حضرت یونس علیہ السلام: مچھلی کے پیٹ کی دعا اور وہ قوم جس کا ایمان قبول ہوا
حضرت یونس علیہ السلام: مچھلی کے پیٹ کی دعا اور وہ قوم جس کا ایمان قبول ہوا
تین اندھیروں میں ایک دعا: «لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ»۔ قرآن اور صحیح حدیث کی روشنی میں اس نبی کا واقعہ جن کی قوم اکیلی ایسی قوم ہے جس کا ایمان عذاب آنے سے پہلے قبول ہوا۔
حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر قرآن میں چار نمایاں مقامات پر ہے: سورۃ الصافات 37:139–148 (سب سے تفصیلی)، سورۃ الانبیاء 21:87–88 (مشہور دعا)، سورۃ یونس 10:98 (قوم کا ایمان) اور سورۃ القلم 68:48–50 (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر کی تلقین)۔ سورۃ النساء 4:163 اور الانعام 6:86 میں ان کا نام دوسرے انبیا کے ساتھ آیا ہے۔ قرآن انہیں «ذو النون» اور «صاحب الحوت» (مچھلی والے) بھی کہتا ہے۔
یہ مضمون صرف قرآن اور صحیح حدیث پر کھڑا ہے؛ تفسیری تفصیلات کو الگ حصے میں ان کی حیثیت کے ساتھ رکھا گیا ہے۔
قوم سے ناراض ہو کر نکلنا
وَذَا ٱلنُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَـٰضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَىٰ فِى ٱلظُّلُمَـٰتِ أَن لَّآ إِلَـٰهَ إِلَّآ أَنتَ سُبْحَـٰنَكَ إِنِّى كُنتُ مِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
«اور مچھلی والے (کو یاد کیجیے) جب وہ غصے میں چل دیے اور سمجھے کہ ہم ان پر تنگی نہیں کریں گے؛ پھر انہوں نے اندھیروں میں پکارا: تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی قصوروار ہوں۔» (سورۃ الانبیاء 21:87)
حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی؛ قوم نے نہ مانا تو وہ اللہ کے حکم کا انتظار کیے بغیر، قوم سے ناراض ہو کر بستی سے نکل گئے۔ «فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ» کا مطلب مفسرین کے نزدیک یہ ہے کہ انہوں نے گمان کیا کہ اللہ ان پر تنگی نہ کرے گا (یعنی نکل جانے پر پکڑ نہ ہو گی)؛ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کوئی پیغمبر اللہ کی قدرت میں شک کرے۔ یہ ایک نبی کا اجتہادی عجلت تھی، جسے قرآن نے چھپایا نہیں، مگر ادب سے بیان کیا۔
بھرا ہوا جہاز اور قرعہ
وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ إِذْ أَبَقَ إِلَى ٱلْفُلْكِ ٱلْمَشْحُونِ فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ ٱلْمُدْحَضِينَ فَٱلْتَقَمَهُ ٱلْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ
«اور بے شک یونس رسولوں میں سے تھے۔ جب وہ بھرے ہوئے جہاز کی طرف بھاگ کر گئے۔ پھر قرعہ ڈالا تو وہ ہارنے والوں میں ہو گئے۔ تو مچھلی نے انہیں نگل لیا اور وہ (اپنے آپ کو) ملامت کرنے والے تھے۔» (سورۃ الصافات 37:139–142)
قرآن کا بیان یہیں تک ہے: بھرا ہوا جہاز، قرعہ، ہار، اور مچھلی کا نگل لینا۔ طوفان، قرعہ کے تین بار نکلنے اور جہاز والوں کی گفتگو کی تفصیلات تفسیری روایات میں ہیں۔ «مُلِيم» یعنی وہ خود کو ملامت کر رہے تھے؛ توبہ کا پہلا قدم۔
اندھیروں میں دعا اور اس کی قبولیت
فَٱسْتَجَبْنَا لَهُۥ وَنَجَّيْنَـٰهُ مِنَ ٱلْغَمِّ ۚ وَكَذَٰلِكَ نُـۨجِى ٱلْمُؤْمِنِينَ
«تو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں غم سے نجات دی؛ اور ایمان والوں کو ہم ایسے ہی نجات دیتے ہیں۔» (سورۃ الانبیاء 21:88)
«اندھیروں» (ظلمات) سے مراد مفسرین کے نزدیک رات، سمندر اور مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا ہے۔ دعا کے تین حصے ہیں: توحید کا اقرار (لا الٰہ الا انت)، اللہ کی پاکی (سبحانک)، اور اپنے قصور کا اعتراف (انی کنت من الظالمین)۔ کوئی مانگ نہیں، کوئی شکایت نہیں؛ صرف اللہ کی بڑائی اور اپنی کوتاہی۔ آیت کا آخری جملہ اس دعا کو ہر مومن کے لیے کھول دیتا ہے: «ایمان والوں کو ہم ایسے ہی نجات دیتے ہیں»۔
سورۃ الصافات بتاتی ہے کہ نجات کا سبب ان کی پچھلی زندگی کی تسبیح بھی تھی:
فَلَوْلَآ أَنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلْمُسَبِّحِينَ لَلَبِثَ فِى بَطْنِهِۦٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
«پس اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، تو اس (مچھلی) کے پیٹ میں اس دن تک رہتے جب لوگ اٹھائے جائیں گے۔» (سورۃ الصافات 37:143–144)
صحیح حدیث: یہ دعا جو بھی مانگے
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
دَعْوَةُ ذِي النُّونِ إِذْ دَعَا وَهُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ: لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَدْعُ بِهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلاَّ اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ
«ذو النون (یونس علیہ السلام) کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں مانگی: «لا الٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین»؛ جو مسلمان بھی کسی معاملے میں یہ دعا مانگے، اللہ اس کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے۔» (جامع ترمذی، حدیث 3505)
ایک اور صحیح حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت یونس علیہ السلام کے مقام کی حفاظت فرمائی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى
«کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ کہے: میں یونس بن متّٰی سے بہتر ہوں۔» (صحیح بخاری، حدیث 3413؛ نیز 3395)
راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام ان کے والد «متّٰی» کی طرف منسوب کر کے لیا؛ یوں ان کے والد کا نام صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ یہ حدیث سکھاتی ہے کہ کسی نبی کی ایک آزمائش کو دیکھ کر کوئی خود کو ان سے بڑھ کر نہ سمجھے۔
کھلے میدان میں، اور ایک بیل کا سایہ
۞ فَنَبَذْنَـٰهُ بِٱلْعَرَآءِ وَهُوَ سَقِيمٌ وَأَنۢبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّن يَقْطِينٍ
«پھر ہم نے انہیں کھلے میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھے۔ اور ہم نے ان پر ایک بیل دار درخت (یقطین) اگا دیا۔» (سورۃ الصافات 37:145–146)
«یقطین» وہ بیل ہے جس کے پتے چوڑے ہوں اور تنا نہ ہو، جیسے کدو؛ اس کے پتے سایہ دیتے ہیں اور مکھیاں قریب نہیں آتیں، یہ مفسرین کی وضاحت ہے۔ سورۃ القلم میں اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ صبر کریں اور «صاحب الحوت» کی طرح نہ ہوں، جنہوں نے غم سے بھرے دل کے ساتھ پکارا؛ اگر رب کی نعمت انہیں نہ سنبھالتی تو وہ ملامت کے ساتھ میدان میں پھینکے جاتے، مگر رب نے انہیں چن لیا اور صالحین میں کر دیا (القلم 68:48–50)۔ یعنی آخری بات ملامت نہیں، انتخاب اور صلاح ہے۔
وہ قوم جس کا ایمان قبول ہوا
وَأَرْسَلْنَـٰهُ إِلَىٰ مِا۟ئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ فَـَٔامَنُوا۟ فَمَتَّعْنَـٰهُمْ إِلَىٰ حِينٍ
«اور ہم نے انہیں ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگوں کی طرف بھیجا۔ تو وہ ایمان لے آئے، پس ہم نے انہیں ایک وقت تک فائدہ اٹھانے دیا۔» (سورۃ الصافات 37:147–148)
فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ ءَامَنَتْ فَنَفَعَهَآ إِيمَـٰنُهَآ إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّآ ءَامَنُوا۟ كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ ٱلْخِزْىِ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَمَتَّعْنَـٰهُمْ إِلَىٰ حِينٍ
«پھر کیوں نہ ہوئی کوئی بستی جو ایمان لاتی اور اس کا ایمان اسے فائدہ دیتا، سوائے یونس کی قوم کے؟ جب وہ ایمان لائے تو ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ہٹا دیا اور انہیں ایک وقت تک فائدہ پہنچایا۔» (سورۃ یونس 10:98)
قوم کی تعداد، ایک لاکھ یا زیادہ، قرآن ہی بتاتا ہے۔ عام قاعدہ یہ تھا کہ عذاب سامنے آ جانے کے بعد ایمان قبول نہیں ہوتا، مگر قومِ یونس نے عذاب کے آثار دیکھتے ہی سچی توبہ کی تو اللہ نے عذاب ٹال دیا۔ مفسرین کے مطابق یہ بستی نینویٰ تھی جو عراق میں دجلہ کے کنارے موصل کے قریب واقع تھی؛ یہ تاریخی قول ہے، قرآن نام نہیں لیتا۔ قوم کا بستی سے باہر نکل کر، بچوں اور جانوروں سمیت رو رو کر دعا کرنا بھی تفسیری روایات میں ہے۔
مشہور باتوں کی حیثیت
- مچھلی کے پیٹ میں تین دن، سات دن یا چالیس دن رہنا: تفسیری اقوال ہیں، قرآن یا صحیح حدیث میں مدت نہیں۔
- قوم کو «تین دن میں عذاب» کی مہلت دینا، بستی سے نکل جانا پھر لوٹنا: تفسیری روایات؛ قرآن صرف ناراض ہو کر جانا اور قوم کا ایمان بیان کرتا ہے۔
- ان کا زمانہ، بنی اسرائیل سے نسب، اور بستی کا جدید محلِ وقوع: تاریخی اقوال؛ یقین کے ساتھ نہ کہے جائیں۔
- سورۃ الصافات 37:143 میں «مسبحین» سے مراد ان کی پہلے سے عبادت گزار زندگی ہے؛ یہ خود دعا کی آیت نہیں (دعا 21:87 میں ہے)۔
عملی سبق
- توبہ کا نمونہ: توحید، تسبیح اور اعتراف؛ شکایت کے بغیر۔ یہ دعا ہر مشکل میں مانگی جا سکتی ہے (ترمذی 3505)۔
- عجلت سے بچیں: نیک مقصد میں بھی اللہ کے حکم کا انتظار ضروری ہے۔
- پہلے کی عبادت کام آتی ہے: «اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں نہ ہوتے…» خوشحالی کے دنوں کا ذکر مصیبت کے دنوں میں سہارا بنتا ہے۔
- توبہ کا دروازہ قوموں کے لیے بھی کھلا ہے: قومِ یونس اس کی زندہ مثال ہے۔
- انبیا کا ادب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی خود کو یونس بن متّٰی سے بہتر نہ کہے؛ ان کے واقعے سے سبق لیں، فیصلے نہ سنائیں۔
خلاصہ
حضرت یونس علیہ السلام اللہ کے رسول تھے جو قوم کے انکار پر ناراض ہو کر نکل گئے، بھرے جہاز میں قرعے میں ہارے، مچھلی نے نگل لیا، اور اندھیروں میں انہوں نے وہ دعا مانگی جسے اللہ نے قبول کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مسلمان کے لیے قبولیت کا ذریعہ بتایا۔ اللہ نے انہیں میدان میں ڈالا، بیل کا سایہ دیا، چن لیا اور صالحین میں کیا۔ ان کی قوم، ایک لاکھ یا زیادہ، ایمان لائی اور عذاب ٹل گیا؛ قرآن میں یہ اکیلی ایسی قوم ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ حضرت یونس علیہ السلام کی مشہور دعا کیا ہے؟
«لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» (الانبیاء 21:87)۔ ترمذی 3505 کے مطابق جو مسلمان کسی معاملے میں یہ دعا مانگے اللہ قبول فرماتا ہے۔
۲۔ انہیں «ذو النون» اور «صاحب الحوت» کیوں کہا گیا؟
«نون» اور «حوت» دونوں کا مطلب مچھلی ہے؛ مچھلی کے نگلنے کے واقعے کی نسبت سے (الانبیاء 21:87؛ القلم 68:48)۔
۳۔ کیا انہوں نے اللہ کی قدرت میں شک کیا؟
نہیں۔ «لن نقدر علیہ» کا مطلب مفسرین کے نزدیک «تنگی نہ کریں گے» ہے؛ انبیا اللہ کی قدرت میں شک سے پاک ہیں۔
۴۔ ان کی قوم کتنی تھی اور کہاں تھی؟
قرآن کے مطابق ایک لاکھ یا اس سے زیادہ (الصافات 37:147)۔ نینویٰ (موصل، عراق) کا نام تفسیری و تاریخی اقوال میں ہے۔
۵۔ وہ مچھلی کے پیٹ میں کتنے دن رہے؟
قرآن اور صحیح حدیث میں مدت نہیں بتائی گئی؛ تین، سات اور چالیس دن کے اقوال تفسیری ہیں۔
دعا
لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
«تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی قصوروار ہوں۔» (سورۃ الانبیاء 21:87)
کتابیں اور حوالے
- القرآن الکریم: الصافات 37:139–148؛ الانبیاء 21:87–88؛ یونس 10:98؛ القلم 68:48–50؛ النساء 4:163؛ الانعام 6:86۔
- جامع ترمذی، حدیث 3505: ذو النون کی دعا کی فضیلت (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ)۔
- صحیح بخاری، حدیث 3413 اور 3395: «کوئی نہ کہے میں یونس بن متّٰی سے بہتر ہوں»۔
- تفسیر ابنِ کثیر اور تفسیر طبری (الصافات 37:139–148 اور الانبیاء 21:87 کے تحت): ظلمات، یقطین، نینویٰ اور قوم کی توبہ پر تفسیری اقوال۔
نوٹ: اس مضمون میں صرف قرآن کی آیات اور مستند حدیث کی کتابوں کے حوالے دیے گئے ہیں؛ جہاں تفسیری یا تاریخی اقوال آئے ہیں وہاں صاف لکھا گیا ہے کہ وہ قرآن یا صحیح حدیث کا درجہ نہیں رکھتے۔ غلطی کی نشاندہی پر ہم شکرگزار ہوں گے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment