حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے اور صحبت میں
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے اور صحبت میں
یہ مضمون حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زندگی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے دور میں دیکھتا ہے: گھرانے کی سادگی، عبادت کی تعلیم، «ابو تراب» کا پیارا لقب اور مباہلہ سے متعلق قرآنی روایت۔ ابتدائی قبولِ اسلام کا واقعہ پہلے بیان ہو چکا ہے؛ یہاں اسے دوبارہ تفصیل سے نہیں دہرایا گیا۔
سادگی بھرے گھر کی روزمرہ محنت بھی عبادت کے مزاج کا حصہ تھی۔
تکرار کے بارے میں پہلے سے وضاحت
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام کا ابتدائی واقعہ ہمارے عشرہ مبشرہ کے پہلے مضمون میں پہلے ہی آ چکا ہے۔ اس لیے یہاں اس کا مختصر حوالہ بھر ہے، نیا بیان نہیں۔ ان کی بیعتِ خلافت اور شہادت پر الگ مضامین بھی موجود ہیں؛ وہ دونوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد کے واقعات اس مضمون کے دائرے سے باہر ہیں۔ ہمارا مقصد ان کے نبوی دور کے کچھ ایسے پہلو سامنے لانا ہے جن پر پچھلے مضامین میں تفصیل نہیں ہوئی۔
سیرت لکھتے ہوئے ایک احتیاط ضروری ہے: کسی شخصیت کی عظمت دکھانے کے لیے ہر مشہور قصہ ایک جیسا مضبوط نہیں ہوتا۔ اس لیے یہاں قرآن کو قرآن کے طور پر، صحیح حدیث کو اس کے مجموعے اور نمبر کے ساتھ، اور سیرت کی تاریخی روایت کو اسی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ جہاں معنی یا نتیجہ مصنف کی تشریح ہو، اسے روایت کا لفظ نہ سمجھا جائے۔
بنو ہاشم کا رشتہ اور پرورش کا پس منظر
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بنو ہاشم سے تھے۔ ان کے والد ابو طالب، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا اور مکہ کے مشکل دور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حمایتی رشتہ داروں میں سے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتہ صرف چچا زاد بھائی کا نہ رہا: سیرت کی روایت ان کے بچپن کے ایک عرصے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کے قریب گزرتا دکھاتی ہے۔ اس قربت کو سمجھنے کے لیے بعد کی مناقب کی رنگ آمیزی کے بجائے سادہ تاریخی پس منظر کافی ہے۔
ابنِ اسحاق کی سیرت، جسے ابنِ ہشام نے اپنی کتاب میں محفوظ کیا، ایک مشکل معاشی دور کا ذکر کرتی ہے۔ روایت کے مطابق مکہ میں تنگی کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب کے گھرانے کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے ان کے بچوں میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنی کفالت میں لیا، جبکہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بھی گھرانے کے ایک فرد کی دیکھ بھال کی۔ یہ سیرت کا بیان ہے، صحیحین کی حدیث نہیں؛ اس لیے بچپن کی ٹھیک عمر، مدت یا واقعے کی تفصیل کو یقینی تاریخ بنا کر نہیں کہنا چاہیے۔ اتنا کہنا محتاط ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی قربت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزمرہ اخلاق کو دیکھنے کا موقع ملا۔
یہ قربت ان کے رشتے کی اہمیت سمجھاتی ہے، مگر اس سے یہ دعویٰ نہیں کرنا چاہیے کہ ہر مشہور بچپن کا قصہ سند کے لحاظ سے ثابت ہے۔ کچھ بعد کی کتابوں میں پیدائش، بچپن اور گھرانے کے حوالے سے تفصیل ملتی ہے؛ ان سب کو ایک ہی درجے کا نہیں کہا جا سکتا۔ اسی احتیاط کے ساتھ ہم اتنا کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی گھرانے اور صحبت سے وابستہ تھے۔ ان کی ابتدائی دعوت اور ایمان کی تفصیل پہلے مضمون کا موضوع ہے، اس لیے یہاں اس پر دوبارہ کہانی نہیں بنائی جا رہی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں قربت کا مطلب صرف نسب کا فائدہ نہیں تھا۔ گھر کے اندر انسان کا اصل اخلاق روز کے معمول میں ظاہر ہوتا ہے: گھر والوں سے گفتگو، تنگی میں رویہ، عبادت کا اہتمام، بچوں کی تربیت اور دوسروں کی ضرورت کا لحاظ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بعد کی روایت میں ہمیں کچھ ایسے ہی گھریلو مناظر ملتے ہیں۔ ان مناظر کو جنگ، سیاست یا بعد کے اختلافات کے حوالے سے دیکھنے کے بجائے ان کی اپنی زندگی کے عام، لیکن معنی خیز پہلو سمجھنا چاہیے۔
گھر کی محنت اور رات کی تسبیح
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کی زندگی کا ایک قریبی منظر سامنے آتا ہے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے گھر کے کام میں مشقت محسوس کی؛ ہاتھ کی چکی چلانے سے تکلیف ہوتی تھی۔ روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے ایک خادم کی درخواست کا ذکر کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خادم دینے کے بجائے سونے کے وقت ایک ذکر سکھایا جو دونوں کے لیے بہتر قرار دیا۔ اس واقعے کو گھر کے کام کی مشکل سے انکار یا خواتین کی تھکن کو نظر انداز کرنے کے طور پر نہیں پڑھنا چاہیے۔ حدیث کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی اور داماد کو ایک عبادتی عمل سکھایا اور اللہ کی یاد کو ان کے گھر کے معمول کا حصہ بنایا۔
صحیح بخاری، حدیث 5362 میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوتے وقت 34 مرتبہ اللّٰهُ أَكْبَرُ، 33 مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰهِ اور 33 مرتبہ الْحَمْدُ لِلّٰهِ کہنے کی تعلیم دی۔ روایت کے الفاظ میں ہے:
فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ
«یہ تم دونوں کے لیے خادم سے بہتر ہے۔» (صحیح بخاری، حدیث 5362)
ان کلمات کا مفہوم ہے: «اللہ سب سے بڑا ہے»؛ «اللہ ہر عیب سے پاک ہے»؛ اور «تمام تعریف اللہ کے لیے ہے»۔ تعداد تینوں کلمات کی مل کر سو ہوتی ہے: تسبیح 33، تحمید 33 اور تکبیر 34۔ بخاری 5362 کے عربی متن میں تکبیر کا ذکر پہلے آتا ہے، جبکہ دوسری روایات اور عام معمول میں ترتیب سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر بیان ہوتی ہے۔ ترتیب کا یہ فرق روایت کے بیان کا ہے؛ تعداد تمام صحیح روایات میں 33، 33 اور 34 ہی ہے۔ مختلف متون کو ملا کر ایک ہی لفظی نسخہ قرار دینا درست نہیں، اور عمل میں اہلِ علم سے رہنمائی لینا بہتر ہے۔
صحیح مسلم، حدیث 2727 میں بھی اس گھرانے کے ذکر کی روایت آتی ہے؛ صحیح بخاری، حدیث 6318 میں ہاتھ کی چکی سے تھکن کا پس منظر اور ذکر کا بیان ایک اور سند اور متن میں ملتا ہے۔ یہاں مقصد روایتوں کے ہر لفظی فرق کو جمع کرنا نہیں، بلکہ اصل سبق کو صاف رکھنا ہے: گھر کے افراد عبادت کے اعمال ایک دوسرے سے سیکھ سکتے ہیں، اور مشقت کے درمیان بھی اللہ کی یاد دل کو سہارا دے سکتی ہے۔ حدیث خود اپنا ذکر اور اس کی تعداد بتاتی ہے؛ «سہارا» یا «گھر کا مشترکہ معمول» ہماری سمجھ اور تطبیق کے الفاظ ہیں۔
اس روایت کی خاص بات یہ بھی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے گھر کا واقعہ خود آگے پہنچاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی تسبیح انہوں نے بعد میں بھی ترک نہیں کی۔ اس سے روایت کرنے والے صحابی کی اپنے سکھائے ہوئے عمل سے وابستگی نظر آتی ہے۔ ہم اس جملے کو ان کی اپنی نقل سے آگے بڑھا کر کوئی مبالغہ آمیز دعویٰ نہیں بناتے؛ اتنا ہی کہتے ہیں کہ انہوں نے اس ذکر پر مداومت کا اظہار کیا۔
سونے سے پہلے کا مسنون ذکر: تسبیح، حمد اور تکبیر۔
ابو تراب: محبت سے دیا گیا لقب
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا «ابو تراب» لقب صحیح حدیث میں ایک نہایت انسانی اور پُرلطف منظر کے ساتھ آتا ہے۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وہاں نہ پایا۔ پوچھا کہ تمہارے چچا زاد کہاں ہیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ ان کے درمیان کچھ بات ہوئی تھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ باہر چلے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تلاش کروایا؛ پتا چلا کہ وہ مسجد میں آرام کر رہے ہیں اور ان کے بدن پر مٹی لگی ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی جھاڑی اور فرمایا:
قُمْ أَبَا تُرَابٍ
«اٹھو، ابو تراب!» (صحیح بخاری، حدیث 441؛ صحیح مسلم، حدیث 2409)
یہ روایت صحیح بخاری 441 اور صحیح مسلم 2409 میں مختلف متنی تفصیل کے ساتھ آتی ہے۔ «ابو تراب» کا لفظی مفہوم «مٹی والا» یا «مٹی کے ساتھ نسبت رکھنے والا» ہے۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس نام سے بلایا جانا پسند تھا۔ اس واقعے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رویہ نرمی اور قربت کا ہے: گھریلو اختلاف کو تماشا نہیں بنایا گیا، نہ ہی کسی کی توہین ہوئی؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ڈھونڈا، ان کی حالت دیکھی اور پیار سے پکارا۔
روایت میں گھر کے درمیان بات ہونے کا ذکر ہے، لیکن اس سے ہمیں اس گفتگو کی تفصیل، وجہ یا کسی ایک فرد کی خطا معلوم نہیں ہوتی۔ اس لیے اس پر اپنی طرف سے مکالمہ، الزام یا ڈرامائی کہانی بنانا مناسب نہیں۔ روایت کا قابلِ اعتماد حصہ اتنا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر سے نکلے، مسجد میں ملے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر لگی مٹی صاف کی اور ابو تراب کہا۔ اس حدیث کو عام گھروں میں اختلاف کے دوران ادب اور نرمی کی ایک مثال کے طور پر یاد کیا جا سکتا ہے؛ یہ آخری جملہ ہمارا اخلاقی استنباط ہے، حدیث کا لفظی حکم نہیں۔
یہاں بھی ایک نازک بات ہے: صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان گھریلو زندگی کو یا تو بے اختلاف فرشتہ نما تصویر بنا دینا، یا چھوٹی روایت کو بڑھا کر ہنگامہ کرنا، دونوں غلط ہیں۔ صحیح حدیث انسانی واقعے کو جتنا بیان کرتی ہے، اتنا ہی لینا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار بھرا رویہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی لقب سے محبت دونوں روایت میں موجود ہیں؛ اس سے زیادہ تفصیل ہم اپنی طرف سے نہیں جوڑتے۔
پانچ چراغ: اہلِ بیت کے فضائل سے متعلق روایت کی ایک غیر شخصی علامت۔
مباہلہ کی آیت اور «یہ میرے گھر والے ہیں»
قرآنِ کریم کی سورۂ آلِ عمران، آیت 61 میں مباہلہ کا حکم آتا ہے۔ آیت کے متن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخالفین سے کہنے کا حکم دیا گیا کہ آؤ، ہم اپنے بیٹوں اور تمہارے بیٹوں، اپنی عورتوں اور تمہاری عورتوں، اور اپنے نفسوں اور تمہارے نفسوں کو بلائیں؛ پھر اللہ سے دعا کریں کہ جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ آیت کا عربی متن اور اس کا مکمل ترجمہ قرآن 3:61 میں ہے۔ یہاں آیت کا ذکر قرآنی دلیل کے طور پر ہے، نہ کہ کسی بعد کی تفسیر کو آیت کا لفظ بنا کر۔
صحیح مسلم، حدیث 2404 میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے منقول روایت کے آخری حصے میں آیتِ مباہلہ کے نزول کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور فرمایا:
اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي
«اے اللہ! یہ میرے گھر والے ہیں۔» (صحیح مسلم، حدیث 2404)
اس مضمون میں صحیح مسلم 2404 کا صرف یہی مباہلہ سے متعلق آخری حصہ لیا گیا ہے۔ اس روایت میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تین فضیلتیں بیان کرتے ہیں؛ ان میں سے کوئی مہم یا لشکری واقعہ یہاں بیان نہیں کیا جا رہا۔
اس حدیث سے سیدھی جو بات سامنے آتی ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کو اس موقع پر اپنے اہل کہہ کر جمع کرنا ہے۔ قرآنی آیت اور حدیث کو ساتھ پڑھنے سے ان ہستیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص گھرانے سے رشتہ واضح ہوتا ہے۔ لیکن آیت کے ہر لفظ کی تفسیری تعیین، مثال کے طور پر «أنفسنا» کے لفظ کا عقیدی یا کلامی نتیجہ، مفسرین اور مختلف اسلامی روایات میں بحث کا موضوع ہے۔ اس مضمون میں کسی ایک تفسیری نتیجے کو سب کا مشترکہ اجماع کہہ کر پیش نہیں کیا گیا۔ ہمیں حدیث کے صاف الفاظ پر قناعت رکھنی چاہیے اور تفسیر کے اختلاف کو اس کے مقام پر سمجھنا چاہیے۔
مباہلہ کا ذکر کسی فردی مناقب کی فہرست بھر نہیں۔ قرآن کی آیت ایک سنجیدہ دعوتِ مباہلہ کا حکم دیتی ہے؛ صحیح مسلم کی روایت بتاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قریبی گھرانے کے افراد کو ساتھ بلایا اور انہیں اپنے اہل کہا۔ اس سے اہلِ بیت کے مقام، ان سے محبت اور ان کے ادب کا سبق ملتا ہے۔ ساتھ ہی، اس واقعے کو مختلف فرقوں کے درمیان جھگڑے کا ذریعہ بنانے کے بجائے قرآن، حدیث اور تفسیر کے الگ مراحل کو سمجھنا زیادہ علم دوست طریقہ ہے۔
یہ مضمون مباہلہ کے تمام تاریخی پس منظر کا دعویٰ نہیں کرتا۔ قرآن 3:61 آیت کا متن ہے؛ صحیح مسلم 2404 اس سے متعلق روایت کا حوالہ ہے؛ اور آیت کے الفاظ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے ساتھ کس تفصیلی انداز میں جوڑا جائے، یہ شرح و تفسیر کا مرحلہ ہے۔ ان تین سطحوں کو الگ رکھنے سے قاری کو معلوم ہوتا ہے کہ کس بات کا حوالہ نص سے ہے اور کہاں مفسر یا مصنف کا فہم شامل ہوتا ہے۔
روایت کرنے والے حضرت علی رضی اللہ عنہ
اس مضمون کے مرکزی مناظر، یعنی رات کا ذکر اور ابو تراب کا لقب، ہمیں ایک اور پہلو دکھاتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے گھریلو اور عبادتی پہلو روایت کرنے والوں میں شامل ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایت کا کام صرف بڑے اجتماعی واقعات کا ریکارڈ دینا نہیں تھا۔ گھر میں سکھایا گیا ایک ذکر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے داماد سے مخاطب ہونا، یا کسی عمل کو روزمرہ میں جاری رکھنا بھی آنے والی نسل کے لیے دین کی تعلیم بن سکتا تھا۔
حدیث کے ادب میں روایت کو اسی نسبت کے ساتھ بیان کرنا اہم ہے۔ جہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے عمل کی بات کرتے ہیں، ہم کہتے ہیں «انہوں نے روایت کیا»؛ جہاں حضرت سہل رضی اللہ عنہ ابو تراب کا واقعہ سناتے ہیں، ان کا نام راوی کے طور پر دیتے ہیں؛ جہاں حضرت سعد رضی اللہ عنہ مباہلہ کا ذکر کرتے ہیں، ان کی نسبت رکھتے ہیں؛ اور جہاں قرآن آیت دیتا ہے، اسے حدیث کی زبان میں نہیں ملاتے۔ یہ فرق صرف اصطلاحی نہیں۔ اس سے قاری کو سمجھ آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کیا ہے، صحابی کی گواہی کیا ہے، اور ہم اس سے کیا سبق لے رہے ہیں۔
اسی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زندگی پر لکھتے ہوئے بصیرت یہ ہے کہ مشہور فضائل کو سند اور سیاق کے بغیر جوڑ کر پیش نہ کیا جائے۔ جو مناقب صحیح حدیث میں آئے انہیں عزت سے بیان کریں؛ جو سیرت کی روایت ہو اس کا درجہ صاف بتائیں؛ اور جہاں تفسیر میں اختلاف ہو، اسے فتنہ یا تعصب کا موضوع نہ بنائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی گھرانے کا ادب اور علم کی دیانت ایک دوسرے کے مقابل نہیں، بلکہ ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں۔
مسجد کے سکون میں «ابو تراب» کا لقب ایک پیارے نبوی منظر سے جڑا ہے۔
آج کے قاری کے لیے سبق
پہلا سبق گھر میں عبادت کو زندگی کا معمول بنانا ہے۔ تسبیحِ فاطمہ کی روایت کسی لمبی تقریر کے بجائے ایک چھوٹے، یاد رہنے والے عمل کی تعلیم دیتی ہے۔ گھر کے افراد ایک دوسرے کو ذکر یاد دلا سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص پر ایک ہی حال میں ایک ہی نسخہ لازم کر دیا جائے؛ روایت اپنے متن کے مطابق فضیلت اور تعلیم بتاتی ہے، اور عمل میں اہلِ علم سے رہنمائی لینا بہتر ہے۔
دوسرا سبق سخت محنت اور عبادت کو ایک دوسرے سے جدا نہ سمجھنا ہے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی مشقت کا ذکر حدیث میں واضح ہے۔ اس سے یہ سمجھ آتا ہے کہ گھر کی محنت کو چھوٹا کام کہہ کر نظر انداز نہ کریں۔ ساتھ ہی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی تسبیح کو ان کی زندگی پر مسلط کرنے کے بجائے ایک روحانی سہارا سمجھیں۔ کسی بھی روایت سے گھریلو ذمہ داری کا تمام بوجھ ایک فرد پر ڈالنے کا نتیجہ نکالنا حدیث سے زیادہ اپنی طرف سے بات جوڑنا ہوگا۔
تیسرا سبق اختلاف میں وقار اور نرمی ہے۔ ابو تراب کی روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قریبی رشتوں میں ناراضی کا چھوٹا لمحہ آ سکتا ہے، لیکن اس کا جواب طنز، رسوائی یا بے جا سختی نہیں۔ یہ عام اخلاقی سبق ہے جو روایت سے سمجھا جا سکتا ہے؛ حدیث نے کسی قانونی فیصلے یا ہر گھر کی تفصیلی صورتِ حال کا حکم نہیں دیا۔
چوتھا سبق اہلِ بیت کے ادب کو علم کی سچائی کے ساتھ جوڑنا ہے۔ قرآن 3:61 اور صحیح مسلم 2404 کا مباہلہ سے متعلق حصہ گھرانے کی خاص نسبت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس ادب کا تقاضا یہ ہے کہ روایت کو محتاط حوالے کے ساتھ پیش کیا جائے، نہ کہ اپنی طرف سے الفاظ یا دعوے گھڑے جائیں۔ محبت اور تحقیق ایک دوسرے کو کم نہیں کرتے۔
خلاصہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے دور میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زندگی کے کچھ قریبی اور معتبر پہلو گھرانے کی روایتوں سے سامنے آتے ہیں۔ سیرت ابنِ اسحاق/ابنِ ہشام میں ان کی پرورش کے پس منظر کا ذکر ہے، جسے تاریخی روایت کے درجے میں ہی رکھنا چاہیے۔ صحیح بخاری 5362 اور صحیح مسلم 2727 گھر کے رات کے ذکر کو بیان کرتے ہیں؛ صحیح بخاری 441 اور صحیح مسلم 2409 ابو تراب کے لقب کا پیارا منظر دیتے ہیں؛ قرآن 3:61 اور صحیح مسلم 2404 کا متعلقہ حصہ اہلِ بیت کے حوالے سے اہم ہے۔ قبولِ اسلام کا واقعہ پہلے سے بیان ہونے کی وجہ سے یہاں دہرایا نہیں گیا، اور خلافت یا وصال کے بعد کے واقعات بھی شامل نہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام کا واقعہ اس مضمون میں ہے؟
نہیں، اس کا تفصیلی ذکر عشرہ مبشرہ کے قبولِ اسلام والے پہلے مضمون میں پہلے سے موجود ہے۔ یہاں تکرار سے بچنے کے لیے صرف وضاحت کی گئی ہے۔
۲۔ تسبیحِ فاطمہ کے الفاظ اور تعداد کیا ہیں؟
صحیح بخاری 5362 کے مطابق سونے سے پہلے 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمد للہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر۔ روایات میں بیان کی ترتیب کا فرق ہو سکتا ہے، تعداد یہی ہے۔
۳۔ «ابو تراب» کا واقعہ کس حدیث میں ہے؟
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی روایت صحیح بخاری 441 اور صحیح مسلم 2409 میں آتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مسجد میں مٹی لگی حالت میں پایا، ان کی مٹی جھاڑی اور ابو تراب کہا۔
۴۔ کیا اس مضمون میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت یا بعد کی زندگی شامل ہے؟
نہیں۔ یہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے دور کے منتخب پہلوؤں پر ہے۔ خلافت اور شہادت الگ مضامین کا موضوع ہیں۔
کتابیں اور حوالے
- القرآن الکریم، سورۂ آلِ عمران 3:61: مباہلہ کی آیت۔ آیت کا عربی متن اور ترجمہ اسی حوالے کے ساتھ الگ سمجھا جائے۔
- صحیح بخاری، حدیث 5362: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی درخواست اور رات کے ذکر کی تعلیم۔
- صحیح بخاری، حدیث 6318: گھر کی محنت اور سونے سے پہلے کے ذکر سے متعلق روایت کا دوسرا متن۔
- صحیح مسلم، حدیث 2727: تسبیح اور گھرانے کے ذکر کی روایت۔
- صحیح بخاری، حدیث 441؛ صحیح مسلم، حدیث 2409: حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی روایت میں «ابو تراب» کا لقب۔
- صحیح مسلم، حدیث 2404: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی روایت؛ آیتِ مباہلہ سے متعلق آخری حصہ، یہاں صرف «اللهم هؤلاء أهلي» کا حوالہ لیا گیا ہے۔
- ابنِ اسحاق، سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، بروایت ابنِ ہشام، السیرۃ النبویۃ: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بچپن کی پرورش سے متعلق سیرت کی روایت؛ اسے صحیح حدیث کے درجے میں نہیں رکھا گیا۔
- ابنِ سعد، الطبقات الکبریٰ: صحابہ کے طبقات اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے تذکرے کے لیے تاریخی مرجع۔
قرآنی متن، صحیح حدیث، سیرت کی تاریخی روایت اور مصنف کی تشریح کو الگ رکھا گیا ہے۔ قبولِ اسلام پہلے مضمون میں، اور خلافت/شہادت الگ مضامین میں بیان ہیں۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment