وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Anbiya-e-Kiram› حضرت ذوالکفل علیہ السلام: صابرین اور اخیار میں شمار ہونے والے

حضرت ذوالکفل علیہ السلام: صابرین اور اخیار میں شمار ہونے والے

نAuthor Nawab
قصص الانبیاء • حضرت ذوالکفل علیہ السلام

حضرت ذوالکفل علیہ السلام: صابرین اور اخیار میں شمار ہونے والے

قرآن میں صرف دو مقامات پر نام، مگر دونوں جگہ بلند تعریف: صبر کرنے والے، اللہ کی رحمت میں داخل، اور «اخیار» یعنی بہترین لوگوں میں سے۔ یہ مضمون صرف وہی بیان کرتا ہے جو ثابت ہے۔

کچھ انبیا کا ذکر قرآن میں طویل واقعات کے ساتھ آتا ہے اور کچھ کا چند لفظوں میں۔ حضرت ذوالکفل علیہ السلام دوسری قسم میں ہیں: دو سورتوں میں تین آیات۔ مگر ان مختصر آیات میں اللہ نے ان کے لیے جو الفاظ چنے وہ چھوٹے نہیں: سورۃ الانبیاء انہیں صبر کرنے والوں اور صالحین کے ساتھ رکھتی ہے، اور سورۃ ص انہیں «اخیار» میں شمار کرتی ہے۔

چونکہ قرآن ان کے زمانے، قوم، خاندان یا واقعات کی تفصیل نہیں دیتا، اس لیے بعد کی کتابوں میں خالی جگہ کو کہانیوں سے بھر دیا گیا۔ اس مضمون کا اصول سادہ ہے: جو اللہ نے فرمایا وہ یقین سے کہا جائے، جو مفسرین کا قول ہے اسے قول کہا جائے، اور جس کی سند ثابت نہیں اسے قرآن یا حدیث کے نام سے بیان نہ کیا جائے۔

سادہ چراغ اور کھلا صفحہ: قرآن کے مختصر ذکر میں بلند مقام کا علامتی منظر
سادہ چراغ اور خالی صفحہ: قرآنی متن میں کم الفاظ کے باوجود بلند مقام کا علامتی منظر۔

قرآن میں دو مقام، اور دونوں میں تعریف

سورۃ الانبیاء میں اللہ تعالیٰ حضرت اسماعیل، حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل علیہم السلام کا نام ایک ساتھ لیتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہ سب صبر کرنے والوں میں سے تھے؛ پھر اگلی آیت میں کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کیا اور وہ صالحین میں سے تھے:

وَإِسْمَـٰعِيلَ وَإِدْرِيسَ وَذَا ٱلْكِفْلِ ۖ كُلٌّ مِّنَ ٱلصَّـٰبِرِينَ ۝ وَأَدْخَلْنَـٰهُمْ فِى رَحْمَتِنَآ ۖ إِنَّهُم مِّنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
«اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل (کو یاد کیجیے)؛ یہ سب صبر کرنے والوں میں سے تھے۔ اور ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کیا؛ بے شک وہ صالحین میں سے تھے۔» (سورۃ الانبیاء 21:85–86)

دوسرا مقام سورۃ ص ہے، جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ حضرت اسماعیل، حضرت الیسع اور حضرت ذوالکفل علیہم السلام کو یاد کریں:

وَٱذْكُرْ إِسْمَـٰعِيلَ وَٱلْيَسَعَ وَذَا ٱلْكِفْلِ ۖ وَكُلٌّ مِّنَ ٱلْأَخْيَارِ
«اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو یاد کیجیے؛ اور یہ سب اخیار (بہترین لوگوں) میں سے ہیں۔» (سورۃ ص 38:48)

ان آیات سے جو کچھ یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے:

  • صابر: ان کا نام صبر کرنے والوں میں آیا؛ یعنی ان کی زندگی میں آزمائشیں تھیں جن پر وہ اللہ کی اطاعت پر جمے رہے۔
  • اللہ کی رحمت میں داخل: یہ اللہ کی طرف سے ان کے انجام کی گواہی ہے۔
  • صالحین اور اخیار میں سے: قرآن یہی لفظ دوسرے جلیل القدر انبیا کے لیے استعمال کرتا ہے (دیکھیے سورۃ ص 38:45–47 جہاں حضرت ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہم السلام کو «اخیار» کہا گیا)۔
  • انبیا کے ساتھ ذکر: دونوں مقامات پر ان کا نام معروف انبیا کے ساتھ آیا ہے۔
صبح کی طرف کھلتا راستہ: صبر اور استقامت کا علامتی منظر
صبح کی طرف کھلتا راستہ: صبر اور استقامت کے قرآنی پیغام کا علامتی منظر۔

«ذوالکفل» کا مطلب

«ذوالکفل» نام یا لقب کی صورت میں آیا ہے۔ عربی میں «کِفل» کا مطلب حصہ، کفالت یا ذمہ داری ہے۔ مفسرین نے اسی بنیاد پر مختلف معنی بیان کیے: ذمہ داری اٹھانے والا، دوہرا اجر پانے والا، یا کسی عہد کی پابندی کرنے والا۔ مگر قرآن یہ نہیں بتاتا کہ یہ لقب کس واقعے کی وجہ سے ملا؛ اس لیے کسی ایک معنی کو قطعی کہنا مناسب نہیں۔

کیا وہ نبی تھے؟

جمہور مفسرین، جن میں امام ابنِ کثیر بھی ہیں، قرآنی سیاق کی بنیاد پر انہیں نبی قرار دیتے ہیں: ان کا ذکر دونوں جگہ انبیا کے ساتھ آیا، اور انہی صفات کے ساتھ جو انبیا کے لیے آتی ہیں۔ بعض اقوال میں انہیں نبی کے بجائے ایک صالح بندہ کہا گیا ہے۔ یہ اختلاف ان کی شان میں کمی نہیں؛ قرآن کی تعریف اپنی جگہ مکمل ہے۔ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ جو بات یقینی ہے (صبر، صلاح، رحمت میں داخلہ، اخیار میں شمار) اس پر زور دیا جائے اور اختلافی بات کو اختلافی ہی کہا جائے۔

پہاڑی زیتون کا باغ: غیر معین علامتی منظر
پہاڑی زیتون زار: ایک غیر معین، علامتی منظر؛ حضرت ذوالکفل علیہ السلام کے وطن یا علاقے کا دعویٰ نہیں۔

مشہور قصے اور ان کی حیثیت

تفسیر اور قصص کی کتابوں میں حضرت ذوالکفل علیہ السلام سے منسوب ایک قصہ ملتا ہے: انہوں نے دن کے روزے، رات کی عبادت اور غصہ نہ کرنے کی شرط پر ایک ذمہ داری قبول کی، پھر ابلیس نے انہیں غصہ دلانے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ یہ قصہ نصیحت کے لیے سنایا جاتا ہے، لیکن اس کی تفصیل کسی صحیح مرفوع حدیث سے ثابت نہیں۔ اسے «قرآن کا واقعہ» یا «بخاری کی حدیث» کہنا درست نہیں۔

ایک اور غلط فہمی «الکفل» نامی ایک شخص کی توبہ والی روایت سے پیدا ہوتی ہے، جسے امام ترمذی نے نقل کیا ہے۔ اس روایت میں نام «کِفل» ہے، «ذوالکفل» نہیں، اور وہ شخص گناہ گار بتایا گیا ہے جس نے توبہ کی؛ محدثین نے اس کی سند پر بھی کلام کیا ہے۔ محض لفظی مشابہت سے اسے حضرت ذوالکفل علیہ السلام کی سوانح بنانا احتیاط کے خلاف ہے۔

اسی طرح انہیں کسی بائبلی شخصیت (مثلاً حزقیل) کے ساتھ قطعی طور پر ایک قرار دینا قرآن سے ثابت نہیں؛ یہ بعض مفسرین کا ایک قول ہے، دوسرے اقوال بھی منقول ہیں۔ ان کی قوم، علاقے، زمانے یا قبر کے بارے میں کوئی بات یقین سے کہنے کے لیے مضبوط دلیل درکار ہے، جو موجود نہیں۔

ستاروں بھرا آسمان اور صبح کی امید: اللہ کی رحمت کا علامتی منظر
ستاروں سے روشن فلک اور صبح کی امید: اللہ کی رحمت اور استقامت کا علامتی اختتام۔

عملی سبق

  1. صبر عمل میں نظر آئے: قرآن نے ان کے نام کے ساتھ صبر جوڑا۔ صبر صرف تکلیف چپ چاپ سہنا نہیں؛ اللہ کی اطاعت پر قائم رہنا اور مشکل میں رویہ درست رکھنا بھی ہے۔
  2. اللہ کی گواہی اصل مقام ہے: لوگوں کی شہرت نہیں، اللہ کا «اخیار میں سے» کہہ دینا اصل کامیابی ہے۔
  3. علم میں امانت: جو بات ثابت نہیں اسے یقینی کہہ کر بیان نہ کریں؛ یہ بھی انبیا کے ادب کا حصہ ہے۔
  4. مختصر ذکر، مکمل پیغام: کسی کی فضیلت ماننے کے لیے لمبی کہانی ضروری نہیں؛ اللہ کے چند الفاظ کافی ہیں۔

خلاصہ

حضرت ذوالکفل علیہ السلام کا قرآنی تعارف تین صفتوں میں سمٹا ہوا ہے: صابر، صالح اور اخیار میں سے۔ اللہ نے انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمایا اور ان کا نام جلیل القدر انبیا کے ساتھ رکھا۔ باقی تفصیلات (نام کا سبب، قوم، زمانہ، قصے) تفسیری اقوال ہیں جن کی حیثیت قول کی ہے، یقین کی نہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

۱۔ حضرت ذوالکفل علیہ السلام کا ذکر قرآن میں کہاں ہے؟

سورۃ الانبیاء 21:85–86 اور سورۃ ص 38:48 میں۔ پہلی جگہ صابرین اور صالحین کے ساتھ، دوسری جگہ «اخیار» کے ساتھ۔

۲۔ کیا وہ نبی تھے؟

جمہور مفسرین انبیا کے ساتھ ذکر کی بنیاد پر انہیں نبی مانتے ہیں؛ بعض اقوال میں صالح بندہ کہا گیا ہے۔ قرآن میں ان کے لیے الگ سے لفظ «نبی» نہیں آیا، اس لیے یہ مسئلہ اختلافی ہے۔

۳۔ کیا وہ حزقیل (Ezekiel) ہی تھے؟

یہ بعض تفسیری اقوال میں ملنے والی ایک رائے ہے، قرآن یا صحیح حدیث سے قطعی طور پر ثابت نہیں۔

۴۔ کیا روزے، عبادت اور ابلیس والا قصہ صحیح حدیث ہے؟

نہیں؛ یہ تفسیری و تاریخی روایت ہے جس کی سند صحیح مرفوع حدیث کے درجے کی نہیں۔

دعا

رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ
«اے ہمارے رب! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں مسلمان ہونے کی حالت میں موت دے۔» (سورۃ الاعراف 7:126)

کتابیں اور حوالے

  • القرآن الکریم: الانبیاء 21:85–86؛ ص 38:48؛ ص 38:45–47۔
  • تفسیر ابنِ کثیر اور تفسیر طبری (الانبیاء 21:85 اور ص 38:48 کے تحت): حضرت ذوالکفل علیہ السلام کی پہچان پر منقول اقوال اور ان کی سند پر مؤلفین کی اپنی رائے کے ساتھ پڑھیں۔
  • جامع ترمذی، حدیث 2496: «الکفل» نامی شخص کی توبہ کی روایت؛ یہ حضرت ذوالکفل علیہ السلام کی سوانح نہیں۔
  • صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ذوالکفل علیہ السلام کی سوانح کے نام سے کوئی روایت نہیں؛ ان کے بارے میں قطعی بنیاد قرآن کے دو مقامات ہیں۔

نوٹ: اس مضمون میں صرف قرآن کی آیات اور مستند حدیث کی کتابوں کے حوالے دیے گئے ہیں؛ جہاں تفسیری یا تاریخی اقوال آئے ہیں وہاں صاف لکھا گیا ہے کہ وہ قرآن یا صحیح حدیث کا درجہ نہیں رکھتے۔ غلطی کی نشاندہی پر ہم شکرگزار ہوں گے۔

یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments