حضرت الیاس علیہ السلام: بعل کے خلاف توحید کی دعوت
حضرت الیاس علیہ السلام: بعل کے خلاف توحید کی دعوت
ایک سوال جو قوم کے سامنے رکھا گیا: «کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور سب سے بہتر خالق کو چھوڑ دیتے ہو؟» قرآن کی روشنی میں ان کی رسالت، قوم کا انکار اور اللہ کا سلام۔
کچھ انبیا کی دعوت قرآن میں طویل مکالموں کے ساتھ آتی ہے؛ حضرت الیاس علیہ السلام کی دعوت چند آیات میں نہایت صاف سنائی دیتی ہے۔ وہ اپنی قوم سے پوچھتے ہیں: کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟ کیا بعل کو پکارتے ہو اور احسن الخالقین کو چھوڑ دیتے ہو؟ یہ صرف بت پرستی پر اعتراض نہیں؛ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ جس رب نے اسے اور اس کے باپ دادا کو پیدا کیا، عبادت کا حق بھی اسی کا ہے۔
قرآن انہیں «مرسلین» میں شمار کرتا ہے، ان کی قوم کا انکار بیان کرتا ہے، اور پھر ان پر سلام بھیجتا ہے۔ اس مضمون میں قرآنی معلومات کو بعد کی تفسیری کہانیوں سے الگ رکھا گیا ہے۔
قرآن میں حضرت الیاس علیہ السلام کا مقام
سورۃ الانعام میں ان کا نام حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کے ساتھ آیا ہے اور سب کو صالحین کہا گیا:
وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلْيَاسَ ۖ كُلٌّ مِّنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
«اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس؛ سب صالحین میں سے تھے۔» (سورۃ الانعام 6:85)
سورۃ الصافات میں ان کی دعوت کا مرکزی پیغام بیان ہوا ہے:
وَإِنَّ إِلْيَاسَ لَمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ أَلَا تَتَّقُونَ
«اور بے شک الیاس رسولوں میں سے تھے۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: کیا تم (اللہ سے) نہیں ڈرتے؟» (سورۃ الصافات 37:123–124)
بعل کو پکارنا، خالق کو بھول جانا
أَتَدْعُونَ بَعْلًا وَتَذَرُونَ أَحْسَنَ ٱلْخَـٰلِقِينَ ٱللَّهَ رَبَّكُمْ وَرَبَّ ءَابَآئِكُمُ ٱلْأَوَّلِينَ
«کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو؟ اللہ کو، جو تمہارا رب اور تمہارے پہلے باپ دادا کا رب ہے۔» (سورۃ الصافات 37:125–126)
حضرت الیاس علیہ السلام نے قوم کو صرف منع نہیں کیا؛ انہوں نے دلیل دی: اللہ تمہارا رب ہے اور تمہارے پہلے بزرگوں کا بھی رب ہے۔ یعنی رزق، زندگی اور ہدایت کا اصل دینے والا کوئی مقامی معبود نہیں، صرف اللہ ہے۔ آیت بعل کے نام کے سوا اس معبود کی شکل، مندر یا اس قوم کے بادشاہ کی کوئی تفصیل نہیں دیتی؛ قرآن کا زور شرک کی اصل خرابی پر ہے: مخلوق کو پکارنا اور خالق سے غفلت۔
آج کے قاری کے لیے بھی سوال وہی ہے: مشکل میں بندہ کس سے امید رکھتا ہے، نعمت پر کس کا شکر کرتا ہے، اور فیصلوں میں کس کا حکم سب سے اوپر رکھتا ہے۔ توحید زبان کا اقرار ہونے کے ساتھ دل کا بھروسا اور عمل کی پیروی بھی ہے۔
قوم کا انکار اور مخلص بندوں کا استثنا
فَكَذَّبُوهُ فَإِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِينَ
«تو انہوں نے انہیں جھٹلایا، سو وہ ضرور (عذاب میں) حاضر کیے جائیں گے۔ سوائے اللہ کے مخلص بندوں کے۔» (سورۃ الصافات 37:127–128)
قرآن قوم کے انکار کو مختصر لفظوں میں بیان کرتا ہے اور ساتھ ہی ایک اہم استثنا رکھتا ہے: اللہ کے مخلص بندے۔ ان کی تعداد یا نام نہیں بتائے گئے؛ بس اتنا کہ ہر سننے والا ایک جیسا نہیں تھا۔ یہ دعوت دینے والوں کے لیے تسلی بھی ہے: حق پہنچانا نبی کی ذمہ داری تھی، ہر مخاطب کا مان لینا کسی پیغمبر کے اختیار میں نہیں۔ نتیجہ اللہ کے پاس ہے۔
سلام جو نسلوں تک باقی رہا
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى ٱلْـَٔاخِرِينَ سَلَـٰمٌ عَلَىٰٓ إِلْ يَاسِينَ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِينَ
«اور ہم نے بعد والوں میں ان کا (نیک) ذکر باقی رکھا۔ سلام ہو الیاس پر۔ بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔» (سورۃ الصافات 37:129–132)
ان کی قوم کے تاریخی حالات تفصیل سے معلوم نہ ہوں، پھر بھی ان کا اخلاص اور پیغام قرآن کے ذریعے آج تک پڑھا جاتا ہے۔ ان کا مقام لوگوں کی شہرت سے نہیں، اللہ کے فیصلے سے واضح ہوتا ہے: وہ رسول تھے، محسنین میں سے تھے، اور ان پر اللہ کا سلام ہے۔ (آیت 130 میں «اِل یاسین» قراءت کے اعتبار سے «الیاس» ہی کی ایک صورت ہے، جیسا کہ مفسرین نے بیان کیا۔)
کن قصوں کو یقینی نہ سمجھیں
عام وعظ اور قصص کی کتابوں میں حضرت الیاس علیہ السلام کے بارے میں قحط کے کئی سال، بارش کا رکنا اور لوٹنا، پہاڑوں میں چھپنا، آگ کے گھوڑے پر آسمان پر اٹھایا جانا، اور حضرت الیسع علیہ السلام کو جانشین بنانا سننے کو ملتا ہے۔ ان میں سے بیشتر باتیں تفسیر کی کتابوں میں اسرائیلی یا تاریخی اقوال کے طور پر منقول ہیں۔ ان کی تفصیل قرآن میں نہیں، اور کوئی صحیح مرفوع حدیث انہیں یقینی واقعہ نہیں بناتی۔ تفسیر کی کتاب میں کسی قصے کا آ جانا اسے خود بخود صحیح سند نہیں دے دیتا۔
بعض اقوال میں الیاس اور ادریس علیہما السلام کو ایک ہی شخصیت کہا گیا ہے۔ قرآن دونوں نام الگ مقامات پر لیتا ہے (ادریس علیہ السلام کے لیے مریم 19:56–57)۔ اس پہچان کے لیے کوئی صحیح حدیث نہیں؛ بہتر ہے کہ ہر نام کو اس کی اپنی جگہ رکھا جائے اور اختلاف کو اختلاف کہا جائے۔
عملی سبق
- دعوت دلیل کے ساتھ: حضرت الیاس علیہ السلام نے منع کرنے کے ساتھ وجہ بتائی: خالق کون ہے، رب کون ہے۔
- نتیجہ اللہ کے پاس: قوم کے انکار نے ان کی دعوت کو کمزور نہیں کیا؛ اللہ نے ان پر سلام بھیجا۔
- مخلص بندے ہر دور میں: اکثریت کے انکار میں بھی کچھ لوگ حق پر رہتے ہیں؛ ان میں شامل ہونے کی کوشش ہی اصل کام ہے۔
- علم کی امانت: جو قصہ ثابت نہیں اسے قرآن یا حدیث کے نام سے نہ سنائیں۔
خلاصہ
حضرت الیاس علیہ السلام قرآن کے مطابق اللہ کے رسول تھے، صالحین میں سے تھے، انہوں نے قوم کو بعل چھوڑ کر احسن الخالقین کی عبادت کی دعوت دی، قوم نے جھٹلایا مگر اللہ کے مخلص بندے الگ رہے، اور اللہ نے ان کا نیک ذکر باقی رکھا اور ان پر سلام بھیجا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ حضرت الیاس علیہ السلام کا ذکر قرآن میں کہاں ہے؟
سورۃ الانعام 6:85 میں صالحین کے ساتھ، اور سورۃ الصافات 37:123–132 میں ان کی دعوت، قوم کا انکار اور ان پر سلام۔
۲۔ بعل کیا تھا؟
سورۃ الصافات 37:125 کے مطابق وہ معبود جسے ان کی قوم اللہ کو چھوڑ کر پکارتی تھی۔ قرآن اس کی شکل یا مزید تفصیل نہیں بتاتا؛ یقینی پیغام یہ ہے کہ اللہ ہی ان کا اور ان کے باپ دادا کا رب ہے۔
۳۔ کیا انہیں آگ کے گھوڑے پر آسمان پر اٹھایا گیا؟
یہ بات بعد کی تفسیری اور اسرائیلی روایات میں آتی ہے، قرآن یا کسی صحیح مرفوع حدیث سے ثابت نہیں۔
۴۔ کیا الیاس اور ادریس علیہما السلام ایک ہی نبی ہیں؟
بعض اقوال میں ایسا کہا گیا، مگر قرآن دونوں نام الگ مقامات پر لیتا ہے اور کوئی صحیح حدیث انہیں ایک نہیں قرار دیتی؛ احتیاط یہ ہے کہ دونوں کو الگ رکھا جائے۔
دعا
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
«اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما؛ بے شک تو ہی بہت عطا کرنے والا ہے۔» (سورۃ آل عمران 3:8)
کتابیں اور حوالے
- القرآن الکریم: الانعام 6:85؛ الصافات 37:123–132؛ مریم 19:56–57 (ادریس علیہ السلام کا الگ ذکر)۔
- تفسیر ابنِ کثیر اور تفسیر طبری (الصافات 37:123–132 کے تحت): تفسیری روایات، اسرائیلی اقوال اور قرآنی متن کے درمیان فرق کے ساتھ مطالعہ کریں۔
- صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت الیاس علیہ السلام کے واقعات کے نام سے کوئی مرفوع روایت نہیں؛ ان کے بارے میں قطعی بنیاد قرآن ہے۔
نوٹ: اس مضمون میں صرف قرآن کی آیات اور مستند حدیث کی کتابوں کے حوالے دیے گئے ہیں؛ جہاں تفسیری یا تاریخی اقوال آئے ہیں وہاں صاف لکھا گیا ہے کہ وہ قرآن یا صحیح حدیث کا درجہ نہیں رکھتے۔ غلطی کی نشاندہی پر ہم شکرگزار ہوں گے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment