حضرت اسحاق علیہ السلام: بڑھاپے میں بشارت، نبوت کی وراثت اور نیک نسل
حضرت اسحاق علیہ السلام: بڑھاپے میں بشارت، نبوت کی وراثت اور نیک نسل
حضرت اسحاق علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے والد ہیں۔ قرآن ان کا نام سترہ مقامات پر لیتا ہے، مگر ان کی زندگی کے واقعات کی لمبی تفصیل نہیں دیتا؛ جو بتاتا ہے وہ نہایت روشن ہے: بڑھاپے میں ان کی ولادت کی بشارت، ان کے نبی ہونے کی خوشخبری، اور ان کی نسل میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ۔ اس مضمون میں قرآن اور صحیح حدیث کو بنیاد بنایا گیا ہے اور بائبل یا بعد کے قصوں کی تفصیل کو الگ درجے پر رکھا گیا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں کا منظر: بھنا ہوا بچھڑا پیش کیا گیا، مگر مہمانوں نے ہاتھ نہ بڑھایا۔
مہمانوں کی آمد اور بشارت
قرآن حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت کی بشارت کو سورۃ ہود اور سورۃ الذاریات میں مہمان فرشتوں کے واقعے کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس انسانی صورت میں آئے، انہوں نے سلام کیا؛ حضرت ابراہیم علیہ السلام فوراً بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔ جب مہمانوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا تو آپ علیہ السلام کو خوف ہوا۔ فرشتوں نے کہا: ڈریں نہیں، ہم قومِ لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ آپ علیہ السلام کی اہلیہ کھڑی سن رہی تھیں:
وَامْرَأَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ قَالَتْ يَا وَيْلَتَىٰ أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَٰذَا بَعْلِي شَيْخًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ۖ رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ ۚ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ
«اور اس کی بیوی کھڑی تھی، وہ ہنس پڑی؛ تو ہم نے اسے اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔ وہ بولی: ہائے میری کم بختی! کیا میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بوڑھی ہوں اور یہ میرے شوہر بھی بوڑھے ہیں؟ یہ تو عجیب بات ہے۔ فرشتوں نے کہا: کیا تم اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہو؟ اے گھر والو! تم پر اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں؛ بے شک وہ تعریف کے لائق، بڑی شان والا ہے۔» (سورۃ ہود 11:71–73)
سورۃ الذاریات میں اسی واقعے میں بیٹے کے لیے «غُلَامٍ عَلِيمٍ» (علم والا لڑکا) کے الفاظ ہیں اور اہلیہ کے چہرہ پیٹ کر «عَجُوزٌ عَقِيمٌ» (بوڑھی بانجھ) کہنے کا ذکر ہے (51:24–30)۔ قرآن یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ کا نام نہیں لیتا؛ صحیح بخاری کی روایت میں ان کا نام سارہ آتا ہے (صحیح بخاری 3358)۔ ان کی یا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس وقت کی عمر (نوے اور ننانوے برس وغیرہ) بائبل اور اسرائیلی روایات سے لی جاتی ہے؛ قرآن صرف «بوڑھی» اور «بوڑھے» کہتا ہے، اور یہی کافی ہے۔
سورۃ الصافات میں بشارت کے الفاظ اور بھی واضح ہیں: حضرت اسحاق علیہ السلام کو نبی بنائے جانے کی خوشخبری دی گئی اور ان پر اور ان کے والد پر برکت کا ذکر ہوا:
وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِّنَ الصَّالِحِينَ وَبَارَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلَىٰ إِسْحَاقَ ۚ وَمِن ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ مُبِينٌ
«اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی جو نبی ہوگا، نیک لوگوں میں سے۔ اور ہم نے اس پر اور اسحاق پر برکت نازل کی؛ اور ان دونوں کی اولاد میں کوئی نیکوکار ہے اور کوئی اپنے آپ پر کھلا ظلم کرنے والا۔» (سورۃ الصافات 37:112–113)
بڑھاپے میں ملنے والی یہ اولاد اللہ کی رحمت اور وعدے کی سچائی کا نشان تھی۔
قربانی کا بیٹا کون؟ ایک ضروری وضاحت
سورۃ الصافات 37:100–107 میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خواب اور بیٹے کی قربانی کا واقعہ ہے؛ آیات میں اس بیٹے کا نام نہیں۔ اسی سورت میں قربانی کے واقعے کے بعد 37:112 میں حضرت اسحاق علیہ السلام کی بشارت آتی ہے، جس سے مفسرین کی بڑی تعداد نے سمجھا کہ قربانی والے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی بشارت الگ، بعد کی نعمت ہے؛ یہی رائے امت میں راجح اور مشہور ہے۔ بعض پرانے مفسرین نے حضرت اسحاق علیہ السلام کا نام بھی نقل کیا ہے۔ قرآن کا بنیادی پیغام دونوں صورتوں میں ایک ہے: باپ اور بیٹے کی مکمل اطاعت اور اللہ کی طرف سے «ذبح عظیم» کا فدیہ۔ تفصیل حضرت اسماعیل علیہ السلام کے مضمون میں ہے۔
نبوت کی وراثت: اسحاق، یعقوب اور آگے کا سلسلہ
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ
«اور ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھ دی، اور اسے دنیا میں اس کا اجر دیا، اور آخرت میں وہ یقیناً نیک لوگوں میں سے ہے۔» (سورۃ العنکبوت 29:27)
یہی مضمون سورۃ الانبیاء میں ہے: «اور ہم نے اسے اسحاق عطا کیا اور مزید یعقوب، اور سب کو نیک بنایا؛ اور انہیں پیشوا بنایا جو ہمارے حکم سے ہدایت دیتے تھے» (21:72–73)؛ اور سورۃ مریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنی قوم سے الگ ہونے کے بعد: «تو ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب بخشے اور ہر ایک کو نبی بنایا» (19:49)۔ سورۃ الانعام کی فہرست میں بھی وہ ہدایت یافتہ انبیاء میں شمار ہیں (6:84)۔ بنی اسرائیل کے تمام انبیاء، حضرت یوسف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک، حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد سے ہیں؛ اس لیے وہ اس پورے سلسلے کے جدِ امجد ہیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب کی تعبیر دیتے ہوئے حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہا کہ اللہ تم پر اپنی نعمت پوری کرے گا «جیسے اس نے پہلے تمہارے دونوں باپ دادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی» (12:6)۔ اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی وفات کے وقت ان کے بیٹوں نے کہا:
نَعْبُدُ إِلَٰهَكَ وَإِلَٰهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَٰهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
«ہم آپ کے معبود اور آپ کے باپ دادا ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے، جو ایک ہی معبود ہے، اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔» (سورۃ البقرہ 2:133)
قرآن کے مطابق ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو آخرت کی یاد کے خالص وصف سے چنا گیا (38:46)۔
قوت اور بصیرت والے بندے
وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ أُولِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ إِنَّا أَخْلَصْنَاهُم بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ وَإِنَّهُمْ عِندَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيَارِ
«اور ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کو یاد کیجیے جو قوت (عمل) اور بصیرت والے تھے۔ ہم نے انہیں ایک خالص وصف، آخرت کے گھر کی یاد، کے ساتھ چن لیا تھا۔ اور بے شک وہ ہمارے نزدیک چنے ہوئے بہترین لوگوں میں سے ہیں۔» (سورۃ ص 38:45–47)
یہ آیات حضرت اسحاق علیہ السلام کی شخصیت کا قرآنی خاکہ ہیں: عمل میں قوت، دین میں بصیرت، اور دل میں آخرت کی یاد۔ قرآن ان کے کسی معرکے، سفر یا مکالمے کی تفصیل نہیں دیتا، اور مسلمان مومنوں کو حکم ہے کہ وہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہونے والی وحی پر ایمان لائیں اور ان میں فرق نہ کریں (2:136)۔
صحیح حدیث میں حضرت اسحاق علیہ السلام
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت یوسف علیہ السلام کے نسب کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:
الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ: يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ
«کریم بن کریم بن کریم بن کریم: یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام۔» (صحیح بخاری، حدیث 3390)
چار پشتوں میں نبوت کا یہ سلسلہ صحیح حدیث سے ثابت ہے اور حضرت اسحاق علیہ السلام اس زنجیر کی اہم کڑی ہیں۔ صحیح بخاری 3358 میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور سارہ کے ظالم بادشاہ والے واقعے میں سارہ کا نام آتا ہے، اور اسی کے آخر میں ہاجرہ کے ان کی خدمت میں آنے کا ذکر ہے؛ یہ روایت حضرت اسحاق علیہ السلام کے گھرانے کا پس منظر دیتی ہے۔
جن باتوں میں احتیاط ضروری ہے
حضرت اسحاق علیہ السلام کے بارے میں عام طور پر جو تفصیلات سنائی جاتی ہیں، ان کا بڑا حصہ بائبل (کتابِ پیدائش) اور اس سے لی گئی اسرائیلی روایات سے ہے: ان کی اہلیہ کا نام (رِفقہ/ربقہ)، ان کے جڑواں بیٹے یعقوب اور عیسو، بڑھاپے میں بینائی کا کمزور ہونا اور برکت کی دعا کا واقعہ، شادی اور وفات کی عمریں (چالیس، ساٹھ، ایک سو اسی برس)، اور حبرون (الخلیل) میں مدفن۔ قرآن میں ان میں سے کوئی بات نہیں، اور صحیح حدیث میں بھی ان کی سند نہیں۔ ایسی باتیں بیان کرنی ہوں تو «اہلِ کتاب کی روایات کے مطابق» کہہ کر بیان کی جائیں؛ انہیں قرآن یا حدیث کا بیان کہنا درست نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اصول ہے کہ اہلِ کتاب کی باتوں کی نہ تصدیق کرو نہ تکذیب (صحیح بخاری 4485)۔ اسی طرح قربانی کے فدیے کو «اونٹ» کہنا غلط ہے؛ قرآن «ذبح عظیم» کہتا ہے اور روایات میں مینڈھے کا ذکر ہے۔
حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھی گئی (29:27)۔
عملی سبق
- اللہ کی رحمت اسباب کی پابند نہیں؛ بڑھاپے اور ناامیدی کے بعد بھی اس کا وعدہ پورا ہوتا ہے۔
- نعمت پر «اللہ کے حکم پر تعجب؟» کا جواب سکھاتا ہے کہ اللہ کی قدرت پر یقین ایمان کا حصہ ہے۔
- نیک اولاد کی دعا اور تربیت ایک نسل سے آگے جاتی ہے؛ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا پھل اسحاق، یعقوب اور ان کے بعد انبیاء کی صورت میں آیا۔
- قوتِ عمل، بصیرت اور آخرت کی یاد (38:45–46) کسی بھی مومن کے لیے کردار کا معیار ہیں۔
- انبیاء کے بارے میں وہی کہیں جو قرآن اور صحیح حدیث میں ہے؛ اہلِ کتاب کی تفصیلات کو ان کے درجے پر رکھیں۔
خلاصہ
حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت کی بشارت فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اہلیہ کو بڑھاپے میں دی (ہود 11:71–73، الذاریات 51:28–30)؛ انہیں نبی اور صالح بنائے جانے کی خوشخبری ملی (الصافات 37:112)؛ ان کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھی گئی (العنکبوت 29:27) اور وہ قوت و بصیرت والے چنے ہوئے بندوں میں ہیں (ص 38:45–47)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں «کریم» کے سلسلے میں یاد فرمایا (بخاری 3390)۔ اہلیہ کا نام، جڑواں بیٹے، عمریں اور مدفن اہلِ کتاب کی روایات ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کس کے بیٹے اور کس کے والد تھے؟
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے والد (ہود 11:71؛ بخاری 3390)۔ بنی اسرائیل کے تمام انبیاء ان کی نسل سے ہیں۔
۲۔ کیا قرآن حضرت اسحاق علیہ السلام کی والدہ کا نام بتاتا ہے؟
نہیں؛ قرآن انہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی کہتا ہے۔ صحیح بخاری 3358 میں ان کا نام سارہ آتا ہے۔
۳۔ کیا قربانی والے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام تھے؟
قرآن (37:100–107) نام نہیں لیتا۔ راجح اور مشہور رائے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ہے؛ بعض پرانے مفسرین نے حضرت اسحاق علیہ السلام کا نام بھی نقل کیا۔ اصل پیغام باپ بیٹے کی اطاعت ہے۔
۴۔ رِفقہ، عیسو اور برکت کی دعا کا واقعہ کہاں سے ہے؟
بائبل (پیدائش) اور اسرائیلی روایات سے۔ قرآن اور صحیح حدیث میں یہ تفصیلات نہیں؛ انہیں قرآن کا بیان کہنا غلط ہے۔
کتابیں اور حوالے
- القرآن الکریم: ہود 11:69–73؛ الذاریات 51:24–30؛ الصافات 37:100–113؛ الانبیاء 21:72–73؛ العنکبوت 29:27؛ مریم 19:49؛ الانعام 6:84؛ یوسف 12:6؛ البقرہ 2:133، 2:136؛ ص 38:45–47۔
- صحیح بخاری 3390: «الکریم ابن الکریم…»۔
- صحیح بخاری 3358: حضرت ابراہیم علیہ السلام اور سارہ کا واقعہ۔
- صحیح بخاری 4485: اہلِ کتاب کی روایات میں نہ تصدیق نہ تکذیب۔
- ابن کثیر، قصص الانبیاء / البدایہ والنہایہ: حضرت اسحاق علیہ السلام کا باب (اہلِ کتاب کی تفصیلات پر تنبیہ کے ساتھ)۔
قرآن اور صحیح حدیث بنیاد ہیں؛ بائبل اور اسرائیلی روایات کو الگ درجے پر رکھا گیا ہے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment