وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Islamic History› خلافتِ عمر رضی اللہ عنہ: فاروقِ اعظم کا دس سالہ عدل — فتوحات سے نظام تک

خلافتِ عمر رضی اللہ عنہ: فاروقِ اعظم کا دس سالہ عدل — فتوحات سے نظام تک

نAuthor Nawab
خلافتِ راشدہ • خلافتِ راشدہ — دوسرے خلیفہ

خلافتِ عمر رضی اللہ عنہ: فاروقِ اعظم کا دس سالہ عدل — فتوحات سے نظام تک

جس کے راستے سے شیطان بھی راستہ بدل لیتا تھا — اور جو رات کو مدینہ کی گلیوں میں بیواؤں کے گھر پانی بھر آتا تھا۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت جمادی الآخرہ 13 ہجری سے ذوالحجہ 23 ہجری تک — دس سال چھ مہینے — رہی۔ اس دور میں اسلامی ریاست عرب کی حدود سے نکل کر شام، عراق، ایران اور مصر تک پھیلی، اور ساتھ ہی ریاست کے وہ ادارے بنے — دیوان، قضا، ہجری کیلنڈر، نئے شہر — جو صدیوں چلے۔ اس مضمون میں صحیح احادیث سے ان کا مقام، اور معتبر تاریخ (طبری، ابنِ کثیر) سے ان کے دور کے بڑے واقعات بیان کیے گئے ہیں؛ تخمینی اعداد کو تخمینہ ہی کہا گیا ہے۔

بیت المقدس کا منظر، قبۃ الصخرہ اور پرانی دیواریں
بیت المقدس — جہاں عمر رضی اللہ عنہ خود چابیاں لینے گئے

مقام: محدَّث، ہیبت اور حق

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «تم سے پہلی امتوں میں محدَّث (الہام والے) لوگ ہوتے تھے؛ اگر میری امت میں کوئی ہے تو وہ عمر ہے» (صحیح بخاری 3689؛ صحیح مسلم 2398)۔ ان کی رائے کئی بار وحی کے موافق آئی — مقامِ ابراہیم پر نماز، پردے کا حکم، اور ازواجِ مطہرات کے بارے میں آیت (صحیح بخاری 402)۔ آپ نے خواب میں دیکھا کہ لوگوں کو قمیصیں پہنائی جا رہی ہیں اور عمر کی قمیص زمین پر گھسٹ رہی ہے؛ فرمایا: اس کی تعبیر «دین» ہے (صحیح بخاری 3691)۔ اور فرمایا: «اے ابنِ خطاب! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، شیطان جب بھی تمہیں کسی راستے پر چلتا پاتا ہے تو وہ تمہارا راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے» (صحیح بخاری 3294؛ صحیح مسلم 2396)۔ «اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا» (جامع ترمذی 3682 — حسن غریب)۔

خلافت کا آغاز

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں نامزد کیا اور انہوں نے خلافت سنبھالتے ہی پہلے خطبے میں اپنی سختی کا ذکر کر کے کہا کہ یہ سختی اب ظالموں کے لیے ہے اور اہلِ دین و امن کے لیے نرمی (طبری)۔ انہوں نے «خلیفۃ خلیفۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم» کے بجائے «امیر المومنین» کا لقب اختیار کیا — پہلا شخص جسے یہ لقب ملا (تاریخ)۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو شام کی سپہ سالاری سے ہٹا کر ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو دیا؛ خود کہا: میں نے خالد کو ناراضی سے نہیں ہٹایا بلکہ اس لیے کہ لوگ فتح کو ان کی ذات سے نہ جوڑیں (طبری) — خالد نے اطاعت کی اور عام سپاہی بن کر لڑتے رہے۔

سبز پس منظر پر سنہری خطاطی: الفاروق
الفاروق — حق و باطل میں فرق کرنے والے

فتوحات: قادسیہ، یرموک، بیت المقدس

یرموک (رجب 15 ہجری): شام میں رومی سلطنت کا فیصلہ کن معرکہ؛ تاریخ میں رومی لشکر لاکھ سے زیادہ اور مسلمان تقریباً چھتیس سے چالیس ہزار بتائے جاتے ہیں (تخمینے)۔ خالد رضی اللہ عنہ کی فوجی تدبیر اور ابو عبیدہ کی قیادت میں رومی شکست کھا گئے اور ہرقل نے شام کو الوداع کہا — دمشق، حمص، حلب یکے بعد دیگرے فتح ہوئے۔

قادسیہ (14 ہجری کے آخر / 15 ہجری): سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایرانی سپہ سالار رستم کے خلاف تین چار دن کی جنگ؛ رستم مارا گیا، عراق کا دروازہ کھلا، اور 16 ہجری میں مدائن — کسریٰ کا دارالحکومت — فتح ہوا۔ کسریٰ کا خزانہ اور قالین مدینہ پہنچا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جن لوگوں نے یہ امانت ادا کی وہ یقیناً امین ہیں؛ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ پاک دامن رہے تو رعایا پاک دامن ہوئی (تاریخ)۔ جلولاء کے بعد 21 ہجری میں نہاوند — «فتح الفتوح» — کے ساتھ ساسانی سلطنت عملاً ختم ہو گئی۔

بیت المقدس (15/16 ہجری): شہر کے پادریوں نے شرط رکھی کہ چابیاں خود خلیفہ کے حوالے کریں گے۔ عمر رضی اللہ عنہ ایک خادم کے ساتھ ایک اونٹ پر باری باری سوار ہو کر آئے؛ اہلِ ایلیا کو امان نامہ دیا جس میں ان کی جانوں، گرجوں اور صلیبوں کی حفاظت کی ضمانت تھی (طبری میں اس کا متن محفوظ ہے)۔ کنیسۂ قیامت میں نماز کے وقت پادری نے وہیں نماز پڑھنے کو کہا تو انکار کیا کہ کہیں بعد میں مسلمان اسے مسجد نہ بنا لیں (تاریخ)۔ اسی سفر میں جابیہ کا مشہور خطبہ دیا۔

مصر (20 ہجری): عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فسطاط کی بنیاد رکھی اور اسکندریہ فتح ہوا؛ مصر کی گندم قحط کے سال مدینہ کے لیے سہارا بنی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی «تم مصر فتح کرو گے، وہاں کے لوگوں سے بھلائی کرنا، ان سے ذمہ اور رشتہ داری ہے» (صحیح مسلم 2543) اسی دور میں پوری ہوئی۔

ترازو، سونے کے سکے اور پرانے طومار
دیوان اور بیت المال (تصویر علامتی ہے)

نظام: دیوان، قضا، کیلنڈر، شہر

  • دیوان (15 ہجری): مالِ غنیمت اور خراج کی آمد بڑھی تو وظائف کا باقاعدہ رجسٹر بنا — ترتیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت اور اسلام میں سبقت کے لحاظ سے؛ بدری صحابہ کو سب سے زیادہ وظیفہ۔
  • قضا اور احتساب: صوبوں میں مستقل قاضی مقرر کیے؛ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے نام قضا کا مشہور خط لکھا (اس کی سند پر کلام ہے مگر مضمون معروف ہے)؛ خود رات کو گشت کرتے۔
  • ہجری کیلنڈر (16/17 ہجری): مشورے سے ہجرت کو تاریخ کی ابتدا قرار دیا اور محرم کو پہلا مہینہ۔
  • نئے شہر: بصرہ (14 ہجری)، کوفہ (17 ہجری)، فسطاط (21 ہجری) — فوجی چھاؤنیاں جو علم کے مراکز بنے۔
  • تراویح کی جماعت (14 ہجری): لوگوں کو ایک قاری ابی بن کعب رضی اللہ عنہ پر جمع کیا اور فرمایا: «نِعْمَ الْبِدْعَةُ هَذِهِ» — یہ کیسا اچھا نیا کام ہے (صحیح بخاری 2010)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود چند راتیں باجماعت پڑھا چکے تھے اور فرض ہو جانے کے خوف سے چھوڑ دی تھی، اس لیے یہ احیاءِ سنت تھا۔
  • ذمیوں کے حقوق: آخری وصیت میں کہا: «میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو اللہ اور اس کے رسول کے ذمے (ذمیوں) کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ ان کا عہد پورا کیا جائے، ان کے دفاع میں لڑا جائے اور ان پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے» (صحیح بخاری 1392)۔

عامُ الرمادہ اور طاعونِ عمواس (18 ہجری)

18 ہجری میں حجاز میں سخت قحط پڑا — زمین راکھ (رماد) جیسی ہو گئی، اسی لیے «عامُ الرمادہ» کہلایا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی کہ جب تک لوگ خوشحال نہ ہوں وہ گھی اور گوشت نہیں کھائیں گے؛ ان کا رنگ سیاہ پڑ گیا۔ شام سے ابو عبیدہ، مصر سے عمرو بن العاص اور عراق سے سعد رضی اللہ عنہم نے غلے کے قافلے بھیجے؛ خود مدینہ میں ہزاروں لوگوں کو روزانہ کھانا کھلایا اور عباس رضی اللہ عنہ کے وسیلے سے استسقا کی دعا کی (صحیح بخاری 1010)۔ اسی سال قحط کے دوران چوری کی حد میں شبہ کی وجہ سے نرمی کی (تاریخ)۔ اسی سال شام میں طاعونِ عمواس پھیلا؛ عمر رضی اللہ عنہ شام کے سفر پر سرغ پہنچے تو وبا کی خبر ملی؛ مہاجرین و انصار سے مشورہ کیا اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی: «جہاں وبا ہو وہاں نہ جاؤ، اور جہاں ہو وہاں سے نہ بھاگو» — عمر واپس لوٹ گئے (صحیح بخاری 5729)۔ اس وبا میں ابو عبیدہ، معاذ بن جبل اور یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم سمیت ہزاروں شہید ہوئے۔

سادگی اور عدل

خلیفۂ وقت کے کپڑوں پر پیوند تھے؛ وہ کہتے تھے: اگر فرات کے کنارے ایک بکری بھی ضائع ہوئی تو مجھے ڈر ہے عمر سے اس کا حساب لیا جائے گا (تاریخ)۔ ان کا اصول تھا کہ عامل مقرر کرتے وقت اس کا مال لکھ لیا جائے اور بڑھ جائے تو حساب لیا جائے۔ مصر کے گورنر عمرو بن العاص کے بیٹے نے ایک قبطی کو مارا تو عمر نے قبطی کو بلا کر بدلہ لینے کو کہا اور عمرو سے کہا: تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا؟ — یہ واقعہ تاریخ کی کتابوں (ابنِ عبدالحکم) سے ہے۔ ان کی شوریٰ میں بڑے صحابہ ہوتے اور وہ قرآن کے حکم پر عمل کرتے تھے: «وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ» (الشوریٰ 42:38)۔

شہادت اور چھ رکنی شوریٰ

ذوالحجہ 23 ہجری میں فجر کی نماز میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے مجوسی غلام ابو لؤلؤہ فیروز نے دو دھاری خنجر سے ان پر حملہ کیا، تیرہ آدمیوں کو زخمی کیا جن میں سات شہید ہوئے، اور پکڑے جانے پر خود کشی کر لی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن عوف کو آگے بڑھا کر نماز مکمل کروائی؛ گھر لائے گئے تو پوچھا: مجھے کس نے مارا؟ بتایا گیا: ابو لؤلؤہ۔ کہا: «الحمد للہ کہ میری موت کسی ایسے شخص کے ہاتھ نہیں آئی جو اسلام کا دعویٰ کرتا ہو»۔ پھر بیٹے عبداللہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ «عمر بن خطاب اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت مانگتا ہے» — «امیر المومنین» نہ کہلوایا، کہا: آج میں امیر نہیں۔ عائشہ نے کہا: میں نے یہ جگہ اپنے لیے رکھی تھی، مگر آج عمر کو اپنے اوپر ترجیح دوں گی۔ انہوں نے خلافت چھ اصحاب — علی، عثمان، زبیر، طلحہ، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم — کی شوریٰ کے سپرد کی، جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات تک راضی تھے، اور بیت المال سے اپنے قرض کی ادائیگی کی وصیت کی (صحیح بخاری 3700)۔ تین دن بعد — تاریخ کے مطابق یکم محرم 24 ہجری — وفات پائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن ہوئے؛ عمر تریسٹھ سال تھی (صحیح مسلم 2348)۔

پرانی چابی، طومار اور تیل کا چراغ
بیت المقدس کی چابیاں (تصویر علامتی ہے)

فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے پانچ سبق

  1. حاکم کا احتساب خود سے شروع ہو: پیوند والے کپڑے اور قرض کی وصیت۔
  2. ادارے بناؤ، شخصیت نہیں: خالد کی معزولی اور دیوان کا قیام۔
  3. غیر مسلم رعایا کا عہد امانت ہے: بیت المقدس کا امان نامہ اور آخری وصیت۔
  4. مشورہ لازم ہے: سرغ میں وبا کا فیصلہ اور چھ رکنی شوریٰ۔
  5. بحران میں قیادت ساتھ کھڑی ہو: عامُ الرمادہ میں گھی اور گوشت کی قسم۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

خلافت کتنا عرصہ رہی؟

جمادی الآخرہ 13 ہجری سے ذوالحجہ 23 ہجری — دس سال چھ ماہ۔

بیت المقدس کب فتح ہوا؟

15 یا 16 ہجری — دونوں اقوال تاریخ میں ہیں؛ عمر رضی اللہ عنہ خود گئے اور امان نامہ دیا۔

شہادت کیسے ہوئی؟

فجر کی نماز میں ابو لؤلؤہ مجوسی کے خنجر سے، ذوالحجہ 23 ہجری (صحیح بخاری 3700)۔

خلاصہ

عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور فتوحات کا دور بھی تھا اور اداروں کا بھی — مگر اس کی اصل پہچان عدل ہے: وہ عدل جس نے فاتح کو مفتوح کے سامنے جوابدہ بنایا، خلیفہ کو عام مہاجر کے وظیفے پر رکھا، اور دشمن کے شہر کے گرجوں کو امان دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا «اے اللہ! عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو عزت دے» (جامع ترمذی 3681 — حسن صحیح) ان کی خلافت میں پوری طرح ظاہر ہوئی۔

یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments