وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Islamic History› حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت: ردّہ، جمعِ قرآن اور فتوحات کی بنیاد

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت: ردّہ، جمعِ قرآن اور فتوحات کی بنیاد

نAuthor Nawab
خلافتِ راشدہ • خلافتِ راشدہ — پہلے خلیفہ

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت: ردّہ، جمعِ قرآن اور فتوحات کی بنیاد

دو سال تین مہینے — اور اس مختصر دور میں امت کو بکھرنے سے بچانا، قرآن کو جمع کرنا اور دو سلطنتوں کے دروازے کھولنا۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت ربیع الاول 11 ہجری سے جمادی الآخرہ 13 ہجری تک — صرف دو سال اور تقریباً تین مہینے — رہی، مگر تاریخِ اسلام کے سب سے نازک دن یہی تھے۔ اس مضمون میں ان کے دورِ خلافت کے بڑے فیصلوں کو صحیح حدیث اور معتبر تاریخ (طبری، ابنِ کثیر) کے فرق کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ سقیفہ کا واقعہ، جمعِ قرآن کی تفصیل اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نامزدگی پر الگ مضامین موجود ہیں؛ یہاں انہیں مختصر رکھا گیا ہے۔

مسجدِ نبوی کا سبز گنبد غروبِ آفتاب کے وقت
مسجدِ نبوی — جہاں سے خلافت کا آغاز ہوا

مقام: صدیق، یارِ غار، خلیل کے قریب ترین

خلافت سے پہلے ان کا مقام سمجھ لیجیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابو بکر کو بناتا، مگر وہ میرے بھائی اور ساتھی ہیں» (صحیح بخاری 3657؛ صحیح مسلم 2383)۔ غارِ ثور میں جب انہوں نے کہا: اگر کوئی اپنے قدموں کی طرف دیکھے تو ہمیں دیکھ لے گا، آپ نے فرمایا: «ابو بکر! ان دو کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے جن کا تیسرا اللہ ہے؟» (صحیح بخاری 3653)۔ قرآن نے انہیں «ثَانِيَ اثْنَيْنِ» کہا (التوبہ 9:40)۔ آخری بیماری میں آپ نے انہی کو امامت کا حکم دیا، اور فرمایا: «اللہ اور مومن ابو بکر کے سوا کسی کو قبول نہیں کریں گے» (صحیح بخاری 7217)۔

وفاتِ نبوی کے دن: «جو محمد کی عبادت کرتا تھا…»

12 ربیع الاول 11 ہجری کو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو مدینہ پر سکتہ طاری تھا؛ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے کہ آپ کی وفات نہیں ہوئی۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ سنح سے آئے، حجرۂ عائشہ میں گئے، آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور کہا: «میرے ماں باپ آپ پر قربان، اللہ آپ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا»۔ پھر باہر آ کر فرمایا:

مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لاَ يَمُوتُ
«جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے، اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے، کبھی نہیں مرے گا۔» (صحیح بخاری 3667–3668)

اور آیت پڑھی: «وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ» (آل عمران 3:144)۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جیسے ہی میں نے انہیں یہ آیت پڑھتے سنا، میرے پاؤں جواب دے گئے اور میں زمین پر گر پڑا؛ مجھے یقین ہو گیا کہ آپ وفات پا گئے (صحیح بخاری 4454)۔ اسی دن سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار و مہاجرین نے مشورے کے بعد ان کے ہاتھ پر بیعت کی (تفصیل: سقیفہ بنی ساعدہ)۔ اگلے دن منبر پر پہلا خطبہ دیا: «مجھے تم پر امیر بنایا گیا ہے حالانکہ میں تم میں بہتر نہیں؛ اگر اچھا کروں تو میری مدد کرو، برا کروں تو سیدھا کر دو… جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کروں میری اطاعت کرو، اور جب نافرمانی کروں تو تم پر میری اطاعت نہیں» (ابنِ اسحاق/طبری — سند صحیح)۔

سبز پس منظر پر سنہری خطاطی: ابو بکر الصدیق
ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ

لشکرِ اسامہ: پہلا فیصلہ

وصال سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں شام کی سرحد (موتہ کی طرف) لشکر تیار کیا تھا؛ وہ جرف میں رکا ہوا تھا۔ وفات کے بعد عرب میں بغاوت کی خبریں آنے لگیں اور صحابہ نے مشورہ دیا کہ لشکر روک لیا جائے۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: «اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر مجھے یقین ہو کہ درندے مجھے اچک لیں گے تب بھی میں اسامہ کا لشکر اسی طرح روانہ کروں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا، اور وہ جھنڈا نہیں کھولوں گا جو آپ نے باندھا» (طبری؛ ابنِ کثیر)۔ لشکر گیا، چالیس دن میں کامیاب لوٹا، اور قبائل نے سمجھا کہ مدینہ اتنا کمزور نہیں جتنا وہ سمجھتے تھے۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کی عمر اٹھارہ کے قریب تھی اور ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کی سواری کے ساتھ پیدل چلے (تاریخ)۔

فتنۂ ارتداد اور زکوٰۃ کا فیصلہ

وفاتِ نبوی کے بعد عرب کے کئی قبائل مرتد ہو گئے؛ کچھ نے نبوت کے جھوٹے دعویداروں — مسیلمہ (یمامہ)، طلیحہ (بنو اسد)، اسود عنسی (یمن)، سجاح (بنو تمیم) — کا ساتھ دیا، اور کچھ نے کہا: نماز پڑھیں گے، زکوٰۃ نہیں دیں گے۔ یہ خلافت کا سب سے بڑا امتحان تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ لوگوں سے کیسے لڑیں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مجھے لوگوں سے لڑنے کا حکم ہے یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں، اور جو کہہ دے اس کا مال اور جان محفوظ ہے؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

وَاللَّهِ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا
«اللہ کی قسم! میں اس سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے، کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم، اگر وہ مجھے بکری کا ایک بچہ بھی روکیں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے تو میں اس کے روکنے پر ان سے لڑوں گا۔» (صحیح بخاری 1399–1400)

عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: «اللہ کی قسم، پھر میں نے دیکھا کہ اللہ نے ابو بکر کا سینہ اس فیصلے کے لیے کھول دیا ہے، اور میں نے جان لیا کہ یہی حق ہے»۔ یہ فیصلہ دین کے ارکان کو ناقابلِ تقسیم رکھنے کا فیصلہ تھا — اگر اس دن زکوٰۃ چھوڑ دی جاتی تو کل نماز بھی سودے میں آتی۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے گیارہ لشکر ترتیب دیے؛ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بزاخہ میں طلیحہ کو شکست دی، پھر بنو تمیم اور مالک بن نویرہ کا معاملہ، اور آخر میں یمامہ۔ جنگِ یمامہ (12 ہجری) ردّہ کی سب سے سخت جنگ تھی؛ مسیلمہ وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ کے نیزے سے مارا گیا (صحیح بخاری 4072)، مگر مسلمانوں کے سیکڑوں شہداء میں قرآن کے بہت سے قاری تھے — تاریخ کے تخمینے بارہ سو شہداء اور ستر قراء کے ہیں۔ ایک سال کے اندر پورا جزیرۂ عرب دوبارہ مدینہ کے تحت آ گیا۔

صحرا میں غار اور پہاڑ غروبِ آفتاب کے وقت
غارِ ثور — «ثَانِيَ اثْنَيْنِ» (تصویر علامتی ہے)

جمعِ قرآن: سب سے بڑا کارنامہ

یمامہ میں قراء کی شہادت کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: «یمامہ میں قراء بہت شہید ہوئے؛ مجھے ڈر ہے کہ اگر دوسرے مقامات پر بھی ایسا ہوا تو قرآن کا بڑا حصہ ضائع ہو جائے گا؛ میری رائے ہے کہ آپ قرآن جمع کرنے کا حکم دیں»۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: «میں وہ کام کیسے کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟» عمر نے کہا: اللہ کی قسم، یہ خیر ہے — اور بار بار کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے ابو بکر کا سینہ کھول دیا۔ پھر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا، جنہوں نے کہا: «اللہ کی قسم، اگر مجھے پہاڑ منتقل کرنے کا حکم دیا جاتا تو وہ اس سے بھاری نہ ہوتا»؛ انہوں نے کھجور کی شاخوں، پتھر کی تختیوں اور لوگوں کے سینوں سے قرآن جمع کیا — یہاں تک کہ سورۂ توبہ کی آخری دو آیات صرف ابو خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس (لکھی ہوئی) ملیں۔ یہ صحیفے ابو بکر کے پاس رہے، پھر عمر کے پاس، پھر ان کی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس (صحیح بخاری 4986)۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «مصاحف کے بارے میں سب سے بڑا اجر ابو بکر کا ہے؛ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے قرآن کو دو گتوں کے درمیان جمع کیا» (ابن ابی داؤد، کتاب المصاحف)۔ تفصیل: جمعِ قرآن کا مضمون۔

شام اور عراق: فتوحات کی بنیاد

ردّہ ختم ہوتے ہی 12 ہجری میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ عراق کی طرف بھیجے گئے؛ ذاتِ السلاسل، اُلّیس اور حیرہ فتح ہوئے اور حیرہ والوں نے جزیہ پر صلح کی۔ 13 ہجری کے آغاز میں شام کی طرف چار لشکر روانہ ہوئے — ابو عبیدہ بن الجراح، یزید بن ابی سفیان، شرحبیل بن حسنہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم — اور جب رومی بڑی فوج جمع ہوئی تو ابو بکر نے خالد کو عراق سے شام بلایا؛ خالد صحرا پار کر کے پہنچے اور اجنادین (جمادی الاولیٰ 13 ہجری) میں رومیوں کو شکست ہوئی — اس فتح کی خبر ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ان کی آخری بیماری میں پہنچی (طبری)۔ یرموک کا فیصلہ کن معرکہ ان کی وفات کے چند دن بعد ہوا۔ یوں فتوحات کی بنیاد اسی دور میں رکھی گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی بھی ان کے دور میں پوری ہونے لگی: «میری امت میں خلافت تیس سال رہے گی، پھر بادشاہت» (جامع ترمذی 2226 — حسن)۔

سادگی، بیت المال اور حکمرانی

خلیفہ بننے کے بعد وہ کپڑے بیچنے بازار جا رہے تھے؛ عمر اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہما نے کہا: اب یہ امت کی ذمہ داری ہے، آپ کے لیے بیت المال سے گزارہ مقرر ہو گا — چنانچہ ایک عام مہاجر کے برابر وظیفہ مقرر ہوا (ابنِ سعد)۔ وفات کے وقت انہوں نے وصیت کی کہ خلافت کے دوران بیت المال سے جو لیا، ان کی زمین بیچ کر واپس کر دیا جائے (تاریخ)۔ بیت المال کا کوئی محافظ نہ تھا؛ پوچھا گیا تو کہا: اس پر تالا ہے، اور اس میں کچھ بچتا ہی نہیں — جو آتا ہے بانٹ دیا جاتا ہے۔ وہ محلے کی ایک نابینا بڑھیا کی بکریاں دوہتے اور گھر کے کام کرتے تھے؛ خلیفہ بننے کے بعد بھی یہ معمول نہ چھوڑا (ابنِ سعد)۔

وصیت، وفات اور عمر رضی اللہ عنہ کا انتخاب

جمادی الآخرہ 13 ہجری میں وہ بیمار ہوئے — تاریخ کے مطابق پندرہ دن۔ انہوں نے بڑے صحابہ سے الگ الگ مشورہ کیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جانشین نامزد کیا؛ عثمان رضی اللہ عنہ نے عہد نامہ لکھا اور لوگوں نے اسے قبول کیا (تفصیل: حضرت عمر کی نامزدگی)۔ ان کی وفات 22 جمادی الآخرہ 13 ہجری (اگست 634ء) کو، تریسٹھ سال کی عمر میں ہوئی — نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کے برابر؛ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم، ابو بکر اور عمر تینوں تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائے (صحیح مسلم 2348)۔ عمر رضی اللہ عنہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ وصیت کی کہ انہیں انہی پرانے کپڑوں میں کفن دیا جائے: «زندہ نئے کپڑوں کا زیادہ حق دار ہے» (صحیح بخاری 1387)۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے برسوں بعد کہا: «کاش میں ابو بکر کی زندگی کا ایک دن یا ایک رات ہوتا» — اور ہجرت کی رات اور ردّہ کے دن کا ذکر کیا (تاریخ)۔

پرانے مخطوطات اور قلم دوات
صحیفۂ صدیقی — جمعِ قرآن (تصویر علامتی ہے)

صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ سے پانچ سبق

  1. ثابت قدمی سب کے ڈگمگانے کے وقت: وفاتِ نبوی کے دن اور ردّہ میں۔
  2. سنت پر اصرار: لشکرِ اسامہ نہ روکا — «وہ جھنڈا نہیں کھولوں گا جو آپ نے باندھا»۔
  3. دین ناقابلِ تقسیم ہے: نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرنے والوں سے جنگ۔
  4. بڑا فیصلہ مشورے سے: جمعِ قرآن عمر کے مشورے پر، زید کے ہاتھ سے۔
  5. اقتدار امانت ہے: بیت المال کا حساب اور پرانے کپڑوں کا کفن۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

خلافت کتنا عرصہ رہی؟

ربیع الاول 11 ہجری سے جمادی الآخرہ 13 ہجری — دو سال تین مہینے کے قریب۔

سب سے بڑا کارنامہ کیا تھا؟

امت کو ارتداد سے بچانا اور قرآن کو ایک مصحف میں جمع کرنا (صحیح بخاری 4986)۔

کیا انہوں نے خود عمر رضی اللہ عنہ کو نامزد کیا؟

جی، صحابہ سے مشورے کے بعد؛ سب نے اسے قبول کیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بعد میں کہا: «اگر میں کسی کو خلیفہ بناؤں تو اس نے بنایا جو مجھ سے بہتر تھا» (صحیح مسلم 1823)۔

خلاصہ

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت مختصر مگر فیصلہ کن تھا: انہوں نے امت کو وفاتِ نبوی کے صدمے سے سنبھالا، ارتداد کی آندھی روکی، قرآن کو جمع کیا، اور شام و عراق کی طرف وہ لشکر بھیجے جن کی فتوحات عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں مکمل ہوئیں۔ یہ سب ایک ایسے شخص نے کیا جو خود کو «تم میں بہتر نہیں» کہتا تھا — یہی صدیق کی عظمت ہے۔

یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments