غزوۂ حنین: جب بڑی فوج نے سبق سکھایا — کثرت پر ناز اور اللہ کی سکینت
غزوۂ حنین: جب بڑی فوج نے سبق سکھایا — کثرت پر ناز اور اللہ کی سکینت
فتحِ مکہ کے صرف چند دن بعد وہ معرکہ جس میں بارہ ہزار کا لشکر ایک لمحے کے لیے بکھر گیا — اور ایک آدمی اپنی جگہ سے نہ ہلا۔
حنین مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی ہے۔ فتحِ مکہ کے بعد شوال 8 ہجری میں یہاں مسلمانوں اور ہوازن و ثقیف کے قبائل کے درمیان وہ جنگ ہوئی جس کا نام اللہ نے قرآن میں لیا۔ یہ واحد غزوہ ہے جس میں قرآن نے مسلمانوں کی ایک کمزوری — اپنی کثرت پر ناز — کو نام لے کر بیان کیا اور پھر بتایا کہ اصل مدد کہاں سے آتی ہے:
لَقَدْ نَصَرَكُمُ ٱللَّهُ فِى مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ ۙ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْـًٔا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ ٱلْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ ثُمَّ أَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَعَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ وَأَنزَلَ جُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلْكَـٰفِرِينَ
«یقیناً اللہ نے بہت سے مقامات پر تمہاری مدد کی، اور حنین کے دن بھی، جب تمہیں اپنی کثرت پر ناز تھا مگر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی، اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی، پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگے۔ پھر اللہ نے اپنے رسول پر اور مومنوں پر اپنی سکینت اتاری اور ایسے لشکر اتارے جو تم نے نہیں دیکھے، اور کافروں کو سزا دی؛ اور یہی کافروں کا بدلہ ہے۔» (التوبہ 9:25–26)
یہ مضمون قرآنِ کریم اور صحیح بخاری و مسلم کی روایات پر مبنی ہے؛ مالِ غنیمت اور قیدیوں کی تعداد جیسی تفصیلات سیرت کی کتابوں سے ہیں اور انہیں اسی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔
پس منظر: ہوازن اور ثقیف کی تیاری
فتحِ مکہ کی خبر سن کر طائف کے ارد گرد کے بڑے قبیلے ہوازن اور ثقیف نے سمجھا کہ اگلا نمبر ان کا ہے۔ انہوں نے مالک بن عوف نصری کی قیادت میں لشکر جمع کیا اور — تاکہ کوئی بھاگ نہ سکے — اپنے اہل و عیال، مویشی اور مال بھی ساتھ لے آئے۔ قبیلے کے بوڑھے تجربہ کار سردار درید بن صمہ نے اس پر اعتراض کیا مگر مالک نے نہ مانا (سیرتِ ابنِ ہشام)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی تو آپ مکہ میں انیس دن قیام کے بعد روانہ ہوئے۔
مسلمانوں کا لشکر بارہ ہزار تھا: دس ہزار وہ جو مدینہ سے فتحِ مکہ کے لیے آئے تھے اور دو ہزار نو مسلم اہلِ مکہ، جن میں کئی ابھی اسلام میں پختہ نہیں ہوئے تھے۔ اتنا بڑا لشکر مسلمانوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، اور یہیں سے وہ خیال پیدا ہوا جس کا ذکر قرآن نے کیا: «آج ہم تعداد کی کمی کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوں گے»۔ راستے میں کچھ نو مسلموں نے ایک بیری کا درخت دیکھ کر کہا: ہمارے لیے بھی ایسا «ذاتِ انواط» بنا دیجیے جیسا مشرکوں کا ہے؛ آپ نے فرمایا: یہ تو وہی بات ہے جو موسیٰ کی قوم نے کہی تھی (جامع ترمذی 2180، صحیح؛ ترمذی کی روایت میں سفرِ خیبر کا ذکر ہے، دیگر روایات میں حنین کا)۔ یعنی لشکر بڑا تھا مگر یکساں پختہ نہیں تھا۔
گھاٹی کا حملہ اور بھگدڑ
ہوازن تیر اندازی میں ماہر تھے۔ وہ رات ہی میں وادی کی گھاٹیوں میں چھپ گئے۔ صبح کے دھندلکے میں جب مسلمانوں کا ہراول دستہ وادی میں اترا تو چاروں طرف سے تیروں کی بارش ہوئی اور گھڑ سوار اچانک ٹوٹ پڑے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہوازن تیر انداز قوم تھی؛ جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو وہ پیچھے ہٹے، لوگ مالِ غنیمت پر جھک پڑے، اور تب انہوں نے تیروں سے ہمارا استقبال کیا (صحیح بخاری 4315)۔ سب سے پہلے نو مسلم اہلِ مکہ کے سوار پلٹے، اور بھگدڑ پورے لشکر میں پھیل گئی۔ ایک لمحے کے لیے وہ منظر تھا جس کے بارے میں قرآن نے کہا: «زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی»۔
«میں نبی ہوں، یہ جھوٹ نہیں»: ثابت قدمی کا وہ لمحہ
کسی نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا تم لوگ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے؟ انہوں نے کہا: مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بھاگے۔ آپ اپنے سفید خچر پر تھے، ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ اس کی لگام تھامے تھے، اور آپ فرما رہے تھے:
أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
«میں نبی ہوں، یہ جھوٹ نہیں؛ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔» (صحیح بخاری 2864)
حضرت براء رضی اللہ عنہ نے مزید کہا: جب جنگ گرم ہوتی تو ہم آپ کی آڑ لیتے، اور ہم میں بہادر وہ ہوتا جو آپ کے برابر کھڑا ہوتا (صحیح بخاری 2864)۔ غور کیجیے: بارہ ہزار کا لشکر بکھر رہا ہے اور قائد خچر پر سوار دشمن کی طرف بڑھ رہا ہے، اپنے نام اور نسب کا اعلان کر رہا ہے تاکہ دشمن جان لے کہ وہ یہیں ہے۔ یہ وہ شجاعت ہے جس کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ جب جنگ سخت ہوتی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ لیتے۔
عباس رضی اللہ عنہ کی پکار: «اے اصحابِ شجرہ!»
حضرت عباس رضی اللہ عنہ بلند آواز تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا: انصار کو پکارو، اصحابِ سمرہ (حدیبیہ میں درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں) کو پکارو۔ وہ بیان کرتے ہیں:
فَنَادَيْتُ: يَا أَصْحَابَ السَّمُرَةِ! فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَقَرِ عَلَى أَوْلاَدِهَا، فَقَالُوا: يَا لَبَّيْكَ يَا لَبَّيْكَ
«میں نے پکارا: اے اصحابِ سمرہ! اللہ کی قسم! میری آواز سن کر وہ ایسے پلٹے جیسے گائیں اپنے بچھڑوں کی طرف پلٹتی ہیں، اور کہنے لگے: لبیک، لبیک!» (صحیح مسلم 1775)
انصار اور مہاجرینِ اولین جمع ہوئے اور لڑائی پھر سے بھڑک اٹھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریوں کی مٹھی اٹھائی، دشمن کی طرف پھینکی اور فرمایا: «شَاهَتِ الْوُجُوهُ» (صحیح مسلم 1777)۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ہم نے دیکھا کہ دشمن کی دھار کند ہوتی گئی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے (صحیح مسلم 1775)۔ اللہ نے فرمایا: «پھر اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر اپنی سکینت اتاری اور ایسے لشکر اتارے جو تم نے نہیں دیکھے»۔ بدر میں بھی نصرت فرشتوں سے آئی تھی اور حنین میں بھی؛ فرق یہ تھا کہ بدر میں مسلمان اپنی کمی کے باوجود اللہ پر بھروسہ کیے ہوئے تھے اور حنین میں ایک لمحے کے لیے اپنی کثرت پر۔
اوطاس اور طائف کا محاصرہ
ہوازن کا ایک حصہ اوطاس کی طرف بھاگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ کی قیادت میں دستہ بھیجا؛ وہ شہید ہوئے اور ان کے بھتیجے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے قاتل کو قتل کیا۔ واپسی پر آپ نے ابو عامر کے لیے دعا کی: «اے اللہ! عبید ابو عامر کو بخش دے اور قیامت کے دن اسے اپنی مخلوق کے بہت سے لوگوں سے اوپر رکھ» (صحیح بخاری 4323)۔ ثقیف اپنے مضبوط قلعے طائف میں بند ہو گئے؛ مسلمانوں نے کئی دن محاصرہ کیا، منجنیق استعمال ہوئی، مگر قلعہ فتح نہ ہوا۔ آپ نے محاصرہ اٹھا لیا۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ثقیف کے لیے بددعا کیجیے؛ آپ نے فرمایا: «اے اللہ! ثقیف کو ہدایت دے اور انہیں لے آ» (جامع ترمذی 3942)۔ اگلے سال ثقیف خود مسلمان ہو کر مدینہ آئے۔
جعرانہ: غنیمت کی تقسیم اور ہوازن کی واپسی
مالِ غنیمت اور قیدی جعرانہ میں جمع تھے؛ سیرت کی کتابوں میں ہزاروں اونٹ، بکریاں اور تقریباً چھ ہزار قیدیوں کا ذکر ہے۔ آپ نے چند دن انتظار کیا کہ شاید ہوازن توبہ کر کے آ جائیں۔ جب ان کا وفد آیا اور قیدیوں کی واپسی کی درخواست کی تو آپ نے مسلمانوں سے کہا کہ جو خوشی سے چھوڑ دے وہ چھوڑ دے، اور جو اپنا حصہ رکھنا چاہے اسے آئندہ فے میں سے بدلہ ملے گا؛ لوگوں نے کہا: ہم نے خوشی سے چھوڑ دیے (صحیح بخاری 2307)۔ ایک ہی دن میں ہزاروں قیدی آزاد ہو گئے۔
باقی مال میں سے آپ نے نو مسلم سرداروں — ابو سفیان، صفوان بن امیہ، عیینہ بن حصن، اقرع بن حابس وغیرہ — کو سو سو اونٹ دیے تاکہ ان کے دل اسلام پر جم جائیں؛ انصار کو کچھ نہ دیا۔ انصار کے کچھ نوجوانوں کو یہ بات کھٹکی اور کہا گیا کہ ہمارے خون ابھی تلواروں سے ٹپک رہے ہیں اور مال قریش کو مل رہا ہے۔
انصار کا دکھ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی
آپ نے انصار کو ایک خیمے میں جمع کیا اور فرمایا: کیا تم اس حال میں نہ تھے کہ گمراہ تھے اور اللہ نے میرے ذریعے تمہیں ہدایت دی، منتشر تھے اور اللہ نے تمہیں جوڑ دیا، محتاج تھے اور اللہ نے تمہیں غنی کیا؟ ہر بات پر وہ کہتے: اللہ اور اس کا رسول زیادہ احسان والے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا:
أَلاَ تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ، وَتَذْهَبُونَ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى رِحَالِكُمْ؟ لَوْلاَ الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَشِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الأَنْصَارِ وَشِعْبَهَا، الأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ
«کیا تم اس پر راضی نہیں کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم نبی کو اپنے گھروں کو لے جاؤ؟ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا؛ اگر لوگ ایک وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلوں گا۔ انصار (جسم سے لگا) اندر کا کپڑا ہیں اور باقی لوگ اوپر کا۔» (صحیح بخاری 4330)
انصار اتنا روئے کہ داڑھیاں تر ہو گئیں اور کہا: ہم راضی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے حصے میں آئے (صحیح بخاری 4330؛ صحیح مسلم 1059)۔ یہ حنین کا سب سے بڑا سبق ہے: مال دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ ہے، مگر اصل انعام نبی کی قربت ہے۔
نتائج
حنین کے بعد حجاز میں شرک کی آخری بڑی عسکری قوت ختم ہو گئی۔ ہوازن مسلمان ہو گئے، ان کے سردار مالک بن عوف کو آپ نے اس کا مال اور سو اونٹ واپس دیے اور وہ اسلام لے آیا؛ ثقیف اگلے سال خود آئے۔ عمرۂ جعرانہ کے بعد آپ مدینہ لوٹے۔ اور قرآن نے اس پورے واقعے کو یہ کہہ کر ختم کیا: «ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ» — پھر اس کے بعد اللہ جس پر چاہے توبہ کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے (التوبہ 9:27) — یعنی جو کل دشمن تھے، آج اللہ کی رحمت کے دروازے ان کے لیے بھی کھلے تھے۔
نوٹ: اس مضمون کی ہر حدیث صحیح بخاری یا صحیح مسلم (اور دو مقامات پر جامع ترمذی کی صحیح روایات) سے ہے۔ مالِ غنیمت کے اعداد و شمار اور درید بن صمہ کا مکالمہ سیرت کی کتابوں سے ہیں۔
غزوۂ حنین سے پانچ سبق
- کثرت پر ناز شکست کا دروازہ ہے: «إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْئًا» (9:25)۔
- قائد کی ثابت قدمی لشکر کو واپس لاتی ہے: «أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ» (بخاری 2864)۔
- پرانے وفادار مشکل میں کام آتے ہیں: اصحابِ شجرہ کی پکار پر واپسی (مسلم 1775)۔
- دشمن کے لیے بھی دعائے ہدایت: ثقیف کے لیے بددعا نہیں، «اللهم اهد ثقيفا»۔
- مال سے بڑا انعام قربت ہے: انصار کو اونٹ نہیں، نبی ملے (بخاری 4330)۔
خلاصہ
حنین نے امت کو وہ سبق دیا جو بدر کی فتح اور مکہ کی خوشی میں بھولا جا سکتا تھا: مدد تعداد سے نہیں، اللہ سے آتی ہے۔ ایک لمحے کی لغزش کے بعد اللہ نے سکینت اتاری، نبی کی ثابت قدمی نے لشکر کو جوڑا، اور فتح کے بعد قیدی آزاد، دشمن مسلمان اور انصار نبی کے ساتھ گھر لوٹے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment