حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح: صحیح روایت، انسیت اور رحمت
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح: صحیح روایت، انسیت اور رحمت
یہ مضمون صحیح روایات میں محفوظ نکاح کے واقعے، عمر کے مختلف الفاظ، مدینہ میں گھر بسنے اور اس رشتے کی انسیت کو — ادب، علم اور انصاف کے ساتھ — بیان کرتا ہے۔
حضرت عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ، ام المومنین، امت کی سب سے بڑی فقیہہ خاتون اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے محبوب اہلیہ ہیں۔ ان کے نکاح پر آج بہت کچھ کہا جاتا ہے — کبھی جذباتی انکار کے ساتھ اور کبھی بے ادبی کے ساتھ۔ اس مضمون کا طریقہ سادہ ہے: پہلے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کا متن، پھر اس کا مفہوم، اور پھر محتاط تشریح۔ کہانی کو روایت سے آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔ ازواجِ مطہرات کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھریلو رویے کا عمومی بیان ازواجِ مطہرات سے سلوک میں ہے؛ یہاں صرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح اور اس رشتے کی خاص روایات ہیں۔
ٱلنَّبِىُّ أَوْلَىٰ بِٱلْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَأَزْوَٰجُهُۥٓ أُمَّهَـٰتُهُمْ ۗ وَأُو۟لُوا۟ ٱلْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِى كِتَـٰبِ ٱللَّهِ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُهَـٰجِرِينَ إِلَّآ أَن تَفْعَلُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَوْلِيَآئِكُم مَّعْرُوفًا ۚ كَانَ ذَٰلِكَ فِى ٱلْكِتَـٰبِ مَسْطُورًا
«نبی مومنوں پر ان کی اپنی جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں» (سورۂ احزاب 33:6)
پہلے ماخذ، پھر بیان
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خود بیان کرتی ہیں: «نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا جب میں چھ سال کی تھی، اور میں آپ کے گھر لائی گئی جب میں نو سال کی تھی» — صحیح بخاری 5133، صحیح بخاری 5158، صحیح مسلم 1422۔ یہاں دو الگ الفاظ ہیں: «تَزَوَّجَهَا» (نکاح/عقد) اور «أُدْخِلَتْ عَلَيْهِ» یا «بَنَى بِهَا» (گھر میں لانا، رخصتی)۔ یعنی عقد مکہ میں ہوا، اور رخصتی تین سال بعد مدینہ میں۔ یہ فرق خود حدیث کے الفاظ میں موجود ہے؛ ہم اسے الگ سے گھڑ نہیں رہے۔
صحیح مسلم کی ایک روایت میں عقد کے وقت «سات سال» کے الفاظ بھی آتے ہیں اور یہ بھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت وہ اٹھارہ سال کی تھیں — صحیح مسلم 1422c۔ چھ اور سات کا فرق محدثین کے نزدیک اس طرح جمع ہوتا ہے کہ چھ سال پورے اور ساتویں سال میں داخل تھیں۔ قاری کے ساتھ انصاف یہ ہے کہ دونوں الفاظ سامنے رکھے جائیں۔ بعض لوگ دوسرے واقعات سے حساب لگا کر مختلف عمر نکالتے ہیں؛ وہ تاریخی قیاس ہے، حدیث کا لفظ نہیں، اور اسے حدیث کے مقابلے میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔
نکاح کا پس منظر: حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد
حضرت عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہجرت سے تین سال پہلے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو سال یا اس کے قریب (بغیر نکاح کے) رہے، پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عقد کیا جب وہ چھ سال کی تھیں اور رخصتی نو سال کی عمر میں ہوئی — صحیح بخاری 3896۔ یعنی یہ نکاح عامِ حزن کے بعد، مکہ کے سخت ترین دور میں ہوا، اور اس میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گہرے تعلق کا پہلو بھی تھا۔ اس زمانے کا پس منظر عام الحزن میں ہے۔
رخصتی ہجرت کے بعد مدینہ میں ہوئی — عام تاریخی روایت کے مطابق شوال 1 ہجری میں۔ عرب معاشرے میں اس عمر کا نکاح اس وقت معروف اور معمول کا معاملہ تھا؛ قریش نے — جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر طرح کے اعتراض کرتے تھے — اس نکاح پر کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔ یہ بات اس زمانے کے معیار کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اپنی یاد
صحیح بخاری میں وہ اپنی رخصتی کا دن خود بیان کرتی ہیں: ہجرت کے بعد مدینہ آ کر وہ ایک مہینہ بخار میں رہیں، بال گر گئے۔ پھر ایک دن وہ سہیلیوں کے ساتھ جھولے پر کھیل رہی تھیں کہ ان کی والدہ ام رومان نے انہیں بلایا، چہرہ دھلایا، سنوارا اور گھر میں لے گئیں جہاں انصار کی خواتین موجود تھیں؛ انہوں نے دعا دی: «خیر و برکت پر، اور بہترین نصیب پر»۔ پھر انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کیا گیا — صحیح بخاری 3894، صحیح مسلم 1422۔ روایت کا لہجہ نہایت سادہ اور انسانی ہے؛ اس میں نہ کوئی ڈرامائی منظر ہے نہ کوئی زبردستی — ماں کا سنوارنا، پڑوسنوں کی دعائیں، اور ایک نئے گھر کا آغاز۔
وہ یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں گڑیوں سے کھیلتی تھیں، ان کی سہیلیاں آتیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر چھپ جاتیں، اور آپ انہیں ان کے پاس بھیج دیتے — صحیح بخاری 6130۔ یہ روایت مذاق یا طعن کا موضوع نہیں؛ یہ اس گھر کی نرمی کی تصویر ہے جہاں ایک کم عمر بیوی کے بچپن کا احترام کیا گیا اور اسے اس کی فطری خوشیوں سے نہیں روکا گیا۔
انسیت کے چھوٹے مناظر
صحیح احادیث میں اس رشتے کی قربت کے کئی چھوٹے مناظر محفوظ ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے — صحیح بخاری 250۔ عید کے دن حبشی لوگ مسجد کے صحن میں نیزوں سے کھیل رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی چادر کی اوٹ میں کھڑا کر کے دکھایا، یہاں تک کہ وہ خود تھک کر ہٹ گئیں — صحیح بخاری 5236۔ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «میں جانتا ہوں کہ تم مجھ سے کب خوش ہوتی ہو اور کب ناراض — خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، محمد کے رب کی قسم؛ اور ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم»۔ انہوں نے عرض کیا: «اللہ کے رسول! میں تو بس آپ کا نام ہی چھوڑتی ہوں» — صحیح بخاری 5228۔
ان روایات کو آج کی زبان میں "مثالی شادی" کا اشتہار بنانا بھی مناسب نہیں؛ حدیث جو بتاتی ہے بس وہی کہا جائے۔ مگر جو بتاتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ رشتہ محبت، مزاح، لحاظ اور باہمی سمجھ کا رشتہ تھا۔
محبت کا اعلان اور علمی مقام
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے پوچھا: «لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عائشہ»۔ پوچھا: «مردوں میں؟» فرمایا: «اس کے والد» — صحیح بخاری 3662۔ صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کے لیے تحفے اس دن بھیجتے جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا دن ہوتا — صحیح مسلم 2441۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی باقی کھانوں پر» — صحیح بخاری 3770۔
ان کا مقام صرف زوجہ ہونے سے نہیں بلکہ علمی امانت سے بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد وہ تقریباً اڑتالیس برس زندہ رہیں، دو ہزار سے زائد احادیث روایت کیں، بڑے صحابہ ان سے مسائل پوچھتے، اور فقہ، تفسیر، طب اور شاعری میں ان کا علم مشہور تھا۔ ایک کم عمر نکاح کا یہی وہ پہلو ہے جسے اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں پروان چڑھنے والی اس ذہین لڑکی نے امت کے لیے آپ کی گھریلو زندگی، عبادت اور اخلاق کی وہ تفصیل محفوظ کی جو کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔
قرآن نے ان کی پاکدامنی کی گواہی دی۔ واقعۂ افک میں جب منافقوں نے ان پر تہمت لگائی تو اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور کی آیات نازل فرما کر ان کی براءت کا اعلان کیا — سورۂ نور 24:11؛ پورا واقعہ انہی کی زبانی صحیح بخاری 4750 میں ہے۔ اس لیے ان پر زبان درازی کرنے والا قرآن کی گواہی کو جھٹلاتا ہے۔
وَمِنْ ءَايَـٰتِهِۦٓ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَٰجًا لِّتَسْكُنُوٓا۟ إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
«اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہی میں سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان سے سکون پاؤ، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی» (سورۂ روم 30:21)
جذبات، ادب اور روایت کی حدود
اس رشتے کی روایات پڑھتے ہوئے تین باتیں یاد رکھیں۔ پہلی: ایک تاریخی واقعے کو آج کے ہر ملک کے قانون یا ہر خاندان کی صورتِ حال پر ویسے ہی لاگو کرنا نہ فقہ کا طریقہ ہے نہ تاریخ کا؛ نکاح کی عمر زمانے، معاشرے اور فرد کی جسمانی و ذہنی تیاری سے جڑی ہے، اور خود فقہاء نے رخصتی کو تیاری سے مشروط کیا ہے۔ دوسری: جو تفصیل صحیح حدیث میں نہیں — پیغام کی گفتگو، مہر کی مقدار، ولیمے کی تفصیل — اسے یقین سے بیان نہ کیا جائے۔ تیسری: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت کا ذکر حدیث میں جس سادگی سے آیا ہے، اسی سادگی سے بیان ہو؛ نہ ناول نگاری، نہ معذرت خواہانہ لہجہ۔
خلاصہ
صحیح بخاری اور مسلم کے مطابق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا عقد مکہ میں چھ (یا سات) سال کی عمر میں ہوا اور رخصتی مدینہ میں نو سال کی عمر میں؛ وصال کے وقت وہ اٹھارہ سال کی تھیں۔ روایات میں مدینہ کا بخار، ماں کا سنوارنا، انصار کی دعائیں، گڑیوں کا کھیل، ایک برتن سے غسل، عید کا کھیل دیکھنا اور «میں بس آپ کا نام چھوڑتی ہوں» جیسے مناظر ہیں۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے محبوب اہلیہ، قرآن سے بری قرار دی گئی ام المومنین اور امت کی عظیم معلمہ ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
صحیح حدیث کے مطابق نکاح کس عمر میں ہوا؟
صحیح بخاری 5133، 5158، 3894 اور صحیح مسلم 1422 میں چھ سال؛ صحیح مسلم کی ایک روایت (1422c) میں سات سال۔ رخصتی نو سال کی عمر میں۔
نکاح اور رخصتی میں کتنا فاصلہ تھا؟
تقریباً تین سال — عقد مکہ میں ہجرت سے پہلے، رخصتی مدینہ میں ہجرت کے بعد (صحیح بخاری 3896)۔
کیا قریش یا کسی نے اس نکاح پر اعتراض کیا؟
نہیں۔ اس زمانے کے عرب معاشرے میں یہ معمول کا معاملہ تھا؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت ترین مخالفین نے بھی اس پر کوئی بات نہیں کی۔
اس رشتے کی محبت کا صحیح روایتی پہلو کیا ہے؟
صحیح بخاری 3662 (سب سے محبوب)، 5228 (خوشی اور ناراضی کی پہچان)، 5236 (عید کا کھیل)، 250 (ایک برتن سے غسل) اور صحیح مسلم 2441۔
حوالہ جات
- صحیح بخاری 5133، 5158، 3894، 3896؛ صحیح مسلم 1422a، 1422c — نکاح، رخصتی اور عمر کے الفاظ۔
- صحیح بخاری 6130 — گڑیوں کا کھیل۔
- صحیح بخاری 250، 5228، 5236 — انسیت کے مناظر۔
- صحیح بخاری 3662، 3770؛ صحیح مسلم 2441 — محبت اور فضیلت۔
- صحیح بخاری 4750؛ سورۂ نور 24:11 — واقعۂ افک اور براءت۔
- سورۂ احزاب 33:6، سورۂ روم 30:21۔
قرآنی آیات، صحیح حدیث کے مختلف متن، سیرت کا پس منظر اور مصنف کی تشریح الگ الگ رکھی گئی ہے۔ ام المومنین کا ذکر ادب کے بغیر جائز نہیں۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment