وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Islamic History› غزوۂ موتہ: تین امیر، تین شہادتیں — جمادی الاولیٰ 8 ہجری

غزوۂ موتہ: تین امیر، تین شہادتیں — جمادی الاولیٰ 8 ہجری

نAuthor Nawab
غزواتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم • غزوۂ موتہ — جمادی الاولیٰ 8 ہجری

غزوۂ موتہ: تین امیر، تین شہادتیں — جمادی الاولیٰ 8 ہجری

ایک جھنڈا، تین ہاتھ، تین شہادتیں — اور پھر وہ ہاتھ جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار» کہا۔

غزوۂ موتہ جمادی الاولیٰ 8 ہجری (ستمبر 629ء) میں شام کی سرحد پر موتہ کے مقام پر لڑا گیا، جو آج اردن کے شہر کرک کے قریب ہے۔ یہ مسلمانوں کا رومی سلطنت اور اس کے عیسائی عرب حلیفوں (غسانیوں) سے پہلا ٹکراؤ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود شریک نہ تھے، اس لیے محدثین کی اصطلاح میں یہ «سریہ» ہے، مگر اس کی عظمت کی وجہ سے اسے غزوہ کہا جاتا ہے۔ قرآن کی یہ آیت اس میدان کی تفسیر ہے:

۞ إِنَّ ٱللَّهَ ٱشْتَرَىٰ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَٰلَهُم بِأَنَّ لَهُمُ ٱلْجَنَّةَ ۚ يُقَـٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ وَٱلْقُرْءَانِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِۦ مِنَ ٱللَّهِ ۚ فَٱسْتَبْشِرُوا۟ بِبَيْعِكُمُ ٱلَّذِى بَايَعْتُم بِهِۦ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ
«بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس کے بدلے خرید لیے ہیں کہ ان کے لیے جنت ہے؛ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں، قتل کرتے اور قتل کیے جاتے ہیں — یہ اس پر سچا وعدہ ہے تورات، انجیل اور قرآن میں؛ اور اللہ سے بڑھ کر اپنا عہد پورا کرنے والا کون؟ سو اپنے اس سودے پر خوش ہو جاؤ جو تم نے اس سے کیا ہے؛ اور یہی بڑی کامیابی ہے۔» (التوبہ 9:111)

یہ مضمون صحیح بخاری کی روایات پر مبنی ہے؛ سیرت کی اضافی تفصیلات کی حیثیت ساتھ بتائی گئی ہے۔

غروبِ آفتاب کے وقت پہاڑوں کے سامنے قدیم بستی اور میدان
موتہ کا میدان — شام کی سرحد (تصویر علامتی ہے)

سبب: ایک سفیر کا قتل

سیرت کی کتابوں کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حارث بن عمیر ازدی رضی اللہ عنہ کو بصریٰ کے حاکم کے نام خط دے کر بھیجا؛ راستے میں غسانی سردار شرحبیل بن عمرو نے انہیں پکڑ کر قتل کر دیا۔ سفیر کا قتل ہر زمانے میں اعلانِ جنگ سمجھا جاتا رہا ہے؛ آپ نے خود کبھی کسی سفیر کو نقصان نہیں پہنچایا — مسیلمہ کے قاصدوں تک سے فرمایا: «اگر قاصد قتل کیے جاتے تو میں تم دونوں کی گردن مار دیتا» (سنن ابی داؤد 2761)۔ اس لیے آپ نے تین ہزار کا لشکر تیار کیا — اس وقت تک کا سب سے بڑا لشکر جو آپ کے بغیر نکلا۔

تین امیر، ایک ترتیب

أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، فَقَالَ: إِنْ قُتِلَ زَيْدٌ فَجَعْفَرٌ، وَإِنْ قُتِلَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ
«رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ موتہ میں زید بن حارثہ کو امیر بنایا اور فرمایا: اگر زید قتل ہو جائیں تو جعفر، اور اگر جعفر قتل ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ۔» (صحیح بخاری 4261)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، جو اس لشکر میں تھے، کہتے ہیں: ہم نے جعفر بن ابی طالب کو مقتولین میں تلاش کیا تو ان کے جسم پر نوے سے زیادہ نیزے اور تیر کے زخم پائے (صحیح بخاری 4261)۔ یہ ترتیب خود بتاتی ہے کہ آپ جانتے تھے یہ لشکر کس آگ میں جا رہا ہے — اور آپ نے امارت ان تینوں کو دی جو آپ کو سب سے عزیز تھے: زید رضی اللہ عنہ آپ کے آزاد کردہ اور «حِبّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم»، جعفر رضی اللہ عنہ آپ کے چچا زاد اور شکل و عادت میں آپ سے مشابہ، اور ابنِ رواحہ رضی اللہ عنہ انصار کے شاعر۔ روانگی پر آپ ثنیۃ الوداع تک رخصت کرنے آئے (سیرت)۔

سفر اور مشورہ

سیرتِ ابنِ ہشام کے مطابق لشکر معان پہنچا تو خبر ملی کہ ہرقل نے بلقاء میں رومی اور عرب قبائل (لخم، جذام، بلقین، بہراء) کا ایک بہت بڑا لشکر جمع کیا ہے — روایات میں ایک لاکھ یا اس سے زیادہ کا ذکر ہے (یہ تخمینے سیرت کے ہیں)۔ مسلمان دو رات رکے اور مشورہ کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھ بھیجیں۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: «لوگو! جس چیز سے تم ڈرتے ہو، اسی کی تلاش میں تو نکلے تھے — شہادت۔ ہم تعداد یا طاقت کے بل پر نہیں لڑتے، اس دین کے بل پر لڑتے ہیں جس سے اللہ نے ہمیں عزت دی۔ چلو، دو بھلائیوں میں سے ایک یقینی ہے: فتح یا شہادت»۔ لشکر آگے بڑھا اور موتہ کے قریب صف آرا ہوا۔

صحرا میں تین سبز جھنڈے غروبِ آفتاب کے وقت
تین امیر، ایک جھنڈا (تصویر علامتی ہے)

زید، جعفر اور ابنِ رواحہ رضی اللہ عنہم

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ — واحد صحابی جن کا نام قرآن میں آیا (الاحزاب 33:37)، جنہیں لوگ کبھی «زید بن محمد» کہتے تھے یہاں تک کہ آیت «ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ» اتری (صحیح بخاری 4782) — جھنڈا لے کر آگے بڑھے اور نیزوں سے شہید ہوئے۔ پھر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا لیا؛ سیرت میں ہے کہ انہوں نے اپنے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دیں تاکہ بھاگنے کا راستہ نہ رہے، دایاں ہاتھ کٹا تو بائیں میں جھنڈا لیا، وہ بھی کٹا تو بازوؤں سے سینے سے لگائے رکھا یہاں تک کہ شہید ہوئے — صحیح بخاری ان کے جسم پر نوے سے زیادہ زخموں کی گواہی دیتا ہے، اور ابنِ عمر رضی اللہ عنہما کی دوسری روایت میں ہے کہ میں نے (ان کے جسم کے اگلے حصے پر) پچاس نیزے اور تلوار کے زخم گنے، پیٹھ پر ایک بھی نہ تھا (صحیح بخاری 4260)۔ پھر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا لیا؛ ایک لمحے کو ہچکچائے، پھر اپنے نفس سے کہا: «اے نفس! اگر تو قتل نہ بھی ہو تو مرنا تو ہے ہی…» اور لڑتے ہوئے شہید ہوئے (سیرت)۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «میں نے جعفر کو جنت میں فرشتوں کے ساتھ اڑتے دیکھا» (جامع ترمذی 3763؛ امام ترمذی نے اسے غریب کہا ہے، مگر «ذو الجناحین» اور «جعفر طیار» کا لقب صحابہ میں معروف تھا — حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جعفر کے بیٹے کو سلام کرتے تو کہتے: «السلام علیک یا ابن ذی الجناحین» — صحیح بخاری 3709)۔

مدینہ میں اسی وقت: آپ کی آنکھوں سے آنسو

أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَ جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَ ابْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ — وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ — حَتَّى أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ
«نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو زید، جعفر اور ابنِ رواحہ کی شہادت کی خبر اس سے پہلے دے دی کہ ان کی خبر پہنچتی؛ فرمایا: جھنڈا زید نے لیا اور شہید ہوئے، پھر جعفر نے لیا اور شہید ہوئے، پھر ابنِ رواحہ نے لیا اور شہید ہوئے — اور آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے — یہاں تک کہ جھنڈا اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے لیا اور اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح دی۔» (صحیح بخاری 4262)

یہ منظر مدینہ میں منبر پر تھا اور میدان سیکڑوں کلومیٹر دور — وحی نے آپ کو وہ دکھایا جو ابھی کسی قاصد نے نہیں بتایا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب خبر آئی تو آپ ایسے بیٹھے کہ چہرے پر غم نمایاں تھا؛ میں دروازے کی درز سے جھانک رہی تھی۔ ایک آدمی نے آ کر کہا: جعفر کی عورتیں رو رہی ہیں؛ آپ نے انہیں روکنے کو کہا، وہ گیا اور واپس آ کر کہا کہ وہ نہیں مانتیں؛ تیسری بار آپ نے فرمایا: «ان کے منہ میں مٹی ڈال دو»۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس آدمی سے کہا: اللہ تمہاری ناک خاک آلود کرے، نہ تم نے وہ کیا جو حکم تھا اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف سے چھوڑا (صحیح بخاری 4263)۔ آپ نے گھر والوں سے فرمایا: «آلِ جعفر کے لیے کھانا بناؤ، ان پر ایسی بات آئی ہے جس نے انہیں مشغول کر دیا» (سنن ابی داؤد 3132؛ جامع ترمذی 998 — حسن)، اور جعفر رضی اللہ عنہ کے بچوں کو بلا کر پیار کیا (سنن ابی داؤد 4192)۔

سبز وادی پر طلوعِ آفتاب اور آسمان میں دو سفید پرندے
جعفر طیار رضی اللہ عنہ — «ابنِ ذی الجناحین» (تصویر علامتی ہے)

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ: «سیف اللہ»

تینوں امیروں کے بعد لشکر نے حضرت ثابت بن اقرم رضی اللہ عنہ کے کہنے پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا — وہ خالد جو چند ماہ پہلے مسلمان ہوئے تھے اور احد میں مسلمانوں کے خلاف گھڑ سواروں کی قیادت کر چکے تھے۔ وہ خود بیان کرتے ہیں:

لَقَدِ انْقَطَعَتْ فِي يَدِي يَوْمَ مُؤْتَةَ تِسْعَةُ أَسْيَافٍ، فَمَا بَقِيَ فِي يَدِي إِلاَّ صَفِيحَةٌ يَمَانِيَةٌ
«موتہ کے دن میرے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹیں؛ میرے ہاتھ میں صرف ایک یمنی چوڑی تلوار باقی رہی۔» (صحیح بخاری 4265)

سیرت کے مطابق خالد رضی اللہ عنہ نے رات کو لشکر کی ترتیب بدل دی — میمنہ کو میسرہ، پیچھے والوں کو آگے — تاکہ دشمن سمجھے کہ نئی کمک آ گئی ہے، اور لڑتے ہوئے منظم انداز میں لشکر کو پیچھے ہٹایا۔ تین ہزار کا لشکر ایک بہت بڑی فوج کے سامنے سے صرف بارہ شہداء دے کر سلامت واپس آیا؛ صحیح بخاری کے الفاظ میں «اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح دی» — یعنی لشکر کی حفاظت اور دشمن کا رک جانا۔ «سیف اللہ» کا لقب اسی دن کا ہے۔

مدینہ کے قریب کچھ لوگوں نے لشکر کو «بھگوڑے» کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نہیں، بلکہ یہ پلٹ کر حملہ کرنے والے (عَكَّارُون) ہیں، اور میں تمہارا پشت پناہ (فِئَہ) ہوں» (سنن ابی داؤد 2647)۔ ایک ایسا سپہ سالار جو لشکر کی عزت کا دفاع خود کرے — یہ موتہ کا ایک اور سبق ہے۔

نتائج

موتہ نے رومی سرحد کے قبائل کو دکھا دیا کہ عرب سے ایک ایسی قوت اٹھی ہے جو سب سے بڑی سلطنت کے سامنے میدان میں آ سکتی ہے؛ انہی میں سے کئی قبیلے بعد میں اسلام میں داخل ہوئے۔ اگلے سال تبوک کا سفر اسی سرحد کی طرف ہوا، اور آپ کی وفات سے پہلے کا آخری لشکر — اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا لشکر — اسی موتہ کی طرف روانہ کیا گیا جہاں ان کے والد شہید ہوئے تھے۔ خالد رضی اللہ عنہ کی تلوار پھر یمامہ، عراق اور یرموک میں چلی۔ آگے: غزوۂ تبوک، جنگِ یمامہ۔

نوٹ: اس مضمون کی بنیادی روایات صحیح بخاری 4260–4265 ہیں۔ سفیر کا قتل، معان کا مشورہ، جعفر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں کا کٹنا اور خالد رضی اللہ عنہ کی فوجی تدبیر سیرتِ ابنِ ہشام اور واقدی سے ہیں؛ رومی لشکر کی تعداد کے اعداد تخمینے ہیں۔

غزوۂ موتہ سے پانچ سبق

  1. ذمہ داری کی منتقلی پہلے سے طے ہو: تین امیر، ایک ترتیب — اور لشکر کبھی بے قیادت نہ رہا۔
  2. تعداد نہیں، دین کی قوت: ابنِ رواحہ رضی اللہ عنہ کا مشورہ۔
  3. زخم سامنے کے ہوں: جعفر رضی اللہ عنہ کے نوے زخم، پیٹھ پر ایک نہیں۔
  4. کل کا دشمن آج کا سیف اللہ ہو سکتا ہے: خالد رضی اللہ عنہ کی قیادت۔
  5. غم بھی سنت ہے: آپ کی آنکھوں کے آنسو اور آلِ جعفر کے لیے کھانا۔

خلاصہ

موتہ وہ میدان ہے جہاں ایک جھنڈا تین ہاتھوں سے گرے بغیر چوتھے ہاتھ میں آیا۔ تین محبوب صحابہ شہید ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر روتے ہوئے ان کی خبر دی، اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ «سیف اللہ» بن کر لشکر کو واپس لائے۔ وفاداری، ترتیب اور شہادت کی تمنا — یہی موتہ کی میراث ہے۔

سبز پس منظر پر سنہری خطاطی: سیف اللہ
«سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ» (بخاری 4262)
یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments