وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Ashara Mubashshara› حبشہ کی ہجرت: پہلی پناہ کی تلاش اور نجاشی کا انصاف

حبشہ کی ہجرت: پہلی پناہ کی تلاش اور نجاشی کا انصاف

نAuthor Nawab
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم • مکی دور

حبشہ کی ہجرت: پہلی پناہ کی تلاش اور نجاشی کا انصاف

مکہ میں دباؤ بڑھتا گیا اور کچھ مسلمانوں کے لیے اپنے دین پر امن سے عمل کرنا مشکل ہوتا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حبشہ ہجرت کرنے کی اجازت دی۔ مدینہ کی ہجرت سے پہلے کا یہ سفر انہیں سمندر پار ایک ایسے ملک لے گیا جہاں انصاف پسند حکمران کی پناہ کی امید تھی۔ اپنا گھر، شہر اور اپنے چھوڑنا آسان نہ تھا، مگر ایمان کی حفاظت ان کے لیے سب سے اہم تھی۔

ساحل پر کشتی — سمندر کے راستے حبشہ کا سفر

سمندر کے راستے ہجرت کرنے والے مسلمان حبشہ پہنچے۔

حبشہ کی ہجرت کیوں ہوئی؟

«حبشہ» اس زمانے میں افریقہ کے مشرقی حصے، اکسوم اور اس کے آس پاس کے علاقے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اسے سیدھا آج کی ملکی سرحدوں کے برابر رکھنا درست نہیں، کیونکہ پرانے علاقوں کی حدود آج سے مختلف تھیں۔ سیرت کی مشہور روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں دباؤ کا سامنا کرنے والے صحابہ کو وہاں جانے کا مشورہ دیا، کیونکہ وہاں ایک ایسا بادشاہ تھا جس کے زیرِ حکومت کسی پر ظلم نہیں ہوتا تھا۔

ہجرت کا مقصد نئی سرزمین فتح کرنا یا سیاسی قوت حاصل کرنا نہیں تھا۔ یہ اپنے دین اور جان کی حفاظت کے لیے امن کی تلاش تھی۔ مکہ میں ہر مسلمان کی حالت ایک سی نہیں تھی: کچھ لوگوں کو قبائلی تحفظ حاصل تھا، جبکہ کچھ کمزور یا بے سہارا افراد زیادہ خطرے میں تھے۔ حبشہ کا رخ کرنا ان کے لیے ایک عملی راستہ بنا۔

ہجرت کے مراحل اور تعداد کا اختلاف

سیرت کی کتابوں میں حبشہ جانے والوں کا ذکر ایک سے زیادہ مرحلوں میں آتا ہے؛ پہلے چھوٹا گروہ اور بعد میں بڑا گروہ۔ مگر افراد کی ٹھیک تعداد، اور کچھ لوگ پہلے سفر کے بعد کب واپس آئے یا دوبارہ گئے، اس بارے میں نقل شدہ فہرستوں میں فرق ملتا ہے۔ اس لیے «اتنے ہی مرد اور اتنی ہی خواتین» کہہ کر ایک عدد کو قطعی بنانا مناسب نہیں۔

صحیح بخاری میں البتہ دو ہجرتوں کا ذکر خود صحابہ کی زبان سے موجود ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ایک گفتگو میں فرماتے ہیں: «میں نے دونوں پہلی ہجرتیں کیں» (صحیح بخاری 3872)، یعنی حبشہ کی اور مدینہ کی۔ روایتی فہرستوں میں ان کے ساتھ ان کی زوجہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی آتا ہے۔ بعد کے مرحلے میں حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ مہاجرین کے اہم نمائندہ بنے۔

یہ ہجرت نبوت کے ابتدائی مکی دور میں ہوئی، مدینہ جانے سے کئی سال پہلے۔ پرانی کتابوں میں سالوں اور سفروں کی ترتیب کے حوالے سے کچھ فرق ہے، اس لیے عام طور پر اسے «پہلی ہجرت» کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، کسی ایک متفقہ تاریخ کے ساتھ نہیں۔

دور کے سرسبز پہاڑ — پناہ کی سرزمین

دور کا محفوظ علاقہ ان کے لیے پناہ کا ذریعہ بنا۔

نجاشی کا کردار

«نجاشی» حبشہ کے بادشاہ کا لقب تھا۔ بعض سیرت روایات حکمران کا نام اصحمہ بن ابجر بتاتی ہیں، لیکن ہر جزوی تفصیل پر یقین کا درجہ ایک جیسا نہیں۔ سیرت کا مرکزی بیان یہ ہے کہ نجاشی نے مکہ سے آئے ہوئے لوگوں کی بات سنے بغیر انہیں واپس بھیجنے سے انکار کیا اور انہیں اپنے ملک میں پناہ دی۔

نجاشی کی انصاف پسندی کا یہ کردار سیرت میں یاد رکھا گیا۔ سالوں بعد جب ان کا انتقال ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ان کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھائی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَعَى النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى، فَصَفَّ بِهِمْ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا
«رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی وفات کی خبر اسی دن دی جس دن ان کا انتقال ہوا، پھر آپ عیدگاہ کی طرف نکلے، لوگوں کی صفیں بنائیں اور چار تکبیریں کہیں۔» (صحیح بخاری، حدیث 1245؛ صحیح مسلم 951a)

اس سے نجاشی کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا اور ان کی وفات پر غم کا اظہار ثابت ہوتا ہے؛ یہ دربار کے قصے سے الگ ایک صحیح حدیث ہے۔

حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کا دربار میں جواب

سیرت کے مشہور بیان کے مطابق قریش کے نمائندوں نے نجاشی سے مہاجرین کو مکہ واپس بھیجنے کی درخواست کی۔ نجاشی نے پہلے مسلمانوں کا موقف سننا چاہا۔ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف سے گفتگو کی: انہوں نے اسلام سے پہلے کے کچھ سماجی بگاڑ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم، سچائی اور رشتوں کے حقوق کا ذکر کیا، پھر بتایا کہ ان کی قوم نے ان پر دباؤ ڈالا اور وہ اپنے دین کی حفاظت کے لیے حبشہ آئے۔

روایت میں آتا ہے کہ نجاشی نے حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم علیہما السلام کے بارے میں پوچھا، اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے سورۃ مریم کی آیات پڑھیں۔ قرآنی پیغام حضرت مریم علیہا السلام کی پاکیزگی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اللہ کے بندے اور رسول ہونے کو واضح کرتا ہے۔ سیرت کے بیان کے مطابق نجاشی متاثر ہوئے اور مہاجرین کو پناہ دی۔ یہ طویل گفتگو ابن اسحاق کی سیرت میں اور مسند احمد میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے منقول ہے؛ یہ صحیح بخاری یا مسلم کی مسند حدیث نہیں، اس لیے تقریر کے ہر لفظ کو قطعی نہ سمجھا جائے، مگر اس کا بنیادی مضمون سیرت نگاروں میں معروف ہے۔

اس قصے کا اہم پہلو یہ ہے کہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے اپنے دین کو واضح اور پروقار الفاظ میں سمجھایا، اور نجاشی نے دونوں طرف کو سننے کا موقع دیا۔ اس واقعے کو مذاہب کے درمیان تمام عقیدے کے فرق ختم ہو جانے کے طور پر بیان کرنا درست نہیں؛ یہ پناہ، انصاف اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں قرآنی تعلیم کا ذکر ہے۔

پرانے دربار کا ہال — پتھر کے ستون اور محرابیں

نجاشی کے دربار کا واقعہ سیرت کے بیانات میں آتا ہے۔

حبشہ کے مہاجرین کی اپنی زبان سے: صحیح بخاری

حبشہ کے مہاجرین کا تجربہ صحیح بخاری میں ایک صحابیہ کے الفاظ میں محفوظ ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ یمن سے کشتی کے ذریعے ہجرت کے لیے نکلے، کشتی انہیں حبشہ میں نجاشی کے پاس لے گئی، وہاں حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی اور سب مل کر اس وقت مدینہ پہنچے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر فتح کر چکے تھے۔ پھر حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا، جو حبشہ کی مہاجرات میں سے تھیں، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم ہجرت میں تم سے آگے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا:

كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُطْعِمُ جَائِعَكُمْ وَيَعِظُ جَاهِلَكُمْ، وَكُنَّا فِي دَارِ أَوْ فِي أَرْضِ الْبُعَدَاءِ الْبُغَضَاءِ بِالْحَبَشَةِ، وَذَلِكَ فِي اللَّهِ وَفِي رَسُولِهِ
«تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے؛ آپ تمہارے بھوکے کو کھلاتے اور تمہارے ناواقف کو نصیحت کرتے تھے، اور ہم حبشہ میں دور اور اجنبی لوگوں کی سرزمین میں تھے، اور یہ سب اللہ اور اس کے رسول کے لیے تھا۔» (صحیح بخاری، حدیث 4230)

اسی روایت کے اگلے حصے (بخاری 4231) میں ہے کہ انہوں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ان (عمر) اور ان کے ساتھیوں کے لیے ایک ہجرت ہے، اور تم کشتی والوں کے لیے دو ہجرتیں ہیں۔» یہ حدیث حبشہ کے مہاجرین کی قربانی، ان کی خیبر کے زمانے میں واپسی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے لیے قدر، تینوں کو صحیح سند سے ثابت کرتی ہے۔

قرآن اور ہجرت کا اصول

قرآن حبشہ کا نام لے کر اس سفر کا ذکر نہیں کرتا۔ لیکن ہجرت کا اصول صاف بیان کرتا ہے:

يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِي وَاسِعَةٌ فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ
«اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو! بے شک میری زمین وسیع ہے، پس میری ہی عبادت کرو۔» (سورۃ العنکبوت 29:56)

اسی طرح سورۃ النساء 4:97–100 میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو کمزور بنا کر رکھے گئے، اور یہ بتایا گیا کہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والا زمین میں بہت جگہ اور کشادگی پائے گا۔ ان آیات کے اصول کو حبشہ کی ہجرت کے ساتھ سمجھنا ممکن ہے، مگر آیت خود اس سفر کا قصہ نہیں سناتی۔

ہجرت کا یہ سفر یاد دلاتا ہے کہ دین پر قائم رہنے کے لیے کبھی اپنی جگہ چھوڑنا بھی ضروری ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی پناہ دینے والے انصاف پسند حکمران کا کردار اور مہاجرین کی اپنی ذمہ داری، یعنی امن کے ملک میں وعدے اور قانون کا لحاظ، سیرت کے اس باب کے اہم پہلو ہیں۔

بعد کے واقعات

سیرت روایات کے مطابق حبشہ میں رہنے والے مسلمانوں میں سے کچھ پہلے ہی مکہ واپس آ گئے تھے اور بعد میں مدینہ کی ہجرت میں شامل ہوئے؛ جبکہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی، جیسا کہ بخاری 4230 میں ہے، خیبر کے زمانے میں مدینہ پہنچے۔ تمام مہاجرین کے سفر اور واپسی کا ایک جیسا نقشہ نہیں تھا۔ نجاشی کی وفات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں صحابہ کو خبر دی اور جنازے کی نماز پڑھائی؛ یہ دربار کے قصے سے الگ ایک صحیح حدیث ہے۔

کاغذ، قلم اور چراغ — روایت اور تاریخ کا ریکارڈ

حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے اپنے دین کا پیغام دلیل سے سمجھایا۔

عملی سبق

  • جب کسی جگہ دین یا جان کی حفاظت مشکل ہو تو مشورہ اور امن کی تلاش حکمت کا حصہ ہے۔
  • مہمان اور پناہ طلب کرنے والے کو انصاف سے سننا ایک بلند اخلاقی ذمہ داری ہے؛ نجاشی کے اسی انصاف کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد رکھا۔
  • اپنے عقیدے کو واضح اور پرادب انداز میں سمجھانا مختلف مذہبی ماحول میں اہم ہے۔
  • حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے الفاظ بتاتے ہیں کہ دور رہ کر صبر کرنے والوں کی قربانی بھی اللہ کے ہاں قدر رکھتی ہے۔
  • سیرت کے مشہور واقعات میں تعداد، تاریخوں اور تقریروں کی سند کو جانچ کر ہی قطعی الفاظ استعمال کریں۔

خلاصہ

حبشہ کا سفر ان مسلمانوں کے لیے صرف ہجرت نہیں، ایک نئی امید بھی تھا۔ مکہ کے دباؤ سے دور انہیں عبادت اور زندگی گزارنے کے لیے امن ملا۔ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے اپنے دین کا تعارف ہمت اور وقار سے کرایا اور نجاشی نے ان کی بات سنی (سیرت و مسند احمد)۔ صحیح بخاری 4230 حبشہ کے مہاجرین کی قربانی اور خیبر کے وقت واپسی کو، بخاری 3872 حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی دو ہجرتوں کو، اور بخاری 1245 / مسلم 951a نجاشی کی نمازِ جنازہ کو ثابت کرتی ہیں۔ تعداد اور تاریخوں کو تقریبی سمجھیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

۱۔ کیا حبشہ کی ہجرت مدینہ کی ہجرت سے پہلے ہوئی؟

جی ہاں۔ یہ مکی دور کی پہلی ہجرت تھی؛ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے «دونوں پہلی ہجرتوں» میں شمار کیا (بخاری 3872)۔

۲۔ حبشہ میں حکمران کو کیا کہتے تھے؟

نجاشی اس حکمران کا لقب تھا۔ کچھ سیرت ماخذ ان کا نام اصحمہ بن ابجر بتاتے ہیں۔

۳۔ کیا حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی نجاشی کے دربار والی تقریر صحیح حدیث ہے؟

یہ ابن اسحاق کی سیرت اور مسند احمد (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) کی روایت ہے؛ تقریر کی مکمل تفصیل صحیح بخاری یا مسلم کی مسند حدیث نہیں۔

۴۔ نجاشی کے بارے میں کون سی بات صحیح حدیث سے ثابت ہے؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کی وفات پر چار تکبیروں کے ساتھ نمازِ جنازہ پڑھانا صحیح بخاری 1245 اور صحیح مسلم 951a میں ہے۔

۵۔ مہاجرین کی تعداد کتنی تھی؟

سیرت کی فہرستوں اور مختلف مرحلوں کی تعداد میں فرق ہے؛ کسی ایک عدد کو یقینی کہنے کے بجائے تقریبی اور اختلافی سمجھنا چاہیے۔

کتابیں اور حوالے

صحیح بخاری و مسلم کی روایات، مسند احمد اور سیرت کے بیان کو الگ درجوں پر رکھا گیا ہے۔

یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments