وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Islamic History› قبلہ کی تبدیلی: بیت المقدس سے کعبہ کی طرف، وحی کا حکم اور صحابہ کی فوری اطاعت

قبلہ کی تبدیلی: بیت المقدس سے کعبہ کی طرف، وحی کا حکم اور صحابہ کی فوری اطاعت

نAuthor Nawab
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم • مدنی دور

قبلہ کی تبدیلی: بیت المقدس سے کعبہ کی طرف، وحی کا حکم اور صحابہ کی فوری اطاعت

مدینہ میں جماعت، اذان اور نئی مسلم زندگی کا نظام قائم ہو رہا تھا۔ اسی ابتدائی دور میں ایک اہم قرآنی حکم آیا: نماز کا رخ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف کر دیا گیا۔ یہ صرف سمت کا بدلنا نہیں تھا؛ مسلمانوں کے لیے اللہ کے حکم پر عمل، امت کی اپنی پہچان، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی پر توجہ کا امتحان بھی تھا۔ قرآن نے اس واقعے کو تفصیل سے بیان کیا، اور صحیح بخاری کی روایت بتاتی ہے کہ قبا میں فجر پڑھنے والوں تک جب خبر پہنچی تو انہوں نے نماز کے درمیان ہی اپنا رخ بدل لیا۔

رات کے آسمان میں چمکتا ستارہ اور نیچے پرانی بستی — ہدایت کی سمت کی علامت

ہدایت کی طرف نگاہ: بدلتے ہوئے قبلے کے واقعے کا علامتی منظر۔

پہلے بیت المقدس کی طرف نماز

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں روایت ہے:

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحِبُّ أَنْ يُوَجَّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ} فَتَوَجَّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ
«رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ آپ کا رخ کعبہ کی طرف کر دیا جائے؛ تو اللہ نے نازل فرمایا: «ہم آپ کے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں»، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی طرف متوجہ ہو گئے۔» (صحیح بخاری، حدیث 399؛ 4486؛ صحیح مسلم 525)

روایت میں مدت سولہ یا سترہ مہینے کے طور پر آتی ہے؛ راوی کو دونوں میں شک ہے، اس لیے ایک عدد کو قطعی کہنا مناسب نہیں۔ مومن کے لیے اصل بنیاد یہ ہے کہ عبادت کا طریقہ اللہ کے حکم سے طے ہوتا ہے۔ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنا اس وقت اللہ کے حکم کے مطابق تھا؛ بعد میں کعبہ کی طرف رخ کرنا بھی وحی کی پیروی تھی۔ پہلے رخ پر نماز پڑھنے والوں کی عبادت کو غلط کہنا اس واقعے کی روح کے خلاف ہے۔ قرآن خود ان لوگوں کی نمازوں کے بارے میں تسلی دیتا ہے جو پہلے قبلے کی طرف نماز پڑھ چکے تھے۔

قرآن کا حکم اور امت کا امتحان

قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا ۚ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ
«ہم آپ کے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں؛ تو ہم آپ کو اس قبلے کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں۔ پس اپنا رخ مسجدِ حرام کی طرف پھیر لیجیے، اور تم جہاں کہیں ہو اپنے چہرے اسی کی طرف پھیرو۔» (سورۃ البقرہ 2:144)

سورۃ البقرہ کی آیت 142 سے 150 تک قبلہ کی تبدیلی، لوگوں کے مختلف ردِ عمل اور مسلمانوں کو سمجھائے گئے اصول کا ذکر ہے۔ کچھ لوگوں نے سوال اٹھایا کہ پہلے رخ سے کیوں ہٹا گیا؛ قرآن نے واضح کیا کہ مشرق و مغرب اللہ ہی کے ہیں اور وہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے (2:142)۔ بخاری 399 میں ہے کہ یہ اعتراض کرنے والے «سفہاء» یہود تھے۔ نیا حکم اطاعت کو سامنے لایا: قبلے کا مقصد سمت کی پرستش نہیں، بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق نماز ادا کرنا ہے۔

قبلہ تبدیل ہونے پر سوال یہ بھی تھا کہ جو مسلمان پہلے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے ہوئے وفات پا گئے، ان کا کیا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ ۚ … وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
«اور ہم نے وہ قبلہ جس پر آپ تھے اسی لیے مقرر کیا تھا کہ ہم جان لیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے … اور اللہ ایسا نہیں کہ تمہارا ایمان ضائع کر دے؛ بے شک اللہ لوگوں پر بہت شفقت کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔» (سورۃ البقرہ 2:143)

تفسیر میں یہاں «ایمان» سے مراد پہلے قبلے کی طرف پڑھی ہوئی نماز بھی سمجھی گئی ہے؛ بخاری 4486 میں بھی اس آیت کے نزول کا یہی پس منظر آیا ہے۔ اس تسلی میں ان گھرانوں کے لیے بھی رحمت تھی جن کے عزیز پہلے ہی وفات پا چکے تھے: ان کی اطاعت اور عبادت ضائع نہیں ہوئی۔

جائے نماز کا ہندسی نقش اور ایک گول نشان — سمت کی علامت

قبا میں فجر کے دوران خبر ملی تو نمازیوں نے اپنا رخ کعبہ کی طرف بدلا۔

قبا میں فجر: خبر آئی، صفوں کا رخ بدلا

بَيْنَا النَّاسُ بِقُبَاءٍ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ فَاسْتَقْبِلُوهَا. وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّأْمِ، فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ
«قبا میں لوگ فجر کی نماز میں تھے کہ ایک آنے والے نے انہیں بتایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رات کو قرآن نازل ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا ہے؛ تم بھی اسی طرف رخ کرو۔ ان کے چہرے شام (بیت المقدس) کی طرف تھے، تو وہ گھوم کر کعبہ کی طرف ہو گئے۔» (صحیح بخاری، حدیث 403، راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما)

روایت کا مرکزی منظر یہی ہے: لوگ نماز میں تھے، سچی خبر ملی، اور انہوں نے حکم کے مطابق اپنی سمت بدل دی۔ بخاری 399 میں حضرت براء رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی واقعہ انصار کی ایک جماعت کے بارے میں بیان کیا جو عصر کی نماز بیت المقدس کی طرف پڑھ رہے تھے؛ ایک شخص نے، جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کعبہ کی طرف نماز پڑھی تھی، گواہی دی تو وہ لوگ نماز ہی میں کعبہ کی طرف پھر گئے۔ یہ واقعہ صحابہ کی اطاعت کو دکھاتا ہے اور ایک اور پہلو بھی: ایک معتبر مسلمان کی خبر پر انہوں نے عمل کیا۔ بعض سیرت کی روایات میں مسجدِ قبا کے اندر کس نے پہلے خبر سنائی یا لوگ کس طرح مڑے، اس کی مزید تفصیل ملتی ہے؛ یہاں صحیح روایت کا مضبوط مرکز ہی رکھا گیا ہے۔ قبلے کی تبدیلی کا قطعی دن مآخذ میں مختلف ہے؛ عام طور پر اسے ہجرت کے دوسرے سال، غزوۂ بدر سے کچھ پہلے رکھا جاتا ہے۔

پرانے کاغذ پر قطب نما اور ستارہ نما نقش — سمت کا تعین

صحیح روایت میں نمازیوں کا فوراً حکم پر عمل واضح ہے۔

قبلہ ایک سمت، اطاعت ایک مقصد

کعبہ کی طرف رخ ہونے سے مسلمانوں کو عبادت میں ایک مشترکہ سمت ملی، مگر قرآن نے سمجھا دیا کہ اللہ کسی جگہ یا سمت تک محدود نہیں۔ قبلے کا تعین اللہ کا حکم ہے؛ اس پر عمل بندگی ہے۔ اس لیے قبلہ کی تبدیلی پر تنقید کرنے والوں کے سوالات کا جواب قرآن نے ہدایت، اطاعت اور امتحان کے حوالے سے دیا۔ کعبہ وہی گھر ہے جسے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے اٹھایا تھا (البقرہ 2:127)؛ اس کی طرف رخ امتِ مسلمہ کو ملتِ ابراہیمی سے جوڑتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے یہ نیا حکم پہلے سے چلتی عبادت کی نفی نہیں تھا۔ وہ پہلے بیت المقدس کی طرف اللہ کے حکم کے مطابق نماز پڑھتے تھے، پھر وحی کے نئے حکم کے بعد کعبہ کی طرف رخ کرنے لگے۔ اس سے دین میں حکم کی پیروی کا اصول سامنے آتا ہے: جب اللہ کا حکم واضح ہو، مومن اپنی عادت یا لوگوں کی تنقید کو حکم سے اوپر نہیں رکھتا۔ مدینہ کے ابتدائی واقعات میں مسجد، اذان، مہاجرین و انصار کا بھائی چارہ اور قبلہ کی تبدیلی سب ایک نئی جماعت کی تربیت کا حصہ تھے۔ اذان نے لوگوں کو نماز کے لیے بلایا؛ قبلے نے ان کی نماز کو ایک مشترکہ سمت دی؛ وحی نے انہیں بتایا کہ ان کا اصل مقصد اللہ کی اطاعت ہے۔

مختلف سمتوں سے ایک روشن مرکز کی طرف جاتی لکیروں کا نقش

مختلف سمتوں سے ایک مرکز کی طرف صف بندی کا اشارہ۔

آج کے لیے سبق

  • اللہ کے حکم پر عمل کرنا عبادت کا مرکزی اصول ہے۔
  • پہلے حکم کے مطابق کی گئی عبادت کو بعد کے حکم کی روشنی میں بے جا غلط نہ قرار دیں (البقرہ 2:143)۔
  • سچی خبر اور دلیل ملنے پر اپنی رائے درست کرنے میں ہچکچاہٹ نہ ہو؛ اہلِ قبا نے نماز ہی میں رخ بدل لیا۔
  • قبلے کی سمت مشترکہ ہے، مگر عبادت اللہ کے لیے ہے، کسی سمت کے لیے نہیں (البقرہ 2:142)۔
  • قرآن اور حدیث کو الگ حوالوں کے ساتھ سمجھنا سیرت کے واقعات کو صاف رکھتا ہے۔

خلاصہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آ کر سولہ یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی اور کعبہ کی طرف رخ کی تمنا رکھتے تھے؛ پھر سورۃ البقرہ 2:144 نازل ہوئی (بخاری 399، 4486؛ مسلم 525)۔ اعتراض کرنے والوں کو جواب دیا گیا کہ مشرق و مغرب اللہ کے ہیں (2:142) اور پہلے قبلے پر پڑھی نمازیں ضائع نہیں ہوئیں (2:143)۔ قبا میں فجر کی نماز کے دوران خبر پہنچی تو نمازی گھوم کر کعبہ کی طرف ہو گئے (بخاری 403)۔ مرکزی سبق: اللہ کے حکم کی فوری اطاعت اور عبادت کا اللہ کے لیے ہونا۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

۱۔ پہلے مسلمان کس طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے؟

صحیح بخاری 399 اور 4486 کے مطابق بیت المقدس کی طرف؛ روایت مدت سولہ یا سترہ مہینے بتاتی ہے۔

۲۔ نیا قبلہ کس طرف ہوا؟

کعبہ، یعنی مکہ کی مسجدِ حرام کی طرف (البقرہ 2:144)۔

۳۔ قبا میں نمازیوں کو خبر کب ملی؟

صحیح بخاری 403 کے مطابق وہ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے جب ایک آنے والے نے نیا حکم سنایا، اور وہ نماز ہی میں کعبہ کی طرف پھر گئے۔

۴۔ پہلے قبلے کی طرف پڑھی نمازوں کا کیا حکم تھا؟

قرآن 2:143 تسلی دیتا ہے کہ اللہ مومنوں کے ایمان کو ضائع نہیں کرتا؛ پہلے حکم کے مطابق کی گئی عبادت ضائع نہیں ہوئی۔

کتابیں اور حوالے

  • القرآن الکریم: البقرہ 2:142–150: قبلہ کی تبدیلی اور اس سے متعلق رہنمائی؛ 2:127۔
  • صحیح بخاری 399؛ 4486؛ صحیح مسلم 525: حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت، بیت المقدس سے کعبہ کی طرف تبدیلی اور پہلے وفات پانے والوں کے بارے میں آیت۔
  • صحیح بخاری 403: قبا میں فجر کے دوران خبر اور نمازیوں کا رخ بدلنا۔
  • ابن کثیر، تفسیر سورۃ البقرہ 2:142–150؛ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ: تاریخ اور مقام کی تفصیلات۔

حدیث اور قرآنی آیات کو الگ حوالوں سے پیش کیا گیا ہے۔ قبلہ کی تبدیلی کے عین تاریخی دن پر اختلاف ملتا ہے؛ اس لیے کوئی قطعی تاریخ نہیں دی گئی۔

یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments