وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Islamic History› صلحِ حدیبیہ: وہ صلح جو فتح سے بڑی تھی — ذوالقعدہ 6 ہجری

صلحِ حدیبیہ: وہ صلح جو فتح سے بڑی تھی — ذوالقعدہ 6 ہجری

نAuthor Nawab
غزواتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم • صلحِ حدیبیہ — ذوالقعدہ 6 ہجری

صلحِ حدیبیہ: وہ صلح جو فتح سے بڑی تھی — ذوالقعدہ 6 ہجری

چودہ سو لوگ احرام باندھ کر آئے اور بغیر طواف کے لوٹ گئے — اور قرآن نے اسی واپسی کو «فَتْحًا مُّبِينًا» کہا۔

ذوالقعدہ 6 ہجری (مارچ 628ء) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً چودہ سو صحابہ کے ساتھ عمرے کے ارادے سے مکہ کی طرف نکلے۔ قریش نے راستہ روکا، اور مکہ سے تقریباً بیس کلومیٹر دور حدیبیہ کے مقام پر وہ معاہدہ ہوا جس کی شرطیں بظاہر مسلمانوں کے خلاف تھیں۔ صحابہ غمگین تھے، مگر واپسی کے راستے میں سورۂ فتح اتری:

إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا
«بے شک ہم نے آپ کو کھلی فتح عطا کی۔» (الفتح 48:1)

یہ مضمون بنیادی طور پر صحیح بخاری کی اس طویل روایت پر مبنی ہے جو مسور بن مخرمہ اور مروان رضی اللہ عنہما سے مروی ہے (صحیح بخاری 2731–2732)؛ سیرت کی اضافی تفصیلات کی حیثیت ساتھ بتائی گئی ہے۔

صحرا میں پرانا کنواں اور ایک بڑا درخت، پہاڑوں کے سامنے
حدیبیہ — کنواں اور درخت (تصویر علامتی ہے)

خواب، احرام اور قربانی کے اونٹ

آپ نے خواب دیکھا کہ آپ اور صحابہ امن کے ساتھ مسجدِ حرام میں داخل ہو رہے ہیں، سر منڈائے اور بال ترشوائے ہوئے (الفتح 48:27)۔ آپ نے عمرے کا اعلان کیا؛ مہاجرین چھ سال بعد اپنا شہر دیکھنے کی خوشی میں نکلے۔ ذوالحلیفہ پہنچ کر آپ نے قربانی کے اونٹوں کو قلادے پہنائے اور اشعار کیا، احرام باندھا، اور قریش کی خبر لینے کے لیے ایک جاسوس آگے بھیجا۔ ساتھ صرف مسافر کے ہتھیار — نیام میں تلواریں — تھے؛ جنگ کا کوئی سامان نہیں (صحیح بخاری 2731)۔ قریش نے سن کر قسم کھائی کہ یہ کسی صورت مکہ میں داخل نہیں ہوں گے، اور خالد بن ولید کو دو سو سواروں کے ساتھ آگے بھیجا۔ آپ نے راستہ بدل کر دشوار گھاٹیوں سے گزرنا منظور کیا تاکہ ٹکراؤ نہ ہو؛ لوگوں سے فرمایا: «کہو: ہم اللہ سے بخشش مانگتے ہیں اور اس کی طرف توبہ کرتے ہیں»۔

قصواء بیٹھ گئی: «اسے ہاتھی روکنے والے نے روکا ہے»

حدیبیہ کے قریب گھاٹی پر آپ کی اونٹنی قصواء بیٹھ گئی۔ لوگوں نے کہا: قصواء اڑ گئی۔ آپ نے فرمایا:

مَا خَلأَتِ الْقَصْوَاءُ، وَمَا ذَاكَ لَهَا بِخُلُقٍ، وَلَكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ الْفِيلِ… وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يَسْأَلُونِي خُطَّةً يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ إِلاَّ أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا
«قصواء اڑی نہیں، یہ اس کی عادت نہیں؛ اسے اسی نے روکا ہے جس نے ہاتھی (والوں) کو روکا تھا… اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قریش مجھ سے جو بھی ایسی بات مانگیں گے جس میں اللہ کی حرمتوں کی تعظیم ہو، میں انہیں دے دوں گا۔» (صحیح بخاری 2731)

آپ حدیبیہ کے کنارے ایک ایسے چشمے پر اترے جس میں تھوڑا سا پانی تھا؛ لوگوں نے پیاس کی شکایت کی تو آپ نے ترکش سے ایک تیر نکال کر کنویں میں رکھنے کا حکم دیا، اور پانی ابل پڑا یہاں تک کہ سب سیراب ہو گئے (صحیح بخاری 2731)۔ یہ پوری مہم اسی جملے کی تفسیر تھی: «جس میں اللہ کی حرمتوں کی تعظیم ہو، میں مان لوں گا» — نبی جنگ نہیں، امن اور حرم کی عزت کے لیے آئے تھے۔

سفیر: بدیل، عروہ اور عثمان رضی اللہ عنہ

خزاعہ کے بدیل بن ورقاء آئے؛ آپ نے کہلا بھیجا کہ ہم لڑنے نہیں، عمرے کے لیے آئے ہیں؛ قریش جنگ سے تھک چکے ہیں، چاہیں تو مدت مقرر کر لیں اور میرے اور لوگوں کے درمیان سے ہٹ جائیں۔ پھر عروہ بن مسعود ثقفی آئے، بات کرتے ہوئے آپ کی داڑھی کو ہاتھ لگاتے تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ تلوار کے دستے سے ان کا ہاتھ ہٹاتے۔ عروہ نے واپس جا کر قریش سے کہا: «میں قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے درباروں میں گیا ہوں؛ اللہ کی قسم! میں نے کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا جس کے ساتھی اس کی اتنی تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھی ان کی کرتے ہیں — وہ تھوکتے ہیں تو کسی نہ کسی کے ہاتھ پر گرتا ہے اور وہ اسے چہرے پر مل لیتا ہے، وضو کا پانی لینے پر ایک دوسرے سے لڑتے ہیں، ان کی آواز کے سامنے اپنی آواز پست رکھتے ہیں» (صحیح بخاری 2731)۔

آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مکہ بھیجا کیونکہ ان کے قبیلے بنو امیہ کا اثر تھا (سیرت کے مطابق پہلے خراش بن امیہ رضی اللہ عنہ گئے جن کا اونٹ قریش نے مار ڈالا)۔ قریش نے عثمان رضی اللہ عنہ کو طواف کی پیشکش کی تو انہوں نے کہا: میں اس وقت تک طواف نہیں کروں گا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ کریں (سیرتِ ابنِ ہشام)۔ پھر افواہ پھیلی کہ عثمان قتل کر دیے گئے۔

بیعتِ رضوان: درخت کے نیچے

آپ نے فرمایا: «ہم یہاں سے نہیں ہٹیں گے جب تک قوم سے نمٹ نہ لیں» اور صحابہ کو بیعت کے لیے بلایا۔ ایک ببول کے درخت کے نیچے چودہ سو نے بیعت کی۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے موت پر بیعت کی (صحیح بخاری 4169)؛ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے موت پر نہیں، نہ بھاگنے پر بیعت کی (صحیح مسلم 1856) — دونوں ایک ہی حقیقت ہیں: ثابت قدمی چاہے جان چلی جائے۔ آپ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر رکھ کر فرمایا: «یہ عثمان کی بیعت ہے»۔ اللہ نے فرمایا:

۞ لَّقَدْ رَضِىَ ٱللَّهُ عَنِ ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ ٱلشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِى قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ ٱلسَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَـٰبَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا
«بے شک اللہ مومنوں سے راضی ہوا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے؛ اس نے جان لیا جو ان کے دلوں میں تھا، پس ان پر سکینت اتاری اور انہیں قریب کی فتح کا بدلہ دیا۔» (الفتح 48:18)

آپ نے فرمایا: «درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے کوئی جہنم میں داخل نہیں ہو گا» (صحیح مسلم 2496)۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: «تم فتحِ مکہ کو فتح سمجھتے ہو — ہاں وہ فتح تھی — مگر ہم بیعتِ رضوان کو فتح سمجھتے ہیں» (صحیح بخاری 4150)۔ بعد میں خبر آئی کہ عثمان رضی اللہ عنہ زندہ ہیں۔ (اگلے سال صحابہ وہ درخت پہچان نہ سکے؛ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں اسے کٹوا دیا تاکہ لوگ اس کی تعظیم میں غلو نہ کریں — صحیح بخاری 2958۔)

رات کے آسمان کے نیچے ایک اکیلا بڑا درخت اور اس پر اترتی روشنی
بیعتِ رضوان کا درخت — «لَّقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ» (تصویر علامتی ہے)

سہیل بن عمرو اور معاہدے کی شرطیں

قریش نے سہیل بن عمرو کو بھیجا؛ آپ نے انہیں دیکھ کر فرمایا: «تمہارا معاملہ آسان (سہل) ہو گیا»۔ معاہدہ لکھنے کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا۔ آپ نے فرمایا: لکھو «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ»؛ سہیل نے کہا: رحمٰن کو ہم نہیں جانتے، «بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ» لکھو — آپ نے مان لیا۔ آپ نے فرمایا: لکھو «یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا»؛ سہیل نے کہا: اگر ہم آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مانتے تو نہ بیت اللہ سے روکتے نہ لڑتے؛ «محمد بن عبداللہ» لکھو۔ آپ نے فرمایا: «اللہ کی قسم! میں اللہ کا رسول ہوں اگرچہ تم جھٹلاؤ؛ لکھو محمد بن عبداللہ»۔ علی رضی اللہ عنہ نے «رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم» مٹانے سے انکار کیا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے مٹا دیا (صحیح بخاری 2699)۔

شرطیں یہ ٹھہریں: دس سال جنگ بند؛ اس سال مسلمان واپس جائیں اور اگلے سال تین دن کے لیے آئیں، ہتھیار نیام میں؛ قریش کا جو آدمی بغیر ولی کی اجازت مسلمانوں کے پاس آئے وہ واپس کیا جائے گا، مگر جو مسلمانوں میں سے قریش کے پاس جائے وہ واپس نہیں ہو گا؛ اور جو قبیلہ چاہے کسی ایک فریق کے عہد میں شامل ہو جائے — خزاعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں آئے اور بنو بکر قریش کے (صحیح بخاری 2731)۔ صحابہ نے واپسی کی شرط سن کر کہا: «سبحان اللہ! جو مسلمان ہو کر آئے اسے مشرکوں کو واپس کیسے کریں؟»

ابو جندل، اور عمر رضی اللہ عنہ کا سوال

معاہدہ لکھا جا رہا تھا کہ سہیل کا بیٹا ابو جندل رضی اللہ عنہ بیڑیوں میں گھسٹتا ہوا مکہ سے بھاگ کر آ پہنچا۔ سہیل نے کہا: محمد! یہ پہلا آدمی ہے جس کی واپسی کا میں مطالبہ کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ابھی معاہدہ مکمل نہیں ہوا؛ سہیل نے کہا: تو پھر میں کسی چیز پر صلح نہیں کروں گا۔ آپ نے فرمایا: اسے میرے لیے جانے دو — اس نے انکار کیا۔ ابو جندل نے پکارا: «اے مسلمانو! کیا میں مشرکوں کو واپس کیا جا رہا ہوں جبکہ میں مسلمان ہو کر آیا ہوں؟ دیکھتے نہیں مجھ پر کیا گزری؟» آپ نے فرمایا: «ابو جندل! صبر کرو اور ثواب کی امید رکھو؛ اللہ تمہارے اور تمہارے جیسے کمزوروں کے لیے کشادگی اور نکلنے کا راستہ بنائے گا» (صحیح بخاری 2731؛ سیرت)۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ ضبط نہ کر سکے؛ آپ کے پاس آئے اور کہا: کیا آپ اللہ کے سچے نبی نہیں؟ فرمایا: کیوں نہیں۔ کیا ہم حق پر اور دشمن باطل پر نہیں؟ فرمایا: کیوں نہیں۔ تو پھر ہم اپنے دین میں یہ ذلت کیوں قبول کریں؟ آپ نے فرمایا: «میں اللہ کا رسول ہوں، اس کی نافرمانی نہیں کرتا، اور وہ میرا مددگار ہے»۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ آ کر طواف کریں گے؟ فرمایا: «ہاں، مگر کیا میں نے کہا تھا کہ اسی سال؟» وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور یہی سوال کیے؛ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بالکل وہی جواب دیے اور کہا: «ان کی رکاب تھامے رہو، اللہ کی قسم وہ حق پر ہیں»۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: «میں نے اس دن کی بات کے کفارے میں بعد میں بہت سے اعمال کیے» (صحیح بخاری 2731)۔

ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا مشورہ

معاہدہ مکمل ہوا تو آپ نے فرمایا: «اٹھو، قربانی کرو اور سر منڈاؤ»۔ راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! کوئی نہ اٹھا، یہاں تک کہ آپ نے تین بار فرمایا۔ آپ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور لوگوں کا حال بتایا۔ انہوں نے کہا: «اے اللہ کے نبی! کیا آپ یہ چاہتے ہیں؟ باہر نکلیے، کسی سے ایک لفظ نہ کہیے، اپنا اونٹ نحر کیجیے اور حجام کو بلا کر سر منڈوا لیجیے»۔ آپ نے ایسا ہی کیا؛ لوگوں نے دیکھا تو اٹھے، قربانیاں کیں اور ایک دوسرے کا سر مونڈنے لگے، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہجوم میں ایک دوسرے کو کچل دیں (صحیح بخاری 2731)۔ یہ ایک ام المومنین کا مشورہ تھا جس نے چودہ سو غمگین دلوں کی گرہ کھول دی۔ آپ نے سر منڈانے والوں کے لیے تین بار اور بال ترشوانے والوں کے لیے ایک بار رحمت کی دعا کی (صحیح مسلم 1301)۔

غروبِ آفتاب میں وادی سے گزرتا ہوا اونٹوں کا قافلہ
اگلے سال عمرۃ القضا — «لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِن شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ» (تصویر علامتی ہے)

واپسی پر سورۂ فتح: «کھلی فتح»

واپسی کے راستے میں سورۂ فتح نازل ہوئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا: «آج رات مجھ پر ایک سورت اتری ہے جو مجھے ان سب چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے» اور «إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا» پڑھی (صحیح بخاری 4177)۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا یہ فتح ہے؟ آپ نے فرمایا: «ہاں» — تو ان کا دل مطمئن ہو گیا (صحیح مسلم 1785)۔ قرآن نے کہا: «اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے، اس کے بعد کہ تمہیں ان پر قابو دے دیا تھا» (الفتح 48:24)۔

فتح کیوں؟ صلح کے نتائج

  • پہلی بار قریش نے مسلمانوں کو برابر کا فریق مانا — معاہدہ خود اسلام کی ریاست کا اعتراف تھا۔
  • امن میں دعوت پھیلی: ابنِ شہاب زہری کہتے ہیں کہ ان دو سالوں میں اتنے لوگ مسلمان ہوئے جتنے اس سے پہلے کبھی نہیں؛ خالد بن ولید اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما اسی عرصے میں مسلمان ہوئے۔
  • شمال کا راستہ کھلا: صلح کے فوراً بعد خیبر فتح ہوا — غزوۂ خیبر۔
  • واپسی کی شرط خود قریش پر بھاری پڑی: ابو بصیر رضی اللہ عنہ کو واپس کیا گیا تو وہ راستے میں چھوٹ کر ساحل پر جا بیٹھے، ابو جندل اور دوسرے بھی جا ملے اور قریش کے قافلوں کا راستہ بند ہو گیا؛ آخر قریش نے خود درخواست کی کہ یہ شرط ختم کر دی جائے (صحیح بخاری 2731)۔
  • اگلے سال عمرۃ القضا: خواب پورا ہوا — عمرۃ القضا۔
  • دو سال بعد عہد شکنی اور فتحِ مکہ: قریش کے حلیف بنو بکر نے خزاعہ پر حملہ کیا اور یہی صلح فتحِ مکہ کا دروازہ بنی — فتحِ مکہ۔

نوٹ: اس مضمون کا بنیادی ماخذ صحیح بخاری 2731–2732 ہے۔ خراش بن امیہ رضی اللہ عنہ کی سفارت، عثمان رضی اللہ عنہ کا طواف سے انکار اور ستر قربانی کے اونٹ سیرتِ ابنِ ہشام کی روایات ہیں۔

صلحِ حدیبیہ سے پانچ سبق

  1. امن کے لیے جھکنا کمزوری نہیں، حکمت ہے: «جس میں اللہ کی حرمتوں کی تعظیم ہو، میں مان لوں گا»۔
  2. الفاظ سے زیادہ مقصد اہم ہے: «رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم» مٹا مگر رسالت نہ مٹی۔
  3. اطاعت دل کے خلاف بھی: عمر رضی اللہ عنہ کا سوال اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا جواب۔
  4. عمل سے قیادت: ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا مشورہ — کہو مت، کر کے دکھاؤ۔
  5. فتح کا پیمانہ اللہ کے پاس ہے: جو صحابہ کو ذلت لگی، قرآن نے اسے فتحِ مبین کہا۔

خلاصہ

حدیبیہ نے سکھایا کہ تدبیر کبھی تلوار سے زیادہ فتح دیتی ہے۔ ایک معاہدہ جس کی ہر شرط دشمن کی مرضی کی تھی، دو سال کے اندر اسلام کو جزیرۃ العرب کے ہر کونے تک لے گیا اور آخر میں مکہ کے دروازے بغیر خون بہائے کھول گیا۔ اسی لیے اللہ نے اسے «فَتْحًا مُّبِينًا» کہا — اور صحابہ نے کہا کہ ہم بیعتِ رضوان کو فتح سمجھتے ہیں۔

سبز پس منظر پر سنہری خطاطی: انا فتحنا لک فتحا مبینا
«إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا» (48:1)
یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments