جنگِ جمل: بصرہ کے واقعات اور امت کا دردناک اختلاف — ادب اور احتیاط کے ساتھ
جنگِ جمل: بصرہ کے واقعات اور امت کا دردناک اختلاف — ادب اور احتیاط کے ساتھ
36 ہجری، بصرہ کے قریب: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ایک دوسرے کے مقابل آ گئے۔ اس زخم کو کیسے پڑھا جائے کہ تاریخ بھی سمجھ آئے اور ادب بھی باقی رہے؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور میں بصرہ کے قریب پیش آنے والا یہ واقعہ اسلامی تاریخ کا نہایت حساس موڑ ہے۔ اس میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما — جو عشرۂ مبشرہ میں سے ہیں — ایک طرف تھے اور خلیفۂ راشد حضرت علی رضی اللہ عنہ دوسری طرف۔ اسے سمجھنے کے لیے روایتوں میں فرق، فتنہ انگیز عناصر کے کردار اور صحابہ کے ادب — تینوں کو ساتھ رکھنا ہوگا۔ پس منظر کے لیے شہادتِ عثمان اور بیعتِ علی پڑھیے۔
پہلے اصول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک دو بڑے گروہ آپس میں نہ لڑیں، ان کے درمیان بڑی جنگ ہوگی اور دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہوگا» — صحیح بخاری 3609۔ یعنی دونوں فریق اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے، اور یہ حدیث خود بتاتی ہے کہ یہ اختلاف دین پر نہیں بلکہ اجتہاد پر تھا۔ اسی لیے اہلِ سنت کا متفقہ موقف ہے کہ جمل اور صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ حق کے زیادہ قریب تھے، اور دوسرا فریق خطا پر ہونے کے باوجود مجتہد اور ماجور تھا۔
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں جمل کے ایام میں اس حدیث نے روکا: «جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر آمنے سامنے ہوں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہیں»۔ پوچھا گیا: مقتول کیوں؟ فرمایا: «وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا» — صحیح بخاری 31، صحیح بخاری 7083۔ یہ حدیث عام مسلمانوں کے باہمی قتال کے بارے میں ہے؛ مجتہد صحابہ پر اس کا اطلاق نہیں، لیکن اس سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے صحابہ نے فتنے سے الگ رہنے ہی کو راستہ سمجھا۔
وَإِن طَآئِفَتَانِ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱقْتَتَلُوا۟ فَأَصْلِحُوا۟ بَيْنَهُمَا ۖ فَإِنۢ بَغَتْ إِحْدَىٰهُمَا عَلَى ٱلْأُخْرَىٰ فَقَـٰتِلُوا۟ ٱلَّتِى تَبْغِى حَتَّىٰ تَفِىٓءَ إِلَىٰٓ أَمْرِ ٱللَّهِ ۚ فَإِن فَآءَتْ فَأَصْلِحُوا۟ بَيْنَهُمَا بِٱلْعَدْلِ وَأَقْسِطُوٓا۟ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُقْسِطِينَ إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا۟ بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
«اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ … مومن تو آپس میں بھائی ہیں، سو اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ» (سورۂ حجرات 49:9-10)
قصاصِ عثمان کا مطالبہ
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مسلمانوں کے دلوں میں غم اور غصہ تھا اور قاتلوں کو قانون کے سامنے لانے کا مطالبہ ہر طرف سے اٹھ رہا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ مدینہ میں خلیفہ منتخب ہوئے، لیکن شہر میں وہی بلوائی موجود تھے جو قتل میں شریک تھے اور ان پر فوراً ہاتھ ڈالنا ممکن نہ تھا۔ ادھر حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما مدینہ سے مکہ گئے، جہاں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حج کے بعد موجود تھیں۔ وہاں رائے بنی کہ بصرہ جا کر قصاص کے مطالبے کے لیے قوت جمع کی جائے۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ تاریخی ماخذ کے مطابق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقصد خلافت کا دعویٰ یا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ نہیں تھا بلکہ اصلاح اور قصاص کا مطالبہ تھا۔ وہ اس آیت کے تحت نکلیں کہ لوگوں کے درمیان اصلاح کی جائے۔ بعد میں انہوں نے اس سفر پر افسوس کا اظہار کیا — یہ روایت بھی تاریخی کتابوں میں آتی ہے اور ان کے مقام کو بڑھاتی ہے، گھٹاتی نہیں۔
بصرہ: مذاکرات اور لڑائی کا پھوٹنا
بصرہ پہنچ کر مکی لشکر اور وہاں کے گورنر کے درمیان کشمکش ہوئی اور شہر پر قابو پا لیا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ مدینہ سے نکل کر کوفہ کے لوگوں کو ساتھ ملا کر بصرہ کی طرف آئے۔ دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو کئی دن پیغام رسانی اور مذاکرات چلتے رہے۔ تاریخی روایتوں میں ہے کہ حضرت علی اور حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہم کے درمیان ملاقات ہوئی، پرانی باتیں یاد دلائی گئیں، اور صلح کی فضا بن چکی تھی۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں مشہور ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بات یاد دلائی تو وہ میدان چھوڑ کر چلے گئے۔
پھر لڑائی کیسے شروع ہوئی؟ سب سے مشہور تاریخی بیان یہ ہے کہ قاتلینِ عثمان میں شامل فتنہ انگیز افراد — جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں گھسے ہوئے تھے اور جانتے تھے کہ صلح کا مطلب ان کا قصاص ہے — نے رات کے اندھیرے میں دونوں طرف حملہ کر کے یہ تاثر دیا کہ دوسرے فریق نے عہد توڑا ہے۔ یوں غلط فہمی میں لڑائی چھڑ گئی اور کسی ایک فریق کے چاہے بغیر خون بہنے لگا۔ محققین اس روایت کی تفصیلات میں احتیاط برتتے ہیں، مگر اس کا مجموعی مضمون — کہ صحابہ میں سے کوئی بھی یہ لڑائی نہیں چاہتا تھا — تمام معتبر ماخذ سے مطابقت رکھتا ہے۔
لڑائی جمادی الآخرہ 36 ہجری میں ہوئی۔ ام المومنین کا ہودج اونٹ پر میدان کے بیچ تھا اور لوگ اس کے گرد جان دیتے رہے؛ اسی نسبت سے یہ واقعہ "جمل" (اونٹ) کے نام سے مشہور ہوا۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ میدان میں ایک تیر سے شہید ہوئے اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ میدان چھوڑنے کے بعد وادی السباع میں ایک شخص کے ہاتھوں شہید کیے گئے۔ روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے قاتل کو جہنم کی وعید سنائی اور ان دونوں پر گہرے غم کا اظہار کیا۔ مرنے والوں کی تعداد تاریخی کتابوں میں مختلف ہے؛ کوئی ایک عدد قطعی نہیں۔
لڑائی کے بعد: عزت، معافی اور واپسی
جنگ ختم ہوتے ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ بھاگنے والے کا پیچھا نہ کیا جائے، زخمی کو قتل نہ کیا جائے، کسی کا مال نہ لوٹا جائے اور قیدی نہ بنائے جائیں۔ انہوں نے دونوں طرف کے مقتولین کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور ان پر رنج کیا۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے انہوں نے پوری عزت کا انتظام کیا: ان کے بھائی حضرت محمد بن ابی بکر کو ان کے پاس بھیجا، چند دن بصرہ میں قیام کے بعد انہیں باعزت طریقے سے مدینہ روانہ کیا، خود کچھ دور ساتھ چلے اور بصرہ کی خواتین کو ان کے ساتھ بھیجا۔ تاریخی روایت ہے کہ رخصت کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میرے اور علی کے درمیان وہی بات تھی جو ایک عورت اور اس کے سسرال کے درمیان ہو جاتی ہے، اور وہ میرے نزدیک بہترین لوگوں میں سے ہیں۔ اس کے بعد وہ مدینہ میں تعلیم و افتاء میں مشغول رہیں اور ان کی روایت کردہ احادیث امت کا سرمایہ ہیں۔
قصاص کا مسئلہ جنگ سے حل نہیں ہوا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کوفہ چلے گئے اور اگلا مرحلہ شام کے ساتھ تھا، جس کی تفصیل صفین اور تحکیم میں ہے۔
وَنَزَعْنَا مَا فِى صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَٰنًا عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَـٰبِلِينَ
«اور ان کے سینوں میں جو کچھ کدورت ہوگی ہم اسے نکال دیں گے؛ وہ بھائی بھائی بن کر تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے» (سورۂ حجر 15:47)
تاریخی کتابوں میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جمل کے مقتولین کے بارے میں امید ظاہر کی کہ وہ، طلحہ اور زبیر انہی لوگوں میں ہوں گے جن کے بارے میں اللہ نے یہ آیت فرمائی ہے۔ یہی اہلِ سنت کا راستہ ہے: دنیا کے اختلاف کو آخرت کی دشمنی نہ سمجھا جائے۔
اہلِ سنت کا ادب اور تاریخ کی احتیاط
- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ام المومنین ہیں؛ قرآن نے ان کی پاکدامنی کی گواہی دی (سورۂ نور 24:11) اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی عزت کا پورا لحاظ کیا۔
- حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما جنت کی بشارت پانے والے ہیں؛ ان کا اجتہاد غلط ہو سکتا ہے، نیت پر حکم نہیں لگایا جا سکتا۔
- حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفۂ راشد تھے اور حق کے زیادہ قریب؛ ان کی اطاعت سے گریز کرنے والے بھی مجتہد تھے۔
- اصل مجرم وہ فتنہ انگیز لوگ تھے جنہوں نے خلیفہ کو شہید کیا اور پھر صلح کو سبوتاژ کیا۔
- صحیحین کی روایت اور بعد کی تاریخی خبریں الگ اسناد اور مقاصد کے ساتھ جمع ہوئیں؛ ہر تفصیل کو ایک درجے کا نہ سمجھیں۔
آج اس واقعے سے کیا سیکھیں؟
جمل ہمیں دکھاتا ہے کہ جب قانون، سیاسی اعتماد اور معاشرتی امن ایک ساتھ کمزور ہو جائیں تو نیک نیت لوگ بھی ایسے حالات میں پھنس جاتے ہیں جو کوئی نہیں چاہتا۔ فتنہ انگیز اقلیت اکثریت کی نیک نیتی کو کیسے استعمال کرتی ہے — یہ سبق آج بھی تازہ ہے۔ اس واقعے کے مطالعے میں پہلے سے تیار فرقہ وارانہ کہانیوں کو ایک طرف رکھیں، قدیم مؤرخین کی روایت کو اس کی سند کے ساتھ پڑھیں اور ہر صحابی کا نام ادب سے لیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
جنگِ جمل کب اور کہاں ہوئی؟
جمادی الآخرہ 36 ہجری (656ء) میں بصرہ کے قریب۔ دن اور تفصیلات میں تاریخی کتابوں کا فرق ہے۔
اس کا نام "جمل" کیوں پڑا؟
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہودج اونٹ (جمل) پر تھا اور وہ میدان کی مرکزی نشانی بنا۔
کیا صلح بگڑنے کی مشہور روایت یقینی ہے؟
تفصیلات میں اختلاف ہے، مگر یہ بات تمام معتبر ماخذ سے مطابقت رکھتی ہے کہ صحابہ میں سے کوئی فریق لڑائی نہیں چاہتا تھا اور فتنہ انگیز عناصر نے اسے بھڑکایا۔
جنگ کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کیا ہوا؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی عزت و حفاظت کا پورا انتظام کیا اور وہ باعزت مدینہ واپس گئیں، جہاں وہ علم و حدیث کی مرجع رہیں۔
حوالہ جات
- صحیح بخاری 3609 — دو بڑے گروہوں کی جنگ، دعویٰ ایک۔
- صحیح بخاری 31، 7083 — ابو بکرہ رضی اللہ عنہ: فتنے سے کنارہ کشی۔
- سورۂ حجرات 49:9-10، سورۂ حجر 15:47، سورۂ نور 24:11۔
- تاریخ خلیفہ بن خیاط؛ ابن سعد، الطبقات؛ طبری، تاریخ (36ھ) — روایتوں کا درجہ الگ۔
اس موضوع کی روایات میں اختلاف موجود ہے؛ کسی روایت کو قطعی یا کسی صحابی پر الزام سمجھنے سے پہلے سند اور تحقیق پر توجہ دیں۔ سب صحابہ کے لیے رضی اللہ عنہم۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment