غزوۂ خیبر: قلعوں کی فتح اور علی رضی اللہ عنہ کا جھنڈا — محرم 7 ہجری
غزوۂ خیبر: قلعوں کی فتح اور علی رضی اللہ عنہ کا جھنڈا — محرم 7 ہجری
وہ قلعے جو عرب میں ناقابلِ تسخیر سمجھے جاتے تھے، اور وہ جھنڈا جس کے بارے میں ہر صحابی کی تمنا تھی کہ کاش مجھے ملے۔
خیبر مدینہ سے شمال میں تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر دور ایک زرخیز نخلستان تھا جس میں یہودی قبائل کے مضبوط قلعے تھے۔ مدینہ سے جلاوطن ہونے والے بنو نضیر کے سردار یہیں آ کر آباد ہوئے تھے اور یہیں سے غزوۂ احزاب کی سازش تیار ہوئی تھی۔ محرم 7 ہجری (628ء) میں صلحِ حدیبیہ کے فوراً بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کا رخ کیا۔ قرآن نے حدیبیہ کی بیعت کرنے والوں سے جس «قریب فتح» اور «بہت سی غنیمتوں» کا وعدہ کیا تھا، مفسرین کے نزدیک وہ خیبر ہی تھی:
۞ لَّقَدْ رَضِىَ ٱللَّهُ عَنِ ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ ٱلشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِى قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ ٱلسَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَـٰبَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا وَمَغَانِمَ كَثِيرَةً يَأْخُذُونَهَا ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا
«بے شک اللہ مومنوں سے راضی ہوا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے؛ اس نے جان لیا جو ان کے دلوں میں تھا، پس ان پر سکینت اتاری اور انہیں قریب کی فتح کا بدلہ دیا، اور بہت سی غنیمتیں جو وہ حاصل کریں گے؛ اور اللہ غالب، حکمت والا ہے۔» (الفتح 48:18–19)
یہ مضمون صحیح بخاری و مسلم کی روایات پر مبنی ہے؛ قلعوں اور لشکر کی تعداد جیسی تفصیلات سیرت کی کتابوں سے ہیں اور ان کی حیثیت ساتھ بتائی گئی ہے۔
پس منظر: بنو نضیر، احزاب اور حدیبیہ
خیبر صرف ایک قلعہ نہیں، مدینہ کے خلاف سازشوں کا مرکز تھا۔ بنو نضیر کے سردار حیی بن اخطب نے یہیں سے قریش اور غطفان کو اکٹھا کر کے مدینہ پر چڑھائی کرائی تھی (غزوۂ احزاب)۔ حدیبیہ کی صلح کے بعد جنوب (قریش) سے دس سال کا امن ہو گیا تو شمال کا یہ خطرہ ختم کرنا ضروری تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا کہ خیبر کے لیے صرف وہی چلے جو حدیبیہ میں شریک تھا — یعنی تقریباً چودہ سو صحابہ (صحیح بخاری 4154)، جن کے ساتھ تقریباً دو سو گھوڑے تھے۔ یوں غنیمت کا وعدہ انہی سے پورا ہوا جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔ پس منظر کے لیے: بنو نضیر کی جلاوطنی، صلحِ حدیبیہ۔
راستے میں: ذکر کی تعلیم اور عامر رضی اللہ عنہ کے اشعار
راستے میں صحابہ بلند آواز سے تکبیر کہنے لگے تو آپ نے فرمایا: «اپنے آپ پر نرمی کرو؛ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے، تم سننے والے، قریب کو پکار رہے ہو، جو تمہارے ساتھ ہے»۔ پھر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو فرمایا: کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ «لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ» (صحیح مسلم 2704)۔ رات کے سفر میں حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ رجزیہ اشعار پڑھ رہے تھے: «اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، نہ صدقہ کرتے، نہ نماز پڑھتے…»۔ آپ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: عامر۔ آپ نے فرمایا: «اللہ اس پر رحم کرے»۔ ایک صحابی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! (اب تو) آپ نے اس کے لیے شہادت واجب کر دی، کاش ہمیں اس سے مزید فائدہ اٹھانے دیتے (صحیح بخاری 4196)۔ خیبر ہی میں عامر رضی اللہ عنہ کی اپنی تلوار لوٹ کر انہیں لگی اور وہ شہید ہوئے؛ آپ نے فرمایا کہ ان کے لیے دوہرا اجر ہے۔
صبح کا حملہ: «اللہ اکبر، خیبر برباد ہوا»
آپ کا معمول تھا کہ کسی قوم پر رات کو نہ حملہ کرتے؛ صبح تک انتظار کرتے، اگر اذان سنائی دیتی تو رک جاتے (صحیح بخاری 610)۔ خیبر پہنچ کر رات ٹھہرے؛ صبح یہودی کسان اپنے کدال اور ٹوکریاں لے کر کھیتوں کو نکلے تو لشکر دیکھ کر چلائے: «محمد اور لشکر!» اور قلعوں کی طرف بھاگے۔ آپ نے ہاتھ اٹھا کر فرمایا:
اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ
«اللہ سب سے بڑا ہے، خیبر برباد ہوا؛ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے۔» (صحیح بخاری 4197؛ صحیح بخاری 3647)
یہ آخری جملہ سورۂ صافات کی آیت کی طرف اشارہ ہے (الصافات 37:177)۔ سیرت کی کتابوں کے مطابق خیبر کے قلعے تین حصوں (نطاۃ، شق، کتیبہ) میں بٹے تھے جن میں ناعم، صعب بن معاذ، قموص اور وطیح و سلالم مشہور ہیں۔ ایک ایک کر کے قلعے فتح ہوئے؛ محاصرہ کئی دن (بعض روایات میں تقریباً بیس دن) جاری رہا، اور بھوک کا یہ عالم تھا کہ ایک موقع پر ایک قلعے سے چربی کی تھیلی گرنے پر ایک صحابی لپکے (صحیح بخاری 4214)۔ اسی دوران پالتو گدھوں کا گوشت حرام ہونے کا حکم آیا اور ہانڈیاں الٹ دی گئیں (صحیح بخاری 4198)۔
«کل میں جھنڈا اسے دوں گا جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرتے ہیں»
ایک مضبوط قلعے کے سامنے پیش قدمی رک گئی۔ شام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلاً يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ، يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ
«کل میں یہ جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح دے گا؛ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔» (صحیح بخاری 4210؛ صحیح مسلم 2406)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لوگوں نے وہ رات اس فکر میں گزاری کہ جھنڈا کسے ملے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے امارت کی خواہش کبھی نہیں کی سوائے اس دن کے (صحیح مسلم 2405)۔ صبح ہر شخص کی یہی تمنا تھی۔ آپ نے پوچھا: علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ بتایا گیا کہ ان کی آنکھیں دکھتی ہیں۔ انہیں بلایا گیا؛ آپ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن لگایا اور دعا کی — وہ ایسے ٹھیک ہو گئے جیسے کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا میں ان سے لڑوں یہاں تک کہ وہ ہم جیسے ہو جائیں؟ آپ نے فرمایا:
انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الإِسْلاَمِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ، فَوَاللَّهِ لأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلاً وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ
«آرام سے چلو یہاں تک کہ ان کے میدان میں اترو، پھر انہیں اسلام کی دعوت دو اور بتاؤ کہ اس میں اللہ کا ان پر کیا حق واجب ہے۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ تمہارے ذریعے ایک آدمی کو ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔» (صحیح بخاری 4210)
غور کیجیے: جنگ کے عین موقع پر بھی پہلا حکم دعوت کا ہے، اور کامیابی کا معیار قلعہ نہیں، ایک انسان کی ہدایت ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس فضیلت کی روایت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے بھی ہے (صحیح بخاری 2942؛ صحیح بخاری 3009)۔
مرحب اور حیدر
صحیح مسلم میں حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خیبر کا پہلوان مرحب اپنی تلوار لہراتا ہوا نکلا اور رجز پڑھا: «خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں، ہتھیاروں سے لیس آزمودہ کار بہادر»۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سامنے آئے اور جواب دیا:
أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ، كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ، أُوفِيهِمُ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ
«میں وہ ہوں جس کا نام میری ماں نے حیدر (شیر) رکھا؛ جنگل کے شیر کی طرح، جس کا دیکھنا دشمن کو بھاری ہے؛ میں انہیں بڑے پیمانے سے پورا ناپ دیتا ہوں۔» (صحیح مسلم 1807)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مرحب کے سر پر وار کیا اور وہ ڈھیر ہو گیا، پھر ان کے ہاتھ پر فتح ہوئی (صحیح مسلم 1807)۔ یہ وہی سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ ہیں جن کے چچا عامر رضی اللہ عنہ اسی لڑائی میں شہید ہوئے۔ (قلعے کا دروازہ اکھاڑنے کی مشہور روایت سیرت و تاریخ کی کتابوں میں ہے، صحیحین میں نہیں۔)
زہر آلود بکری
فتح کے بعد ایک یہودی عورت نے آپ کے لیے بھنی ہوئی بکری کا تحفہ بھیجا جس میں اس نے زہر ملا دیا تھا۔ آپ نے لقمہ لیا اور فرمایا کہ یہ بکری مجھے بتا رہی ہے کہ اس میں زہر ہے۔ عورت کو بلایا گیا تو اس نے اعتراف کیا اور کہا: میں نے سوچا اگر آپ نبی ہیں تو یہ آپ کو نقصان نہ دے گا، اور اگر بادشاہ ہیں تو ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں آپ کے حلق کے کوے میں اس زہر کا اثر (عمر بھر) دیکھتا رہا (صحیح بخاری 2617)۔ صحابہ نے عرض کیا: کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں؟ آپ نے فرمایا: «نہیں»۔ (دوسری روایات میں ہے کہ جب اس زہر سے حضرت بشر بن براء رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو اس عورت سے قصاص لیا گیا؛ محدثین نے دونوں روایتوں میں یوں تطبیق دی ہے۔) آخری بیماری میں آپ نے فرمایا تھا: «اے عائشہ! مجھے اب تک خیبر کے اس کھانے کا درد محسوس ہوتا ہے» (صحیح بخاری 4428)۔
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اور کھجور، گھی اور پنیر کا ولیمہ
قیدیوں میں حیی بن اخطب کی بیٹی صفیہ تھیں، جو حال ہی میں بیاہی گئی تھیں اور خیبر کے سردار کنانہ کی بیوہ ہوئیں۔ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے ایک لونڈی مانگی تو انہیں صفیہ ملیں؛ لوگوں نے کہا: یہ تو قریظہ و نضیر کی سردار ہیں، یہ آپ ہی کے لائق ہیں۔ آپ نے دحیہ کو دوسری لونڈی دی، صفیہ کو آزاد کیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا۔ راستے میں سد الصہباء کے مقام پر آپ نے ولیمہ کیا: چمڑے کے دستر خوان پر کھجور، گھی اور پنیر ملا کر حیس بنایا گیا اور آپ نے فرمایا: «جس کے پاس جو ہے لے آئے» (صحیح بخاری 371؛ صحیح بخاری 4211)۔ صحابہ نے کہا: اگر آپ نے پردہ کرایا تو یہ امہات المومنین میں سے ہیں، ورنہ لونڈی؛ آپ نے سواری پر بٹھاتے وقت پردہ کرایا — اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے جان لیا کہ یہ امہات المومنین میں سے ہیں۔ یوں دشمن کے سردار کی بیٹی نبی کے گھر کی ملکہ بنیں؛ آج بھی ہم ان کا نام «رضی اللہ عنہا» کے ساتھ لیتے ہیں۔
زمین کا معاہدہ: آدھی پیداوار
خیبر کے یہودیوں نے درخواست کی کہ انہیں زمین پر رہنے دیا جائے، وہ کاشت کریں گے اور آدھی پیداوار مسلمانوں کو دیں گے۔ آپ نے منظور فرمایا اور فرمایا: «ہم تمہیں اس پر رہنے دیں گے جب تک چاہیں گے» (صحیح بخاری 2328)۔ یہ «مزارعت» (بٹائی) کی بنیاد بنی جو آج بھی اسلامی معیشت کا حصہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ہر سال پیداوار کا اندازہ لگانے جاتے؛ یہودیوں نے انہیں رشوت دینی چاہی تو انہوں نے کہا: «تم مجھے حرام کھلانا چاہتے ہو؟ اللہ کی قسم! میں اس کی طرف سے آیا ہوں جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، اور تم مجھے بندروں اور سوروں سے زیادہ ناپسند ہو، مگر میری محبت اور نفرت مجھے انصاف سے نہیں روکے گی»۔ یہودیوں نے کہا: اسی سے زمین و آسمان قائم ہیں (موطا امام مالک؛ سنن ابی داؤد 3410 کی بنیاد)۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں یہ معاہدہ ختم ہوا اور یہودیوں کو شام منتقل کیا گیا (صحیح بخاری 2338)۔
حبشہ سے واپسی: «مجھے معلوم نہیں کس سے زیادہ خوش ہوں»
خیبر ہی کے دن حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور حبشہ کے مہاجرین واپس پہنچے۔ آپ نے فرمایا: «مجھے معلوم نہیں کہ میں کس چیز سے زیادہ خوش ہوں — خیبر کی فتح سے یا جعفر کی آمد سے»۔ آپ نے انہیں بھی غنیمت میں حصہ دیا، اور حبشہ سے آنے والے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے قافلے کو بھی (صحیح بخاری 4230)۔ غنیمت کی تقسیم میں آپ نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کو ایک حیثیت دی کیونکہ وہ جاہلیت اور اسلام دونوں میں آپ سے جدا نہ ہوئے (صحیح بخاری 4229)۔ خیبر کے بعد فدک والوں نے بھی بغیر جنگ صلح کر لی۔
نوٹ: پرانے مضمون میں دو غلطیاں تھیں جو درست کی گئیں: حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے والد عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ غزوۂ احد میں شہید ہوئے، خیبر میں نہیں؛ اور ان کے اونٹ کی خرید و فروخت کا واقعہ صحیح بخاری میں کسی مخصوص غزوے کے نام کے بغیر ہے۔ اس مضمون کی ہر حدیث صحیح بخاری یا صحیح مسلم سے ہے؛ قلعوں کے نام اور تعداد سیرت کی کتابوں سے ہیں۔
غزوۂ خیبر سے پانچ سبق
- ذکر کا ادب: «تم بہرے کو نہیں پکار رہے» — اللہ قریب ہے (مسلم 2704)۔
- جنگ سے پہلے دعوت: «ایک آدمی کی ہدایت سرخ اونٹوں سے بہتر ہے» (بخاری 4210)۔
- امارت کی خواہش نہیں، محبت کی تمنا: جھنڈا طلب نہیں، عطا ہوا۔
- دشمن کے ساتھ بھی عدل: ابن رواحہ کا جواب — محبت اور نفرت انصاف پر اثر نہیں ڈالتیں۔
- قیدی سے ام المومنین تک: حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی آزادی اور عزت۔
خلاصہ
خیبر نے مدینہ کے شمال کا خطرہ ہمیشہ کے لیے ختم کیا، اصحابِ حدیبیہ کو قرآن کا وعدہ کیا ہوا مال دیا، اور امت کو ایسے اصول دیے جو جنگ سے بڑے ہیں: دعوت پہلے، عدل سب کے ساتھ، اور قیدی کی عزت۔ جس دن قلعے فتح ہوئے اسی دن حبشہ کے مہاجرین لوٹے — گویا اللہ نے ایک دن میں دو خوشیاں عطا کیں۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment