نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات سے معاشرت: گھر میں خدمت، نرمی اور حقوق
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات سے معاشرت: گھر میں خدمت، نرمی اور حقوق
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گھریلو رویہ نرمی، خدمت، احترام اور اللہ کے مقرر کیے ہوئے حقوق کا نمونہ تھا۔ قرآن نے میاں بیوی کے رشتے کو سکون، محبت اور رحمت سے جوڑا، اور صحیح روایات نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کیسے رہتے اور اپنی ازواج کے ساتھ کیسا سلوک فرماتے تھے۔
گھر کا سکون محبت، ذمہ داری اور باہمی احترام سے بنتا ہے۔
قرآن کا بنیادی اصول: مودّت اور رحمت
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً
«اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس سکون پاؤ، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔» (سورۃ الروم 30:21)
یہ آیت نکاح کو صرف ساتھ رہنے کا بندھن نہیں بلکہ سکون، قربت اور رحم کا رشتہ بتاتی ہے۔ سورۃ النساء میں فرمایا گیا: «اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی گزارو» (4:19)۔ اس ہدایت میں نرمی صرف اچھے موڈ کا نام نہیں؛ یہ روزمرہ کے معاملات، گفتگو، اختلاف، خرچ اور ذمہ داریوں میں انصاف کے ساتھ نظر آنی چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کردار اس قرآنی اصول کی عملی مثال تھا۔
ازواجِ مطہرات سے متعلق واقعات پڑھتے ہوئے ادب اور مأخذ کی پہچان ضروری ہے۔ قرآن اور صحیح حدیث کا متن اپنی جگہ ہے، جبکہ سیرت کی بعض تفصیلات بعد کی تاریخی روایات میں آتی ہیں۔ خاص گھریلو واقعات میں ہر مشہور قصہ صحیح سند سے ثابت نہیں ہوتا؛ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی گفتگو یا نیت اپنی طرف سے گھڑنے سے بچنا چاہیے۔
گھر میں خدمت اور تواضع
حضرت اسود کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا:
كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ ـ تَعْنِي خِدْمَةَ أَهْلِهِ ـ فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ
«آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے کام کاج میں، یعنی ان کی خدمت میں، لگے رہتے تھے، اور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے نکل جاتے۔» (صحیح بخاری، حدیث 676)
یہ مختصر روایت گھریلو زندگی کا واضح نقشہ دیتی ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مقام کو گھر کے کاموں سے بری ہونے کا سبب نہیں بناتے تھے۔ گھر کی خدمت کو صرف ایک دفعہ کے واقعے یا کسی خاص کام تک محدود نہ کریں؛ حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے تھے۔ اس سے شوہر اور بیوی دونوں کو سبق ملتا ہے کہ گھر کا نظام مشترکہ ذمہ داری سے چلتا ہے۔ خدمت سے عزت کم نہیں ہوتی؛ یہ محبت اور تواضع کو عملی بناتی ہے۔
نماز کا وقت آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کے لیے تشریف لے جاتے۔ یعنی گھر والوں کی خدمت اور اللہ کی عبادت دونوں زندگی کا حصہ تھے، ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ آج کے مسلمان اس سے سیکھ سکتے ہیں کہ عبادت کے نام پر گھر والوں کے حقوق نظر انداز نہ ہوں، اور گھر کے کاموں کے نام پر فرض نماز میں سستی بھی نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لأَهْلِي
«تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔» (جامع ترمذی، حدیث 3895 (حسن صحیح))
قربت اور نرمی چھوٹے روزمرہ رویوں میں ظاہر ہوتی ہے۔
نرمی، عزت اور نقصان سے بچنا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهِ وَلاَ امْرَأَةً وَلاَ خَادِمًا إِلاَّ أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَىْءٌ قَطُّ فَيَنْتَقِمَ مِنْ صَاحِبِهِ إِلاَّ أَنْ يُنْتَهَكَ شَىْءٌ مِنْ مَحَارِمِ اللَّهِ
«رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنے ہاتھ سے کسی کو نہیں مارا، نہ کسی عورت کو نہ کسی خادم کو، سوائے اس کے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کر رہے ہوں؛ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کوئی تکلیف پہنچائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کبھی بدلہ نہیں لیا، ہاں اگر اللہ کی حرمتوں میں سے کسی کو توڑا جاتا (تو اس پر گرفت فرماتے)۔» (صحیح مسلم، حدیث 2328)
یہ روایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے عمل کو بیان کرتی ہے اور گھر کے رویے میں جسمانی نقصان اور سختی سے بچنے کی اہمیت سامنے لاتی ہے۔ اسے قرآن کے نرمی، رحمت اور «معروف» کے اصول کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔ گھریلو اختلاف ہر رشتے میں پیدا ہو سکتا ہے، مگر اختلاف کا مطلب توہین، دھمکی، زیادتی یا حق تلفی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ یہ ہے کہ غصے میں بھی ہاتھ اور زبان کو نقصان سے روکا جائے، بات کو سمجھا جائے اور صلح کا راستہ تلاش کیا جائے۔ اگر گھر میں تشدد یا خطرہ ہو تو امن اور حفاظت کے لیے قابلِ اعتماد مدد لینا ضروری ہے؛ مظلوم کو خاموش کر دینا حسنِ معاشرت نہیں۔
قرآن مردوں اور عورتوں دونوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کا ذکر کرتا ہے۔ سورۃ البقرہ 2:228 میں معروف کے مطابق عورتوں کے حقوق کا بھی بیان ہے (2:228)۔ اس آیت کو صرف ایک طرف کے حق کے لیے نہیں بلکہ پورے قرآنی تناظر اور فقہی تفصیل کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔ رشتے میں دونوں فرد اللہ کے سامنے جواب دہ ہیں۔
ذاتی حالات اور فطری ضروریات کا احترام
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ وہ حیض کی حالت میں ہوتیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی گود میں ٹیک لگا کر قرآن کی تلاوت فرماتے (صحیح بخاری 297؛ صحیح مسلم 301)۔ اس روایت سے ذاتی رشتے میں قربت اور نرمی کا پہلو سامنے آتا ہے، اور یہ بھی کہ حیض کے دنوں میں بیوی سے دوری یا اسے ناپاک سمجھ کر تنہا کر دینا درست نہیں۔ حیض کے احکام اپنی جگہ ہیں؛ روایت یہ بتاتی ہے کہ حسنِ معاشرت اور محبت برقرار رہ سکتی ہے۔
ازواجِ مطہرات علم اور دین کی رہنمائی کا مرکز بھی تھیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے گھریلو پہلو امت تک پہنچائے، مسائل پوچھے اور ان کے جواب روایت کیے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سمیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے بہت سی احادیث نقل ہوئیں۔ ان کے علم اور روایتی خدمت کو یاد رکھنا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انہیں صرف تاریخی قصوں کا کردار نہ سمجھا جائے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا پہلی وحی کے وقت سہارا بننا اس کی روشن مثال ہے (نکاح اور ساتھ کی تفصیل یہاں)۔
گھر کے سکون کے لیے حقوق، رازداری اور انصاف سب ضروری ہیں۔
مشورہ، گفتگو اور گھر کے حقوق
گھر کا رشتہ صرف حکم دینے اور مان لینے کا نام نہیں۔ قرآن نے کئی احکام میں مشورے کا اصول دیا۔ مثال کے طور پر بچے کے دودھ چھڑانے کے فیصلے میں والدین کی باہمی رضامندی اور مشورے کا ذکر ہے (البقرہ 2:233)۔ اس آیت کا خاص حکم اپنے تناظر میں ہے، مگر باہمی گفتگو اور ذمہ داری کا پہلو عام گھریلو زندگی کے لیے بھی رہنما ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ازواج کے درمیان انصاف اور وقت کی تقسیم کی روایات بھی حدیث کی کتابوں میں آتی ہیں۔ اس کے فقہی احکام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص حالات تفصیل طلب ہیں؛ یہاں اتنا سبق کافی ہے کہ کسی رشتے میں حق، وقت اور رویے کا انصاف اہمیت رکھتا ہے۔ محبت کا دعویٰ تب مضبوط ہوتا ہے جب گفتگو، توجہ اور ذمہ داری میں بھی انصاف ہو۔
اختلاف کے وقت خاموشی سے سزا دینا، راز کھولنا یا دوسروں کے سامنے ذلیل کرنا مسئلے کو بڑھا سکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک بدترین مقام والوں میں وہ شخص ہے جو اپنی بیوی سے قربت کرے اور پھر اس کا راز پھیلا دے (صحیح مسلم 1437)۔ اس سے گھر کی رازداری، امانت اور باہمی اعتماد کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ اگر مسئلہ حل نہ ہو تو حکمت سے مشورہ، صلح اور مدد لینا بہتر ہے۔
زہد اور گھر کی سادگی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی میں سادگی تھی، لیکن سادگی کا مطلب گھر والوں کے حقوق ادا نہ کرنا نہیں۔ قرآن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو اختیار دیا گیا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آخرت کا گھر چنیں، یا دنیا کی زینت اور اس کا سامان (الاحزاب 33:28–29)۔ یہ آیت اپنے خاص پس منظر میں نازل ہوئی؛ اسے عام گھروں میں کسی ایک فرد کو دبانے یا تمام خرچ روکنے کے جواز میں بدلنا درست نہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مال اور شہرت جمع کرنا مقصد نہیں تھا۔ مگر گھر کے حقوق، نفقہ اور انصاف کے احکام قرآن اور سنت میں واضح ہیں۔ سادگی کا پیغام یہ ہے کہ دنیا کی نمائش رشتوں پر حاوی نہ ہو؛ نہ یہ کہ گھر والوں کو ضروری سہولت سے محروم رکھا جائے۔ ازواجِ مطہرات کا مقام امت کے لیے خاص ہے: قرآن نے انہیں مومنوں کی مائیں کہا (الاحزاب 33:6) اور ان کے گھروں کے ادب اور عزت کے احکام بیان کیے (33:53)۔ ان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشرت کا ذکر ادب سے ہو؛ گھریلو واقعات کو چٹ پٹے قصوں کے طور پر پیش کرنا مقصود نہیں۔
گھر کی خدمت محبت اور ذمہ داری کا عملی اظہار ہے۔
عملی سبق: گھر میں سنت کیسے زندہ ہو؟
- گھر کے کام میں اپنا حصہ لیں؛ یہ سنت ہے، کمزوری نہیں (بخاری 676)۔
- بیوی یا شوہر کی بات توجہ سے سنیں؛ ناراضی کے وقت زبان اور ہاتھ کو قابو میں رکھیں (مسلم 2328)۔
- گھر کی ذاتی باتیں امانت ہیں؛ انہیں پھیلانا سخت گناہ ہے (مسلم 1437)۔
- کام، صحت، وقت اور ضرورت کے مطابق باہمی رضامندی سے ذمہ داریاں بانٹیں؛ کوئی ایک مقررہ تقسیم لازم نہیں۔
- حقوق کی بات صرف ایک فریق کو نصیحت نہ ہو؛ شوہر اور بیوی دونوں عدل، امانت اور حسنِ سلوک کے پابند ہیں۔
خلاصہ
قرآن میاں بیوی کے رشتے کو سکون، محبت اور رحمت سے جوڑتا اور معروف کے ساتھ زندگی گزارنے کا حکم دیتا ہے۔ صحیح حدیث بتاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر والوں کی خدمت کرتے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نرمی فرماتے اور کسی عورت یا خادم کو ہاتھ سے نہیں مارتے تھے۔ ازواجِ مطہرات علم اور روایت کی عظیم خدمت گزار تھیں۔ اس اسوے کا عملی سبق گھر میں خدمت، رازداری، انصاف، نرمی اور دونوں طرف کے حقوق کا احترام ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ قرآن میاں بیوی کے رشتے کو کس طرح بیان کرتا ہے؟
سورۃ الروم 30:21 سکون، محبت اور رحمت کا ذکر کرتی ہے؛ سورۃ النساء 4:19 بھلے طریقے سے زندگی گزارنے کی ہدایت دیتی ہے۔
۲۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کیا کام کرتے تھے؟
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر والوں کی خدمت میں مشغول رہتے اور نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے (صحیح بخاری 676)۔
۳۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی ازواج پر ہاتھ اٹھایا؟
نہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت یا خادم کو کبھی ہاتھ سے نہیں مارا (صحیح مسلم 2328)۔
۴۔ اس سے آج کے گھروں کے لیے کیا سبق ملتا ہے؟
گھر کے کام میں حصہ، نرمی، رازداری، مشورہ، انصاف اور دونوں طرف کے حقوق کا لحاظ۔ اختلاف ہو تو تحقیر کے بجائے پرامن گفتگو اور ضروری مدد اختیار کریں۔
کتابیں اور حوالے
- القرآن الکریم: الروم 30:21؛ النساء 4:19؛ البقرہ 2:228، 2:233؛ الاحزاب 33:6، 33:28–29، 33:53۔
- صحیح بخاری 676: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر میں خدمت کرنا۔
- صحیح مسلم 2328: کسی عورت یا خادم کو نہ مارنا۔
- صحیح بخاری 297؛ صحیح مسلم 301: حیض کے دوران قربت اور تلاوت۔
- صحیح مسلم 1437: میاں بیوی کے ذاتی راز کی حرمت۔
- جامع ترمذی 3895: «خیرکم خیرکم لاہلہ» (حسن صحیح)۔
گھریلو روایات کو ادب اور سند کے ساتھ پڑھیں؛ کسی غیر ثابت قصے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہ کریں۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment