وصالِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم: آخری بیماری، «الرفیق الاعلیٰ» اور امت کا صبر
وصالِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم: آخری بیماری، «الرفیق الاعلیٰ» اور امت کا صبر
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال امت کے لیے ایسا غم تھا جس کی گہرائی کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے روایت شدہ الفاظ میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے جذباتی قصوں کے بجائے صحیح روایت پر بھروسہ ضروری ہے۔ آخری بیماری، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں قیام، «الرفیق الاعلیٰ» کے الفاظ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا قرآنی آیت سے لوگوں کو سنبھالنا؛ یہ سب صحیح بخاری کی روایت میں آتا ہے۔ قرآن بھی یاد دلاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں؛ ان کی وفات کی صورت میں دین سے پلٹ جانا مومن کا رویہ نہیں۔
آخری بیماری کے دنوں کا خاموش گھر: روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں تھے۔
آخری بیماری اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں قیام
حجۃ الوداع سے واپسی کے کچھ مہینے بعد، صفر 11 ہجری کے آخر میں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بیماری شروع ہوئی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ يَقُولُ: أَيْنَ أَنَا غَدًا؟ أَيْنَ أَنَا غَدًا؟ يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكُونُ حَيْثُ شَاءَ، فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا … فَقَبَضَهُ اللَّهُ وَإِنَّ رَأْسَهُ لَبَيْنَ نَحْرِي وَسَحْرِي
«آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اس بیماری میں جس میں وفات پائی، پوچھتے رہتے: کل میں کہاں ہوں گا؟ کل میں کہاں ہوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ کی باری چاہتے تھے۔ تو آپ کی ازواج نے اجازت دے دی کہ آپ جہاں چاہیں رہیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ کے گھر میں رہے یہاں تک کہ انہی کے پاس وفات پائی … اللہ نے آپ کی روح قبض کی اور آپ کا سر میرے سینے اور گردن کے درمیان تھا۔» (صحیح بخاری، حدیث 4450)
بیماری کے دوران جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے نہ نکل سکے تو حکم دیا: «ابو بکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں» (صحیح بخاری 664)؛ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری دنوں میں امامت کی۔ یہ گھر کا خاموش اور قریبی منظر صحیح روایت سے معلوم ہوتا ہے؛ اس سے آگے تفصیلی گفتگو یا ایسے جملے جو سند سے ثابت نہ ہوں، ہم اپنی طرف سے نہیں جوڑتے۔
«اللہم فی الرفیق الاعلیٰ»
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحت کی حالت میں فرمایا کرتے تھے کہ کسی نبی کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی جاتی جب تک اسے جنت میں اس کا ٹھکانا نہ دکھا دیا جائے اور پھر اختیار نہ دیا جائے۔ پھر:
فَلَمَّا اشْتَكَى وَحَضَرَهُ الْقَبْضُ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِ عَائِشَةَ غُشِيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا أَفَاقَ شَخَصَ بَصَرُهُ نَحْوَ سَقْفِ الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى. فَقُلْتُ: إِذًا لاَ يُجَاوِرُنَا. فَعَرَفْتُ أَنَّهُ حَدِيثُهُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهْوَ صَحِيحٌ
«جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور وفات کا وقت آیا، آپ کا سر عائشہ کی ران پر تھا، آپ پر غشی طاری ہوئی؛ جب افاقہ ہوا تو آپ کی نگاہ گھر کی چھت کی طرف اٹھی، پھر فرمایا: اے اللہ! رفیقِ اعلیٰ میں۔ میں نے (دل میں) کہا: تو اب آپ ہمارے ساتھ نہیں رہیں گے۔ اور میں سمجھ گئی کہ یہ وہی بات ہے جو آپ صحت کی حالت میں ہمیں بتایا کرتے تھے۔» (صحیح بخاری، حدیث 4437؛ نیز 4463)
اس روایت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ سے ملاقات کو ترجیح دینے اور آخرت کی طرف رجوع کے طور پر سمجھا جاتا ہے: دنیا میں رہنے اور رفیقِ اعلیٰ کے درمیان اختیار دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفیقِ اعلیٰ کو چنا۔ وصال کا غم اپنی جگہ، مگر یہ الفاظ مومن کو اللہ کی طرف لوٹنے کی یاد بھی دلاتے ہیں۔
مسجد کا صحن، جہاں صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک عظیم جدائی کا سامنا ہوا۔
مسجد میں غم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا خطاب
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو صحابہ پر غم کا شدید اثر ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے، اللہ انہیں ضرور اٹھائے گا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سُنح سے گھوڑے پر آئے، حجرے میں داخل ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک سے کپڑا ہٹایا، پیشانی کو بوسہ دیا اور روتے ہوئے کہا: «میرے ماں باپ آپ پر قربان! اللہ آپ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا؛ جو موت آپ کے لیے لکھی گئی تھی وہ آپ نے پا لی۔» پھر باہر آ کر فرمایا: «اے قسم کھانے والے! ٹھہرو۔» جب ابو بکر رضی اللہ عنہ بولے تو عمر رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے۔ انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا کی اور کہا:
أَلاَ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَىٌّ لاَ يَمُوتُ. وَقَالَ: {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ} وَقَالَ: {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ} … قَالَ: فَنَشَجَ النَّاسُ يَبْكُونَ
«سنو! جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے؛ اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ زندہ ہے، کبھی نہیں مرے گا۔» پھر یہ آیات پڑھیں: «بے شک آپ کو بھی موت آنی ہے اور انہیں بھی» (الزمر 39:30) اور «محمد تو بس ایک رسول ہیں؛ ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے۔ تو کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟» (آل عمران 3:144) … راوی کہتے ہیں: لوگ ہچکیاں لے کر رونے لگے۔ (صحیح بخاری، حدیث 3667–3668؛ آیت کی تلاوت: 4454)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں کہ جب میں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو یہ آیت پڑھتے سنا تو میں گھبرا گیا، میرے پاؤں مجھے نہ اٹھا سکے اور میں زمین پر گر پڑا؛ تب میں نے جانا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واقعی وفات پا گئے (صحیح بخاری 4454)۔ لوگوں نے آیت سن کر اسے گویا پہلی بار سمجھا اور غم کے درمیان حقیقت کو تسلیم کیا۔ اس آیت کا مقصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کم کرنا نہیں؛ بلکہ توحید اور رسالت کے بنیادی اصول کو مضبوط کرنا ہے: عبادت صرف اللہ کی، اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور پیغمبر ہیں۔
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ
«اور محمد تو بس ایک رسول ہیں؛ ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے۔ تو کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو الٹے پاؤں پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، اور اللہ شکر کرنے والوں کو جلد بدلہ دے گا۔» (سورۃ آل عمران 3:144)
قرآن کی رہنمائی، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بھی امت کے لیے باقی رہی۔
وصال کا دن اور دفن کا مقام
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس دن وفات پائی تو انہوں نے فرمایا: «پیر کے دن» (صحیح بخاری 1387)؛ اسی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا جن میں قمیص اور عمامہ نہ تھا۔ مشہور تاریخ 12 ربیع الاول 11 ہجری ہے، مگر سیرت کے مآخذ میں دن کی تعیین پر اختلاف ہے؛ پیر کا دن روایت سے ثابت ہے۔ دفن کے مقام پر صحابہ میں اختلاف ہوا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات سنی ہے جو بھولا نہیں:
مَا قَبَضَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلاَّ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُدْفَنَ فِيهِ. ادْفِنُوهُ فِي مَوْضِعِ فِرَاشِهِ
«اللہ کسی نبی کی روح اسی جگہ قبض کرتا ہے جہاں وہ دفن ہونا پسند کرتا ہے۔ (ابو بکر نے کہا:) آپ کو آپ کے بستر کی جگہ پر دفن کرو۔» (جامع ترمذی، حدیث 1018)
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اسی حجرے میں دفن کیا گیا جہاں وصال ہوا تھا۔ اس سے سیرت کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے: عظیم جذباتی لمحے میں بھی فیصلہ وحی اور روایت کی رہنمائی سے کیا گیا۔ حجرہ بعد میں مسجدِ نبوی کی توسیع کے ساتھ مسجد کے احاطے میں آ گیا؛ اس لیے مقام کا ذکر کرتے وقت اصل واقعے کو سمجھنا اور بعد کی عمارتی صورت کو اس سے الگ رکھنا چاہیے۔ اسی دوران انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے اور امت کی قیادت کا معاملہ طے ہوا۔
غم کے درمیان قرآنی رہنمائی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے صرف ایک عظیم شخصیت کی جدائی نہیں، بلکہ امت کی ذمہ داری کا نیا مرحلہ بھی تھا۔ قرآن 3:144 نے انہیں یاد دلایا کہ پیغام دینے والے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے اللہ کا دین ختم نہیں ہوتا۔ اللہ ہمیشہ زندہ ہے؛ ایمان اور بندگی کا رشتہ اسی سے ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا آیت پڑھنا اس لیے تاریخی منظر کا مرکز ہے کہ اس نے غم کو قرآنی اصول کے نیچے جمع کیا۔ اس لمحے میں صحابہ کے جذبات کو رد نہیں کیا گیا؛ بلکہ انہیں سچائی اور صبر کی طرف سنبھالا گیا۔
وصال کی روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی قربت، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا غم اور قرآن کی آیت کی تلاوت ایک دوسرے کے ساتھ آتے ہیں۔ اس سے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اللہ کی عبادت کے درمیان توازن کا درس ملتا ہے۔ محبت کا تقاضا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور تعلیم کی پیروی ہے؛ اور قرآن کا حکم یہ کہ عبادت اور توکل صرف اللہ کے لیے ہو۔ اس مقالے میں «آخری خطبہ» یا «آخری وصیت» کے نام سے کوئی ایسا جملہ شامل نہیں کیا گیا جس کا حوالہ واضح نہ ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری دن ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ غم انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ صبر کا مطلب غم سے انکار نہیں؛ صبر یہ ہے کہ غم کے باوجود انسان اللہ کی ہدایت اور حقیقت کو تھامے رکھے۔ یہی اس سیرتی واقعے کا دل نشین اور مستند پیغام ہے۔
غم کے بعد بھی ہدایت کا سفر اللہ کی رہنمائی میں جاری رہا۔
عملی سبق
- عبادت صرف اللہ کی ہے جو زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا؛ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں (آل عمران 3:144)۔
- غم کے وقت قرآن کی طرف رجوع کریں؛ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے امت کو آیت سے سنبھالا۔
- بڑے جذباتی لمحے میں بھی فیصلہ سنت اور روایت کی رہنمائی سے ہو، جیسے دفن کے مقام کا فیصلہ۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا تقاضا آپ کی سنت کی پیروی ہے۔
- وصال کے بارے میں صرف صحیح روایت بیان کریں؛ غیر ثابت جذباتی قصوں سے بچیں۔
خلاصہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری بیماری کے دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں گزارے (بخاری 4450)، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو نماز کی امامت کا حکم دیا (بخاری 664) اور آخری لمحات میں «اللہم فی الرفیق الاعلیٰ» فرمایا (بخاری 4437)۔ پیر کے دن وصال ہوا (بخاری 1387)۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ غم سے وفات کا انکار کرنے لگے؛ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آ کر فرمایا کہ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے، اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ زندہ ہے، پھر آل عمران 3:144 پڑھی (بخاری 3667)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی حجرے میں دفن کیا گیا جہاں وصال ہوا (ترمذی 1018)۔ سبق: توحید، صبر اور قرآن کی رہنمائی۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال کس دن ہوا؟
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے مطابق پیر کے دن (صحیح بخاری 1387)؛ مشہور تاریخ 12 ربیع الاول 11 ہجری ہے، مگر دن کی تعیین پر سیرت کے مآخذ میں اختلاف ہے۔
۲۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری لمحوں میں کیا فرمایا؟
صحیح بخاری 4437 کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللہم فی الرفیق الاعلیٰ» فرمایا، یعنی اے اللہ! بلند ترین رفیق میں۔
۳۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو کیسے سنبھالا؟
انہوں نے فرمایا کہ جو اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ زندہ ہے، پھر آل عمران 3:144 تلاوت کی؛ واقعہ صحیح بخاری 3667–3668 اور 4454 میں ہے۔
۴۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہاں دفن کیا گیا؟
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اسی حجرے میں جہاں وصال ہوا؛ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی وہیں دفن ہوتا ہے جہاں اس کی روح قبض ہو (ترمذی 1018)۔
کتابیں اور حوالے
- القرآن الکریم: آل عمران 3:144: رسولوں کی وفات اور دین پر ثابت قدمی؛ الزمر 39:30۔
- صحیح بخاری 4450: آخری بیماری میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر قیام اور وصال۔
- صحیح بخاری 4437؛ 4463: «الرفیق الاعلیٰ» کے الفاظ۔
- صحیح بخاری 664: بیماری میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم۔
- صحیح بخاری 3667–3668؛ 4454: ابو بکر رضی اللہ عنہ کا خطاب اور آیت 3:144 کی تلاوت؛ عمر رضی اللہ عنہ کا حال۔
- صحیح بخاری 1387: وصال کا دن (پیر) اور کفن۔
- جامع ترمذی 1018: نبی کو مقامِ وصال پر دفن کرنے کی روایت۔
یہاں واقعہ صحیح روایت کے دائرے میں رکھ کر بیان ہوا ہے؛ مشہور مگر غیر منسوب الفاظ شامل نہیں کیے گئے۔ حدیث نمبر ایڈیشن کے مطابق فرق کر سکتے ہیں۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment