قصہ ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سیرت کا پہلا باب ہے، مگر اسی باب میں مشہور قصوں اور ثابت شدہ باتوں کا فرق سب سے زیادہ ضروری ہے۔ قرآن مجید نے آپ کی ولادت کی تاریخ یا تفصیل بیان نہیں کی؛ اس نے آپ کی بعثت کا مقصد بیان کیا ہے:

وَمَآ أَرْسَلْنَـٰكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَـٰلَمِينَ
«اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔» (الانبیاء 21:107)

یہ مضمون صحیح حدیث اور سیرت کی معتبر کتابوں (ابنِ اسحاق/ابنِ ہشام، ابنِ سعد) کے فرق کو واضح رکھ کر ولادت کا واقعہ بیان کرتا ہے۔

خانہ کعبہ اور مطاف کا فضائی منظر
مکہ مکرمہ — وہ شہر جہاں رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے

ولادت سے پہلے عرب کا ماحول

چھٹی صدی عیسوی کا عرب قبائلی نظام پر کھڑا تھا؛ آدمی کی حفاظت اور عزت اس کے قبیلے سے جڑی تھی۔ مکہ خانہ کعبہ کی وجہ سے پورے عرب کا مذہبی اور تجارتی مرکز تھا، اور قریش کو کعبہ کی خدمت (سقایہ، رفادہ، حجابہ) کی وجہ سے خاص مقام حاصل تھا۔ کعبہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے توحید کے لیے تعمیر کیا تھا، مگر صدیوں میں اس کے گرد تین سو سے زیادہ بت جمع ہو چکے تھے۔ یہی وہ ماحول تھا جس میں اللہ نے اپنی آخری کتاب اور آخری نبی بھیجنے کا فیصلہ فرمایا — اور یہ فیصلہ اچانک نہ تھا؛ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ بناتے ہوئے دعا کی تھی: «رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ» (البقرہ 2:129)، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خوشخبری دی تھی:

وَإِذْ قَالَ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ يَـٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ إِنِّى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَىَّ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُولٍ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِى ٱسْمُهُۥٓ أَحْمَدُ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ قَالُوا۟ هَـٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ
«اور (یاد کرو) جب عیسیٰ ابنِ مریم نے کہا: اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اپنے سے پہلے کی تورات کی تصدیق کرنے والا اور ایک رسول کی خوشخبری دینے والا جو میرے بعد آئے گا، جس کا نام احمد ہو گا۔» (الصف 61:6)

نسب اور خاندان

آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے خاندان بنو ہاشم سے ہیں: محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی — اور یہ سلسلہ عدنان تک متفق علیہ ہے، عدنان سے اوپر حضرت اسماعیل علیہ السلام تک ناموں میں اختلاف ہے (ابنِ ہشام)۔ آپ نے خود فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ
«بے شک اللہ نے اسماعیل کی اولاد میں سے کنانہ کو چنا، کنانہ میں سے قریش کو، قریش میں سے بنو ہاشم کو، اور بنو ہاشم میں سے مجھے چنا۔» (صحیح مسلم 2276)

اور فرمایا: «میں بنی آدم کی بہترین نسلوں میں سے، نسل در نسل، بھیجا گیا یہاں تک کہ اس نسل میں ہوا جس میں ہوں» (صحیح بخاری 3557)۔ آپ کے والد عبداللہ بن عبدالمطلب تھے اور والدہ آمنہ بنت وہب — بنو زہرہ کی معزز خاتون۔ سیرت کے مطابق عبداللہ تجارتی سفر سے واپسی پر مدینہ (یثرب) میں بیمار ہو کر وفات پا گئے جب کہ آپ ابھی والدہ کے بطن میں تھے؛ یعنی آپ ولادت سے پہلے ہی یتیم ہو چکے تھے۔ قرآن نے اسی کی طرف اشارہ کیا:

أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَـَٔاوَىٰ
«کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا، پھر ٹھکانا دیا؟» (الضحیٰ 93:6)

دادا عبدالمطلب بنو ہاشم کے سردار اور حاجیوں کو پانی پلانے (سقایہ) کے ذمہ دار تھے؛ زمزم کا کنواں دوبارہ کھودنے کا سہرا بھی انہی کے سر ہے (سیرت)۔

عام الفیل: ہاتھیوں والا سال

آپ کی ولادت کا سال عرب «عام الفیل» کہتے تھے — وہ سال جب یمن کے حبشی حاکم ابرہہ نے ہاتھیوں کے لشکر کے ساتھ کعبہ گرانے کے لیے مکہ پر چڑھائی کی اور اللہ نے پرندوں کے جھنڈ بھیج کر اسے تباہ کر دیا۔ قرآن اس کا گواہ ہے:

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَـٰبِ ٱلْفِيلِ
«کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟» (الفیل 105:1)

جمہور اہلِ سیرت کے نزدیک آپ کی ولادت اسی سال ہوئی (تقریباً 570/571ء)؛ بعض نے ابرہہ کے واقعے کے پچاس دن بعد کی تعیین کی ہے — یہ تفصیل سیرت کی ہے، حدیث کی نہیں۔ اس واقعے کی حکمت یہ بھی بیان کی گئی کہ اللہ نے اپنے آخری نبی کی آمد سے پہلے اس گھر کی عظمت عرب کے دلوں میں تازہ کر دی جس کی طرف وہ نبی عمر بھر نماز پڑھنے والے تھے۔

رات کے آسمان میں ہلال اور پہاڑوں کے سامنے مسجد
عام الفیل — تقریباً 570 عیسوی (تصویر علامتی ہے)

ولادت کا دن: صحیح حدیث کیا کہتی ہے

ولادت کے بارے میں سب سے مضبوط بات صحیح مسلم کی یہ روایت ہے۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:

ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَيَوْمٌ بُعِثْتُ - أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ
«یہ وہ دن ہے جس میں میں پیدا ہوا، اور جس میں مجھے مبعوث کیا گیا — یا جس میں مجھ پر (قرآن) نازل کیا گیا۔» (صحیح مسلم 1162)

یعنی دن «پیر» یقینی ہے۔ مہینہ ربیع الاول جمہور کے نزدیک ہے، مگر تاریخ میں اختلاف ہے: 2، 8، 9، 10، 12 ربیع الاول — سب اقوال سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں؛ ابنِ اسحاق نے 12 ربیع الاول کہا جو مشہور ہوا، جب کہ فلکیاتی حساب سے بعض محققین نے 9 ربیع الاول کو ترجیح دی ہے۔ اس لیے کسی ایک تاریخ کو قطعی کہنا درست نہیں؛ آپ کی ولادت کی اصل فضیلت تاریخ کی تعیین پر نہیں، آپ کی بعثت اور پیغام پر ہے۔

نوٹ: ولادت کے وقت کسریٰ کے محل کے کنگرے گرنے، آتش کدے کے بجھنے یا شام کے محلات روشن ہونے جیسی روایات تاریخ کی کتابوں میں ضعیف اسناد سے آئی ہیں؛ انہیں یقینی واقعہ کے طور پر بیان کرنا مناسب نہیں۔

نام رکھنا اور پہلی رضاعت

سیرت کے مطابق دادا عبدالمطلب نے بچے کو کعبہ میں لے جا کر اللہ کا شکر ادا کیا اور «محمد» نام رکھا — جو عرب میں معروف نام نہ تھا؛ پوچھنے پر کہا: میں چاہتا ہوں کہ آسمان میں اللہ اور زمین میں لوگ اس کی تعریف کریں۔ والدہ نے «احمد» نام رکھا — دونوں نام قرآن میں آئے (آل عمران 3:144، الصف 61:6)۔ سب سے پہلے والدہ نے دودھ پلایا، پھر ابو لہب کی باندی ثویبہ نے چند دن — یہ صحیح بخاری میں ثابت ہے: ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں آپ نے فرمایا کہ مجھے اور ابو سلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا (صحیح بخاری 5101)۔ اس کے بعد عرب کے دستور کے مطابق آپ کو بنو سعد کی حلیمہ سعدیہ کے سپرد کیا گیا، جن کے ہاں آپ کے بچپن کے ابتدائی سال گزرے — اس کی تفصیل الگ مضمون میں ہے۔

کھلا ہوا قرآن مجید اور پس منظر میں خانہ کعبہ
«وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ»

والدہ کی وفات اور دادا کی کفالت

سیرت کے مطابق جب آپ کی عمر چھ سال کے قریب تھی تو والدہ آمنہ آپ کو لے کر یثرب گئیں — وہاں آپ کے والد کی قبر اور بنو نجار میں ننھیالی رشتہ دار تھے — اور واپسی پر مقامِ ابواء میں وفات پا گئیں۔ آپ کی خادمہ ام ایمن (برکہ) آپ کو مکہ لے آئیں اور دادا عبدالمطلب نے کفالت سنبھالی۔ صحیح مسلم میں ہے کہ آپ نے برسوں بعد اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی، روئے اور ساتھ والوں کو رلا دیا (صحیح مسلم 976)۔ دادا کی وفات اور چچا ابو طالب کی کفالت کا بیان اگلے مضامین میں ہے۔

ولادت کے واقعے سے کیا سیکھیں

  1. ثابت اور مشہور کا فرق: دن (پیر) حدیث سے، تاریخ (12 ربیع الاول) سیرت کے ایک قول سے — دونوں کو ایک درجہ نہ دیں۔
  2. یتیمی کمزوری نہیں: اللہ نے اپنے محبوب کو یتیم پیدا کیا اور خود «ٹھکانا» دیا — تاکہ کوئی یتیم خود کو بے سہارا نہ سمجھے۔
  3. اللہ کا انتخاب: نسب، شہر اور وقت — سب اللہ کے «اصطفاء» سے طے ہوا۔
  4. ولادت کا مقصد: رحمۃ للعالمین — اس کی خوشی کا بہترین اظہار آپ کی سنت پر عمل ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا 12 ربیع الاول ولادت کی یقینی تاریخ ہے؟

نہیں؛ یہ ابنِ اسحاق کا مشہور قول ہے۔ صحیح حدیث سے صرف «پیر کا دن» ثابت ہے (صحیح مسلم 1162)۔

آپ کے والد کا انتقال کب ہوا؟

سیرت کے مطابق آپ کی ولادت سے پہلے، مدینہ میں؛ اسی لیے قرآن نے آپ کو «یتیم» کہا (93:6)۔

کیا ولادت کے وقت کے معجزات صحیح ہیں؟

کسریٰ کے کنگرے گرنے وغیرہ کی روایات ضعیف ہیں؛ قرآن میں مذکور اصحابِ فیل کی تباہی البتہ یقینی ہے۔

خلاصہ

عام الفیل کے سال، پیر کے دن، مکہ میں بنو ہاشم کے گھر رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے — یتیم، مگر اللہ کی حفاظت میں۔ ولادت کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ہم آپ کے بارے میں وہی کہیں جو ثابت ہے، اور آپ کی آمد کا شکر آپ کی اتباع سے ادا کریں۔

سبز پس منظر پر سفید خطاطی: محمد صلی اللہ علیہ وسلم
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments