وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Anbiya-e-Kiram› حضرت الیسع علیہ السلام: قرآن کے «اخیار» میں سے

حضرت الیسع علیہ السلام: قرآن کے «اخیار» میں سے

نAuthor Nawab
قصص الانبیاء • حضرت الیسع علیہ السلام

حضرت الیسع علیہ السلام: قرآن کے «اخیار» میں سے

کچھ انبیاء کی زندگی قرآن میں واقعات کے سلسلے میں تفصیل سے آتی ہے؛ کچھ کا نام چند آیتوں میں روشن ہوتا ہے۔ حضرت الیسع علیہ السلام انہی محترم انبیاء میں سے ہیں۔ قرآن ان کا نام دو مقامات پر لیتا ہے، انہیں اللہ کی طرف سے فضیلت پانے والوں میں رکھتا ہے اور ایک جگہ «اخیار»، یعنی نیک اور بہترین بندوں، میں شمار کرتا ہے۔ ان کی سیرت کو سچائی سے بیان کرنے کا پہلا قدم یہ تسلیم کرنا ہے کہ قرآن اور صحیح روایت ان کے روزمرہ واقعات کی تفصیلی سوانح نہیں دیتے۔

پتھر کی دیوار کے پاس کھلا صحیفہ اور جلتا چراغ — وحی میں مختصر مگر باعزت ذکر کا علامتی منظر

قرآنی صفحے کے قریب روشن چراغ: وحی میں حضرت الیسع علیہ السلام کے مختصر مگر باعزت ذکر کا علامتی منظر۔

یہ خاموشی کمی نہیں۔ قرآن نے جتنا بتایا ہے وہ ان کے مقام کو عزت کے ساتھ پہچاننے کے لیے کافی ہے؛ اور جس تفصیل پر مضبوط سند نہیں، اسے یقینی واقعہ بنا کر بیان کرنا ضروری نہیں۔ اس لیے یہاں پہلے یقینی قرآنی الفاظ، پھر تفسیری روایات کی احتیاطی حد پیش ہے۔

قرآن میں حضرت الیسع علیہ السلام کا ذکر

سورۃ الانعام 6:84–86 میں اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسحاق اور پوتے حضرت یعقوب علیہ السلام کے ذکر کے بعد کئی انبیاء کے نام گنواتا ہے۔ اسی سلسلے میں حضرت الیسع علیہ السلام کا نام حضرت یونس اور حضرت لوط علیہ السلام کے ساتھ آتا ہے، اور آیت کا اختتام بتاتا ہے کہ اللہ نے ان میں سے ہر ایک کو فضیلت دی:

وَإِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًا ۚ وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعَالَمِينَ
«اور اسماعیل، الیسع، یونس اور لوط کو بھی؛ اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے جہانوں پر فضیلت دی۔» (سورۃ الانعام 6:86)

دوسرا ذکر سورۃ ص میں ہے۔ اللہ حضرت اسماعیل، حضرت الیسع اور حضرت ذوالکفل علیہ السلام کو یاد کرنے کا حکم دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہ سب «اخیار» میں سے ہیں:

وَاذْكُرْ إِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ ۖ وَكُلٌّ مِّنَ الْأَخْيَارِ
«اور اسماعیل، الیسع اور ذوالکفل کو یاد کیجیے؛ اور یہ سب نیک اور بہترین بندوں میں سے تھے۔» (سورۃ ص 38:48)

اس آیت میں حضرت الیسع علیہ السلام کی کسی جنگ، سفر، معجزے، قوم سے گفتگو یا حکومت کا بیان نہیں۔ جو بات صاف ہے وہ ان کا بلند مقام اور نیک بندوں کے ساتھ ان کا قرآنی ذکر ہے۔

دور تک پھیلی پہاڑی زمین اور زیتون کے درخت — غیر متعین علامتی منظر

دور تک پھیلی پہاڑی زمین اور زیتون کے درخت: ایک غیر متعین، علامتی منظر؛ حضرت الیسع علیہ السلام کے علاقے کی تاریخی تصویر نہیں۔

دو آیتیں، مگر گہرا مقام

ان آیات کا انداز ایک اہم بات سمجھاتا ہے: کسی نبی کی عظمت جاننے کے لیے ہمیشہ ان کے واقعات کی لمبی فہرست ضروری نہیں۔ اللہ کا انہیں انبیاء میں شمار کرنا اور «اخیار» کہنا ان کے مقام کے لیے کافی ہے۔ سورۃ الانعام کا سیاق بھی توجہ طلب ہے: آیت 84 سے آگے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی نسل کے انبیاء کا ذکر ہے، پھر اللہ بتاتا ہے کہ ان بندوں کو کتاب، حکم اور نبوت دی گئی (6:89)۔ اسی سیاق میں حضرت الیسع علیہ السلام کا نام آتا ہے۔ الگ سے ان کی زندگی کا بیان نہ ہونا ان کی فضیلت کم نہیں کرتا، بلکہ قاری کو متن کی حد میں رہ کر ان کا ادب کرنا سکھاتا ہے۔

نام، پہچان اور روایت کی حد

قرآن میں ان کا نام «الْيَسَع» آتا ہے۔ رومن لکھائی میں Al-Yasa، Alyasa یا Yasa جیسے مختلف ہجے نظر آتے ہیں۔ انگریزی میں انہیں عام طور پر Elisha سے پہچانا جاتا ہے؛ یہ روایتی پہچان ہے، قرآن خود ان کی زبان، وطن، والدین کے نام یا زمانہ نہیں بتاتا۔

تفسیر اور تاریخ کی کتابوں میں ایک مشہور قول یہ ہے کہ حضرت الیسع علیہ السلام، حضرت الیاس علیہ السلام کے بعد ان کی قوم میں دعوت کا کام سنبھالتے رہے۔ قرآن الانعام 6:85–86 میں حضرت الیاس اور حضرت الیسع علیہ السلام کے نام ایک ہی وسیع فہرست میں آتے ہیں، لیکن آیت خود یہ نہیں کہتی کہ وہ ان کے جانشین تھے۔ اس لیے اس بات کو «بعض مفسرین اور تاریخی روایات کے مطابق» کہنا ٹھیک ہے؛ اسے صحیح حدیث یا قطعی قرآنی بیان کا درجہ دینا نہیں۔

اسی طرح ان کی طرف منسوب کئی معجزات، بادشاہوں کے ساتھ واقعات، مریضوں کا شفا پانا، یا قحط میں دعاؤں کی کہانیاں مختلف قصص اور بعد کی روایتوں میں ملتی ہیں۔ جب تک کسی روایت کی مضبوط سند پیش نہ ہو، انہیں صحیح بخاری یا صحیح مسلم سے ثابت کہہ کر نہیں سنانا چاہیے۔ ان کا مقام ان مشہور قصوں پر موقوف نہیں؛ قرآن کا انہیں نبیوں کے سلسلے میں رکھنا اور «اخیار» میں شمار کرنا ہی بنیادی دلیل ہے۔ کبھی علم کی امانت یہی ہوتی ہے کہ ہم کہیں: یہاں تک قرآن نے بتایا، اس سے آگے کی تفصیل یقینی طور پر معلوم نہیں۔ یہ احتیاط بے ادبی نہیں؛ اللہ کے کلام اور اس کے نبی کے مقام کی حفاظت ہے۔

روشنی کی طرف جاتا پرسکون راستہ — ہدایت اور استقامت کا علامتی پیغام

روشنی کی طرف جاتا پرسکون راستہ: ہدایت اور استقامت کا علامتی پیغام، کسی خاص واقعے کی تصویر نہیں۔

قرآنی فہرست میں ان کے ساتھ جن کا ذکر ہے

سورۃ الانعام 6:84–86 میں حضرت الیسع علیہ السلام سے پہلے حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہ السلام سمیت کئی انبیاء کا ذکر ہے، اور ان کے ساتھ حضرت یونس اور حضرت لوط علیہ السلام؛ سورۃ ص میں حضرت ذوالکفل علیہ السلام۔ ان کے الگ قرآنی واقعات کا مطالعہ فہرست کا پس منظر سمجھاتا ہے؛ اس سے حضرت الیسع علیہ السلام کا کوئی غیر ثابت نسب یا واقعہ خود بخود ثابت نہیں ہوتا۔

حضرت الیسع علیہ السلام کی سیرت سے سبق

  • اللہ کے نزدیک عزت کا معیار۔ سورۃ ص 38:48 انہیں «اخیار» میں شمار کرتی ہے؛ یہ تعارف کسی سیاسی مرتبے، شہرت یا مال سے نہیں، نیک بندگی کے مقام سے جڑا ہے۔
  • قرآن کے مختصر ذکر کا احترام۔ جب اللہ کسی نبی کا نام بلند انبیاء کی فہرست میں لیتا ہے تو ان کے نام پر غیر ثابت قصوں کا ڈھیر لگانا ضروری نہیں؛ دلیل جتنی ہے اتنی ہی بات کہنا علم کی امانت ہے۔
  • ہدایت ایک مسلسل پیغام ہے۔ الانعام میں مختلف انبیاء کے نام ایک ساتھ آتے ہیں؛ زمانے الگ، مگر بندگی اور ہدایت کا پیغام مشترک۔
  • کم معلومات بھی قیمتی ہیں۔ کسی شخص کی تفصیلی سوانح ہم تک نہ پہنچے، تب بھی اللہ کی طرف سے اس کا مقام واضح ہو سکتا ہے۔
ستاروں بھری رات سے صبح کی روشنی تک کا منظر — بلند مقام کی علامت

ستاروں بھری رات سے صبح کی روشنی تک: قرآن میں چند الفاظ میں آنے والے نبی کے بلند مقام کا علامتی منظر۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

۱۔ حضرت الیسع علیہ السلام کا نام قرآن میں کہاں آتا ہے؟

سورۃ الانعام 6:86 اور سورۃ ص 38:48 میں۔ دونوں مقامات پر ان کا ذکر دوسرے انبیاء کے ساتھ آتا ہے۔

۲۔ قرآن حضرت الیسع علیہ السلام کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟

الانعام 6:86 انہیں اللہ کی فضیلت پانے والے انبیاء میں رکھتی ہے؛ ص 38:48 انہیں «اخیار» میں شمار کرتی ہے۔ قرآن ان کی تفصیلی سوانح بیان نہیں کرتا۔

۳۔ کیا حضرت الیسع علیہ السلام، حضرت الیاس علیہ السلام کے جانشین تھے؟

یہ تفسیر اور تاریخی روایات میں مشہور قول ہے، لیکن قرآن کے ان مقامات اور صحیح روایت میں صراحتاً نہیں آتا؛ اسے قطعی قرآنی یا صحیح حدیث کا بیان نہ کہا جائے۔

۴۔ کیا حضرت الیسع علیہ السلام کے معجزات صحیح حدیث سے ثابت ہیں؟

قرآن ان کے معجزات کی تفصیل نہیں دیتا، اور اس مضمون میں کوئی معین معجزہ صحیح سند کے بغیر ان کی طرف منسوب نہیں کیا گیا۔ ان کا مقام قرآنی آیات سے ثابت ہے۔

کتابیں اور حوالے

  • القرآن الکریم: سورۃ الانعام 6:84–89؛ سورۃ ص 38:45–50، خاص طور پر 38:48۔
  • تفسیر طبری، تفسیر ابن کثیر اور معارف القرآن: الانعام 6:84–89 اور ص 38:48؛ تفسیری اور تاریخی اقوال کو قرآنی متن سے الگ سمجھنے کے لیے۔
  • صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت الیسع علیہ السلام کی زندگی کا کوئی تفصیلی قصہ نہیں؛ مضمون کا بنیادی دلیلی متن قرآن کی دو آیات ہیں۔

جو بات دلیل سے ثابت ہے وہی بیان کی گئی؛ باقی کو تفسیری قول کے درجے پر رکھا گیا ہے۔

یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments