غزوۂ احزاب کے محاصرے کا نظام: خندق کی کھدائی، دفاعی ترتیب اور قرآن کا پس منظر — صحیح روایات کی روشنی میں
غزوۂ احزاب کے محاصرے کا نظام: خندق کی کھدائی، دفاعی ترتیب اور قرآن کا پس منظر — صحیح روایات کی روشنی میں
سرد صبح، کدالیں، مٹی اٹھاتے کندھے اور ایک شہر جو اپنی کھلی سمت پر زمین کھود کر دیوار بنا رہا تھا — محاصرے کا نظام کیا تھا اور اسے کس درجے سے بیان کرنا چاہیے؟
غزوۂ خندق کے مجموعی واقعات — لشکروں کی آمد، موسم، نتیجہ — غزوۂ خندق کے مضمون میں آ چکے ہیں اور اس کے بعد کا معاملہ بنی قریظہ کے مضمون میں۔ یہ مضمون صرف ایک سوال پر ہے: محاصرے کا نظام — کھدائی کا انتظام، مزدوری، خوراک، دفاعی ترتیب — اور یہ کہ اس میں کیا صحیح حدیث سے ثابت ہے اور کیا سیرت کی رپورٹ ہے۔
احزاب کا خطرہ اور شہر کی دفاعی ضرورت
قریش، غطفان اور دوسرے قبائل کا اتحاد مدینہ کی طرف بڑھا۔ مدینہ تین اطراف سے باغات، حرّہ (سیاہ پتھریلی زمین) اور مکانات کی وجہ سے سواروں کے بڑے حملے کے لیے مشکل تھا؛ شمال کی سمت کھلی تھی۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں خندق کھودی گئی۔ قرآن اس محاصرے کا منظر یوں بیان کرتا ہے:
إِذْ جَآءُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ ٱلْأَبْصَـٰرُ وَبَلَغَتِ ٱلْقُلُوبُ ٱلْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِٱللَّهِ ٱلظُّنُونَا۠
«جب وہ تمہارے اوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے، اور جب نگاہیں پھر گئیں اور دل حلق تک آ گئے اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے» (سورۂ احزاب 33:10)
«اوپر سے اور نیچے سے» کی تفسیر میں مشرق اور مغرب کی سمتوں سے لشکروں کی آمد بیان کی گئی ہے۔ آیت دفاعی نقشہ نہیں دیتی؛ وہ گھیرے کا نفسیاتی دباؤ دکھاتی ہے — جو کسی بھی نظام کو سمجھنے کے لیے پہلا نکتہ ہے: یہ نظام خوف کے ماحول میں چلایا گیا۔
خندق کا مشورہ: مشہور روایت اور اس کا درجہ
خندق کا مشورہ کس نے دیا؟ سیرت کی مشہور روایت یہ تجویز حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے منسوب کرتی ہے: فارس میں سواروں سے بچنے کے لیے خندق کا طریقہ معروف تھا۔ ابنِ اسحاق کی سیرت (ابنِ ہشام کے ذریعے) یہ تفصیل بیان کرتی ہے۔ صحیح بخاری کی خندق کی روایات (4099-4101) کھدائی، لوگوں کی محنت اور سخت چٹان کے واقعے کی تصدیق کرتی ہیں، مگر مشورہ دینے والے کا نام نہیں بتاتیں۔ اس لیے «سیرت کی روایت کے مطابق سلمان رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا» کہنا «صحیح بخاری کے مطابق» کہنے سے زیادہ درست ہے۔ یہ احتیاط مشہور بیان کو رد نہیں کرتی؛ صرف درجہ واضح کرتی ہے۔
کھدائی کا عملی نظام: روایت جتنا بتاتی ہے
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق کی طرف نکلے تو دیکھا کہ مہاجرین اور انصار ایک سرد صبح میں کھدائی کر رہے ہیں — ان کے پاس غلام نہیں تھے جو یہ کام ان کے لیے کرتے۔ آپ نے ان کی تھکن اور بھوک دیکھی تو فرمایا: «اے اللہ! اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے، پس انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔» انہوں نے جواب میں کہا: «ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے جہاد پر بیعت کی ہے، جب تک زندہ ہیں» — صحیح بخاری 4099۔ ایک اور روایت میں انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مہاجرین اور انصار مدینہ کے گرد خندق کھودتے اور مٹی اپنی پیٹھوں پر اٹھا کر لے جاتے تھے — صحیح بخاری 4100۔
یہی «نظام» تھا: کوئی خاص فوج یا مشین نہیں، بلکہ پوری جماعت اپنے ہاتھوں سے مٹی کھود اور اٹھا رہی تھی — اور قائد خود شریک تھا۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خندق کے دن مٹی اٹھاتے دیکھا یہاں تک کہ مٹی نے آپ کے پیٹ کی سفیدی کو ڈھانپ دیا، اور آپ (ابنِ رواحہ کے اشعار) پڑھ رہے تھے: «اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، نہ صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے؛ پس ہم پر سکینت نازل فرما اور مقابلے میں قدم جما دے …» — صحیح بخاری 2837۔ سیرت میں ہے کہ خندق حصوں میں تقسیم کر کے ہر گروہ کو ایک حصہ سونپا گیا؛ یہ تنظیمی تفصیل سیرت کی ہے، صحیحین کے متن کی نہیں۔
محنت کے ساتھ کھانا، پانی اور حوصلہ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خندق کھودتے ہوئے ایک سخت چٹان سامنے آئی؛ صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ اٹھے — آپ کے پیٹ پر (بھوک سے) پتھر بندھا تھا — اور ہم نے تین دن سے کچھ نہیں چکھا تھا۔ آپ نے کدال لی اور ضرب لگائی تو چٹان ریت کے ڈھیر کی طرح بکھر گئی۔ جابر رضی اللہ عنہ گھر گئے، بیوی سے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی حالت میں دیکھا جو برداشت نہیں ہوتی؛ گھر میں ایک بکری کا بچہ اور ایک صاع جو تھے۔ انہوں نے آپ کو چند لوگوں کے لیے چپکے سے دعوت دی، مگر آپ نے پکار کر فرمایا: «اے اہلِ خندق! جابر نے کھانا تیار کیا ہے، چلو۔» اور جابر سے فرمایا: «ہانڈی چولہے سے نہ اتارنا اور نہ روٹی تنور سے نکالنا جب تک میں نہ آؤں۔» آپ نے آٹے اور ہانڈی میں لعاب ڈالا، برکت کی دعا کی، اور ایک ہزار افراد نے کھایا؛ کھانا پھر بھی بچ رہا — صحیح بخاری 4101، صحیح بخاری 4102۔
یہ روایت محاصرے کے نظام کا سب سے انسانی پہلو دکھاتی ہے: قائد سب سے زیادہ بھوکا، مشکل کام سب سے پہلے خود کرتا، اور تھوڑے کھانے میں پوری جماعت کو شریک کرتا۔ «ایک ہزار» کا عدد اس روایت کے الفاظ ہیں؛ پورے لشکر کی تعداد کے لیے سیرت کی مختلف روایتیں ہیں، جنہیں یقینی نہیں کہا جا سکتا۔
محاصرے کے دوران دفاعی نظام
جب اتحادی لشکر مدینہ کے قریب آیا تو خندق ایک مادی رکاوٹ بن چکی تھی: وہ سواروں کے سیدھے حملے کو روکتی اور کم تعداد والے دفاع کرنے والوں کو ہر طرف پھیلنے کی مجبوری سے بچاتی۔ یہ حکمتِ عملی کا تجزیہ ہے، حدیث کا اقتباس نہیں۔ صحیح روایت میں خندق کی لمبائی، گہرائی، چوڑائی یا قلعوں سے فاصلہ نہیں؛ اس لیے انٹرنیٹ پر پھیلی مختلف پیمائشوں کو یقینی اعداد کی طرح دہرانا درست نہیں۔ جو ثابت ہے: مسلسل پہرہ، تیر اندازی کا تبادلہ، اور وہ دن جب عصر کی نماز بھی مشغولیت کی وجہ سے مؤخر ہو گئی (صحیح بخاری 4111-4112)۔ اور محاصرے کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا: «اے اللہ! کتاب نازل کرنے والے، جلد حساب لینے والے، لشکروں کو شکست دے؛ اے اللہ! انہیں شکست دے اور انہیں ہلا دے» — صحیح بخاری 4115۔
سیرت میں عورتوں اور بچوں کو قلعوں میں منتقل کرنے، منافقین کے «ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں» کہہ کر واپس جانے (جس کا ذکر قرآن 33:13 میں ہے)، اور نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ذریعے اتحاد میں پھوٹ ڈالنے کی تدبیر مذکور ہے؛ یہ تفصیلات سیرت کے درجے پر ہیں۔
قرآن کا پس منظر: خوف، ثابت قدمی اور اللہ کی مدد
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا
«اے ایمان والو! اللہ کی وہ نعمت یاد کرو جب تم پر لشکر چڑھ آئے تو ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور ایسے لشکر جنہیں تم نے نہیں دیکھا؛ اور اللہ تمہارے اعمال کو دیکھنے والا ہے» (سورۂ احزاب 33:9)
وَلَمَّا رَءَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلْأَحْزَابَ قَالُوا۟ هَـٰذَا مَا وَعَدَنَا ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَصَدَقَ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ ۚ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّآ إِيمَـٰنًا وَتَسْلِيمًا
«اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا تو کہا: یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا — اور اس سے ان کے ایمان اور فرماں برداری میں اضافہ ہی ہوا» (سورۂ احزاب 33:22)
وَرَدَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا۟ خَيْرًا ۚ وَكَفَى ٱللَّهُ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱلْقِتَالَ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا
«اور اللہ نے کافروں کو ان کے غصے سمیت لوٹا دیا، وہ کوئی بھلائی حاصل نہ کر سکے؛ اور اللہ مومنوں کی طرف سے لڑائی کے لیے کافی ہو گیا، اور اللہ قوی اور غالب ہے» (سورۂ احزاب 33:25)
قرآن نظام کی تفصیل نہیں دیتا، مگر وہ دکھاتا ہے کہ دفاعی لکیر کے پیچھے صرف مٹی کی خندق نہیں تھی — ایمان، خوف، نفاق اور ثابت قدمی سب ایک ساتھ موجود تھے؛ اور فیصلہ کن مدد آندھی اور ان لشکروں سے آئی جو دکھائی نہیں دیتے تھے۔
محاصرے کا خاتمہ اور اگلے واقعے سے فرق
جب لشکر لوٹ گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اب ہم ان پر چڑھائی کریں گے، وہ ہم پر نہیں؛ ہم ان کی طرف چلیں گے» — صحیح بخاری 4110۔ اور واپسی پر آپ نے کہا: «اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے؛ اس نے اپنے لشکر کو عزت دی، اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے لشکروں کو شکست دی» — صحیح بخاری 4114۔ خندق کے فوراً بعد بنی قریظہ کا معاملہ سامنے آیا (صحیح بخاری 4117)؛ مگر یہ ایک الگ واقعہ ہے جس کا الگ مضمون ہے — اسے محاصرے کے نظام کے بیان میں ملانا دونوں کو دھندلا کر دیتا ہے۔
آج کے قاری کے لیے نظام کے سبق
- قائد شریکِ محنت ہو — مٹی اٹھانا اور چٹان توڑنا خود کیا گیا۔
- وسائل کم ہوں تو تقسیم بڑھائیں — جابر رضی اللہ عنہ کا کھانا سب کے لیے۔
- حوصلہ دعا اور اجتماعی اشعار سے قائم رکھا گیا۔
- دفاع کی منصوبہ بندی زمین کی نوعیت کے مطابق — جو سمت کھلی تھی وہیں خندق۔
- اعداد و شمار اور نام وہی کہیں جو ثابت ہوں؛ باقی کو «سیرت کے مطابق» کہیں۔
کچھ مشہور دعووں پر احتیاط
- خندق کی لمبائی، گہرائی اور چوڑائی: حدیث 4099-4101 کوئی پیمائش نہیں دیتی؛ اندازے سیرت اور جغرافیہ نگاروں کے ہیں۔
- سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا مشورہ: ابنِ اسحاق کی روایت؛ بخاری کھدائی کی تصدیق کرتی ہے، مشورے کے نام کی نہیں۔
- لشکروں کی تعداد: سیرت کے مختلف اعداد؛ قرآن اور یہاں مذکور حدیث مردم شماری نہیں دیتیں۔
- آندھی کی تفصیل: قرآن 33:9 آندھی اور ان دیکھے لشکروں کا ذکر کرتا ہے؛ خیموں اور ہانڈیوں کے اُلٹنے کی تفصیل سیرت کی ہے۔
اہم باتیں ایک نظر میں
- کھدائی مہاجرین اور انصار نے اپنے ہاتھوں سے کی؛ غلام نہیں تھے (صحیح بخاری 4099-4100)۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود مٹی اٹھاتے اور چٹان توڑتے رہے (صحیح بخاری 2837، 4101)۔
- بھوک کے دنوں میں جابر رضی اللہ عنہ کے کھانے میں برکت (صحیح بخاری 4102)۔
- محاصرے میں دعا: «اہزم الاحزاب» (صحیح بخاری 4115)۔
- قرآن 33:9-25: آندھی، ان دیکھے لشکر، مومنوں کی ثابت قدمی اور دشمن کی ناکام واپسی۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
خندق کتنی لمبی تھی؟
صحیح حدیث پیمائش نہیں دیتی؛ سیرت اور جغرافیہ کی کتابوں کے اندازے مختلف ہیں، اس لیے کوئی عدد یقینی نہیں۔
کیا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا مشورہ صحیح بخاری میں ہے؟
نہیں؛ یہ ابنِ اسحاق/ابنِ ہشام کی مشہور سیرت روایت ہے۔ بخاری کھدائی اور محنت کی تصدیق کرتی ہے۔
محاصرہ کیسے ختم ہوا؟
قرآن 33:9 اور 33:25 کے مطابق اللہ نے آندھی اور ان دیکھے لشکر بھیجے اور کافر اپنے غصے سمیت ناکام لوٹ گئے۔
حوالہ جات
- سورۂ احزاب 33:9، 33:10، 33:22، 33:25۔
- صحیح بخاری 4099، 4100، 2837 — کھدائی اور محنت۔
- صحیح بخاری 4101، 4102 — چٹان، بھوک اور کھانے میں برکت۔
- صحیح بخاری 4115، 4114، 4110 — دعا اور خاتمہ۔
- صحیح بخاری 4117 — خندق کے بعد بنی قریظہ۔
حدیث کے متن، سیرت کی تفصیل اور مصنف کے تجزیے کو الگ رکھا گیا ہے؛ تمام صحابہ کا ذکر ادب کے ساتھ لازم ہے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment