سنۃ الوفود: عرب قبائل کے وفدوں کا سال — عبدالقیس، بنو تمیم اور نجران کی مثالیں صحیح بخاری کی روشنی میں
سنۃ الوفود: عرب قبائل کے وفدوں کا سال — عبدالقیس، بنو تمیم اور نجران کی مثالیں صحیح بخاری کی روشنی میں
فتحِ مکہ کے بعد مدینہ کی طرف راستے کھل گئے۔ دور دراز کے قبائل کے نمائندے سوال لے کر آتے، جواب سنتے، اور علم اپنے لوگوں تک لے جاتے۔
سیرت نگار 9 ہجری کو «سنۃ الوفود» یعنی وفدوں کا سال کہتے ہیں — جب عرب قبائل کے وفد پے در پے مدینہ آئے، اسلام قبول کیا یا شرائط طے کیں اور واپس جا کر اپنے لوگوں کو دین سکھایا۔ یہ نام اور ترتیب سیرت کی کتابوں کی ہے؛ کوئی ایک حدیث «وفدوں کا سال» کے الفاظ سے یہ فہرست نہیں دیتی۔ اس مضمون میں وہی وفد بیان کیے گئے ہیں جن کا ذکر صحیح بخاری میں ہے، اور ہر مثال میں بتایا گیا ہے کہ کون سی بات حدیث کی ہے اور کون سی سیرت کی۔ بادشاہوں کو بھیجے گئے خطوط ایک الگ سلسلہ ہیں جن کی مثال ہرقل کے نام پیغام کے مضمون میں ہے۔
یہ سال کس معنی میں اہم تھا؟
جب کسی علاقے کا ایک گروہ مدینہ آتا تو اس کا سفر کئی سطحوں پر معنی رکھتا تھا: وفد اپنے لوگوں کا نمائندہ ہوتا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست سوال کر سکتا، جواب اپنے قبیلے تک پہنچاتا، اور کبھی اپنے سماجی یا سیاسی معاملات بھی پیش کرتا۔ ہر وفد کا ریکارڈ ایک جیسا نہیں، مگر مختلف روایات مل کر بتاتی ہیں کہ مدینہ علم، مشورے اور رابطے کا مرکز بن چکا تھا۔ قرآن سورۂ نصر میں لوگوں کے فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہونے کا ذکر کرتا ہے:
وَرَأَيْتَ ٱلنَّاسَ يَدْخُلُونَ فِى دِينِ ٱللَّهِ أَفْوَاجًا
«اور آپ لوگوں کو اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوتے دیکھ لیں» (سورۂ نصر 110:2)
یہ آیت کسی خاص وفد کی فہرست یا تاریخ نہیں دیتی؛ سیرت کے مصنفین نے فتح کے بعد کی اجتماعی تبدیلی کو سمجھنے کے لیے اسے پس منظر کے طور پر پڑھا ہے۔ قرآنی اشارہ اور سیرت کی ترتیب اپنی اپنی قسم کی دلیل ہیں — ایک کو دوسرے کے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔
عبدالقیس کا وفد: علم لے کر اپنے لوگوں تک جانا
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد (بحرین کے علاقے سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ نے فرمایا: «خوش آمدید اے لوگو (یا اے وفد)، نہ رسوا ہو گے نہ پشیمان۔» انہوں نے عرض کیا: ہمارے اور آپ کے درمیان کفار کا قبیلہ مضر حائل ہے اور ہم صرف حرمت والے مہینوں میں آ سکتے ہیں؛ ہمیں ایسا واضح حکم دیجیے جو ہم اپنے پیچھے والوں کو بتائیں اور جس سے جنت میں داخل ہوں۔ آپ نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار سے منع فرمایا: اللہ پر ایمان — یعنی شہادتین — نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے، اور غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرنا؛ اور (نبیذ کے) چار برتنوں سے منع فرمایا — صحیح بخاری 87، صحیح بخاری 4368۔
یہ روایت وفدوں کے مقصد کی بہترین مثال ہے: وہ ایک قابلِ عمل، مختصر اور یاد رہنے والا پیغام چاہتے تھے جو وہ آگے پہنچا سکیں۔ صحیح بخاری میں یہ بھی ہے کہ مسجدِ نبوی کے بعد پہلا جمعہ جُواثیٰ (بحرین) میں عبدالقیس کی مسجد میں قائم ہوا — صحیح بخاری 4371۔ یعنی وفد واپس گیا تو علم اور عبادت کا نظام ساتھ لے گیا۔ صحیح بخاری عبدالقیس کے وفد کا سن متعین نہیں کرتی؛ بعض سیرت نگار اسے فتح سے پہلے بھی رکھتے ہیں — اس لیے اسے «وفدوں کے دور» کی مثال کہنا درست ہے، 9 ہجری کی قطعی تاریخ کہنا نہیں۔
بنو تمیم: ملاقات، مشورہ اور ادب کی آیت
بنو تمیم کے وفد کا ذکر صحیح بخاری میں ایک سے زیادہ سلسلوں سے آتا ہے۔ ابنِ ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ جب بنو تمیم کا وفد آیا تو حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے قبیلے کے لیے ایک نمائندے (امیر) کے انتخاب پر مختلف رائے دی؛ ایک نے قعقاع بن معبد اور دوسرے نے اقرع بن حابس کا نام لیا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم صرف میری مخالفت چاہتے ہو؛ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ کی مخالفت نہیں چاہی۔ دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں، تو اللہ نے یہ آیات نازل فرمائیں — صحیح بخاری 4845، صحیح بخاری 4847:
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَرْفَعُوٓا۟ أَصْوَٰتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ ٱلنَّبِىِّ وَلَا تَجْهَرُوا۟ لَهُۥ بِٱلْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَـٰلُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ
«اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو اور ان کے سامنے اونچی آواز سے بات نہ کرو جیسے تم ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں تمہارے اعمال ضائع نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو» (سورۂ حجرات 49:2)
یہاں دو باتیں ساتھ رکھنی چاہییں۔ پہلی: روایت صحابہ کے اختلافِ رائے کو دکھاتی ہے؛ اس سے ان کے درمیان بغض یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب کی بے پروائی کا نتیجہ نہیں نکلتا — حدیث خود دونوں کو نیک شخصیات کے طور پر یاد کرتی ہے اور واقعے کو ایک تنبیہ سے جوڑتی ہے جس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ اتنی دھیمی آواز میں بات کرتے کہ آپ کو دوبارہ پوچھنا پڑتا۔ دوسری: وفد کے آنے سے ایک عملی سوال سامنے آیا — کسی قبیلے کے لیے نمائندہ کیسے منتخب ہو — اور اس پر مشورہ ہوا۔ ایک اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو تمیم سے فرمایا: «بشارت قبول کرو»؛ انہوں نے کہا: آپ نے بشارت دے دی، اب کچھ عطا کیجیے — آپ کے چہرے پر اس کا اثر دیکھا گیا؛ پھر اہلِ یمن آئے تو آپ نے فرمایا: «بشارت قبول کرو، جب بنو تمیم نے قبول نہیں کی» اور انہوں نے کہا: ہم نے قبول کی — صحیح بخاری 4365۔
نجران کا وفد: مختصر مگر اہم مثال
نجران (یمن) کے عیسائیوں کا وفد سیرت اور تفسیر میں ایک مشہور واقعہ ہے جس کے ساتھ سورۂ آلِ عمران کی آیات اور مباہلہ کی دعوت جڑی ہے:
فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا۟ نَدْعُ أَبْنَآءَنَا وَأَبْنَآءَكُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ ٱللَّهِ عَلَى ٱلْكَـٰذِبِينَ
«پھر جو کوئی اس (علم) کے آ جانے کے بعد آپ سے اس بارے میں جھگڑے تو کہہ دیجیے: آؤ، ہم اپنے بیٹوں اور تمہارے بیٹوں، اپنی عورتوں اور تمہاری عورتوں، اپنی جانوں اور تمہاری جانوں کو بلائیں، پھر عاجزی سے دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں» (سورۂ آلِ عمران 3:61)
آیت اپنے الفاظ میں نجران کا نام نہیں لیتی؛ یہ تعلق تفسیر اور سیرت سے سمجھا جاتا ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نجران کے عاقب اور سید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور مباہلہ کا ارادہ کیا؛ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ایسا نہ کرو، اگر یہ واقعی نبی ہیں اور ہم نے مباہلہ کیا تو ہم اور ہماری نسل کبھی فلاح نہیں پائے گی۔ پھر انہوں نے کہا: جو آپ مانگیں ہم دیں گے، بس ہمارے ساتھ ایک امانت دار آدمی بھیج دیجیے۔ آپ نے فرمایا: «میں تمہارے ساتھ ایسا امین بھیجوں گا جو حقِ امانت ادا کرے گا۔» صحابہ متوجہ ہوئے تو آپ نے فرمایا: «اے ابو عبیدہ بن جراح، کھڑے ہو»، اور فرمایا: «یہ اس امت کا امین ہے» — صحیح بخاری 4380۔ اس مثال میں وفد، معاہدہ اور ایک صحابی کی نامزدگی ایک ساتھ نظر آتے ہیں؛ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ پر الگ مضمون یہاں ہے۔
وفد اور پیغام بر: قریب مگر الگ سلسلے
سنۃ الوفود پر لکھتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بادشاہوں کو بھیجے گئے خطوط کا ذکر بھی آ سکتا ہے، مگر انہیں قبائلی وفدوں کے ساتھ ایک ہی واقعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ وفد عام طور پر لوگوں کا مدینہ آنا تھا؛ بادشاہ کو خط بھیجنا مدینہ سے باہر کی طرف پیغام رسانی۔ دونوں دعوت اور رابطے کے وسیع نقشے میں اہم ہیں مگر ان کا رخ اور وقت الگ ہے — ہرقل کو خط حدیبیہ کے بعد کے دور کا ہے، 9 ہجری کی وفدی فہرست کا نہیں۔
ثقیف اور تبوک کے بعد کے وفدی سلسلے
سیرت کی کتب میں طائف کے قبیلے ثقیف کا وفد تبوک کے بعد کے دور میں ذکر ہوتا ہے، اور ان کی شرائط و گفتگو کی تفصیل مختلف تاریخی روایات میں آتی ہے؛ ان سب کو صحیح حدیث کا درجہ دینا احتیاط کے خلاف ہے۔ یہاں اتنا کہنا کافی ہے کہ سیرت نگار ثقیف کو وسیع وفدی دور کی مثالوں میں شمار کرتے ہیں، اور یہ کہ جس شہر نے چند سال پہلے دعوت کو پتھروں سے جواب دیا تھا، اس کا وفد اب خود مدینہ آیا۔
روایت اور سیرت: کس بات کو کس درجے سے کہیں؟
- صحیح بخاری سے ثابت: عبدالقیس کو چار احکام (87)؛ بنو تمیم پر ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کا مشورہ اور 49:2 کا نزول (4845)؛ نجران کا مباہلہ سے پیچھے ہٹنا اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی روانگی (4380)۔
- سیرت سے: «سنۃ الوفود» کا نام، 9 ہجری کی ترتیب، وفدوں کی فہرست اور تعداد، ثقیف کی شرائط۔
- قرآن سے: فوج در فوج داخلے کا عمومی بیان (110:2) اور ادب کی ہدایت (49:2)؛ مباہلہ کی دعوت (3:61) — نام کے بغیر۔
آج کے قاری کے لیے سبق
- پیغام مختصر، واضح اور قابلِ عمل ہو — جیسے عبدالقیس کو چار باتیں بتائی گئیں۔
- مشورے میں اختلاف ہو سکتا ہے، مگر ادب کی حد نہیں ٹوٹنی چاہیے (49:2)۔
- معاہدے کے ساتھ امانت دار نمائندہ بھیجنا نظم کا حصہ ہے۔
- دور سے آنے والوں کا استقبال عزت سے: «نہ رسوا ہو گے نہ پشیمان»۔
- تاریخ کی ترتیب اور حدیث کے متن کو الگ درجہ دیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سنۃ الوفود کون سا سال ہے؟
سیرت نگاروں کے نزدیک 9 ہجری، فتحِ مکہ اور تبوک کے بعد کا دور؛ یہ نام سیرت کا ہے، حدیث کا لفظ نہیں۔
کیا تمام وفد اسی سال آئے؟
نہیں۔ بعض وفد پہلے اور بعض بعد میں آئے؛ عبدالقیس کے وفد کا سن خود بخاری میں متعین نہیں۔
نجران کے وفد کا نتیجہ کیا نکلا؟
صحیح بخاری 4380 کے مطابق انہوں نے مباہلہ نہیں کیا، معاہدہ قبول کیا اور ایک امین کی درخواست کی؛ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بھیجے گئے۔
حوالہ جات
- صحیح بخاری 87، 4368، 4371 — عبدالقیس کا وفد اور جُواثیٰ کا جمعہ۔
- صحیح بخاری 4845، 4847، 4365 — بنو تمیم۔
- صحیح بخاری 4380 — نجران اور امینِ امت۔
- سورۂ نصر 110:2، سورۂ حجرات 49:2، سورۂ آلِ عمران 3:61۔
حدیث کے متن، سیرت کی ترتیب اور مصنف کی تشریح کو الگ رکھا گیا ہے؛ تمام صحابہ کا ذکر ادب کے ساتھ لازم ہے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment