نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نکاح: تجارت، پیغام، گھرانا اور فضیلت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نکاح: تجارت، پیغام، گھرانا اور فضیلت
وہ خاتون جس نے پہلے آپ کی امانت پر بھروسا کیا، پھر آپ کی نبوت پر — اور جسے آسمان سے سلام بھیجا گیا۔
حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح سیرت کا وہ باب ہے جہاں بعثت سے پہلے کی زندگی اور نبوت کے آغاز کی کہانی ایک گھر میں آ ملتی ہے۔ پچیس سال کا یہ رشتہ وفا، سکون اور باہمی اعتماد کی مثال بنا۔ اس مضمون میں نکاح کی سیرتی روایات اور ان کی فضیلت کی صحیح احادیث کو الگ الگ درجے کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور تجارت
خدیجہ بنت خویلد قریش کے خاندان بنو اسد بن عبدالعزیٰ سے تھیں — آپ کا نسب قصی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے۔ وہ دو شوہروں کے انتقال کے بعد بیوہ تھیں، صاحبِ مال اور صاحبِ شرف؛ جاہلیت میں انہیں «طاہرہ» کہا جاتا تھا (ابنِ سعد)۔ وہ اپنا مال مضاربت پر تاجروں کو دیتیں۔ سیرت کے مطابق جب انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور امانت کا شہرہ سنا تو اپنا سامان شام لے جانے کی پیشکش کی اور اپنے غلام میسرہ کو ساتھ بھیجا۔ سفر میں معمول سے زیادہ نفع ہوا اور میسرہ نے واپس آ کر آپ کے اخلاق اور دیانت کی گواہی دی۔ یہ تفصیلات ابنِ اسحاق اور ابنِ سعد کی ہیں؛ انہیں صحیح بخاری و مسلم کی حدیث نہیں سمجھنا چاہیے، مگر ان کا بنیادی مضمون — کہ یہ رشتہ آپ کی امانت پر اعتماد سے شروع ہوا — اہلِ سیرت میں متفق ہے۔
نکاح کا پیغام اور نکاح
سیرت کے مطابق خود حضرت خدیجہ نے اپنی سہیلی نفیسہ بنت منیہ کے ذریعے نکاح کی خواہش پہنچائی۔ آپ نے چچاؤں سے مشورہ کیا؛ حمزہ (یا ابو طالب) خویلد کے خاندان کے پاس گئے اور ابو طالب نے نکاح کا خطبہ پڑھا۔ آپ کی عمر اس وقت پچیس سال تھی؛ خدیجہ کی عمر چالیس سال مشہور ہے، مگر ابنِ سعد نے اٹھائیس سال کا قول بھی نقل کیا ہے — اس لیے عمر کو قطعی نہ کہا جائے۔ مہر کے بارے میں بیس اونٹ یا بارہ اوقیہ سونے کے اقوال ہیں (سیرت)۔ یہ نکاح بعثت سے پندرہ سال پہلے ہوا اور حضرت خدیجہ کی وفات (بعثت کے دسویں سال) تک آپ نے کوئی دوسرا نکاح نہیں کیا — یہ بات صحیح روایات سے بھی مستفاد ہے کہ آپ کے باقی تمام نکاح ان کے بعد ہوئے۔
گھرانا اور اولاد
حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ (جو ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا سے تھے) کے سوا آپ کی تمام اولاد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی: قاسم (جن کی نسبت سے آپ «ابو القاسم» کہلائے)، زینب، رقیہ، ام کلثوم، فاطمہ اور عبداللہ (جنہیں طیب و طاہر بھی کہا گیا) رضی اللہ عنہم۔ بیٹے بچپن میں وفات پا گئے؛ بیٹیوں نے اسلام پایا اور ہجرت کی؛ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سوا سب بیٹیاں آپ کی زندگی میں وفات پا گئیں۔ اسی گھر میں آپ نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو — جو خدیجہ کے غلام تھے اور انہوں نے آپ کو ہبہ کر دیے — آزاد کیا اور بیٹا بنایا، اور علی رضی اللہ عنہ کو بچپن میں پرورش کے لیے لیا (سیرت)۔
پہلی وحی پر حضرت خدیجہ کا ساتھ
اس رشتے کی سب سے بڑی اہمیت اس لمحے میں ظاہر ہوئی جب غارِ حرا سے آپ کانپتے ہوئے گھر آئے اور فرمایا: «مجھے چادر اوڑھا دو»۔ خوف کم ہوا تو آپ نے واقعہ سنایا اور کہا: «مجھے اپنی جان کا ڈر ہے»۔ حضرت خدیجہ نے کہا:
كَلاَّ وَاللَّهِ مَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ
«ہرگز نہیں! اللہ کی قسم، اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا؛ آپ رشتے جوڑتے ہیں، بے سہاروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، محتاجوں کے لیے کماتے ہیں، مہمان کی ضیافت کرتے ہیں اور حق کی راہ کی مصیبتوں میں مدد کرتے ہیں۔» (صحیح بخاری 3)
پھر وہ آپ کو اپنے چچا زاد ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو انجیل کے عالم تھے؛ انہوں نے کہا: یہ وہی ناموس (جبرائیل) ہے جو موسیٰ پر اترا تھا (صحیح بخاری 3؛ صحیح مسلم 160)۔ یوں حضرت خدیجہ پہلی انسان بنیں جو آپ پر ایمان لائیں — علما کا اس پر اتفاق ہے۔ یہ تسلی کسی جذباتی گفتگو پر نہیں بلکہ آپ کے پندرہ سالہ کردار کے مشاہدے پر مبنی تھی۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت
أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدَامٌ أَوْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ، فَإِذَا هِيَ أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلاَمَ مِنْ رَبِّهَا وَمِنِّي، وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لاَ صَخَبَ فِيهِ وَلاَ نَصَبَ
«جبرائیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ خدیجہ آ رہی ہیں، ان کے ساتھ ایک برتن ہے جس میں سالن یا کھانا یا پینے کی چیز ہے؛ جب وہ آپ کے پاس آئیں تو انہیں ان کے رب کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہیے اور انہیں جنت میں موتی کے ایک گھر کی بشارت دیجیے جس میں نہ شور ہو گا نہ تھکن۔» (صحیح بخاری 3820)
آپ نے فرمایا: «(اپنے زمانے کی) عورتوں میں بہترین مریم بنت عمران ہیں اور (اپنے زمانے کی) عورتوں میں بہترین خدیجہ بنت خویلد» (صحیح مسلم 2430)۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: مجھے آپ کی کسی بیوی پر اتنا رشک نہ آیا جتنا خدیجہ پر، حالانکہ میں نے انہیں دیکھا بھی نہیں؛ آپ ان کا کثرت سے ذکر کرتے، بکری ذبح کرتے تو ان کی سہیلیوں کو حصہ بھیجتے (صحیح بخاری 3818)۔ ایک بار عائشہ نے کہا: کیا وہ قریش کی ایک بوڑھی عورت ہی تو تھیں، اللہ نے آپ کو ان سے بہتر دے دی! تو آپ نے فرمایا: «اللہ نے مجھے ان سے بہتر نہیں دی؛ وہ اس وقت ایمان لائیں جب لوگوں نے میرا انکار کیا، انہوں نے میری تصدیق کی جب لوگوں نے جھٹلایا، اپنے مال سے میری مدد کی جب لوگوں نے محروم رکھا، اور اللہ نے مجھے ان سے اولاد دی» (مسند احمد؛ سند حسن)۔ خدیجہ کی بہن ہالہ کی آواز سن کر آپ کا چونکنا اور ان کی یاد میں کانپنا بھی صحیح بخاری (3821) میں ہے۔
آج کے لیے عملی سبق
- اعتماد کی بنیاد کردار ہے: رشتہ امانت کی شہرت سے شروع ہوا، مال سے نہیں۔
- شریکِ حیات کی حمایت: سب سے بڑے امتحان کے وقت پہلا سہارا گھر سے ملا۔
- وفا کی یاد: آپ نے وفات کے برسوں بعد بھی ان کا ذکر، ان کی سہیلیوں کا اکرام نہ چھوڑا۔
- مال کا صحیح مصرف: خدیجہ کا مال دعوتِ اسلام کے ابتدائی برسوں کا سہارا بنا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
نکاح کے وقت دونوں کی عمر کیا تھی؟
آپ پچیس سال کے تھے؛ خدیجہ کی عمر چالیس سال مشہور ہے، ابنِ سعد میں اٹھائیس کا قول بھی ہے — قطعی نہیں۔
کیا تجارت کے سفر اور میسرہ کی گواہی صحیح حدیث میں ہے؟
نہیں؛ یہ سیرت کی روایات ہیں۔ پہلی وحی پر تسلی اور جنت کے گھر کی بشارت صحیح بخاری میں ہیں۔
حضرت خدیجہ کی وفات کب ہوئی؟
بعثت کے دسویں سال، ہجرت سے تقریباً تین سال پہلے — اسی سال ابو طالب کا بھی انتقال ہوا، اسے «عام الحزن» کہتے ہیں (تفصیل)۔
خلاصہ
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا وہ فیصلہ تھا جس نے آپ کو ایک وفادار گھر، نبوت کے پہلے دن کی تسلی اور دعوت کے مشکل برسوں کا سہارا دیا۔ اللہ نے انہیں اپنی طرف سے سلام بھیجا — کسی خاتون کے لیے اس سے بڑا اعزاز کیا ہو سکتا ہے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment