وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Islamic History› حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی صلح اور عام الجماعۃ: جب نواسۂ رسول نے امت کا خون بچانے کے لیے خلافت چھوڑ دی

حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی صلح اور عام الجماعۃ: جب نواسۂ رسول نے امت کا خون بچانے کے لیے خلافت چھوڑ دی

نAuthor Nawab
خلافتِ راشدہ • صلحِ حسن

حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی صلح اور عام الجماعۃ: جب نواسۂ رسول نے امت کا خون بچانے کے لیے خلافت چھوڑ دی

طاقت موجود تھی، لشکر موجود تھا، بیعت موجود تھی — مگر حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے وہ راستہ چنا جس کی خبر ان کے نانا صلی اللہ علیہ وسلم نے برسوں پہلے دے دی تھی: صلح۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت (رمضان 40ھ) کے بعد کوفہ میں ان کے بڑے بیٹے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی بیعت ہوئی۔ چند ماہ بعد انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر کے خلافت ان کے سپرد کر دی اور 41 ہجری تاریخ میں «عام الجماعۃ» — امت کے اتحاد کا سال — کہلایا۔ یہ فیصلہ اسلامی تاریخ کے عظیم ترین فیصلوں میں سے ہے، اور اس کی عظمت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیشگوئی پہلے کر دی تھی۔ شہادتِ علی کے واقعات حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت میں پڑھیے۔

شہر کا منظر غروبِ آفتاب میں اور میز پر پرانی کتاب
41 ہجری: عام الجماعۃ — جب دو لشکر ایک جماعت بن گئے

نبوی بشارت: «میرا یہ بیٹا سردار ہے»

حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا، حضرت حسن بن علی آپ کے پہلو میں تھے، آپ کبھی لوگوں کی طرف دیکھتے اور کبھی ان کی طرف، اور فرماتے: «میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور امید ہے کہ اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا» — صحیح بخاری 2704، صحیح بخاری 3746۔ امام بخاری نے یہ حدیث «کتاب الصلح» میں رکھی ہے، اور حسن بصری نے اسے بیان کرتے ہوئے کہا کہ حسن کے مقابل پہاڑوں جیسے لشکر تھے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سے محبت بھی صحیح احادیث میں محفوظ ہے۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ حسن آپ کے کندھے پر تھے اور آپ فرما رہے تھے: «اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت کر» — صحیح بخاری 3749۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایک بار انہیں کندھے پر اٹھا کر کہا: «میرے باپ قربان، یہ نبی کے مشابہ ہے، علی کے مشابہ نہیں» اور حضرت علی رضی اللہ عنہ مسکرا دیے — صحیح بخاری 3542۔

إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا۟ بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
«مومن تو آپس میں بھائی ہیں، سو اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے» (سورۂ حجرات 49:10)

کوفہ میں بیعت اور حالات

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد کوفہ کے لوگوں نے — روایت کے مطابق حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی پیش قدمی پر — حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت کی۔ وہ اس وقت تقریباً 37 برس کے تھے۔ عراق کا لشکر ان کے ساتھ تھا، مگر یہ وہی لشکر تھا جس کی بے دلی اور وعدہ خلافی کی شکایت ان کے والد برسوں کرتے رہے تھے۔ دوسری طرف شام میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس منظم اور مطیع فوج تھی۔ دونوں لشکر مدائن اور مسکن کے قریب آمنے سامنے ہوئے۔

تاریخی روایتوں میں ہے کہ اسی دوران حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے اپنے لشکر میں بدنظمی پھیلی؛ ایک افواہ پر لوگوں نے ان کے خیمے پر ہاتھ ڈالا اور ایک خارجی رجحان کے شخص نے ان پر حملہ کر کے انہیں زخمی کر دیا۔ ان واقعات نے واضح کر دیا کہ اس لشکر کے ساتھ جنگ کا نتیجہ مسلمانوں کے مزید خون کے سوا کچھ نہیں۔

دو راستے ملتے ہوئے، نخلستان کا منظر
دو لشکر، ایک فیصلہ: مسلمانوں کا خون بہنے سے بچا لیا گیا

صلح کا فیصلہ

حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کی پیشکش کی اور معاہدہ طے پا گیا۔ ربیع الاول یا جمادی الاولیٰ 41 ہجری میں — تاریخ پر روایتوں کا فرق ہے — حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں لوگوں کے سامنے خطبہ دیا، خلافت سے دستبرداری کا اعلان کیا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔ ان کے خطبے کے مشہور الفاظ تاریخی روایت میں یوں آئے ہیں: «اے لوگو! اللہ نے تمہیں ہمارے پہلے (نبی) سے ہدایت دی اور ہمارے آخری سے تمہارا خون بچایا۔ میں نے اس معاملے کو معاویہ کے لیے چھوڑ دیا ہے، اور میں نہیں جانتا، شاید یہ تمہارے لیے آزمائش ہو اور ایک وقت تک فائدہ»۔

معاہدے کی شرائط کی تفصیل تاریخی کتابوں میں مختلف ملتی ہے۔ جو باتیں اکثر ماخذ میں مشترک ہیں: مسلمانوں کے لیے عام امان، خاص طور پر اہلِ عراق اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کے لیے؛ کتاب اللہ اور سنت پر عمل کی شرط؛ اور بعض روایتوں میں یہ کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے بعد کسی کو نامزد نہیں کریں گے بلکہ معاملہ شوریٰ پر چھوڑیں گے۔ مالی شرائط اور جانشینی کے بارے میں روایتیں متضاد ہیں؛ انہیں قطعی نہ سمجھا جائے۔

حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی صلح کمزوری نہیں تھی۔ ان کے پاس بیعت، لشکر اور نسب — سب کچھ تھا۔ انہوں نے اپنے حق سے دستبرداری اس لیے کی کہ مسلمانوں کا خون ان کے نزدیک حکومت سے زیادہ قیمتی تھا۔ یہی وہ عمل ہے جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں «سردار» کہا۔

عام الجماعۃ

41 ہجری کو «عام الجماعۃ» اس لیے کہا گیا کہ پانچ برس کی خانہ جنگی — جمل، صفین، نہروان — کے بعد پہلی بار پوری امت ایک حکمران پر جمع ہوئی۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اپنے بھائی حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور اہلِ خانہ کے ساتھ مدینہ منتقل ہو گئے اور وہاں علم، عبادت اور سخاوت کی زندگی گزاری؛ ان کی وفات مدینہ میں تقریباً 49 یا 50 ہجری میں ہوئی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دمشق کو مرکز بنایا، جس کی تفصیل حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کا آغاز میں ہے۔

پرانا پل دریا پر، سرسبز منظر
اتحاد کا پل: عراق اور شام پھر ایک جماعت

خلافتِ راشدہ کے تیس سال

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «میرے بعد خلافت تیس سال رہے گی، پھر بادشاہت ہوگی» — سنن ابی داود 4646، جامع ترمذی 2226۔ علماء نے حساب لگایا ہے: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دو سال کچھ ماہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دس سال، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارہ سال، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے تقریباً پانچ سال، اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے چھ ماہ — یہ مدت ربیع الاول 11ھ سے ربیع الاول 41ھ تک ٹھیک تیس سال بنتی ہے۔ اس لیے بہت سے علماء حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو پانچواں خلیفۂ راشد شمار کرتے ہیں، اور ان کی صلح پر یہ حدیث پوری ہوئی۔

دونوں بزرگوں کا ادب

حضرت حسن اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں صحابی ہیں۔ ایک نواسۂ رسول اور جنت کے جوانوں کے سردار؛ دوسرے کاتبِ وحی، صحابی اور ایک وسیع مملکت کے کامیاب منتظم۔ صلح کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاتے اور عزت پاتے تھے۔ اس معاہدے کو کسی ایک فریق کی "چال" یا دوسرے کی "شکست" کے طور پر پڑھنا تاریخ کے ساتھ بھی زیادتی ہے اور صحابہ کے ادب کے خلاف بھی۔ ہاں، صلح کے بعد کے سیاسی واقعات — خاص طور پر جانشینی کا معاملہ — پر مؤرخین اور علماء نے مختلف آرا دی ہیں؛ وہ الگ بحث ہے۔

میز پر پرانا خط اور قلم
معاہدے کی شرائط: جو مشترک ہے وہ قطعی، جو مختلف ہے وہ محتاط

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

صلحِ حسن کب ہوئی؟

41 ہجری (661ء) میں، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چند ماہ بعد؛ مہینے پر روایتوں کا فرق ہے۔

عام الجماعۃ کا کیا مطلب ہے؟

جماعت یعنی امت کے اتحاد کا سال — کیونکہ خانہ جنگی ختم ہوئی اور سب ایک حکمران پر جمع ہوئے۔

صحیح بخاری 2704 میں کیا بشارت ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو سردار کہا اور فرمایا کہ اللہ ان کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا۔

کیا معاہدے کی تمام شرائط یقینی ہیں؟

نہیں۔ عام امان اور کتاب و سنت پر عمل کی شرط مشترک ہے؛ مالی اور جانشینی کی شرائط پر روایتیں مختلف ہیں۔

حوالہ جات

حدیث کے متن اور بعد کی تاریخی رپورٹوں میں فرق رکھیں؛ معاہدے کی متنازع شرائط کو قطعی نہ سمجھیں۔

یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments