کریم صلی اللہ علیہ وسلم: باپ بیٹی کا پیار بھرا رشتہ — صحیح احادیث کی روشنی میں
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم: باپ بیٹی کا پیار بھرا رشتہ — صحیح احادیث کی روشنی میں
صحیح روایت میں باپ بیٹی کی قربت کبھی ایک جملے میں سمٹ جاتی ہے — «فاطمہ میرا ٹکڑا ہے» — اور کبھی ایک سرگوشی میں جس پر پہلے آنسو آئے اور پھر مسکراہٹ۔
حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے چھوٹی اور سب سے لاڈلی بیٹی تھیں — مگر یہ رشتہ صرف نسب کا ایک جملہ نہیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں اس قربت کے ایسے مناظر محفوظ ہیں جن میں ایک نبی کی عظمت اور ایک والد کی شفقت ایک ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ یہ مضمون انہی صحیح روایات پر ہے؛ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بچپن، نکاح اور گھریلو زندگی کے دوسرے پہلو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے مضمون اور سیرت کی عمومی اقساط میں آ چکے ہیں، اس لیے یہاں انہیں دہرایا نہیں گیا۔
«فاطمہ میرا ٹکڑا ہے»: چھوٹا جملہ، گہرا تعلق
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فاطمہ میرا ٹکڑا ہے؛ جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا» — صحیح بخاری 3714، صحیح بخاری 3767۔ عربی لفظ «بَضْعَة» کا مطلب گوشت کا ٹکڑا ہے — یعنی بیٹی باپ کے وجود کا حصہ۔ ایک اور روایت میں الفاظ ہیں: «وہ میرا ٹکڑا ہے؛ جو اسے پریشان کرے مجھے پریشان کرتا ہے اور جو اسے تکلیف دے مجھے تکلیف دیتا ہے» — صحیح بخاری 5230۔
اس جملے کو سمجھنے میں احتیاط ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر انسانی اختلاف جس میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا فریق ہوں، دوسرا فریق گناہ گار ہو جائے؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے تھے اور اسے ایذا دینا آپ کو ایذا دینا ہے۔ «مجھ سے ہے» کے الفاظ میں ایک باپ کی وہ پہچان بھی ہے جو اپنی بیٹی کو الگ فرد مانتے ہوئے بھی اسے اپنے وجود کا حصہ سمجھتا ہے۔
اسی مضمون کی ایک تفصیلی صورت صحیح بخاری کی اس روایت میں ہے جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک اور نکاح کے ارادے کی خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا: «فاطمہ مجھ سے ہے، اور مجھے ڈر ہے کہ وہ اپنے دین میں آزمائش میں پڑ جائے» — اور یہ بھی فرمایا کہ میں حلال کو حرام نہیں کرتا، مگر اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں — صحیح بخاری 3110، صحیح مسلم 2449۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فوراً ارادہ ترک کر دیا۔ اس واقعے کو سنسنی خیز بنانا یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نیت پر حکم لگانا درست نہیں؛ روایت کا جذباتی پہلو یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹی کے ممکنہ دکھ کو نظرانداز نہیں کرتے، اور اس کے لیے کھل کر بولتے ہیں۔
وَٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَٰجِنَا وَذُرِّيَّـٰتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَٱجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا
«اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما» (سورۂ فرقان 25:74)
آخری بیماری کا منظر: پہلے آنسو، پھر مسکراہٹ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بیماری میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں — ان کی چال بالکل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چال جیسی تھی۔ آپ نے فرمایا: «میری بیٹی، خوش آمدید»، انہیں اپنے دائیں یا بائیں بٹھایا، پھر ان سے سرگوشی کی تو وہ رو پڑیں۔ پھر دوبارہ سرگوشی کی تو وہ ہنس دیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا تو انہوں نے کہا: «میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز نہیں کھول سکتی»۔ وصال کے بعد انہوں نے بتایا: پہلی بار آپ نے فرمایا کہ جبرائیل ہر سال قرآن کا ایک دور کراتے تھے، اس سال دو بار کرایا ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ میرا وقت قریب ہے؛ تم میرے گھر والوں میں سب سے پہلے مجھ سے ملو گی — تو میں روئی۔ دوسری بار فرمایا: «کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تم جنت کی عورتوں کی سردار ہو؟» — تو میں ہنس دی — صحیح بخاری 3623، صحیح بخاری 3624۔
صحیح مسلم میں یہی واقعہ اپنے الفاظ کے ساتھ ہے: «آپ نے اپنی بیٹی فاطمہ کو بلایا، سرگوشی کی تو وہ روئیں، پھر سرگوشی کی تو ہنسیں» — صحیح مسلم 2450؛ مسلم کے متن میں قرآن کے دو دور اور «سیدۃ نساء اہل الجنۃ» یا «مومنوں کی عورتوں کی سردار» کے الفاظ اپنی ترتیب سے آتے ہیں۔ دونوں متن ایک ہی قربت دکھاتے ہیں؛ ہم انہیں ملا کر ایک نئی کہانی نہیں بناتے بلکہ ہر کتاب کے الفاظ اس کے حوالے سے بیان کرتے ہیں۔
اس منظر میں تین باتیں قابلِ غور ہیں۔ پہلی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹی سے اپنی وفات کی خبر پہلے کرتے ہیں — سچ کو نرمی سے کہا جا سکتا ہے۔ دوسری: وہ فوراً تسلی بھی دیتے ہیں — غم کے ساتھ امید۔ تیسری: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے راز اپنے والد کے وصال تک کسی کو نہیں بتایا، حتیٰ کہ ام المومنین کو بھی نہیں — یہ امانت داری کا درس ہے۔
تسبیح کا تحفہ: ایک والد کی تربیت
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چکی پیسنے سے ہاتھوں میں تکلیف تھی؛ انہیں معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے ہیں تو وہ ایک خادم مانگنے گئیں، آپ نہیں ملے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتا آئیں۔ رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے — ہم لیٹ چکے تھے، اٹھنے لگے تو فرمایا: «اپنی جگہ رہو»، اور ہمارے درمیان بیٹھ گئے یہاں تک کہ میں نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے پر محسوس کی۔ فرمایا: «کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں جو تم نے مانگی؟ جب بستر پر جاؤ تو 34 بار اللہ اکبر، 33 بار سبحان اللہ اور 33 بار الحمد للہ کہو؛ یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے» — صحیح بخاری 3705۔
یہ روایت باپ بیٹی کے رشتے کا ایک اور رخ دکھاتی ہے: بیٹی کی مشقت کا احساس، رات کو خود اس کے گھر جانا، اس کی ضرورت سے انکار نہیں بلکہ اس سے بہتر چیز دینا، اور ساتھ ہی یہ سبق کہ دنیا کی آسانی سے آخرت کا ذخیرہ مقدم ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کے بعد میں نے یہ تسبیح کبھی نہیں چھوڑی، «صفین کی رات بھی نہیں» (صحیح بخاری 5362)۔
بیٹی کی قربت اور والد کی فکر
صحیح بخاری 3623 میں «میری بیٹی، خوش آمدید» کہنا صرف نسب کی تصدیق نہیں، ایک استقبال ہے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی چال کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے مشابہ ہونا راوی نے اس لیے ذکر کیا کہ یہ مشابہت لوگوں کو نظر آتی تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک اور روایت میں ہے کہ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر ان کا استقبال کرتے، ان کا ہاتھ پکڑتے، بوسہ دیتے اور اپنی جگہ بٹھاتے؛ اور جب آپ ان کے گھر جاتے تو وہ بھی ایسا ہی کرتیں — یہ روایت سنن ابی داود اور ترمذی میں ہے اور محدثین نے اسے صحیح کہا ہے۔
اس رشتے کی خوبصورتی یہ ہے کہ نبوت اور امت کی قیادت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک والد بھی تھے جو بیٹی کی چال پہچانتے، اس کی تکلیف پر منبر سے بولتے، اس کی مشقت پر رات کو اس کے گھر جاتے اور اپنی وفات کی خبر سب سے پہلے اسے دیتے۔ «فاطمہ مجھ سے ہے» کا جملہ اور آخری سرگوشی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، مگر ان کی تشریح میں ہم حدیث کے الفاظ سے آگے نہیں بڑھتے۔
قرآن، حدیث اور ہماری تشریح
قرآن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے ان مخصوص نجی مناظر کی سوانح پیش نہیں کرتا؛ وہ اہلِ بیت کی طہارت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کے احترام کے عمومی اصول دیتا ہے، جن کی تفسیر کا اپنا علمی دائرہ ہے۔ بعد کی تاریخی روایات اور قصے کہانیوں کو صحیح حدیث کا درجہ نہیں دیا جا سکتا؛ خاص طور پر وہ بیانات جو باپ بیٹی کے اس رشتے کو فرقہ وارانہ بحث کا ہتھیار بناتے ہیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا وصال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے چھ ماہ بعد ہوا (صحیح بخاری میں مذکور) — نبوی پیشگوئی «تم سب سے پہلے مجھ سے ملو گی» اسی طرح پوری ہوئی۔
آج کے گھروں کے لیے درس
- بچوں کی عزت ان کی بات سننے اور ان کے دکھ کو سنجیدگی سے لینے سے بنتی ہے — «میری بیٹی، خوش آمدید»۔
- مشکل سچ نرمی سے کہا جا سکتا ہے، اور اس کے ساتھ امید بھی دی جا سکتی ہے۔
- امانت: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے والد کا راز وصال تک محفوظ رکھا۔
- غم میں مسکراہٹ آ جانا غم کی نفی نہیں؛ ایمان دکھ اور امید کو ساتھ رکھتا ہے۔
- خاندانی محبت صرف نجی شفقت نہیں؛ بیٹی کی عزت اور اس کے حق کے لیے کھڑا ہونا بھی اس کا حصہ ہے۔
خلاصہ
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتے کی بنیادی صحیح روایات — «فاطمہ میرا ٹکڑا ہے»، آخری بیماری کی سرگوشی، اور تسبیح کا تحفہ — ایک ایسے والد کی تصویر دکھاتی ہیں جو نبی ہوتے ہوئے بیٹی کی چال، آنسو اور مشقت سب پہچانتا ہے۔ یہ روایات ادب، امانت اور امید کا درس ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
«فاطمہ مجھ سے ہے» کس حدیث میں ہے؟
صحیح بخاری 3714 اور 3767: «فاطمہ میرا ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا»؛ 5230 میں قریب کے الفاظ۔
آخری بیماری میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کیوں روئیں اور پھر مسکرائیں؟
پہلی سرگوشی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے قریب ہونے کی خبر دی؛ دوسری میں بشارت دی کہ وہ گھر والوں میں سب سے پہلے ملیں گی اور جنت کی عورتوں کی سردار ہیں (صحیح بخاری 3623-3624؛ صحیح مسلم 2450)۔
کیا بخاری اور مسلم کا متن بالکل ایک جیسا ہے؟
نہیں۔ مرکزی مضمون ایک ہے مگر الفاظ اور ترتیب میں فرق ہے؛ ہر کتاب کا متن اس کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔
تسبیحِ فاطمہ کیا ہے؟
سونے سے پہلے 34 بار اللہ اکبر، 33 بار سبحان اللہ اور 33 بار الحمد للہ — جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خادم کے بجائے اپنی بیٹی کو سکھائی (صحیح بخاری 3705)۔
حوالہ جات
- صحیح بخاری 3714، 3767، 5230 — «فاطمہ میرا ٹکڑا ہے»۔
- صحیح بخاری 3110؛ صحیح مسلم 2449 — منبر پر بیٹی کی آزمائش کا خدشہ۔
- صحیح بخاری 3623، 3624؛ صحیح مسلم 2450 — آخری بیماری کی سرگوشی۔
- صحیح بخاری 3705 — تسبیح کا تحفہ۔
- سورۂ فرقان 25:74۔
حدیث کے متن، ترجمے اور مصنف کی تشریح کو الگ رکھا گیا ہے۔ اہلِ بیت اور تمام صحابہ کا ذکر ادب کے ساتھ لازم ہے۔
متعلقہ مضامین
- حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں
- حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی صلح اور عام الجماعۃ
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچوں سے سلوک
- وصالِ نبوی: آخری دن اور امت کا صبر
- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نکاح
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment