وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Islamic History› قبا میں پہلی مسجد کی تعمیر: ہجرت کے بعد تقویٰ پر قائم پہلا مرکز

قبا میں پہلی مسجد کی تعمیر: ہجرت کے بعد تقویٰ پر قائم پہلا مرکز

نAuthor Nawab
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم • مدنی دور

قبا میں پہلی مسجد کی تعمیر: ہجرت کے بعد تقویٰ پر قائم پہلا مرکز

ہجرت کے سفر میں مدینہ کے قریب قبا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عمرو بن عوف کے پاس قیام فرمایا۔ یہیں مسجد قائم ہوئی: نئی مسلم جماعت کے لیے عبادت، جماعت اور تقویٰ کا مرکز۔

کھجور کے باغات کے درمیان قبا کی بستی کا منظر

قبا مدینہ کے قریب وہ بستی تھی جہاں ہجرت کے بعد پہلا قیام ہوا۔

ہجرت کے سفر میں قبا کا مقام

ہجرتِ مدینہ صرف ایک شہر سے دوسرے شہر تک سفر نہیں تھا؛ یہ اسلام کی چھوٹی مظلوم جماعت کے لیے امن اور نئی زندگی کا آغاز تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مکہ سے نکل کر غارِ ثور اور ساحلی راستے سے مدینہ کے قریب قبا پہنچے۔ وہاں بنو عمرو بن عوف نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا۔ صحیح بخاری کی طویل روایت میں ہے:

فَلَبِثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، وَأُسِّسَ الْمَسْجِدُ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى، وَصَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
«رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف میں دس سے کچھ زیادہ راتیں ٹھہرے، اور وہ مسجد قائم کی گئی جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز پڑھی۔» (صحیح بخاری، حدیث 3906)

حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں قیام کی مدت چودہ راتیں بیان ہوئی ہے (صحیح بخاری 428)؛ «بضع عشرة» (دس سے کچھ زیادہ) اسی کے موافق ہے۔ سیرت کی دوسری کتابوں میں یہ مدت فرق کے ساتھ آتی ہے، اس لیے محتاط بات یہ ہے کہ مسجدِ قبا ہجرت کے ابتدائی دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبا کے قیام کے دوران قائم ہوئی؛ تعمیر کے ہر دن کی تفصیل اور قطعی تاریخ پر سب مآخذ ایک جیسے نہیں۔

قبا میں مسجد کا قیام ہجرت کے بعد عبادت کو مرکز بنانے کا پہلا نمایاں عمل تھا۔ مسلمان اب صرف مخالفت سے بچ کر چھپنے والی جماعت نہیں رہے؛ ان کے پاس جماعت سے نماز، قرآن کی تعلیم اور معاشرتی رابطے کا مرکز تھا۔ اس مسجد کی بنیاد نے نئی بستی میں ایک ایسا نظام شروع کیا جہاں اللہ کی بندگی اور جماعت کی ذمہ داری ساتھ چلتی تھی۔

مسجد کا مقصد: عبادت اور جماعت

مسجدِ قبا کا پہلا مقصد اللہ کی عبادت تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہجرت کے فوراً بعد نماز اور جماعت کے لیے مقام قائم کیا۔ مسجد صرف دیوار اور چھت کا نام نہیں؛ اس کی روح اللہ کی بندگی، تقویٰ، علم، مشورے اور مومنوں کے درمیان رابطے سے ہوتی ہے۔ قبا کی سادگی نے دکھایا کہ نئی مسلم جماعت کو پہلے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں وہ اپنے رب کی عبادت کریں اور ایک دوسرے سے مل کر زندگی کے کام سنبھالیں۔

قبا کی مسجد اور بعد میں مدینہ کے مرکز میں بننے والی مسجدِ نبوی کو آپس میں نہ ملایا جائے۔ قبا میں ہجرت کے ابتدائی دنوں میں ایک مسجد بنی؛ پھر مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قیام کے مقام پر مسجدِ نبوی کی تعمیر کروائی۔ دونوں کی اپنی تاریخی اہمیت ہے۔ قبا کو عام طور پر «اسلام کی پہلی مسجد» کہا جاتا ہے، یعنی ہجرت کے بعد مسلم جماعت کی پہلی مسجد؛ یہ کہنا مقصود نہیں کہ زمین پر سب سے پہلی عبادت گاہ وہی تھی۔

کچی اینٹوں کا ڈھیر، کھجور کے تنے اور شاخیں — سادہ تعمیر کا سامان

مسجد کی بنیاد سادہ تھی، مگر اس کا مقصد عبادت اور تقویٰ تھا۔

قرآن 9:108 اور مسجد کی بنیاد تقویٰ پر

لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ ۚ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا ۚ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ
«البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی، زیادہ حق دار ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں؛ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاکیزگی کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔» (سورۃ التوبہ 9:108)

آیت کا سیاق مسجدِ ضرار کے واقعے سے متعلق ہے، جسے نقصان اور تفریق کے مقصد سے بنایا گیا تھا (9:107)۔ اللہ نے اس کے مقابلے میں تقویٰ پر قائم مسجد اور طہارت کو پسند کرنے والوں کا ذکر فرمایا۔ قبا کو اس آیت سے جوڑنے والی روایت اور تفسیر مشہور ہے، اور صحیح بخاری 3906 میں قبا کی مسجد کو «تقویٰ پر بنیاد رکھی گئی مسجد» کہا گیا۔ ساتھ ہی صحیح مسلم میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے جب پوچھا کہ تقویٰ پر بنیاد والی مسجد کون سی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریوں کی مٹھی زمین پر مار کر فرمایا: «وہ تمہاری یہی مسجد ہے»، یعنی مسجدِ مدینہ (صحیح مسلم 1398)۔ اس لیے مفسرین نے آیت کے اطلاق اور دونوں مسجدوں کی فضیلت پر گفتگو کی ہے۔ احتیاط یہ ہے کہ قبا اور مسجدِ نبوی دونوں سے تقویٰ کا تعلق ثابت ہے؛ آیت کے براہِ راست سیاق اور روایت کے لفظ کو سمجھ کر بیان کیا جائے۔

آیت سے سب سے واضح سبق یہ نکلتا ہے کہ مسجد کی بنیاد اور اس کا استعمال اللہ کے لیے خالص ہونا چاہیے۔ عمارت کی خوبصورتی اپنی جگہ، لیکن تقویٰ، اخلاص، طہارت اور جماعت کا فائدہ مسجد کے مقصد کو زندہ رکھتے ہیں۔ مسجد کو تفریق، ریا یا نفرت کا مرکز بنانا قرآنی اصول کے خلاف ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مسجدِ قبا سے تعلق

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے جانے کے بعد بھی مسجدِ قبا تشریف لے جاتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ كُلَّ سَبْتٍ، مَاشِيًا وَرَاكِبًا. وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَفْعَلُهُ
«نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتے کے دن مسجدِ قبا تشریف لاتے، پیدل بھی اور سوار بھی؛ اور عبداللہ (بن عمر) بھی ایسا کرتے تھے۔» (صحیح بخاری، حدیث 1193؛ 1194؛ صحیح مسلم 1399)

یہ سنت قبا کی اہمیت دکھاتی ہے، لیکن اس سے ہر شخص پر ہفتے کے کسی خاص دن وہاں جانا فرض یا واجب نہیں ہوتا۔ مسجدِ قبا میں نماز کے اجر کے حوالے سے بھی روایت آتی ہے:

مَنْ تَطَهَّرَ فِي بَيْتِهِ، ثُمَّ أَتَى مَسْجِدَ قُبَاءٍ، فَصَلَّى فِيهِ صَلاَةً، كَانَ لَهُ كَأَجْرِ عُمْرَةٍ
«جو شخص اپنے گھر میں طہارت حاصل کرے، پھر مسجدِ قبا آ کر اس میں نماز پڑھے، اسے عمرے جیسا اجر ملتا ہے۔» (سنن ابن ماجہ، حدیث 1412 (راوی: سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ؛ صحیح))

اس روایت کو اس کے اپنے لفظ کے ساتھ سمجھنا چاہیے: طہارت اور نماز کا اجر بیان ہوا ہے؛ یہ اصل حج یا عمرے کا بدل نہیں۔ مسلمان جب قبا جائیں تو نماز، ادب اور مسجد کی حرمت کا خیال رکھیں؛ ایسی غیر ثابت رسمیں یا متعین اعمال لازم نہ سمجھیں جو صحیح دلیل سے ثابت نہ ہوں۔

کھجور کے تنوں کے ستونوں اور سادہ چھت والی ابتدائی مسجد کا اندرونی منظر

عبادت، طہارت اور جماعت مسجدِ قبا کے پیغام کے مرکز میں ہیں۔

قبا: مدد، استقبال اور نئی امت

قبا میں انصار کے گھرانوں نے مہاجرین کا استقبال کیا۔ مسجد کا قیام اسی سماجی لمحے کا حصہ تھا: نئے آنے والوں کو رہنے کی جگہ، عبادت کا مرکز اور ایک دوسرے سے جڑنے کا موقع ملا۔ ہجرت نے دکھایا کہ ایمانی بھائی چارہ صرف جذباتی جملہ نہیں؛ اس کے لیے جگہ دینا، مہمان کا خیال، مال کی مدد اور جماعت کے لیے کام کرنا ضروری ہے؛ آگے چل کر مؤاخات نے اسی رشتے کو باقاعدہ شکل دی۔

صحیح بخاری 3906 میں قبا سے مدینہ کی طرف روانگی اور پھر مدینہ میں مسجدِ نبوی کی زمین کے انتخاب کا ذکر بھی آتا ہے۔ دونوں مسجدوں کی کہانی ایک ہی ہجرت کے سفر میں جڑتی ہے، مگر ان کے مقام الگ ہیں: قبا نے پہلے قیام کے دوران جماعت کو عبادت کی جگہ دی؛ مدینہ کے مرکز کی مسجد نے آگے چل کر امت کے وسیع معاشرے کا مرکز سنبھالا۔ اس واقعے سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ دین کا نظام صرف انفرادی عبادت تک محدود نہیں؛ مسجد ایک ایسی جگہ ہے جہاں نماز کے ساتھ علم، معاشرتی تعارف، مشورہ اور لوگوں کی ضرورت کا خیال بھی رکھا جا سکتا ہے، جب سب کام قرآن اور سنت کے ادب کے اندر ہوں۔

آج کی زندگی کے لیے سبق

مسجدِ قبا کی تعمیر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کسی نئے کام کی بنیاد نیت اور تقویٰ پر رکھی جائے۔ گھر، اسکول، مرکز یا فلاحی منصوبہ ہو؛ اگر مقصد صرف نام، دکھاوا یا تقسیم ہو تو عمارت اپنا اصل فائدہ کھو دیتی ہے۔ دوسرا سبق جماعتی مدد ہے: ہجرت کے بعد قبا والوں نے مہمان نوازی کی اور مسجد کا کام جماعت نے مل کر کیا۔ آج مسجد کی خدمت صفائی، تعلیم، نماز کے انتظام، مسافر کی مدد اور پڑوس کے ضرورت مندوں کا خیال رکھنے سے بھی ہوتی ہے۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ عبادت کی جگہ کو تقویٰ اور طہارت سے زندہ رکھا جائے۔ صرف زیارت کی تصویر لینا کافی نہیں؛ نماز کی پابندی، دل کا اخلاص اور بندوں کے حقوق کا احترام بھی ضروری ہے۔

غروبِ آفتاب کے وقت کھجور کے درختوں کے درمیان مسجد کے مینار کی طرف جاتا راستہ

قبا کی زیارت عبادت اور ہجرت کے سبق یاد دلاتی ہے۔

عملی سبق

  • ہر نئے کام کی بنیاد اخلاص اور تقویٰ پر رکھیں؛ یہی مسجدِ قبا کی پہچان ہے (التوبہ 9:108)۔
  • مسجد کی خدمت جماعت کا مشترکہ کام ہے؛ صفائی، تعلیم اور انتظام میں حصہ لیں۔
  • مسجدِ قبا جائیں تو گھر سے وضو کر کے جائیں اور نماز پڑھیں (ابن ماجہ 1412)؛ غیر ثابت رسمیں نہ اپنائیں۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہفتہ وار زیارت پرانے احسان اور پہلے مددگاروں کو یاد رکھنے کا سبق ہے (بخاری 1193)۔
  • مسجد کو تفریق یا نمائش کا مرکز نہ بننے دیں؛ یہ عبادت اور رابطے کی جگہ ہے۔

خلاصہ

مسجدِ قبا ہجرت کے ابتدائی مرحلے میں بنو عمرو بن عوف کے علاقے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے دوران قائم ہوئی (بخاری 3906؛ قیام چودہ راتیں: بخاری 428)۔ قرآن 9:108 تقویٰ پر بنی مسجد اور طہارت کا پیغام دیتا ہے؛ حدیث میں قبا اور مسجدِ نبوی دونوں کا اس وصف سے تعلق آتا ہے (مسلم 1398)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتے قبا تشریف لے جاتے اور وہاں نماز پڑھتے تھے (بخاری 1193؛ مسلم 1399)، اور گھر سے وضو کر کے وہاں نماز پڑھنے کا اجر عمرے جیسا بتایا گیا (ابن ماجہ 1412)۔ مرکزی سبق اخلاص، تقویٰ، جماعتی خدمت اور مسجد کو عبادت کا زندہ مرکز بنانا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

۱۔ مسجدِ قبا کب قائم ہوئی؟

ہجرت کے بعد، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کے علاقے قبا میں قیام فرما رہے تھے۔ صحیح بخاری 3906 کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں دس سے کچھ زیادہ راتیں ٹھہرے (بخاری 428: چودہ راتیں) اور مسجد قائم کی۔

۲۔ کیا مسجدِ قبا اسلام کی پہلی مسجد ہے؟

اسے عام طور پر ہجرت کے بعد مسلم جماعت کی پہلی مسجد کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دنیا کی سب سے پہلی عبادت گاہ تھی۔

۳۔ قرآن 9:108 کس مسجد کے بارے میں ہے؟

قبا کی مسجد کو اس آیت سے جوڑنے والی روایت اور تفسیر مشہور ہے؛ صحیح مسلم 1398 میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مدینہ والی مسجد کو بھی تقویٰ پر قائم مسجد کہا۔ اس لیے تفسیر کے تناظر کو احتیاط سے بیان کرنا چاہیے۔

۴۔ مسجدِ قبا میں نماز کی کیا فضیلت ہے؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبا پیدل یا سوار تشریف لے جاتے اور نماز پڑھتے تھے (بخاری 1193؛ مسلم 1399)۔ ابن ماجہ 1412 میں گھر پر طہارت کے بعد قبا میں نماز کا اجر عمرے جیسا بتایا گیا۔

کتابیں اور حوالے

  • القرآن الکریم: التوبہ 9:107–108: مسجدِ ضرار کا سیاق اور تقویٰ پر قائم مسجد۔
  • صحیح بخاری 3906: بنو عمرو بن عوف میں قیام اور مسجدِ قبا کی بنیاد؛ 428: چودہ راتیں۔
  • صحیح بخاری 1193، 1194؛ صحیح مسلم 1399: مسجدِ قبا کی زیارت۔
  • سنن ابن ماجہ 1412: طہارت کے بعد مسجدِ قبا میں نماز کی فضیلت۔
  • صحیح مسلم 1398: «مسجد أسس على التقوى» کے بارے میں مسجدِ مدینہ کی روایت۔
  • ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ: ہجرت اور قبا کے قیام کا پس منظر؛ ابن کثیر، تفسیر سورۃ التوبہ 9:108۔

قرآنی متن، صحیح حدیث اور تفسیر کی روایات کا درجہ الگ ہے؛ آیت کی نسبت میں تفسیری اختلاف کو واضح رکھیں۔

یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments