جنگ میں عورتوں کا کردار: نسیبہ بنت کعب (ام عمارہ) رضی اللہ عنہا اور صحیح روایات کی روشنی میں خدمت، حفاظت اور احتیاط
جنگ میں عورتوں کا کردار: نسیبہ بنت کعب (ام عمارہ) رضی اللہ عنہا اور صحیح روایات کی روشنی میں خدمت، حفاظت اور احتیاط
احد کے دن پانی کی مشکیں اٹھاتی، زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی اور — سیرت کے مطابق — نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈھال بن جانے والی خواتین: کیا ثابت ہے، کس درجے سے، اور کیا نہیں۔
جنگ میں صحابیات کا کردار سیرت کا ایک حقیقی مگر اکثر مبالغے یا انکار کا شکار موضوع ہے۔ اس مضمون میں پہلے صحیح بخاری اور مسلم کی وہ روایات دی گئی ہیں جو خواتین کے میدان میں کام کو ثابت کرتی ہیں؛ پھر نسیبہ بنت کعب رضی اللہ عنہا کا مشہور بیان اس کے درجے کے ساتھ؛ اور آخر میں وہ دعوے جو محتاط پڑھنے کی ضرورت رکھتے ہیں۔ احد کے مجموعی واقعات غزوۂ احد کے مضمون میں ہیں۔
نام، کنیت اور پہچان کی احتیاط
نسیبہ بنت کعب رضی اللہ عنہا کو روایت اور سوانحی کتب میں «ام عمارہ» کی کنیت سے بھی جانا جاتا ہے؛ نام کا املا نُسیبہ اور نَسیبہ دونوں طرح ملتا ہے۔ یہاں ایک ضروری احتیاط ہے: ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی نُسیبہ (بنت حارث) ہے — وہ دوسری صحابیہ ہیں، جن سے غسلِ میت اور عیدین کی روایات مشہور ہیں۔ دونوں کی روایات اور کاموں کو ملا دینا مآخذ کی غلطی ہے۔ اس لیے کنیت، نسب اور متن کو ساتھ رکھ کر پڑھنا ضروری ہے۔
احد میں عورتوں کی خدمت: صحیح روایت کیا کہتی ہے؟
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ احد کے دن جب لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہٹ گئے، میں نے حضرت عائشہ بنت ابی بکر اور ام سلیم رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ دامن سمیٹے، پانی کی مشکیں پیٹھ پر اٹھا کر لاتیں، لوگوں کے منہ میں پانی ڈالتیں، پھر واپس جا کر بھرتیں اور پھر آتیں — صحیح بخاری 2880، صحیح بخاری 4064۔ اس روایت میں دونوں خواتین کے نام ہیں؛ نسیبہ بنت کعب کا نام اس متن میں نہیں۔
ایک اور روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ کی عورتوں میں چادریں تقسیم کیں؛ ایک عمدہ چادر بچی تو کسی نے کہا: یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی (ام کلثوم بنت علی، حضرت عمر کی زوجہ) کو دے دیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ام سلیط اس کی زیادہ حق دار ہیں، کیونکہ وہ احد کے دن ہمارے لیے مشکیں بھر بھر کر لاتی تھیں — صحیح بخاری 2881۔ یعنی خلیفۂ وقت نے برسوں بعد بھی میدان کی اس خدمت کو یاد رکھا اور اسے اپنے گھر پر ترجیح دی۔
حضرت رُبیّع بنت معوذ رضی اللہ عنہا خود بیان کرتی ہیں: «ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (غزوات میں) ہوتیں، لوگوں کو پانی پلاتیں، ان کی خدمت کرتیں، اور زخمیوں اور شہیدوں کو مدینہ واپس لاتیں» — صحیح بخاری 2882، صحیح بخاری 2883۔ صحیح مسلم میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے نجدہ کے سوال کے جواب میں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو ساتھ لے جاتے تھے؛ وہ زخمیوں کا علاج کرتی تھیں اور انہیں غنیمت سے کچھ عطیہ دیا جاتا، باقاعدہ حصہ مقرر نہیں تھا — صحیح مسلم 1812۔
نسیبہ رضی اللہ عنہا اور احد کا مشہور سیرتی بیان
نسیبہ بنت کعب رضی اللہ عنہا کا نام احد کے اس مشہور واقعے کے ساتھ آتا ہے جہاں روایت کے مطابق وہ پہلے پانی اور خدمت کے ارادے سے موجود تھیں، پھر جب صفیں بکھریں تو تلوار اور ڈھال لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی ہو گئیں؛ ان کے شوہر اور بیٹے بھی ساتھ تھے، انہیں گہرے زخم آئے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھرانے کے لیے دعا فرمائی۔ ابنِ سعد، واقدی اور ابنِ ہشام کے مغازی میں یہ تفصیل مختلف انداز سے آئی ہے، اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے منسوب ایک قول میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جملہ ہے کہ «احد کے دن میں جدھر مڑتا، ام عمارہ کو اپنے دفاع میں لڑتے دیکھتا» — یہ ایک تاریخی روایتی تصویر ہے؛ اس کے تمام اجزا کو صحیح حدیث کا درجہ دینا درست نہیں، اور نہ اس کا انکار کرنا ضروری ہے۔ قاری سب سے پہلے مضمون کی قسم پہچان لے: صحیح بخاری دوسری عورتوں کے پانی اور علاج کے کام کی واضح دلیل ہے؛ نسیبہ رضی اللہ عنہا کی جنگ سیرت و مغازی کا مواد ہے۔
نسیبہ رضی اللہ عنہا کا اپنا ایک سوال سنن میں محفوظ ہے۔ ام عمارہ انصاریہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مجھے لگتا ہے ہر چیز مردوں کے لیے ہے اور عورتوں کا کسی چیز میں ذکر نہیں ہوتا — تو یہ آیت نازل ہوئی — جامع ترمذی 3211 (حسن):
إِنَّ ٱلْمُسْلِمِينَ وَٱلْمُسْلِمَـٰتِ وَٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَـٰتِ وَٱلْقَـٰنِتِينَ وَٱلْقَـٰنِتَـٰتِ وَٱلصَّـٰدِقِينَ وَٱلصَّـٰدِقَـٰتِ وَٱلصَّـٰبِرِينَ وَٱلصَّـٰبِرَٰتِ وَٱلْخَـٰشِعِينَ وَٱلْخَـٰشِعَـٰتِ وَٱلْمُتَصَدِّقِينَ وَٱلْمُتَصَدِّقَـٰتِ وَٱلصَّـٰٓئِمِينَ وَٱلصَّـٰٓئِمَـٰتِ وَٱلْحَـٰفِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَٱلْحَـٰفِظَـٰتِ وَٱلذَّٰكِرِينَ ٱللَّهَ كَثِيرًا وَٱلذَّٰكِرَٰتِ أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا
«بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں، سچے مرد اور سچی عورتیں، صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں … اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے» (سورۂ احزاب 33:35)
یہ روایت نسیبہ رضی اللہ عنہا کی شخصیت کا ایک معتبر رخ دکھاتی ہے: وہ ایک سوال کرنے والی، دین میں اپنی جگہ تلاش کرنے والی خاتون تھیں، اور ان کے سوال پر قرآن نے مردوں اور عورتوں کو دس صفات میں برابر ذکر کیا۔
کہانی کو نہ مٹانا، نہ بے حد بڑھانا
دو انتہائیں عام ہیں۔ ایک: «یہ بخاری میں نہیں، لہٰذا نہیں ہوا» — یہ طریقہ سیرت اور مغازی کے پورے ذخیرے کو رد کر دیتا ہے، جسے محدثین نے بھی تاریخ کے لیے استعمال کیا ہے۔ دوسری: «صحیح بخاری میں نسیبہ کی تلوار کا واقعہ ہے» — یہ درست نہیں؛ یہاں نقل کی گئی بخاری کی روایات عائشہ، ام سلیم، ام سلیط اور رُبیّع رضی اللہ عنہن کے کاموں کی ہیں۔ صحیح راستہ یہ ہے کہ سیرت کا بیان سیرت کے حوالے سے بیان کیا جائے، اس کی تفصیلات (زخموں کی گنتی، مخصوص جملے) کو قطعی نہ بنایا جائے، اور صحیح حدیث کو اپنے درجے پر رکھا جائے۔
احد کے بعد کے واقعات: مختصر، اور درجہ واضح
سوانحی تذکروں میں ام عمارہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بیعتِ عقبہ، حدیبیہ، خیبر، عمرۃ القضاء، فتحِ مکہ، حنین اور یمامہ جیسے مقامات کا ذکر آتا ہے؛ ہر فہرست ہر کتاب میں ایک جیسی نہیں۔ «موجود تھیں» کا مطلب ہر بار «ہتھیار سے لڑیں» نہیں ہوتا۔ یمامہ کے بارے میں تاریخی روایات میں ہے کہ وہ وہاں شدید زخمی ہوئیں اور ان کا بیٹا حبیب بن زید رضی اللہ عنہ مسیلمہ کے ہاتھوں پہلے شہید ہو چکا تھا (جنگِ یمامہ کا مضمون دیکھیے)۔ یہ تفصیل بھی تاریخ کے درجے پر ہے۔
جنگ میں عورتوں کا کردار: ایک ہی ماڈل نہیں
روایات سے جو تصویر ابھرتی ہے وہ ایک ماڈل نہیں۔ کچھ خواتین پانی لاتی تھیں؛ کچھ زخمیوں کی دیکھ بھال کرتیں؛ کچھ گھروں، بچوں اور مال کی حفاظت کی ذمہ دار تھیں؛ کسی تاریخی بیان میں کسی خاتون کے ہنگامی حالت میں ہتھیار اٹھانے کا ذکر ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ حنین کے دن ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس ایک خنجر تھا؛ پوچھا گیا تو کہا: اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو اس کا پیٹ چاک کر دوں گی — نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے — صحیح مسلم 1809۔ اور ام حرام رضی اللہ عنہا کو آپ نے سمندری جہاد میں شرکت کی بشارت دی، جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں پوری ہوئی — صحیح بخاری 2788، صحیح بخاری 2799۔ ان سب کو ایک «کردار» میں باندھنا نہ مآخذ کے ساتھ انصاف ہے نہ عورتوں کے کام کی وسعت کو سمجھنے کا طریقہ۔ پانی اور علاج کو «غیر جنگی» کہہ کر غیر اہم سمجھنا بھی درست نہیں؛ زخمی کو وقت پر پانی اور پٹی ملنا اس کی زندگی کا سوال ہو سکتا ہے۔
مشہور دعووں پر محتاط نوٹ
- «صحیح بخاری میں نسیبہ کے تلوار چلانے کا واقعہ ہے» — نہیں؛ بخاری کی روایات عائشہ، ام سلیم، ام سلیط اور رُبیّع رضی اللہ عنہن کے بارے میں ہیں۔
- «نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یقیناً یہ مخصوص جملہ فرمایا» — مشہور جملوں کو منسوب کرنے سے پہلے سند اور محدثین کا حکم دیکھنا لازم ہے۔
- «انہیں بالکل اتنے زخم لگے» — مختلف بیانات میں گنتی مختلف ہے (بارہ یا تیرہ)؛ قطعی عدد نہ لکھیں۔
- «وہ ہر بعد کی مہم میں لڑیں» — موجودگی اور قتال میں فرق ہے۔
- «عورتوں کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں تھا» — صحیح بخاری 2880-2883 اور مسلم 1812 اس کے خلاف ہیں۔
آج کے قاری کے لیے سبق
- خدمت کا ہر درجہ قابلِ قدر ہے — عمر رضی اللہ عنہ نے چادر ام سلیط کو دی۔
- عورت کا سوال وحی کے نزول کا سبب بنا (33:35) — دین میں سوال کرنا مقام ہے، عیب نہیں۔
- بہادری کا ذکر کرتے ہوئے مآخذ کا درجہ بتانا ادب اور امانت دونوں ہے۔
- ہنگامی حالت میں دفاع اور عام حالات میں تقسیمِ کار دو الگ باتیں ہیں؛ ایک سے دوسری کا عمومی حکم نہ نکالیں۔
- صحابیات کا ذکر ادب اور رضی اللہ عنہن کے ساتھ کریں۔
اہم باتیں ایک نظر میں
- صحیح بخاری 2880/4064: احد میں عائشہ اور ام سلیم رضی اللہ عنہما مشکیں بھر کر لاتیں۔
- صحیح بخاری 2881: ام سلیط کی خدمت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں یاد رکھی گئی۔
- صحیح بخاری 2882-2883؛ مسلم 1812: پانی، علاج، زخمیوں کی منتقلی۔
- نسیبہ بنت کعب رضی اللہ عنہا کا احد میں دفاع: سیرت و مغازی؛ ان کا سوال اور 33:35: ترمذی 3211۔
- ام سلیم کا خنجر (مسلم 1809) اور ام حرام کی سمندری بشارت (بخاری 2788)۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
نسیبہ بنت کعب رضی اللہ عنہا کون تھیں؟
انصار کی صحابیہ، کنیت ام عمارہ؛ بیعتِ عقبہ میں شریک، احد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع کا مشہور سیرتی بیان ان سے منسوب ہے، اور 33:35 کے نزول کا سوال ان کا ہے۔
کیا احد میں ان کا لڑنا صحیح بخاری میں ہے؟
نہیں؛ یہ سیرت و مغازی (ابنِ سعد، واقدی، ابنِ ہشام) کا بیان ہے۔ بخاری میں دوسری صحابیات کے پانی اور علاج کے کام ہیں۔
کیا عورتوں کو غنیمت میں حصہ ملتا تھا؟
صحیح مسلم 1812 کے مطابق باقاعدہ حصہ نہیں، مگر انہیں عطیہ دیا جاتا تھا۔
حوالہ جات
- صحیح بخاری 2880، 4064 — عائشہ اور ام سلیم رضی اللہ عنہما۔
- صحیح بخاری 2881 — ام سلیط رضی اللہ عنہا۔
- صحیح بخاری 2882، 2883 — رُبیّع بنت معوذ رضی اللہ عنہا۔
- صحیح مسلم 1812 — عورتوں کی شرکت اور عطیہ۔
- جامع ترمذی 3211؛ سورۂ احزاب 33:35 — ام عمارہ کا سوال۔
- صحیح مسلم 1809؛ صحیح بخاری 2788 — ام سلیم اور ام حرام رضی اللہ عنہما۔
صحیح حدیث، سیرت و مغازی اور مصنف کی تشریح کو الگ رکھا گیا ہے؛ تمام صحابیات کا ذکر ادب کے ساتھ لازم ہے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment