بنو نضیر کی جلا وطنی: قرآنی سیاق (سورۂ حشر)، صحیح روایات اور فَے کا اصول
بنو نضیر کی جلا وطنی: قرآنی سیاق (سورۂ حشر)، صحیح روایات اور فَے کا اصول
ایک قبیلہ اپنے قلعے چھوڑ کر نکلتا ہے، اونٹوں پر جتنا سامان لے جا سکتا ہے لے جاتا ہے — اور قرآن اس واقعے کو عبرت، مال کے اصول اور دلوں کے حال کی تصویر کے ساتھ بیان کرتا ہے۔
بنو نضیر مدینہ کے تین بڑے یہودی قبائل میں سے ایک تھے؛ بنو قینقاع کا معاملہ پہلے الگ مضمون میں آ چکا ہے اور بنو قریظہ کا واقعہ یہاں ہے۔ اس مضمون میں بنو نضیر کی جلا وطنی کو تین سطحوں پر دیکھا گیا ہے: صحیح حدیث کیا بتاتی ہے، قرآن اسے کیسے پیش کرتا ہے، اور کون سی مشہور تفصیلات صرف سیرت کی کتابوں میں ہیں۔
بنو نضیر کا پس منظر اور واقعات کا فرق
صحیفۂ مدینہ کے تحت یہودی قبائل مدینہ کے مشترکہ دفاع کے پابند تھے۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کو جلا وطن کیا اور بنو قریظہ کو ان کی جگہ رہنے دیا اور ان پر احسان کیا، یہاں تک کہ بنو قریظہ نے بعد میں (احزاب کے موقع پر) جنگ کی — صحیح بخاری 4028؛ صحیح مسلم 1766۔ یہ روایت دونوں قبائل کے معاملات کا ایک مختصر خاکہ ایک ہی سلسلے میں دیتی ہے، مگر یہ ایک ہی دن یا ایک ہی مہم نہیں؛ ان کے درمیان وقت اور اسباب کا فرق ہے۔
واقعے کی تاریخ: ایک مشہور رائے، مگر مختلف نقل
سیرت کی عام ترتیب بنو نضیر کی جلا وطنی کو 4 ہجری میں، غزوۂ احد کے بعد رکھتی ہے۔ مگر صحیح بخاری کے کتاب المغازی میں بنو نضیر کے باب کے ساتھ عروہ بن زبیر سے یہ قول نقل ہے کہ یہ واقعہ بدر کے چھ ماہ بعد اور احد سے پہلے ہوا، جب کہ ابنِ اسحاق اسے بئر معونہ کے بعد رکھتے ہیں۔ صحیح بخاری 4028 کا متن جلا وطنی بیان کرتا ہے مگر سن یا مہینہ نہیں دیتا۔ اس لیے حدیث کا مضبوط ثبوت واقعے کی بنیادی حقیقت کو قائم کرتا ہے، ہر تاریخ کو نہیں؛ 4 ہجری کو «مشہور رائے» کہنا درست ہے، «قطعی» کہنا نہیں۔
جلا وطنی کے سبب پر مآخذ کیا کہتے ہیں؟
سیرت میں مشہور سبب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیت کے معاملے میں بنو نضیر کے پاس گئے اور انہوں نے ایک دیوار سے بھاری پتھر گرا کر آپ کو شہید کرنے کی سازش کی، جس کی خبر وحی سے ملی۔ یہ واقعہ سیرت میں نمایاں ہے، مگر اس کی یہ تفصیل صحیح بخاری 4028 یا صحیح مسلم 1766 کے متن میں نہیں آتی؛ اسے ان دونوں صحیح روایات کا لفظی مواد کہنا غلط ہو گا۔ سنن ابی داود میں ایک طویل تاریخی روایت ہے جس میں قریش کے خط، بنو نضیر کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کچھ اہلِ علم کے ساتھ ملاقات کی دعوت، معاہدے پر اتفاق نہ ہونے، محاصرے اور آخر میں جلا وطنی کا سلسلہ بیان ہوا ہے — سنن ابی داود 3004۔ اس روایت کی ہر منزلی تفصیل دوسری کتابوں میں اسی ترتیب سے نہیں آتی، اس لیے اسے ابو داود کے متن کی ترتیب کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، سب کتابوں کے مشترکہ نقشے کے طور پر نہیں۔
گھیرا اور روانگی: جو تفصیل روایت میں ملتی ہے
ابو داود کی روایت کے مطابق معاملہ آخر جلا وطنی پر ختم ہوا۔ بنو نضیر اپنے اونٹوں پر جتنا سامان لے جا سکتے تھے لے گئے؛ سیرت میں ہے کہ وہ اپنے گھروں کے دروازے اور شہتیر تک اتار کر لے گئے اور خیبر اور شام کی طرف چلے گئے۔ قرآن اسی منظر کو بیان کرتا ہے:
هُوَ ٱلَّذِىٓ أَخْرَجَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ مِن دِيَـٰرِهِمْ لِأَوَّلِ ٱلْحَشْرِ ۚ مَا ظَنَنتُمْ أَن يَخْرُجُوا۟ ۖ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ ٱللَّهِ فَأَتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا۟ ۖ وَقَذَفَ فِى قُلُوبِهِمُ ٱلرُّعْبَ ۚ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِى ٱلْمُؤْمِنِينَ فَٱعْتَبِرُوا۟ يَـٰٓأُو۟لِى ٱلْأَبْصَـٰرِ
«وہی ہے جس نے اہلِ کتاب میں سے کافروں کو پہلے ہی حشر میں ان کے گھروں سے نکالا؛ تم گمان نہ کرتے تھے کہ وہ نکلیں گے اور وہ سمجھتے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے؛ پس اللہ ان پر وہاں سے آیا جہاں سے انہیں گمان بھی نہ تھا، اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا — وہ اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں اور مومنوں کے ہاتھوں سے اجاڑ رہے تھے؛ پس اے آنکھوں والو، عبرت لو» (سورۂ حشر 59:2)
آیت میں قبیلے کا نام نہیں؛ بنو نضیر سے اس کی نسبت حدیث اور تفسیر سے واضح ہوتی ہے۔ صحیح بخاری میں سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے سورۂ حشر کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: «کہو سورۂ نضیر» — صحیح بخاری 4029، صحیح بخاری 4882۔ «اپنے ہاتھوں سے اجاڑنا» اسی سامان اتار کر لے جانے کی طرف اشارہ سمجھا جاتا ہے۔
سورۂ حشر: قرآن واقعے کو کیسے پیش کرتا ہے؟
محاصرے کے دوران مسلمانوں نے بنو نضیر کی کچھ کھجوریں کاٹیں اور جلائیں؛ اس پر اعتراض ہوا تو یہ آیت اتری:
مَا قَطَعْتُم مِّن لِّينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَآئِمَةً عَلَىٰٓ أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ ٱللَّهِ وَلِيُخْزِىَ ٱلْفَـٰسِقِينَ
«تم نے جو کھجور کے درخت کاٹے یا انہیں ان کی جڑوں پر کھڑا چھوڑا، وہ اللہ کے حکم سے تھا، اور تاکہ وہ نافرمانوں کو رسوا کرے» (سورۂ حشر 59:5)
حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے کھجور کے درخت جلائے اور کاٹے — اس مقام کا نام «بُوَیرہ» تھا — پھر یہ آیت نازل ہوئی — صحیح بخاری 4031؛ صحیح مسلم 1745۔ آیت کے ظاہری مفہوم میں کچھ درختوں کا کاٹنا اور کچھ کا کھڑا چھوڑنا دونوں مذکور ہیں؛ یہ ایک جنگی ضرورت کا محدود اقدام تھا، عمومی حکم نہیں — خلفائے راشدین کی جنگی ہدایات میں درخت کاٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
سورۂ حشر صرف واقعہ نہیں بیان کرتی؛ وہ منافقین کے ان وعدوں کا بھی ذکر کرتی ہے جو انہوں نے بنو نضیر سے کیے اور پورے نہیں کیے (59:11-12)، اور مومنوں کو یہ درس دیتی ہے کہ قلعے اور اتحادی اللہ کے مقابلے میں کچھ نہیں۔
فَے اور مال کی تقسیم: غنیمت سے کیا فرق؟
وَمَآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ مِنْهُمْ فَمَآ أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُۥ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
«اور جو مال اللہ نے ان سے اپنے رسول کی طرف لوٹایا، اس کے لیے تم نے نہ گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ؛ لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے غلبہ دیتا ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے» (سورۂ حشر 59:6)
مَّآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ مِنْ أَهْلِ ٱلْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَـٰمَىٰ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ كَىْ لَا يَكُونَ دُولَةًۢ بَيْنَ ٱلْأَغْنِيَآءِ مِنكُمْ ۚ وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمْ عَنْهُ فَٱنتَهُوا۟ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ
«جو مال اللہ نے بستیوں والوں سے اپنے رسول کی طرف لوٹایا وہ اللہ، رسول، قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے — تاکہ وہ تمہارے مال داروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتا رہے …» (سورۂ حشر 59:7)
ایسا مال جو کھلی لڑائی کے بغیر حاصل ہو فقہ میں «فَے» کہلاتا ہے، اور اس کی تقسیم «غنیمت» (جس میں لڑنے والوں کے حصے ہوتے ہیں) سے مختلف ہے۔ «گھوڑے یا اونٹ نہ دوڑائے» کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی گھیرا یا دباؤ نہ تھا؛ مراد یہ ہے کہ مال میدانی جنگ کے لشکر کے ذریعے حاصل شدہ غنیمت کی طرح نہیں آیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو نضیر کا مال وہ فَے تھا جس کے لیے مسلمانوں نے گھوڑے یا اونٹ نہیں دوڑائے؛ یہ خاص طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا، آپ اس سے اپنے گھر والوں کا ایک سال کا خرچ نکالتے اور باقی گھوڑوں اور ہتھیاروں پر اللہ کی راہ کی تیاری کے لیے لگاتے — صحیح مسلم 1757؛ صحیح مسلم 1757 (طویل)۔ یعنی آپ نے اس مال کو ذاتی دولت کے طور پر محفوظ نہیں رکھا؛ سیرت میں ہے کہ اس سے مہاجرین کی ضروریات پوری کی گئیں، اور آیت 59:8-9 مہاجرین اور انصار دونوں کی تعریف کرتی ہے۔
بنو نضیر اور بعد کے واقعات کو الگ رکھنا
جلا وطن ہونے والوں میں سے بعض سردار خیبر پہنچے اور سیرت کے مطابق احزاب کے قبائلی اتحاد کی تشکیل میں شریک ہوئے؛ یہ تعلق سیرت اور تفسیر میں مذکور ہے اور بعد کے غزوات (خندق، خیبر) کا پس منظر بنتا ہے۔ مگر ان کڑیوں کو جوڑ کر ایک ہی مسلسل بیان بنانا اور ہر کڑی کو صحیح حدیث کا درجہ دینا درست نہیں؛ ہر واقعے کا اپنا حوالہ اور اپنا درجہ ہے۔
اس واقعے کی اہمیت: قرآن، سیاست اور انصاف
- مدینہ کے اندرونی امن کی حفاظت: عہد شکنی اور سازش کے بعد جلا وطنی — قتل نہیں؛ جان، سامان اور راستہ دیا گیا۔
- قرآن نے مال کا شرعی اصول قائم کیا: فَے کا مصرف ضرورت مند ہیں، تاکہ دولت چند ہاتھوں میں نہ گھومے (59:7)۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال کو جہاد کی تیاری اور گھر کے سالانہ خرچ تک محدود رکھا (مسلم 1757)۔
- منافقین کے جھوٹے وعدوں کی تصویر قرآن نے دکھائی (59:11-12)۔
- عبرت: قلعے، مال اور اتحادی اللہ کی تدبیر کے سامنے کچھ نہیں (59:2)۔
عام غلط فہمیاں
- غلط فہمی 1: بنو نضیر اور بنو قریظہ ایک ہی مہم تھی — نہیں؛ بخاری 4028 انہیں ایک سلسلے میں لاتی ہے مگر دونوں الگ وقت اور الگ انجام کے واقعات ہیں۔
- غلط فہمی 2: قرآن 59:2 میں سیدھا «بنو نضیر» لکھا ہے — نہیں؛ شناخت حدیث اور تفسیر سے ہوتی ہے (بخاری 4029، 4882)۔
- غلط فہمی 3: پتھر والی سازش صحیح بخاری میں ہے — نہیں؛ یہ سیرت کی روایت ہے۔
- غلط فہمی 4: بنو نضیر کا مال غنیمت کی طرح تقسیم ہوا — نہیں؛ یہ فَے تھا (59:6-7؛ مسلم 1757)۔
اہم باتیں ایک نظر میں
- صحیح بخاری 4028 / مسلم 1766: بنو نضیر جلا وطن، بنو قریظہ کو رہنے دیا گیا۔
- تاریخ: مشہور رائے 4 ہجری؛ عروہ کے قول میں احد سے پہلے — قطعی نہیں۔
- سبب کی تفصیل سیرت اور ابو داود 3004 میں؛ صحیحین کا متن مختصر ہے۔
- کھجوریں کاٹنے پر 59:5 کا نزول (بخاری 4031؛ مسلم 1745)۔
- مال فَے تھا، غنیمت نہیں (59:6-7؛ مسلم 1757)۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
بنو نضیر کو کیوں نکالا گیا؟
صحیحین کا متن «انہوں نے جنگ کی» کہتا ہے (بخاری 4028)؛ سیرت اور ابو داود 3004 میں عہد شکنی، سازش اور معاہدے پر اتفاق نہ ہونے کی تفصیل ہے۔
سورۂ حشر کو سورۂ نضیر کیوں کہا گیا؟
ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے اس سورت کو بنو نضیر کے واقعے سے جوڑتے ہوئے «سورۂ نضیر» کہنے کا مشورہ دیا (بخاری 4029، 4882)۔
فَے اور غنیمت میں کیا فرق ہے؟
غنیمت لڑائی سے حاصل ہو اور اس میں لڑنے والوں کے حصے ہوں؛ فَے بغیر لڑائی حاصل ہو اور اس کا مصرف 59:7 میں بیان کردہ طبقات ہیں۔
حوالہ جات
- سورۂ حشر 59:2، 59:5، 59:6، 59:7۔
- صحیح بخاری 4028؛ صحیح مسلم 1766 — جلا وطنی۔
- صحیح بخاری 4029، 4882 — «سورۂ نضیر»۔
- صحیح بخاری 4031؛ صحیح مسلم 1745 — کھجوریں کاٹنا۔
- صحیح مسلم 1757، 1757 (طویل) — فَے۔
- سنن ابی داود 3004 — طویل تاریخی روایت۔
آیت اور حدیث کے متن، سیرت کی تفصیل اور مصنف کی تشریح کو الگ رکھا گیا ہے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment