وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Islamic History› جنگِ یمامہ اور مسیلمہ کذاب: دعوائے نبوت، سخت معرکہ اور قرآن جمع کرنے کا پہلا مشورہ — صحیح بخاری کی روشنی میں

جنگِ یمامہ اور مسیلمہ کذاب: دعوائے نبوت، سخت معرکہ اور قرآن جمع کرنے کا پہلا مشورہ — صحیح بخاری کی روشنی میں

نAuthor Nawab
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم • خلافتِ راشدہ • تاریخِ اسلام

جنگِ یمامہ اور مسیلمہ کذاب: دعوائے نبوت، سخت معرکہ اور قرآن جمع کرنے کا پہلا مشورہ — صحیح بخاری کی روشنی میں

ایک شخص جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں شراکتِ اقتدار مانگی، بعد میں نبوت کا دعویٰ کیا، اور جس کے خلاف لڑی گئی جنگ نے قرآن کی حفاظت کے ایک تاریخی قدم کو جنم دیا۔

جنگِ یمامہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور کی سب سے سخت لڑائی تھی۔ اس مضمون میں پہلے وہ بیان کیا گیا ہے جو صحیح بخاری میں مسیلمہ اور یمامہ کے بارے میں آیا ہے، پھر تاریخی کتب کا پس منظر اس کے درجے کے ساتھ، اور آخر میں قرآن جمع کرنے کی وہ روایت جو اس جنگ کا سب سے دیرپا نتیجہ ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دوسرے پہلو الگ مضمون میں ہیں۔

نجد کے صحرا میں پتھریلا میدان اور دور کے نخلستان
یمامہ: نجد کا علاقہ جہاں بنو حنیفہ آباد تھے

مسیلمہ کا نام اور نبوی دور کا واقعہ

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں (وفد کے ساتھ) مدینہ آیا اور کہنے لگا: اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے بعد معاملہ میرے سپرد کر دیں تو میں ان کی پیروی کروں گا۔ وہ اپنی قوم کے بہت سے لوگوں کے ساتھ آیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر اس کے پاس گئے؛ آپ کے ہاتھ میں کھجور کی ایک ٹہنی کا ٹکڑا تھا۔ آپ نے فرمایا: «اگر تو مجھ سے یہ ٹکڑا بھی مانگے تو میں تجھے نہ دوں؛ تو اللہ کے اس فیصلے سے آگے نہیں بڑھ سکتا جو تیرے بارے میں ہے؛ اگر تو نے پیٹھ پھیری تو اللہ تجھے ہلاک کر دے گا؛ اور میں تجھے وہی سمجھتا ہوں جو مجھے (خواب میں) دکھایا گیا؛ اور یہ ثابت میری طرف سے تجھے جواب دیں گے» — صحیح بخاری 4373، صحیح بخاری 4374۔

اس روایت سے ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے: مسیلمہ کا سیاسی اختیار مانگنا صرف حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور میں پیدا نہیں ہوا؛ اس کا دعویٰ نبوی دور ہی میں شروع ہو چکا تھا۔ «جو مجھے دکھایا گیا» کی وضاحت اگلی روایت میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خواب میں میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اور میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن رکھے گئے جو مجھ پر بھاری ہوئے؛ مجھے وحی کی گئی کہ ان پر پھونک مارو، میں نے پھونکا تو وہ اڑ گئے۔ میں نے ان کی تعبیر دو جھوٹوں سے کی جن کے درمیان میں ہوں: صنعاء والا (اسود عنسی) اور یمامہ والا (مسیلمہ) — صحیح بخاری 4375، صحیح بخاری 7033۔

مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمًا
«محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں؛ اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے» (سورۂ احزاب 33:40)

مسیلمہ کا دعویٰ اسی آیت کی کھلی مخالفت تھا۔ سیرت میں مذکور اس کا گستاخانہ خط (جس میں اس نے اپنے لیے رسالت کا لفظ استعمال کیا اور آدھی زمین کا مطالبہ کیا) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب («زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے وارث بناتا ہے») تاریخی مآخذ (ابنِ اسحاق، طبری) سے ہے؛ صحیحین کا متن اوپر دی گئی ملاقات اور خواب تک محدود ہے۔

پرانا خط اور مہر، چراغ کی روشنی میں
وفات کے بعد: ردّہ کا دور اور یمامہ کا سیاسی پس منظر

نبوی وفات کے بعد: یمامہ کا سیاسی و تاریخی پس منظر

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عرب کے مختلف علاقوں میں سیاسی وفاداری، زکوٰۃ، قبائلی اختیار اور نبوت کے دعووں کے حوالے سے سخت اختلاف ابھرا۔ ابتدائی تاریخیں ان مہمات کو «حروبِ ردّہ» کے مجموعے میں رکھتی ہیں، مگر ہر علاقے کا سبب ایک جیسا نہیں تھا: کہیں جھوٹی نبوت مرکز میں تھی، کہیں مدینہ کی اطاعت سے انحراف یا زکوٰۃ کا مسئلہ، اور کہیں قبائلی خود مختاری کے سوالات۔ ہر قوم کو ایک ہی جملے سے سمجھانا اس دور کی پیچیدگی مٹا دیتا ہے۔

یمامہ میں مسیلمہ کا دعویٰ بنو حنیفہ کے کچھ حصوں کے گرد جمع ہوا۔ حدیث اس کے ساتھ «اپنی قوم کے بہت سے افراد» کا ذکر کرتی ہے، مگر یہ ہر فرد کے عقیدے یا جنگ میں شرکت کی مردم شماری نہیں — بنو حنیفہ ہی کے ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ نبوی دور میں مسلمان ہو کر مسیلمہ کے مخالف رہے (صحیح بخاری 462)۔ مدینہ کی نئی خلافت نے اس دعوے کو صرف عقیدے کا اختلاف نہیں بلکہ مرکزی اختیار اور خاتم النبیین کے عقیدے کے خلاف کھلا چیلنج سمجھا، اس لیے لشکر بھیجا گیا۔

یمامہ کی لڑائی اور مسیلمہ کا انجام

تاریخی کتب (طبری، بلاذری) یمامہ کو بہت سخت معرکہ بتاتی ہیں: حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت، بنو حنیفہ کا سخت دفاع، مسلمانوں کی صفوں کا ایک بار پیچھے ہٹنا، پھر مہاجرین و انصار کا الگ الگ صف بندی کر کے جم جانا، اور آخری مرحلہ ایک بند باغ میں جسے بعد میں «حدیقۃ الموت» کہا گیا۔ یہ مآخذ قدیم اور اہم ہیں، مگر ان کا ہر عدد اور ہر ڈرامائی تفصیل صحیح حدیث کا درجہ نہیں رکھتی۔ سن کے بارے میں مشہور رائے 11 ہجری کا اواخر یا 12 ہجری کا آغاز ہے؛ قطعی مہینہ یہاں مقرر نہیں کیا جا رہا۔

مسیلمہ کے قتل کا ایک بیان صحیح بخاری میں خود حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ کی زبانی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ احد میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب وہ مسلمان ہوئے تو انہوں نے سوچا کہ اب ایک کام ایسا کریں جو اس کا کفارہ بنے؛ یمامہ میں جب مسیلمہ کو دیکھا تو اپنا نیزہ پھینکا جو اس کے سینے کے پار ہو گیا، اور انصار کے ایک شخص نے تلوار سے وار کیا — «تمہارا رب بہتر جانتا ہے کہ ہم میں سے کس نے اسے قتل کیا» — صحیح بخاری 4072۔ اس لیے «وحشی نے اکیلے مسیلمہ کو مارا» کہنا بخاری کے متن سے زیادہ ہے؛ روایت خود انصاری کی شرکت بتاتی ہے۔

پرانی باغ کی مٹی کی دیوار اور ٹوٹا دروازہ
«حدیقۃ الموت»: آخری مرحلہ — نام بعد کی تاریخی یاد کا حصہ

قرآن جمع کرنے کا پہلا مجموعہ: صحیح بخاری 4986

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یمامہ کے مقتولین کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا؛ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تھے۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: عمر میرے پاس آئے اور کہا کہ یمامہ کے دن قرآن کے قاریوں کی بڑی تعداد شہید ہو گئی ہے، اور مجھے ڈر ہے کہ اگر مختلف مقامات پر قاری اسی طرح شہید ہوتے رہے تو قرآن کا بہت حصہ جاتا رہے گا؛ میری رائے ہے کہ آپ قرآن جمع کرنے کا حکم دیں۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں وہ کام کیسے کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟ عمر نے کہا: اللہ کی قسم، یہ بہتر ہے — اور وہ اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے میرا سینہ کھول دیا۔ پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: تم نوجوان، عقل مند ہو، ہم تم پر کوئی الزام نہیں رکھتے، اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی لکھتے تھے؛ قرآن تلاش کر کے جمع کرو۔ زید کہتے ہیں: اللہ کی قسم، اگر وہ مجھے پہاڑ منتقل کرنے کا حکم دیتے تو یہ مجھ پر اس سے بھاری نہ ہوتا۔ پھر میں نے قرآن کو کھجور کی شاخوں، پتھر کی سلوں اور لوگوں کے سینوں سے تلاش کر کے جمع کیا؛ یہ صحیفے ابو بکر کے پاس رہے، پھر عمر کے پاس، پھر حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس — صحیح بخاری 4986۔

یمامہ اور قرآن کی حفاظت: کیا کہنا چاہیے، کیا نہیں

حدیث 4986 کا جملہ «قرآن کا بہت حصہ جاتا رہے گا» حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خدشے اور پیش بندی کی سوچ کو بیان کرتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہوگا کہ یمامہ سے پہلے قرآن کا کوئی لکھا ہوا ریکارڈ یا یاد کرنے والے موجود نہیں تھے۔ اسی حدیث میں زید کا کاتبِ وحی ہونا اور مجموعے کا لکھے ہوئے اجزا اور حفظ دونوں سے بننا واضح ہے۔ سبب لوگوں کے نقصان کے بعد مستقبل کے لیے احتیاط تھا، نہ کہ قرآن کی عدم موجودگی۔ پہلی جمع (ابو بکر رضی اللہ عنہ کا مجموعہ اور صحیفوں کی تحویل) اور بعد کے معیاری نسخوں (عثمانی مصحف) کو بھی فرق سے سمجھیں۔

پرانے صحیفے کے اوراق، کھجور کی شاخ اور پتھر کی سل
«کھجور کی شاخوں، پتھر کی سلوں اور لوگوں کے سینوں سے» — صحیح بخاری 4986

روایت کی حد اور عام غلطیاں

  • «قرآن یمامہ کے بعد پہلی بار لکھا گیا» — نہیں؛ زید وحی لکھتے تھے، مجموعہ لکھے ہوئے اجزا اور حفظ سے بنا؛ یہ پہلی ادارہ جاتی جمع ہے۔
  • «بخاری 4986 کہتی ہے کہ ٹھیک اتنے حفاظ شہید ہوئے» — حدیث بڑی تعداد کا ذکر کرتی ہے، عدد نہیں؛ ستر یا سات سو کے اعداد تاریخی کتب کے ہیں۔
  • «مسیلمہ نے دعویٰ صرف نبوی وفات کے بعد کیا» — بخاری 4373 اس کا نبوی دور میں مدینہ آنا اور اقتدار کی شرط رکھنا بتاتی ہے۔
  • «بنو حنیفہ کا ہر شخص مسیلمہ کا پیروکار تھا» — ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ اسی قبیلے کے تھے۔
  • «وحشی نے اکیلے مسیلمہ کو مارا — یہ بخاری میں ہے» — بخاری 4072 میں خود وحشی انصاری کی ضرب کا ذکر کرتے ہیں۔

آج کے قاری کے لیے سبق

  1. خاتم النبیین کا عقیدہ دین کی بنیاد ہے؛ اس پر سمجھوتہ نبوی دور ہی میں رد کر دیا گیا (بخاری 4373)۔
  2. مشورہ اور اصرار: عمر رضی اللہ عنہ کی رائے، ابو بکر رضی اللہ عنہ کا تردد اور پھر شرحِ صدر — اجتماعی فیصلے کا نمونہ۔
  3. قرآن کی حفاظت تحریر اور حفظ دونوں سے ہوئی؛ یہ امت کی مشترکہ امانت ہے۔
  4. تاریخ کے اعداد اور ڈرامائی تفصیلات کو حدیث کے درجے سے الگ رکھیں۔
  5. ایک قبیلے کے کچھ لوگوں کی گمراہی پورے قبیلے پر حکم نہیں۔

اہم باتیں ایک نظر میں

  1. مسیلمہ نبوی دور میں مدینہ آیا اور اقتدار کی شرط رکھی (صحیح بخاری 4373-4374)۔
  2. دو سونے کے کنگنوں کا خواب: صنعاء اور یمامہ کے جھوٹے (صحیح بخاری 4375، 7033)۔
  3. یمامہ کی جنگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور میں، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں — تفصیل تاریخ سے۔
  4. مسیلمہ کا قتل: وحشی رضی اللہ عنہ کا نیزہ اور انصاری کی تلوار (صحیح بخاری 4072)۔
  5. یمامہ کے بعد قرآن کی پہلی جمع (صحیح بخاری 4986)۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

مسیلمہ کذاب کون تھا؟

یمامہ کے قبیلے بنو حنیفہ کا شخص جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مدینہ آیا اور اقتدار میں حصہ مانگا (صحیح بخاری 4373)۔

جنگِ یمامہ کب ہوئی؟

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور میں؛ مشہور رائے 11 ہجری کے آخر یا 12 ہجری کے آغاز کی ہے۔

یمامہ کا قرآن سے کیا تعلق ہے؟

قاریوں کی شہادت کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کے مشورے پر ابو بکر رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو قرآن جمع کرنے کا حکم دیا (صحیح بخاری 4986)۔

حوالہ جات

حدیث کے متن، تاریخی مآخذ (طبری، بلاذری) اور مصنف کی تشریح کو الگ رکھا گیا ہے؛ تمام صحابہ کا ذکر ادب کے ساتھ لازم ہے۔

یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments