وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Anbiya-e-Kiram› حضرت یعقوب علیہ السلام: اسرائیل، صبرِ جمیل اور یوسف کے والد

حضرت یعقوب علیہ السلام: اسرائیل، صبرِ جمیل اور یوسف کے والد

نAuthor Nawab
قصص الانبیاء • حضرت یعقوب علیہ السلام

حضرت یعقوب علیہ السلام: اسرائیل، صبرِ جمیل اور یوسف کے والد

ایک والد جس نے برسوں کی جدائی کو «صبرِ جمیل» سے سہا، جس کی آنکھیں غم سے سفید ہو گئیں مگر زبان سے «میں اپنے غم کی فریاد صرف اللہ سے کرتا ہوں» کے سوا کچھ نہ نکلا۔

حضرت یعقوب علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے ہیں۔ قرآن انہیں «اسرائیل» بھی کہتا ہے، اور ان کی اولاد «بنی اسرائیل» کے نام سے پوری تاریخ میں جانی گئی۔ ان کا نام قرآن میں سولہ مرتبہ آیا ہے اور ان کی سیرت کا سب سے روشن باب سورۂ یوسف ہے، جہاں ہم انہیں ایک نبی، ایک باپ اور ایک صابر بندے کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔

یہ مضمون قرآنِ کریم اور صحیح احادیث کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ جہاں کوئی تفصیل تفسیر یا اہلِ کتاب کے ذرائع سے آئی ہے وہاں ہم نے وضاحت کر دی ہے، تاکہ قاری کو معلوم ہو کہ کیا دین کا یقینی حصہ ہے اور کیا تاریخی قول۔

زیتون کے باغ پر طلوعِ آفتاب — سرزمینِ کنعان کا علامتی منظر
سرزمینِ انبیا کا علامتی منظر — یعقوب علیہ السلام ابراہیم و اسحاق علیہما السلام کے وارث

نسب اور نبوت: ابراہیم کے پوتے

قرآن نے حضرت یعقوب علیہ السلام کی ولادت کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے ایک بشارت کے طور پر بیان کیا۔ فرشتوں نے ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ کو اسحاق کی خوشخبری دی اور «اسحاق کے بعد یعقوب» کی بھی (ہود 11:71)۔ سورۂ انبیاء میں فرمایا:

وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ إِسْحَـٰقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً ۖ وَكُلًّا جَعَلْنَا صَـٰلِحِينَ
«اور ہم نے انہیں اسحاق عطا کیا، اور مزید یعقوب؛ اور ہر ایک کو ہم نے نیک بنایا۔» (الانبیاء 21:72)

سورۂ مریم میں ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم سے الگ ہوئے تو اللہ نے انہیں اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور «ہر ایک کو نبی بنایا» (مریم 19:49)۔ اور سورۂ عنکبوت میں فرمایا کہ اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں «نبوت اور کتاب» رکھ دی (العنکبوت 29:27)۔ یعنی یعقوب علیہ السلام کی نبوت قرآن کی صریح نص سے ثابت ہے۔

ایک وضاحت ضروری ہے: سورۂ انعام کی آیت 84 میں «وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ...» کے الفاظ ہیں؛ مفسرین کے نزدیک یہاں «اس کی اولاد» سے مراد ابراہیم علیہ السلام (یا نوح علیہ السلام) ہیں، یعقوب علیہ السلام نہیں۔ البتہ تاریخی طور پر داؤد، سلیمان، موسیٰ، ہارون، زکریا، یحییٰ علیہم السلام سب بنی اسرائیل سے ہیں، اور عیسیٰ علیہ السلام اپنی والدہ حضرت مریم کے واسطے سے بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ انبیا کی ایک طویل قطار یعقوب علیہ السلام کی نسل میں آئی، مگر اس کی دلیل یہ آیت نہیں۔

«اسرائیل» کون؟

قرآن میں «بنی اسرائیل» کا لفظ بار بار آیا ہے۔ اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کا دوسرا نام یا لقب ہے۔ سورۂ آلِ عمران میں اس کی صراحت موجود ہے:

۞ كُلُّ ٱلطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَٰٓءِيلُ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ مِن قَبْلِ أَن تُنَزَّلَ ٱلتَّوْرَىٰةُ ۗ قُلْ فَأْتُوا۟ بِٱلتَّوْرَىٰةِ فَٱتْلُوهَآ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ
«سب کھانے بنی اسرائیل کے لیے حلال تھے سوائے اس کے جو اسرائیل نے تورات نازل ہونے سے پہلے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔ کہہ دو: تورات لاؤ اور پڑھو اگر تم سچے ہو۔» (آلِ عمران 3:93)

یہاں «اسرائیل» سے مراد یعقوب علیہ السلام ہیں جنہوں نے کوئی چیز اپنے اوپر حرام کر لی تھی (کون سی چیز، اس پر تفاسیر میں اقوال ہیں؛ قرآن نے تعین نہیں کیا)۔ پس «بنی اسرائیل» کا مطلب ہے: یعقوب علیہ السلام کی اولاد۔

گھرانہ: گیارہ ستارے اور یوسف

سورۂ یوسف کا آغاز ایک خواب سے ہوتا ہے جو بیٹے نے باپ کو سنایا:

إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَـٰٓأَبَتِ إِنِّى رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِى سَـٰجِدِينَ ۝ قَالَ يَـٰبُنَىَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلَىٰٓ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا۟ لَكَ كَيْدًا ۖ إِنَّ ٱلشَّيْطَـٰنَ لِلْإِنسَـٰنِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
«جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا: اے ابا جان! میں نے گیارہ ستاروں، سورج اور چاند کو دیکھا کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ باپ نے کہا: اے میرے بیٹے! اپنا خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا، ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی چال چلیں گے؛ بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔» (یوسف 12:4–5)

قرآن سے یہ بات واضح ہے کہ یوسف علیہ السلام کے بھائی کئی تھے اور گیارہ ستاروں کی تعبیر ان کے بھائیوں پر کی گئی؛ اس بنیاد پر مفسرین نے بیٹوں کی تعداد بارہ بتائی ہے۔ یہ تعداد اہلِ کتاب کی روایات سے بھی ملتی ہے، مگر قرآن یا صحیح حدیث میں «بارہ» کا لفظ صراحت سے نہیں آیا۔ یعقوب علیہ السلام کا پہلا تاثر ہی ایک باپ کی فراست دکھاتا ہے: انہوں نے خواب کی عظمت پہچانی، بیٹے کو بھائیوں کے حسد سے خبردار کیا اور ساتھ ہی خوشخبری دی کہ اللہ تمہیں خوابوں کی تعبیر سکھائے گا اور آلِ یعقوب پر اپنی نعمت پوری کرے گا (یوسف 12:6)۔

جدائی کی رات: «فَصَبْرٌ جَمِيلٌ»

بھائی یوسف علیہ السلام کو ساتھ لے گئے اور رات کو روتے ہوئے واپس آئے، ساتھ ایک قمیص تھی جس پر جھوٹا خون لگا تھا:

وَجَآءُو عَلَىٰ قَمِيصِهِۦ بِدَمٍ كَذِبٍ ۚ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ ۖ وَٱللَّهُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ
«اور وہ اس کی قمیص پر جھوٹا خون لگا کر لائے۔ باپ نے کہا: نہیں، بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک بات بنا لی ہے؛ پس صبر ہی بہتر ہے، اور جو تم بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جاتی ہے۔» (یوسف 12:18)

یہ آیت یعقوب علیہ السلام کے کردار کی کنجی ہے۔ انہوں نے بیٹوں کی بات کا جھوٹ بھانپ لیا، مگر نہ چیخے، نہ بددعا دی۔ ان کے جملے میں تین چیزیں ہیں: حقیقت کا ادراک («تمہارے نفس نے بات بنا لی»)، صبر کا فیصلہ («فَصَبْرٌ جَمِيلٌ»)، اور صرف اللہ پر بھروسہ («وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ»)۔ صبرِ جمیل وہ صبر ہے جس میں شکوہ کسی مخلوق سے نہ ہو۔

چٹان پر رکھا ہوا سفید کپڑا — یوسف علیہ السلام کی قمیص کا علامتی منظر
قمیص کا علامتی منظر — پہلی قمیص جھوٹے خون کے ساتھ (12:18)، آخری قمیص بینائی کی واپسی کے ساتھ (12:93)

دوسری آزمائش: بنیامین اور وہ قول جو اصول بن گیا

برسوں بعد جب قحط پڑا اور بیٹے مصر سے غلہ لائے، تو مصر کے عزیز (جو درحقیقت یوسف علیہ السلام تھے) نے شرط رکھی کہ اگلی بار اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ لاؤ۔ یعقوب علیہ السلام نے بڑی مشکل سے، اللہ کے نام پر پختہ عہد لے کر، بنیامین کو بھیجا، اور بیٹوں کو نصیحت کی:

وَقَالَ يَـٰبَنِىَّ لَا تَدْخُلُوا۟ مِنۢ بَابٍ وَٰحِدٍ وَٱدْخُلُوا۟ مِنْ أَبْوَٰبٍ مُّتَفَرِّقَةٍ ۖ وَمَآ أُغْنِى عَنكُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ ۖ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ
«اور کہا: اے میرے بیٹو! ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا؛ اور میں تمہیں اللہ کی طرف سے کسی چیز سے بچا نہیں سکتا، حکم تو اللہ ہی کا ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔» (یوسف 12:67)

یہ آیت تدبیر اور توکل کا توازن سکھاتی ہے: ایک باپ احتیاطی تدبیر بھی بتاتا ہے اور ساتھ ہی کہتا ہے کہ تدبیر تقدیر کو نہیں بدل سکتی۔ جب بنیامین مصر میں روک لیے گئے اور بڑا بھائی بھی وہیں رک گیا، تو یعقوب علیہ السلام پر دہرا غم ٹوٹا:

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ ۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَأْتِيَنِى بِهِمْ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ ۝ وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَـٰٓأَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَٱبْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ ٱلْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ
«کہا: نہیں، بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک بات بنا لی ہے؛ پس صبر ہی بہتر ہے۔ امید ہے کہ اللہ ان سب کو میرے پاس لے آئے گا؛ بے شک وہی سب جاننے والا، حکمت والا ہے۔ اور ان سے منہ پھیر لیا اور کہا: ہائے افسوس یوسف پر! اور غم سے ان کی آنکھیں سفید ہو گئیں، اور وہ غم کو دبائے ہوئے تھے۔» (یوسف 12:83–84)

بیٹوں نے کہا کہ آپ یوسف کو یاد کرتے کرتے گھل جائیں گے یا ہلاک ہو جائیں گے۔ اس پر وہ جملہ آیا جو صبرِ جمیل کی تعریف ہے:

قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُوا۟ بَثِّى وَحُزْنِىٓ إِلَى ٱللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ۝ يَـٰبَنِىَّ ٱذْهَبُوا۟ فَتَحَسَّسُوا۟ مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَا۟يْـَٔسُوا۟ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ لَا يَا۟يْـَٔسُ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْكَـٰفِرُونَ
«کہا: میں اپنی بے قراری اور اپنے غم کی فریاد صرف اللہ سے کرتا ہوں، اور میں اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اے میرے بیٹو! جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کی تلاش کرو، اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو؛ بے شک اللہ کی رحمت سے کافر لوگ ہی مایوس ہوتے ہیں۔» (یوسف 12:86–87)

غور کیجیے: برسوں کی جدائی، بینائی کا زیاں، دوسرے بیٹے کی گمشدگی — اور وہی باپ بیٹوں کو حکم دے رہا ہے کہ مایوس نہ ہو، تلاش کرو۔ انہیں اللہ کی طرف سے یقین تھا کہ وہ خواب سچا تھا اور یوسف زندہ ہیں۔ صبر کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا نہیں؛ «جاؤ اور تلاش کرو» بھی صبر ہی کا حصہ ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں یعقوب کی مثال

واقعۂ افک کے دوران جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی گئی اور انہیں معلوم ہوا کہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تک پہنچ چکی ہے، تو انہوں نے یعقوب علیہ السلام کے صبر کو اپنے لیے نمونہ بنایا۔ صحیح بخاری میں ان کے الفاظ ہیں:

وَاللَّهِ لَئِنْ حَلَفْتُ لاَ تُصَدِّقُونِي، وَلَئِنِ اعْتَذَرْتُ لاَ تَعْذِرُونِي، فَمَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ يَعْقُوبَ وَبَنِيهِ، فَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ
«اللہ کی قسم! اگر میں قسم کھاؤں تو تم میری تصدیق نہیں کرو گے، اور اگر عذر کروں تو میرا عذر قبول نہیں کرو گے؛ میری اور تمہاری مثال یعقوب اور ان کے بیٹوں کی سی ہے: جو تم بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جاتی ہے۔» (صحیح بخاری 3388)

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوسف علیہ السلام کے تعارف میں یعقوب علیہ السلام کا درجہ ان الفاظ میں بیان فرمایا:

الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمِ السَّلاَمُ
«کریم بن کریم بن کریم بن کریم: یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام۔» (صحیح بخاری 3390)

یہ حدیث بتاتی ہے کہ یعقوب علیہ السلام نبی، نبی کے بیٹے اور نبی کے پوتے تھے، اور خود ایک نبی کے والد؛ چار پشتوں کی یہ قطار پوری تاریخِ نبوت میں منفرد ہے۔

بینائی کی واپسی اور مصر میں ملاقات

جب یوسف علیہ السلام نے بھائیوں کے سامنے خود کو ظاہر کیا تو اپنی قمیص دی اور کہا کہ اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دو، ان کی بینائی لوٹ آئے گی۔ قافلہ مصر سے نکلا ہی تھا کہ یعقوب علیہ السلام نے کہا:

وَلَمَّا فَصَلَتِ ٱلْعِيرُ قَالَ أَبُوهُمْ إِنِّى لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ۖ لَوْلَآ أَن تُفَنِّدُونِ ۝ فَلَمَّآ أَن جَآءَ ٱلْبَشِيرُ أَلْقَىٰهُ عَلَىٰ وَجْهِهِۦ فَٱرْتَدَّ بَصِيرًا ۖ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّىٓ أَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
«اور جب قافلہ روانہ ہوا تو ان کے باپ نے کہا: مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے، اگر تم مجھے بہکا ہوا نہ سمجھو۔ ۝ پھر جب خوشخبری دینے والا آیا تو اس نے قمیص ان کے چہرے پر ڈالی اور وہ پھر بینا ہو گئے؛ کہا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے؟» (یوسف 12:94–96)

بیٹوں نے اعتراف کیا کہ ہم خطاکار تھے، ہمارے لیے استغفار کیجیے۔ یعقوب علیہ السلام نے فرمایا: «سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي» — میں عنقریب تمہارے لیے اپنے رب سے بخشش مانگوں گا (یوسف 12:97–98)۔ بعض تفاسیر میں ہے کہ انہوں نے سحر یا جمعہ کی رات کا انتظار کیا تاکہ قبولیت کا وقت ہو؛ یہ تفسیری قول ہے، قرآن نے صرف «عنقریب» کہا۔ پھر پورا گھرانہ مصر پہنچا؛ یوسف علیہ السلام نے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا اور سب نے سجدۂ تعظیم کیا، اور یوسف علیہ السلام نے کہا: «اے ابا جان! یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے، میرے رب نے اسے سچ کر دکھایا» (یوسف 12:99–100)۔ برسوں پہلے جو باپ بیٹے کو خواب چھپانے کی نصیحت کر رہا تھا، آج اسی خواب کی تعبیر اس کی آنکھوں کے سامنے تھی۔

پہاڑی راستے پر کنواں اور غروبِ آفتاب — مصر کی طرف سفر کا علامتی منظر
کنعان سے مصر تک کا سفر — «اور اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا» (12:100) — علامتی منظر

آخری وصیت: «میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟»

حضرت یعقوب علیہ السلام کی زندگی کا آخری منظر قرآن نے سورۂ بقرہ میں محفوظ کیا، اور اسے یہود کے سامنے دلیل کے طور پر پیش کیا کہ تمہارے باپ کا دین صرف توحید اور اسلام تھا:

وَوَصَّىٰ بِهَآ إِبْرَٰهِـۧمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَـٰبَنِىَّ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصْطَفَىٰ لَكُمُ ٱلدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ ۝ أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ ٱلْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنۢ بَعْدِى قَالُوا۟ نَعْبُدُ إِلَـٰهَكَ وَإِلَـٰهَ ءَابَآئِكَ إِبْرَٰهِـۧمَ وَإِسْمَـٰعِيلَ وَإِسْحَـٰقَ إِلَـٰهًا وَٰحِدًا وَنَحْنُ لَهُۥ مُسْلِمُونَ
«اور ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اسی کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی: اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لیے یہ دین چن لیا ہے، سو تم مسلمان ہونے کے سوا کسی حال میں نہ مرنا۔ ۝ کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب کو موت آئی، جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا: میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ انہوں نے کہا: ہم تیرے معبود اور تیرے باپ دادا ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کے معبود، ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔» (البقرہ 2:132–133)

موت کے وقت ایک نبی کی سب سے بڑی فکر مال یا جائیداد نہیں، اولاد کی توحید تھی۔ ان کی وفات کہاں ہوئی، کس عمر میں ہوئی اور تدفین کہاں ہوئی — قرآن اور صحیح حدیث میں اس کی تفصیل نہیں؛ اہلِ کتاب کے ذرائع میں مصر میں وفات اور کنعان (حبرون) میں تدفین کا ذکر ہے، جسے تاریخی قول سمجھنا چاہیے۔

نوٹ: اس مضمون کی ہر حدیث صحیح بخاری سے ہے اور ہر آیت کے ساتھ لنک موجود ہے۔ بیٹوں کی تعداد، وفات کی جگہ اور استغفار کے وقت جیسی باتیں تفسیری یا تاریخی اقوال ہیں؛ انہیں قرآن کی طرح یقینی نہ سمجھا جائے۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کی سیرت سے سبق

  1. صبرِ جمیل: وہ صبر جس میں شکوہ صرف اللہ سے ہو، مخلوق سے نہیں (12:18، 12:86)۔
  2. مایوسی کفر کی صفت ہے: «اللہ کی رحمت سے کافر لوگ ہی مایوس ہوتے ہیں» (12:87) — مشکل جتنی بھی لمبی ہو، امید ایمان کا حصہ ہے۔
  3. تدبیر بھی، توکل بھی: الگ الگ دروازوں سے داخل ہونے کی نصیحت اور ساتھ ہی «حکم اللہ ہی کا ہے» (12:67)۔
  4. اولاد کی تربیت میں فراست: بیٹے کی صلاحیت پہچاننا اور اسے حسد سے بچانے کی تدبیر کرنا (12:5)۔
  5. معاف کرنا، مگر اللہ سے بخشش کے ساتھ: بیٹوں کے اعتراف پر بددعا نہیں، استغفار کا وعدہ (12:98)۔
  6. آخری فکر توحید: «میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟» (2:133) — ہر والد کے لیے اصل وراثت کا سوال۔

خلاصہ

حضرت یعقوب علیہ السلام ایک ایسے نبی ہیں جن کی زیادہ تر سیرت قرآن نے ایک باپ کے روپ میں دکھائی ہے۔ ان کی آنکھیں روئیں مگر دل نے شکوہ نہ کیا؛ انہوں نے بیٹوں کی خطا دیکھی مگر رشتہ نہ توڑا؛ انہوں نے برسوں انتظار کیا مگر امید نہ چھوڑی۔ اللہ نے ان کے صبر کا پھل یہ دیا کہ کھوئی ہوئی بینائی بھی لوٹی اور کھویا ہوا بیٹا بھی، اور ان کے خاندان کو «بنی اسرائیل» کا نام دے کر نبوت کا مرکز بنا دیا۔ ان کا آخری سوال آج بھی ہر گھر کا سوال ہے: میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم — خطاطی کارڈ
«وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ» (12:18)
یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments