مدینہ منورہ میں آمد اور مسجدِ نبوی کی بنیاد: نئی بستی، نیا مرکز
مدینہ منورہ میں آمد اور مسجدِ نبوی کی بنیاد: نئی بستی، نیا مرکز
قبا میں چودہ راتوں کے قیام کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یثرب کے اندرونی حصے کی طرف روانہ ہوئے۔ مکہ سے نکلے ہوئے قدم اب اس سرزمین پر تھے جہاں اسلام کو اپنا نیا گھر ملنے والا تھا۔ صحیح بخاری کی روایتوں میں حضرت انس اور حضرت براء رضی اللہ عنہما بتاتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر مدینہ میں ایسی خوشی پھیلی جیسی پہلے کسی چیز پر نہ دیکھی گئی تھی۔ یہ صرف ایک مسافر کا شہر میں داخل ہونا نہیں تھا؛ ہجرت کے بعد ایک مظلوم جماعت کو امن، ساتھ اور مستقبل مل رہا تھا۔
یثرب کی بستی ایک نئے دور کی منتظر تھی۔
«جاء نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم»: آمد کا دن
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرّہ کے کنارے اترے اور انصار کو بلا بھیجا؛ وہ آئے، سلام کیا اور عرض کیا: «سوار ہو جائیے، امن اور اطاعت کے ساتھ۔» آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سوار ہوئے اور انصار ہتھیار لیے گرد حلقہ بنائے چلے؛ مدینہ میں آواز پھیل گئی: «جاء نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جاء نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!» (اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے) اور لوگ چھتوں پر چڑھ کر دیکھنے لگے (صحیح بخاری 3911)۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
فَمَا رَأَيْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرِحُوا بِشَىْءٍ فَرَحَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، حَتَّى جَعَلَ الإِمَاءُ يَقُلْنَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
«میں نے اہلِ مدینہ کو کسی چیز پر اتنا خوش نہیں دیکھا جتنا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر خوش ہوئے، یہاں تک کہ لونڈیاں بھی کہہ رہی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔» (صحیح بخاری، حدیث 3925)
سیرت میں «طلع البدر علینا» کے اشعار اس موقع سے منسوب کیے جاتے ہیں؛ محققین کے نزدیک یہ روایت سند کے اعتبار سے ثابت نہیں، اور بعض نے اسے غزوۂ تبوک سے واپسی سے جوڑا ہے۔ خوشی کا منظر صحیح حدیث سے ثابت ہے؛ اشعار کو اس کے ساتھ ملا کر بیان نہ کیا جائے۔
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں پہلا قیام
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی بنو نجار کے محلے میں بیٹھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: «ہمارے گھر والوں (ننھیال) میں سے کس کا گھر سب سے قریب ہے؟» حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: «میں، یا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ میرا گھر ہے اور یہ میرا دروازہ۔» فرمایا: «جاؤ، ہمارے لیے آرام کی جگہ تیار کرو» (صحیح بخاری 3911)۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبا میں بنو عمرو بن عوف کے ہاں چودہ راتیں رہے، پھر بنو نجار کو بلایا جو تلواریں لٹکائے آئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابو ایوب کے صحن میں اترے (صحیح بخاری 428)۔ سیرت کی کتابوں میں اونٹنی کے مختلف گھروں کے پاس رکنے اور انصار کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاں ٹھہرانے کی خواہش کے تفصیلی مناظر ملتے ہیں؛ انہیں بخاری کی لفظی روایت نہ سمجھا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ننھیال بنو نجار سے تھے، اس لیے «ہمارے گھر والوں» کا لفظ آیا۔
اسی دن حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ، جو یہود کے عالم تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر ایمان لائے اور گواہی دی: «میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور حق لے کر آئے ہیں» (بخاری 3911)۔
انصار نے مہاجرین کو اپنے گھروں اور دلوں میں جگہ دی۔
مسجد کی زمین اور انصاف کا فیصلہ
نئی مسلم جماعت کو عبادت، مشورے اور جماعتی زندگی کے لیے ایک مرکز چاہیے تھا۔ جہاں اونٹنی بیٹھی تھی وہ کھجور سکھانے کا احاطہ تھا جو دو یتیم لڑکوں سہل اور سہیل کی ملکیت تھا، جو حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی پرورش میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ان شاء اللہ یہی منزل ہے»، پھر دونوں لڑکوں کو بلا کر احاطے کی قیمت طے کرنی چاہی؛ انہوں نے کہا: «نہیں، ہم یہ آپ کو ہبہ کرتے ہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم»، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہبہ قبول کرنے سے انکار کیا اور قیمت ادا کر کے خریدا (صحیح بخاری 3906)۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں بنو نجار سے خطاب ہے:
يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا. قَالُوا: لاَ وَاللَّهِ، لاَ نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلاَّ إِلَى اللَّهِ
«اے بنو نجار! اپنے اس باغ کی مجھ سے قیمت لو۔» انہوں نے کہا: «نہیں، اللہ کی قسم! ہم اس کی قیمت صرف اللہ سے مانگتے ہیں۔» (صحیح بخاری، حدیث 428)
دونوں روایتیں مل کر بتاتی ہیں کہ یتیموں کا حق محفوظ رکھا گیا: قوم نے بلا معاوضہ دینا چاہا، مگر یتیم بچوں کے مال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیمت پر اصرار فرمایا؛ سیرت کے مطابق قیمت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ادا کی۔ اس زمین میں مشرکین کی قبریں، کھنڈر اور کھجور کے درخت تھے؛ قبریں کھود کر ہٹائی گئیں، کھنڈر ہموار کیے گئے اور درخت کاٹ کر قبلے کی طرف قطار میں لگائے گئے (بخاری 428)۔
یتیم بچوں کی ملکیت کی قیمت ادا کر کے مسجد کی جگہ طے ہوئی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے کام میں شریک
مسجد کی تعمیر شاہی عمارت کی شکل میں نہیں، سادہ اور ضرورت کے مطابق ہوئی۔ دیواریں کچی اینٹوں کی، ستون کھجور کے تنے اور چھت کھجور کی شاخوں کی؛ یہ تعمیری تفصیل سیرت اور تاریخ سے ہے۔ صحیح حدیث بنیادی بات مضبوطی سے درج کرتی ہے: صحابہ پتھر اٹھا کر لاتے اور رجز پڑھتے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ تھے، یہ کہتے ہوئے:
اللَّهُمَّ لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُ الآخِرَهْ، فَاغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ
«اے اللہ! بھلائی تو بس آخرت کی بھلائی ہے، پس انصار اور مہاجرین کو بخش دے۔» (صحیح بخاری، حدیث 428)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرکت نے کام کو صرف عمارت کھڑی کرنے کا عمل نہیں رہنے دیا: قیادت خدمت میں نظر آئی، اور جماعت نے اپنا مرکز مل کر بنایا۔ اس سادگی کو کمزوری نہ سمجھا جائے: یہی جگہ نماز، تعلیم، مشورے، وفود کے استقبال اور امت کی تربیت کا مرکز بنی۔ مسجد کے ساتھ ازواجِ مطہرات کے حجرے بنے اور ایک چبوترہ (صفہ) بے گھر مہاجرین اور طالبِ علم صحابہ کے لیے مخصوص ہوا۔ قرآن نے اس دور کی مسجد کی صفت یوں بیان کی: «وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی، زیادہ حق دار ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں؛ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاکیزگی پسند کرتے ہیں» (التوبہ 9:108)؛ یہ آیت مسجدِ قبا کے بارے میں ہے اور حدیث میں مسجدِ نبوی پر بھی اس کا اطلاق آیا ہے۔
قبا سے رشتہ باقی رہا
مدینہ میں نیا مرکز بننے کے بعد بھی قبا سے تعلق ختم نہیں ہوا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتے کے دن مسجدِ قبا تشریف لے جاتے، کبھی پیدل اور کبھی سوار، اور وہ خود بھی ایسا کرتے تھے (صحیح بخاری 1193)۔ یہ عمل بتاتا ہے کہ نئی زندگی کی تعمیر اپنے پہلے مددگاروں اور مقامات کو بھول کر نہیں ہوتی۔
مسجدِ نبوی کی بنیاد کے ساتھ مدینہ کی جماعتی زندگی کو مرکز ملا۔ مہاجرین کو پناہ ملی، انصار کو خدمت کا موقع، اور نماز پر جمع ہونے والی امت کو ایک جگہ۔ اگلے مرحلے میں مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم ہوا، میثاقِ مدینہ لکھا گیا اور اذان کا آغاز ہوا۔
کھجور کے تنے اور سادہ چھت ابتدائی مسجد کی سادگی یاد دلاتے ہیں۔
اس واقعے سے ہمارے لیے سبق
- خوشی اور استقبال کا بہترین جواب شکر اور ذمہ داری ہے۔
- یتیم اور کمزور کے حق میں انصاف بنیادی اصول ہے، چاہے کام کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو؛ مسجد کی زمین بھی قیمت دے کر لی گئی۔
- قیادت کا حسن لوگوں کے ساتھ محنت اور خدمت میں ظاہر ہوتا ہے۔
- دینی مرکز صرف عمارت نہیں؛ عبادت، علم، مشورہ اور اخوت کا نظام ہے۔
- پرانے احسان اور دوستی کو یاد رکھنا وفاداری کا حصہ ہے؛ قبا کی ہفتہ وار زیارت اس کی مثال ہے۔
خلاصہ
قبا میں چودہ راتوں کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے اندر تشریف لائے؛ اہلِ مدینہ کی خوشی بے مثال تھی (بخاری 3925، 3911)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر ٹھہرے؛ مسجد کی زمین دو یتیموں سہل اور سہیل کی تھی، جسے ہبہ قبول کیے بغیر قیمت دے کر لیا گیا (بخاری 3906، 428)؛ صحابہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مل کر تعمیر کی اور دعا پڑھی «اللهم لا خیر الا خیر الآخرۃ»۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتے قبا تشریف لے جاتے (بخاری 1193)۔ «طلع البدر» کے اشعار اس موقع پر ثابت نہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آنے کے بعد پہلے کہاں ٹھہرے؟
صحیح بخاری 428 اور 3911 کے مطابق حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر، یہاں تک کہ مسجد اور حجرے بن گئے۔
۲۔ مسجد کی زمین کس کی تھی؟
صحیح بخاری 3906 کے مطابق دو یتیم لڑکوں سہل اور سہیل کی، جو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی پرورش میں تھے؛ انہوں نے ہبہ کرنا چاہا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیمت ادا کی۔
۳۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی تعمیر میں خود حصہ لیا؟
جی ہاں۔ صحیح بخاری 428 میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ساتھ پتھر اٹھانے اور انصار و مہاجرین کے لیے دعا کرنے کا ذکر ہے۔
۴۔ کیا «طلع البدر علینا» اسی موقع پر پڑھا گیا؟
یہ روایت سند کے اعتبار سے ثابت نہیں؛ بعض محققین اسے تبوک سے واپسی سے جوڑتے ہیں۔ آمد کی خوشی صحیح حدیث (بخاری 3925) سے ثابت ہے۔
۵۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبا دوبارہ تشریف لے جاتے تھے؟
جی۔ صحیح بخاری 1193 کے مطابق ہر ہفتے کے دن، پیدل یا سوار۔
کتابیں اور حوالے
- القرآن الکریم: التوبہ 9:108؛ التوبہ 9:100 (مہاجرین و انصار کی فضیلت)۔
- صحیح بخاری 428: قبا میں چودہ راتیں، ابو ایوب کا صحن، بنو نجار سے زمین، تعمیر اور دعا۔
- صحیح بخاری 3906: اونٹنی کا بیٹھنا، سہل اور سہیل، قیمت پر اصرار۔
- صحیح بخاری 3911: انصار کا استقبال، «جاء نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم»، ابو ایوب کا گھر، عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ۔
- صحیح بخاری 3925: اہلِ مدینہ کی خوشی۔
- صحیح بخاری 1193: قبا کی ہفتہ وار زیارت۔
- ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ: آمد کے مناظر، تعمیر کی تفصیل، صفہ۔
حدیث کے حوالے صحیح بخاری سے ہیں؛ تعمیری تفصیلات اور استقبال کے بعض مناظر سیرت کی روایت ہیں اور اسی طرح بیان کیے گئے ہیں۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment