وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Akhlaq-e-Nabawi ﷺ› رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچوں سے سلوک: بوسہ، دعا، سلام اور صبر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچوں سے سلوک: بوسہ، دعا، سلام اور صبر

نAuthor Nawab
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم • اخلاق و عادات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچوں سے سلوک: بوسہ، دعا، سلام اور صبر

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچوں سے محبت کا اظہار فرماتے، ان کی ضرورت کا لحاظ کرتے، انہیں سلام کرتے اور ان کے لیے دعا فرماتے۔ صحیح حدیث میں ایسے واقعات ملتے ہیں جو بچوں کو عزت، رحم اور توجہ دینے کا عملی اصول سکھاتے ہیں۔

کھڑکی کے پاس مٹی کا پیالہ، لکڑی کا کھلونا اونٹ اور چھوٹی چپلیں

بچوں سے محبت کا اظہار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نرم رویے کا حصہ تھا۔

محبت چھپانا نہیں، دکھانا بھی

اسلام بچوں کو صرف ذمہ داری یا گھر کی خوشی نہیں بلکہ اللہ کی امانت سمجھتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں سے محبت کا اظہار کھلے طور پر فرمایا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَعِنْدَهُ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ جَالِسًا. فَقَالَ الأَقْرَعُ: إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ مِنْهُمْ أَحَدًا. فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ: مَنْ لاَ يَرْحَمُ لاَ يُرْحَمُ
«رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو بوسہ دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اقرع بن حابس تمیمی بیٹھے تھے۔ اقرع نے کہا: میرے دس بچے ہیں، میں نے ان میں سے کسی کو بوسہ نہیں دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔» (صحیح بخاری، حدیث 5997؛ صحیح مسلم 2318)

یہ جواب ایک بنیادی تربیتی اصول سامنے لاتا ہے: بچوں کو پیار دینا انہیں کمزور نہیں بناتا؛ ان کے ساتھ رحمت سے پیش آنا انسانی فطرت کو نرم رکھتا ہے۔ بوسہ، گلے لگانا، پیار سے بات کرنا اور ان کی موجودگی کو خوشی سے قبول کرنا محبت کے اظہار ہیں۔ ہر بچے کی فطرت اور آرام کا لحاظ ضروری ہے؛ سنت کا مقصد زبردستی نہیں، رحمت اور عزت ہے۔

ایک دوسری روایت میں دیہات کے کچھ لوگوں نے بچوں کو بوسہ دینے پر حیرانی ظاہر کی اور کہا کہ ہم تو بچوں کو بوسہ نہیں دیتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہو تو میں تمہارے لیے کیا کر سکتا ہوں؟» (صحیح بخاری 5998؛ صحیح مسلم 2317)۔ روایت کا پیغام یہ ہے کہ نرمی اور محبت کو کمزوری سمجھ کر دبا دینا حسنِ اخلاق نہیں۔

نواسوں اور دوسرے بچوں سے رویہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار صرف اپنے گھر کے بچوں تک محدود نہیں تھا۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی ایک ران پر اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو دوسری ران پر بٹھاتے، پھر دونوں کو ملا کر فرماتے: «اے اللہ! ان دونوں پر رحم فرما، کیونکہ میں ان پر رحم کرتا ہوں» (صحیح بخاری 6003)۔ اس سے قربت، پیار اور دعا کے ذریعے بچوں کو محفوظ محسوس کرانے کا پہلو سامنے آتا ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ گھر والوں پر مہربان نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم مدینہ کے ایک محلے میں دودھ پلانے والی کے پاس تھے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ وہاں تشریف لے جاتے، انہیں اٹھاتے، بوسہ دیتے اور پھر لوٹ آتے (صحیح مسلم 2316)۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مصروفیت کے باوجود بچوں سے تعلق اور توجہ کا سلسلہ جاری رکھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رویے کا حصہ تھا۔

مسجد کا خالی صحن، تہہ کی ہوئی جائے نماز اور ٹوپی

نماز میں بچے کی ضرورت اور ماں کی پریشانی کا لحاظ فرمایا۔

عبادت میں بھی بچوں کی ضرورت کا لحاظ

إِنِّي لأَقُومُ فِي الصَّلاَةِ أُرِيدُ أَنْ أُطَوِّلَ فِيهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلاَتِي كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ
«میں نماز میں کھڑا ہوتا ہوں اور اسے لمبا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، پھر بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو اپنی نماز مختصر کر دیتا ہوں، اس ناپسندیدگی سے کہ اس کی ماں کو مشقت میں ڈالوں۔» (صحیح بخاری، حدیث 707؛ صحیح مسلم 470)

یہ روایت دکھاتی ہے کہ عبادت کے دوران بھی دوسروں کی ضرورت اور جذبات کو سمجھنا سنت ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نماز کو بے وجہ مختصر کر دیا جائے یا اس کے ارکان میں کمی کر دی جائے۔ نماز مکمل اور اطمینان سے ہوتی ہے؛ امام بس اتنی قراءت چنتا ہے کہ جماعت میں موجود بزرگ، کمزور اور بچوں کے ساتھ آئے والدین پر غیر ضروری مشقت نہ ہو۔ یہاں رحمت اور عبادت دونوں ساتھ ہیں۔

مسجد اور معاشرے میں بچوں کو جگہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو معاشرے سے الگ یا ناپسندیدہ محسوس نہیں کرواتے تھے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا کرتے تھے (صحیح بخاری 6247)۔ بچوں کو سلام کہنا چھوٹا عمل لگ سکتا ہے، مگر اس سے ان کی عزت ہوتی ہے اور وہ سیکھتے ہیں کہ سلام اور اچھا رویہ ہر عمر کے انسان کے لیے ہے۔

مسجد میں بچوں کے ساتھ صف، ادب اور دوسرے نمازیوں کی سہولت کا لحاظ ضروری ہے، مگر ہر بچے کی موجودگی کو شور یا پریشانی سمجھ کر انہیں دور دھکیلنا سنت کا مزاج نہیں۔ والدین اور مسجد کے ذمہ دار مل کر بچوں کو پیار سے ادب سکھائیں؛ سخت ڈانٹ، تحقیر یا سب کے سامنے ذلیل کرنا نہیں۔ سیرت کی بعض کتابوں میں بچوں کے ساتھ کھیلنے یا انہیں سواری پر بٹھانے کے مزید واقعات ہیں؛ ہر قصے کی سند ایک جیسی نہیں، اس لیے انہیں صحیح حدیث کے درجے پر رکھنے سے پہلے حوالہ جانچنا چاہیے۔ مضبوط روایات ہی میں بچوں کے حق میں ایک نہایت پیارا اسوہ موجود ہے۔

نواسی امامہ کو نماز میں اٹھانا

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور اپنی نواسی امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا کو اٹھائے ہوئے تھے؛ جب سجدہ کرتے تو انہیں نیچے رکھ دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو دوبارہ اٹھا لیتے (صحیح بخاری 516؛ صحیح مسلم 543)۔ یہ واقعہ بچے کو اپنے ساتھ رکھنے اور عبادت میں اس کی موجودگی سے بیزاری نہ دکھانے کا واضح نمونہ ہے۔ اس روایت کو فقہی تفصیل کے بغیر ہر نماز کی لازمی صورت نہیں بنانا چاہیے؛ بنیادی اخلاقی پہلو یہ ہے کہ بچے کی موجودگی کو محبت سے قبول کیا جا سکتا ہے اور نماز کا ادب بھی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

باغ میں پانی کے پیالے پر دو چڑیاں اور پھول — شفقت اور حفاظت کی علامت

بچوں کے لیے دعا اور نرمی انہیں قرب اور امن کا احساس دیتی ہے۔

غلطی پر صبر اور رحمت

بچے سیکھتے ہوئے غلطی کرتے ہیں۔ حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا اپنے چھوٹے بچے کو، جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائیں؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھایا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس جگہ پر چھڑک دیا اور کپڑا دھویا نہیں (صحیح بخاری 223؛ صحیح مسلم 287)۔ یہ طہارت کا ایک فقہی مسئلہ بھی ہے، لیکن اس واقعے میں بچے کے ساتھ صبر اور گھر والوں کو شرمندہ نہ کرنے کا اخلاقی پہلو بھی نظر آتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ بچے کو طہارت، صفائی یا حدود نہ سکھائی جائیں۔ اصلاح کی ضرورت ہو تو اسے عمر اور سمجھ کے مطابق نرمی کے ساتھ سمجھایا جائے۔ بچے کی غلطی کو اس کی ذات کا لیبل نہ بنایا جائے؛ «تم برے ہو» کہنے کے بجائے عمل سمجھانا اور سدھار کا راستہ دکھانا بہتر ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ بچے کے جذبات کو حقیر نہ سمجھا جائے۔ رونا، گھبرانا، سوال کرنا یا توجہ مانگنا اکثر اس کی ضرورت کا اظہار ہوتا ہے۔

محبت کے ساتھ انصاف اور حدود

بچوں سے شفقت کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے درمیان ناانصافی کی جائے یا ہر خواہش پوری کی جائے۔ محبت کے ساتھ انصاف، حفاظت اور تربیت بھی ضروری ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کی بات سنیں، ان کے لیے وقت نکالیں، ان کی غلطی کو سمجھائیں اور ان کی حرمت کو محفوظ رکھیں۔ آج کے گھروں میں بچوں کو پیار کا اظہار، سلام، دعا، ساتھ بیٹھنا، ان کی کہانی سننا اور ان کی ضرورت پر توجہ دینا آسان عملی قدم ہیں۔ اسکرین یا کام کی مصروفیت کے درمیان روز کچھ وقت صرف بچے کو دینا اسے محفوظ اور قابلِ قدر محسوس کرواتا ہے۔

گھر کا سادہ صحن، چٹائی پر لکڑی کا گھوڑا اور کھلا دروازہ

تربیت میں محبت، توجہ اور نرمی ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں۔

عملی سبق

  • بچوں کو بوسہ دینا، گلے لگانا اور ان کے لیے دعا کرنا سنت ہے؛ یہ کمزوری نہیں رحمت ہے (بخاری 5997)۔
  • بچوں کو سلام کریں؛ اس سے انہیں عزت اور تعلق کا احساس ملتا ہے (بخاری 6247)۔
  • عبادت یا کام کے دوران بچے اور ماں کی ضرورت کا لحاظ رکھیں (بخاری 707)۔
  • غلطی پر چیخنے یا مارنے کے بجائے عمر کے مطابق تنہائی میں سمجھائیں (بخاری 223)۔
  • بچوں کے درمیان انصاف رکھیں اور محبت کے ساتھ حدود اور تربیت بھی دیں۔

خلاصہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو بوسہ دیتے، ان کے لیے دعا کرتے، سلام کرتے اور ان کی پریشانی کا لحاظ فرماتے۔ صحیح روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا امامہ رضی اللہ عنہا کو نماز میں اٹھانا، بچے کے رونے پر قراءت مختصر کرنا، اور «جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا» کی تعلیم واضح مثالیں ہیں۔ سنت کا پیغام محبت کے ساتھ عزت، صبر اور تربیت ہے؛ نہ بے جا سختی، نہ بے حد چھوٹ۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

۱۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچوں سے محبت کا اظہار کیسے کرتے تھے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو بوسہ دیتے، گود میں بٹھاتے، ان کے لیے دعا کرتے اور انہیں سلام فرماتے (صحیح بخاری 5997، 6003، 6247)۔

۲۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بچے کو اٹھاتے تھے؟

جی، صحیح بخاری 516 کی روایت میں امامہ رضی اللہ عنہا کو نماز میں اٹھانا اور سجدے کے وقت نیچے رکھنا آتا ہے۔

۳۔ بچے کے رونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچے کی آواز سن کر نماز مختصر کر دیتا ہوں، کیونکہ ماں کی پریشانی کا لحاظ ہوتا ہے (بخاری 707؛ مسلم 470)۔

۴۔ اس اسوے سے والدین کے لیے کیا سبق ہے؟

بچوں کو محبت کا اظہار، توجہ، نرمی اور عزت دیں؛ غلطی پر عمر کے مطابق سمجھائیں؛ اور ان کے درمیان انصاف اور حفاظت کا لحاظ رکھیں۔

کتابیں اور حوالے

حدیث کی نمبرنگ مختلف نسخوں میں فرق ہو سکتی ہے؛ کتاب اور باب کے حوالے سے تصدیق کریں۔

یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments