حضرت یوسف علیہ السلام: کنویں سے تختِ مصر تک — «احسن القصص»
حضرت یوسف علیہ السلام: کنویں سے تختِ مصر تک — «احسن القصص»
وہ واحد نبی جن کا پورا قصہ قرآن نے ایک ہی سورت میں، ایک ہی سانس میں سنایا — خواب سے کنواں، کنویں سے قید، قید سے تخت، اور تخت سے «رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ» کی دعا تک۔
سورۂ یوسف قرآنِ کریم کی وہ سورت ہے جسے اللہ نے خود «أَحْسَنَ الْقَصَصِ» — بہترین قصہ — کہا (یوسف 12:3)۔ ایک سو گیارہ آیات میں ایک نبی کی پوری زندگی ہے: بچپن کا خواب، بھائیوں کا حسد، غلامی، عورت کی آزمائش، قید، حکومت اور آخر میں پورے خاندان کا ملاپ۔ یہ قصہ مکہ کے مشکل دور میں نازل ہوا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہی لوگوں کی ایذا جھیل رہے تھے؛ گویا اللہ نے بتایا کہ اپنوں کی دی ہوئی تکلیف کا انجام بھی عزت اور معافی ہو سکتا ہے۔
اس مضمون میں قصہ قرآن کے الفاظ کی ترتیب سے بیان کیا گیا ہے اور صرف وہی احادیث لی گئی ہیں جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہیں۔ تفسیری تفصیلات (نام، عمریں، سال) جہاں آئی ہیں وہاں ان کی حیثیت بتا دی گئی ہے۔
نسب: کریم بن کریم بن کریم بن کریم
حضرت یوسف علیہ السلام حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام کے بیٹے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا تعارف ان الفاظ میں کرایا:
الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمِ السَّلاَمُ
«کریم بن کریم بن کریم بن کریم: یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام۔» (صحیح بخاری 3390)
اور معراج کی رات تیسرے آسمان پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سے ملاقات ہوئی؛ صحیح مسلم کی روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوسف علیہ السلام کو حسن کا آدھا حصہ دیا گیا تھا (صحیح مسلم 162)۔ یعنی ظاہری حسن اور باطنی کرم دونوں میں وہ اللہ کے چنے ہوئے بندے تھے۔
خواب اور بھائیوں کا حسد
قصے کا آغاز ایک خواب سے ہوا جس میں گیارہ ستارے، سورج اور چاند یوسف علیہ السلام کو سجدہ کر رہے تھے (یوسف 12:4)۔ یعقوب علیہ السلام نے بیٹے کو خواب بھائیوں سے چھپانے کی نصیحت کی اور خوشخبری دی کہ اللہ تمہیں چن لے گا اور خوابوں کی تعبیر سکھائے گا (یوسف 12:5–6)۔ مگر بھائیوں کا حسد پہلے ہی بھڑک چکا تھا: «یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم ایک مضبوط جماعت ہیں» (یوسف 12:8)۔ کسی نے قتل کا مشورہ دیا؛ ایک بھائی نے کہا قتل نہ کرو، کنویں کی تہہ میں ڈال دو۔ انہوں نے باپ سے اصرار کر کے یوسف کو ساتھ لیا:
فَلَمَّا ذَهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَجْمَعُوٓا۟ أَن يَجْعَلُوهُ فِى غَيَـٰبَتِ ٱلْجُبِّ ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَـٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
«پھر جب وہ اسے لے گئے اور سب نے طے کر لیا کہ اسے کنویں کی تہہ میں ڈال دیں، تو ہم نے اس کی طرف وحی کی: تم انہیں ان کے اس کام کی خبر ضرور دو گے اور وہ جانتے نہ ہوں گے۔» (یوسف 12:15)
کنویں کی تاریکی میں ایک بچے کو اللہ کی طرف سے تسلی دی گئی کہ ایک دن تم ان کے سامنے یہی بات کہو گے۔ یہی وہ وعدہ تھا جو برسوں بعد مصر کے محل میں پورا ہوا۔
کنویں سے مصر: «اور وہ اسے چند درہموں میں بیچ آئے»
وَجَآءَتْ سَيَّارَةٌ فَأَرْسَلُوا۟ وَارِدَهُمْ فَأَدْلَىٰ دَلْوَهُۥ ۖ قَالَ يَـٰبُشْرَىٰ هَـٰذَا غُلَـٰمٌ ۚ وَأَسَرُّوهُ بِضَـٰعَةً ۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَٰهِمَ مَعْدُودَةٍ وَكَانُوا۟ فِيهِ مِنَ ٱلزَّٰهِدِينَ
«اور ایک قافلہ آیا، انہوں نے اپنا پانی بھرنے والا بھیجا، اس نے ڈول ڈالا تو بولا: خوشخبری! یہ تو ایک لڑکا ہے۔ اور انہوں نے اسے تجارت کا مال سمجھ کر چھپا لیا، اور اللہ خوب جانتا تھا جو وہ کر رہے تھے۔ اور انہوں نے اسے معمولی قیمت، گنتی کے چند درہموں میں بیچ دیا، اور وہ اس میں بے رغبت تھے۔» (یوسف 12:19–20)
مصر میں جس شخص نے انہیں خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اسے عزت سے رکھو، شاید یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں (یوسف 12:21)۔ قرآن اس کے لیے «عزیزِ مصر» کا لقب استعمال کرتا ہے؛ اس کی بیوی کا نام قرآن یا صحیح حدیث میں نہیں آیا (مشہور نام «زلیخا» بعد کی روایات سے ہے)۔ اللہ نے فرمایا: «اور جب وہ اپنی پوری جوانی کو پہنچے تو ہم نے انہیں حکم اور علم دیا، اور ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں» (یوسف 12:22)۔
آزمائش اور «مَعَاذَ اللَّهِ»
عزیزِ مصر کی بیوی نے دروازے بند کر کے یوسف علیہ السلام کو اپنی طرف بلایا۔ قرآن ان کا جواب نقل کرتا ہے:
وَرَٰوَدَتْهُ ٱلَّتِى هُوَ فِى بَيْتِهَا عَن نَّفْسِهِۦ وَغَلَّقَتِ ٱلْأَبْوَٰبَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ ۚ قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ رَبِّىٓ أَحْسَنَ مَثْوَاىَ ۖ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
«اور جس عورت کے گھر میں وہ تھے اس نے انہیں اپنے نفس سے پھسلانا چاہا، دروازے بند کر دیے اور کہا: آ جاؤ۔ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ! وہ میرا آقا ہے، اس نے مجھے اچھی طرح رکھا؛ بے شک ظالم فلاح نہیں پاتے۔» (یوسف 12:23)
اگلی آیت میں اللہ نے فرمایا کہ ہم نے ان سے برائی اور بے حیائی کو پھیر دیا، «بے شک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھے» (یوسف 12:24)۔ یہاں «ہَمَّ بِهَا» کے الفاظ پر مفسرین کی بحث ہے؛ محقق علما کا موقف یہ ہے کہ یوسف علیہ السلام نے اپنے رب کی برہان دیکھ کر کوئی قدم نہیں اٹھایا، اور قرآن کی صریح گواہی ان کی پاکیزگی کی ہے۔ ان قصوں سے پرہیز کرنا چاہیے جو اسرائیلی روایات سے آ کر انبیا کی عصمت پر حرف لاتے ہیں۔ قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی پائی گئی اور گھر کے ایک گواہ نے سچ ظاہر کر دیا؛ عزیز نے کہا: «یہ تم عورتوں کا مکر ہے» (یوسف 12:26–29)۔
شہر کی عورتوں میں بات پھیلی تو عزیز کی بیوی نے انہیں دعوت دی اور یوسف علیہ السلام کو سامنے لائی؛ عورتوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور کہا: «یہ انسان نہیں، یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے» (یوسف 12:31)۔ جب دھمکی دی گئی کہ بات نہ مانی تو قید ہو گی، تو یوسف علیہ السلام نے دعا کی:
قَالَ رَبِّ ٱلسِّجْنُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا يَدْعُونَنِىٓ إِلَيْهِ ۖ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّى كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ ٱلْجَـٰهِلِينَ فَٱسْتَجَابَ لَهُۥ رَبُّهُۥ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
«کہا: اے میرے رب! قید مجھے اس سے زیادہ پسند ہے جس کی طرف یہ مجھے بلا رہی ہیں؛ اور اگر تو ان کا مکر مجھ سے نہ پھیرے گا تو میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور جاہلوں میں سے ہو جاؤں گا۔ پس ان کے رب نے ان کی دعا قبول کی اور ان عورتوں کا مکر ان سے پھیر دیا؛ بے شک وہی سننے والا، جاننے والا ہے۔» (یوسف 12:33–34)
یہ دعا بتاتی ہے کہ پاکیزگی خود پر بھروسے سے نہیں، اللہ سے پناہ مانگنے سے ملتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن سات لوگوں کو عرش کا سایہ ملے گا ان میں وہ شخص ہے جسے منصب اور حسن والی عورت بلائے اور وہ کہے: «میں اللہ سے ڈرتا ہوں» (صحیح بخاری 660)۔ یوسف علیہ السلام اس کی سب سے روشن مثال ہیں۔
قید: زندان بھی دعوت کی جگہ
حق ظاہر ہو جانے کے باوجود انہیں قید کر دیا گیا۔ قید میں دو نوجوانوں نے اپنے خواب سنائے۔ یوسف علیہ السلام نے تعبیر بتانے سے پہلے توحید کی دعوت دی:
يَـٰصَـٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ ءَأَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ ٱللَّهُ ٱلْوَٰحِدُ ٱلْقَهَّارُ
«اے میرے قید خانے کے دونوں ساتھیو! کیا الگ الگ کئی رب بہتر ہیں یا ایک اللہ جو سب پر غالب ہے؟» (یوسف 12:39)
انہوں نے بتایا کہ ایک ساتھی اپنے آقا کو شراب پلائے گا اور دوسرا سولی پائے گا۔ جس کی رہائی کی خبر دی اس سے کہا: «اپنے آقا کے پاس میرا ذکر کرنا»، مگر وہ بھول گیا، اور یوسف علیہ السلام «بِضْعَ سِنِينَ» — چند سال — مزید قید میں رہے (یوسف 12:42)۔ قرآن نے برسوں کی تعداد نہیں بتائی؛ «سات سال» تفسیری قول ہے۔
پھر بادشاہ نے خواب دیکھا: سات موٹی گائیں جنہیں سات دبلی کھا رہی ہیں، سات سبز بالیاں اور سات خشک۔ درباری تعبیر نہ دے سکے؛ تب اس رہا شدہ ساتھی کو یاد آیا۔ یوسف علیہ السلام نے قید ہی سے تعبیر بتائی: سات سال محنت سے کاشت کرو اور غلہ بالیوں میں رکھو، پھر سات سخت سال آئیں گے، پھر ایک سال خوش حالی کا (یوسف 12:46–49)۔ انہوں نے صرف تعبیر نہیں دی، پورا معاشی منصوبہ دے دیا۔
«میں باہر نہ نکلوں گا جب تک میری بے گناہی ثابت نہ ہو»
وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُ ٱلرَّسُولُ قَالَ ٱرْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ فَسْـَٔلْهُ مَا بَالُ ٱلنِّسْوَةِ ٱلَّـٰتِى قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ ۚ إِنَّ رَبِّى بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ
«اور بادشاہ نے کہا: اسے میرے پاس لاؤ۔ جب قاصد اس کے پاس آیا تو یوسف نے کہا: اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے؛ بے شک میرا رب ان کے مکر کو خوب جانتا ہے۔» (یوسف 12:50)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صبر و وقار کی تعریف میں فرمایا:
وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ
«اور اگر میں اتنا عرصہ قید میں رہتا جتنا یوسف رہے، تو میں بلانے والے کی دعوت (فوراً) قبول کر لیتا۔» (صحیح بخاری 3372)
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع اور یوسف علیہ السلام کی تعریف دونوں ہے: برسوں قید کے بعد جب رہائی کا پروانہ آیا تو انہوں نے پہلے اپنی عزت کی صفائی چاہی۔ عورتوں نے اعتراف کیا، اور عزیز کی بیوی نے کہا: «اب حق ظاہر ہو گیا، میں نے ہی اسے پھسلانا چاہا تھا اور وہ یقیناً سچوں میں سے ہے» (یوسف 12:51)۔ یوسف علیہ السلام نے کہا کہ یہ اس لیے کیا تاکہ عزیز جان لے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں خیانت نہیں کی، اور ساتھ ہی عاجزی سے کہا: «میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتا، نفس تو برائی کا حکم دیتا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے» (یوسف 12:52–53)۔
تختِ مصر: «مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کر دیجیے»
وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦٓ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِى ۖ فَلَمَّا كَلَّمَهُۥ قَالَ إِنَّكَ ٱلْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌ قَالَ ٱجْعَلْنِى عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلْأَرْضِ ۖ إِنِّى حَفِيظٌ عَلِيمٌ
«اور بادشاہ نے کہا: اسے میرے پاس لاؤ، میں اسے اپنے لیے خاص کر لوں۔ پھر جب اس سے بات کی تو کہا: آج تم ہمارے ہاں بااختیار اور امانت دار ہو۔ یوسف نے کہا: مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کر دیجیے؛ بے شک میں حفاظت کرنے والا، جاننے والا ہوں۔» (یوسف 12:54–55)
یہ آیت بتاتی ہے کہ جب اہلیت ہو اور مقصد لوگوں کی خدمت ہو، تو ذمہ داری مانگنا ممنوع نہیں۔ اللہ نے فرمایا: «اور اسی طرح ہم نے یوسف کو زمین میں اقتدار دیا... ہم جسے چاہتے ہیں اپنی رحمت پہنچاتے ہیں اور نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے» (یوسف 12:56)۔
بھائیوں کی واپسی اور وہ لمحہ جس کا وعدہ کنویں میں ہوا تھا
قحط کے سالوں میں یوسف علیہ السلام کے بھائی غلہ لینے مصر آئے؛ یوسف نے انہیں پہچان لیا، وہ نہ پہچان سکے۔ انہوں نے حکمت سے پہلے بنیامین کو بلوایا، پھر بادشاہ کا پیمانہ اس کے سامان میں رکھ کر اسے اپنے پاس روک لیا؛ قرآن کہتا ہے: «اسی طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی» (یوسف 12:76)۔ جب بھائی دوبارہ آئے، ٹوٹے ہوئے، اور کہا کہ ہم اور ہمارے گھر والے مصیبت میں ہیں، ہم پر صدقہ کیجیے، تو یوسف علیہ السلام نے پردہ اٹھا دیا:
قَالُوٓا۟ أَءِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ ۖ قَالَ أَنَا۠ يُوسُفُ وَهَـٰذَآ أَخِى ۖ قَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَـٰطِـِٔينَ قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ ٱلْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ ٱللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ
«انہوں نے کہا: کیا واقعی تم یوسف ہو؟ کہا: میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے؛ اللہ نے ہم پر احسان کیا۔ بے شک جو تقویٰ اور صبر اختیار کرے تو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ نے تمہیں ہم پر فضیلت دی اور ہم ہی خطاکار تھے۔ کہا: آج تم پر کوئی ملامت نہیں؛ اللہ تمہیں معاف کرے، اور وہ سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔» (یوسف 12:90–92)
«لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ» — یہی وہ جملہ ہے جو فتحِ مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے لیے دہرایا، جیسا کہ سیرت کی کتابوں میں منقول ہے۔ طاقت کے عروج پر معاف کر دینا یوسف علیہ السلام کی سنت ہے۔ انہوں نے اپنی قمیص بھیجی جس سے والد کی بینائی لوٹی، پھر پورا خاندان مصر آیا اور بچپن کا خواب سجدۂ تعظیم کی صورت میں پورا ہوا (یوسف 12:99–100)۔
آخری دعا: «مجھے مسلمان اٹھانا»
۞ رَبِّ قَدْ ءَاتَيْتَنِى مِنَ ٱلْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِى مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ فَاطِرَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ أَنتَ وَلِىِّۦ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِى مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِى بِٱلصَّـٰلِحِينَ
«اے میرے رب! تو نے مجھے حکومت میں سے حصہ دیا اور باتوں کی تعبیر سکھائی۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! دنیا اور آخرت میں تو ہی میرا کارساز ہے؛ مجھے مسلمان اٹھانا اور نیکوں کے ساتھ ملا دینا۔» (یوسف 12:101)
قرآن نے اس دعا کے بعد قصہ ختم کر دیا؛ ان کی وفات کا وقت اور جگہ بیان نہیں کی۔ بعض مفسرین نے اسے ان کی آخری دعا کہا ہے، مگر یہ تفسیر ہے، قرآن کی تصریح نہیں۔ البتہ اس دعا کا پیغام واضح ہے: تخت پر بیٹھا نبی حکومت کے دوام کی نہیں، ایمان پر خاتمے کی دعا مانگ رہا ہے۔ سورت کے اختتام پر اللہ نے فرمایا: «ان کے قصوں میں عقل والوں کے لیے عبرت ہے» (یوسف 12:111)۔ سورۂ مومن میں ہے کہ یوسف علیہ السلام مصر والوں کے پاس واضح دلائل لے کر آئے تھے، مگر وہ شک میں رہے، اور جب ان کی وفات ہوئی تو لوگوں نے کہا کہ اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول نہ بھیجے گا (المومن 40:34)۔ یعنی وہ مصر میں صرف وزیر نہیں، اللہ کے رسول بھی تھے۔
نوٹ: اس مضمون میں صرف صحیح بخاری و مسلم کی احادیث اور قرآن کی آیات لی گئی ہیں۔ عزیز کی بیوی کا نام، قید کے سال اور عمروں جیسی تفصیلات قرآن میں نہیں؛ انہیں تفسیری اقوال سمجھیں۔
سورۂ یوسف سے سبق
- حسد خاندان توڑ دیتا ہے: بھائیوں کا حسد قتل کے مشورے تک پہنچا (12:8–9)؛ اولاد میں انصاف اور دلوں کی نگرانی ضروری ہے۔
- پاکیزگی اللہ کی پناہ سے ملتی ہے: «مَعَاذَ اللَّهِ» (12:23) اور «قید مجھے زیادہ پسند ہے» (12:33)۔
- جہاں ہو، داعی رہو: قید خانہ بھی توحید کی دعوت کی جگہ بنا (12:39)۔
- عزت کی صفائی بھی حق ہے: رہائی سے پہلے بے گناہی کا ثبوت مانگنا (12:50)۔
- اہلیت ہو تو ذمہ داری مانگنا جائز ہے: «إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ» (12:55)۔
- طاقت میں معافی: «لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ» (12:92)۔
- انجام کی فکر: تخت پر بیٹھ کر «تَوَفَّنِي مُسْلِمًا» کی دعا (12:101)۔
خلاصہ
حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی اس بات کی گواہی ہے کہ اللہ کی تدبیر انسانوں کی سازشوں سے بڑی ہے۔ بھائیوں نے کنویں میں ڈالا، اللہ نے تخت پر بٹھایا؛ عورت نے قید کرائی، اللہ نے اسی قید کو بادشاہ تک پہنچنے کا راستہ بنایا۔ ان کی سیرت کا نچوڑ خود ان کے الفاظ ہیں: «جو تقویٰ اور صبر اختیار کرے تو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا» (12:90)۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment