وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Ashara Mubashshara› عشرہ مبشرہ کا قبولِ اسلام: دس صحابہ، ایمان کا الگ الگ سفر

عشرہ مبشرہ کا قبولِ اسلام: دس صحابہ، ایمان کا الگ الگ سفر

نAuthor Nawab
عشرہ مبشرہ • تعارفی مضمون

عشرہ مبشرہ کا قبولِ اسلام: دس صحابہ، ایمان کا الگ الگ سفر

عشرہ مبشرہ ان دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کہا جاتا ہے جن کے نام ایک مشہور حدیث میں جنت کی بشارت کے ساتھ آئے۔ ان کا اسلام قبول کرنا ایک مجلس کا واقعہ نہیں تھا؛ یہ مکہ کے ابتدائی دور میں مختلف گھرانوں، عمروں اور حالات کے لوگوں کے ایمان لانے کا سلسلہ تھا۔ اس مضمون میں حدیثِ بشارت، صحیح بخاری کی چند روایات اور سیرت کے بیان کو الگ الگ رکھ کر یہ سفر سمجھا گیا ہے۔

مکہ کی رات — ابتدائی دور میں ایمان لانے والوں کا شہر

مکہ کے ابتدائی دور میں اسلام قبول کرنے والوں نے مشکل حالات کا سامنا کیا۔

عشرہ مبشرہ کا مطلب اور حدیثِ بشارت

«عشرہ» کا مطلب دس اور «مبشرہ» کا مطلب وہ لوگ ہیں جنہیں بشارت دی گئی۔ اس اصطلاح سے مراد وہ دس صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں جن کے نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی روایت میں جنت کی خوشخبری کے ساتھ لیے۔ جامع ترمذی، حدیث 3747 میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ وَسَعِيدٌ فِي الْجَنَّةِ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فِي الْجَنَّةِ
«ابوبکر جنت میں ہیں، عمر جنت میں ہیں، عثمان جنت میں ہیں، علی جنت میں ہیں، طلحہ جنت میں ہیں، زبیر جنت میں ہیں، عبدالرحمٰن بن عوف جنت میں ہیں، سعد جنت میں ہیں، سعید جنت میں ہیں، اور ابو عبیدہ بن الجراح جنت میں ہیں۔» (جامع ترمذی 3747)

اسی مقام پر امام ترمذی رحمہ اللہ نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ حدیث حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی سند سے بھی مروی ہے اور وہ سند پہلی سے زیادہ صحیح ہے۔ حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی روایت سنن ابی داود 4649 اور 4650 میں کتاب السنہ کے اندر موجود ہے، جہاں وہ کوفہ کی مسجد میں لوگوں کے سامنے ان ناموں کی گواہی دیتے ہیں۔ حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے مضمون میں اس روایت کا پس منظر الگ سے آ چکا ہے۔

یہ حدیث فضیلت بیان کرتی ہے؛ اس میں نہ قبولِ اسلام کی تاریخ ہے، نہ پہلے سے آخر تک کی ترتیب، نہ ہر صحابی کے ایمان لانے کا واقعہ۔ وہ معلومات سیرت اور طبقات کی کتابوں سے آتی ہیں اور ان کی تفصیل میں فرق ہو سکتا ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ جنت کی امید اور فضیلت صرف ان دس حضرات تک محدود نہیں۔ قرآن مجید مہاجرین و انصار میں سبقت کرنے والوں اور احسان کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں کے لیے اللہ کی رضا اور جنت کا ذکر کرتا ہے:

وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ
«اور مہاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے پہلے لوگ، اور جنہوں نے احسان کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔» (سورۃ التوبہ 9:100)

قبولِ اسلام ایک مجلس کا واقعہ نہیں تھا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی کے بعد دعوت کا آغاز قریبی لوگوں سے ہوا۔ ابتدائی مسلمان مختلف عمروں، گھرانوں اور قبیلوں سے تھے۔ ہر شخص نے فوراً دعوت قبول نہیں کی؛ کچھ کو گھر والوں کی مخالفت، سماجی دباؤ یا اپنے قبیلے کے خوف کا سامنا تھا۔ دعوتِ اسلام کے آغاز کا بیان الگ مضمون میں ہے۔

صحیح بخاری میں چند ایسی روایات ہیں جو خود صحابہ کی زبان سے ابتدائی دور کی تصویر دکھاتی ہیں۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

مَا أَسْلَمَ أَحَدٌ إِلاَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي أَسْلَمْتُ فِيهِ، وَلَقَدْ مَكَثْتُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَإِنِّي لَثُلُثُ الإِسْلاَمِ
«جس دن میں اسلام لایا، اس دن کوئی اور اسلام نہیں لایا تھا، اور میں سات دن اس حال میں رہا کہ میں اسلام کا تہائی تھا۔» (صحیح بخاری، حدیث 3858)

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: «میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ کے ساتھ پانچ غلاموں، دو عورتوں اور ابوبکر کے سوا کوئی نہ تھا۔» (صحیح بخاری 3857) یہ دونوں روایات ایک ہی بات کہتی ہیں: شروع میں مسلمان بہت تھوڑے تھے اور ایک ایک شخص الگ الگ وقت پر ایمان لایا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام اس ابتدائی گروہ کے کچھ عرصے بعد کا واقعہ ہے۔ صحیح بخاری 3865 میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو لوگ ان کے گھر کے پاس جمع ہو گئے اور کہنے لگے «عمر بے دین ہو گیا»۔ اسی طرح حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام لانے سے پہلے مجھے اور اپنی بہن کو اسلام کی وجہ سے باندھا تھا (صحیح بخاری 3867)۔ یعنی حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ فاطمہ بنت الخطاب رضی اللہ عنہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے مسلمان تھے۔ اس کی تفصیل حضرت حمزہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے اسلام والے مضمون میں ہے۔

سادہ چٹائی اور کاغذ — ابتدائی ایمان لانے والوں کی سادگی

ابتدائی ایمان لانے والوں کا سفر مختلف خاندانوں اور حالات سے گزرا۔

دس صحابہ کا مختصر تعارف اور ابتدائی ایمان

ہر صحابی کی زندگی پر اس سلسلے میں الگ مضمون موجود ہے، اس لیے یہاں صرف قبولِ اسلام سے متعلق مختصر بات کی گئی ہے۔ جہاں «سیرت کی روایت» لکھا ہے وہاں مراد ابن اسحاق، ابن ہشام اور ابن سعد کی طبقات جیسی تاریخی کتابیں ہیں، صحیح حدیث نہیں۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ: سیرت کی روایت انہیں آزاد بالغ مردوں میں پہلے اسلام لانے والوں میں شمار کرتی ہے۔ سنن ابن ماجہ 150 (حسن) میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان سات افراد کے نام لیتے ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اپنا اسلام ظاہر کیا؛ ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پہلا نام حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ہے۔ سیرت کے مطابق انہوں نے اپنے دوستوں اور جان پہچان والوں میں دعوت پہنچائی اور اس سلسلے میں حضرت عثمان، زبیر، طلحہ، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد رضی اللہ عنہم کے نام آتے ہیں۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ: ابتدائی چھوٹے گروہ کے بعد اسلام لائے، جب دعوت مکہ میں ظاہر ہو چکی تھی۔ ان کے اسلام لانے کے سبب کے بارے میں مشہور قصے ملتے ہیں، مگر ان کی تفصیل کی سند ایک جیسی نہیں۔ صحیح بخاری سے اتنا ثابت ہے کہ ان کے اسلام لانے پر مکہ میں ہلچل ہوئی اور مسلمانوں کو حوصلہ ملا۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ: ابتدائی مسلمانوں میں سے ہیں۔ صحیح بخاری 3872 میں وہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے دونوں پہلی ہجرتیں کیں؛ یعنی حبشہ اور مدینہ۔ ان کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سے ہوا۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے میں پرورش پائی اور کم سنی میں اسلام قبول کیا۔ اس وقت ان کی عمر اور «سب سے پہلے» کی ترتیب پر سیرت کی روایتوں میں فرق ہے، اس لیے یہ کہنا زیادہ محتاط ہے کہ وہ لڑکوں میں پہلے ایمان لانے والوں میں تھے۔

حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ: دونوں سیرت کے عام بیان میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ذریعے اسلام لانے والوں میں شمار ہیں۔ دونوں نے ابتدائی دور کی مخالفت اور مشکلات کا سامنا کیا۔

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ: ابتدائی دور میں داخلِ اسلام ہوئے؛ حدیثِ بشارت کے راویوں میں سے ہیں اور اپنا نام بھی خود روایت کرتے ہیں، جو ان کی دیانت کی ایک جھلک ہے۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ: صحیح بخاری 3858 میں ان کے اپنے الفاظ اوپر گزر چکے: سات دن تک وہ «اسلام کا تہائی» تھے۔ سیرت میں ان کی والدہ کی سخت مخالفت اور ان کی ثابت قدمی کا ذکر ہے۔

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ: صحیح بخاری 3867 کے مطابق وہ اور ان کی اہلیہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے پہلے مسلمان تھے۔

حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ: ابتدائی مسلمانوں میں شامل ہیں؛ ان کے قبولِ اسلام کا دن یا ترتیب کسی صحیح روایت میں نہیں، اس لیے انہیں ابتدائی نسل کا حصہ کہنا کافی ہے۔ بعد کے دور میں «امین الامۃ» کے لقب سے معروف ہوئے۔

ترازو اور صندوق — سچائی اور امانت کا استعارہ

ایمان کا سفر ہر صحابی کے لیے اپنے گھرانے اور حالات کے ساتھ جدا تھا۔

بشارت اور قبولِ اسلام میں فرق

عشرہ مبشرہ کے حوالے سے دو باتیں الگ رکھنی چاہئیں۔ پہلی یہ کہ یہ دس بزرگ اسلام لانے والی ابتدائی نسل میں شامل تھے، مگر ان سب کا قبولِ اسلام ایک ساتھ نہیں ہوا اور ان کے ایمان کی ترتیب حدیثِ بشارت کا موضوع نہیں۔ دوسری یہ کہ جامع ترمذی 3747 میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام جنت کی بشارت کے ساتھ لیے؛ یہ ایک الگ فضیلت ہے جسے ان کے قبولِ اسلام کے واقعات کے ساتھ ملایا نہ جائے۔

یہ حدیث یہ نہیں کہتی کہ صرف یہی دس افراد جنتی ہیں، یا باقی صحابہ کے بارے میں کوئی فیصلہ کرتی ہے۔ دوسری احادیث میں دیگر صحابہ اور صحابیات کے لیے بھی جنت کی خوشخبری آئی ہے۔ ہر نص کو اس کے اپنے سیاق میں رکھنے سے فضیلت کا بیان بھی درست رہتا ہے اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم کا ادب بھی۔

سیرت کی روایات کو کیسے پڑھیں؟

  • قرآن (سورۃ التوبہ 9:100) سابقین اولین کی فضیلت کا عام ذکر کرتا ہے؛ کسی ترتیب کی فہرست نہیں دیتا۔
  • ترمذی 3747 اور ابو داود 4649/4650 نام اور بشارت دیتے ہیں؛ تاریخ یا ترتیب نہیں۔
  • صحیح بخاری کی روایات (3857، 3858، 3865، 3867) ابتدائی دور کی چند یقینی جھلکیاں دیتی ہیں؛ مکمل ترتیب پھر بھی نہیں بنتی۔
  • ابن اسحاق، ابن ہشام اور ابن سعد کی کتابیں تفصیل دیتی ہیں، مگر یہ تاریخی رپورٹیں ہیں؛ ان میں عمر، سبب، گفتگو کے الفاظ اور ترتیب میں فرق ہو سکتا ہے۔ جہاں یقینی دلیل نہ ہو وہاں «روایت کے مطابق» کہنا علم کی امانت ہے۔
  • غیر ثابت قصوں کو لفظاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی صحابی کی طرف منسوب نہ کیا جائے۔
وادی کا راستہ — ثابت قدمی اور بھروسے کا سفر

ابتدائی ایمان کا سفر ثابت قدمی اور اللہ پر بھروسے کا سبق دیتا ہے۔

آج کے قاری کے لیے سبق

  • ایمان کا فیصلہ سچ کی پہچان اور اللہ کی طرف رجوع سے ہوتا ہے؛ ان بزرگوں نے تجارت، اثر و رسوخ، گھرانے اور جوانی کے مختلف مرحلوں میں دعوت کا جواب دیا۔
  • ابتدائی مسلمانوں کی قلت (پانچ غلام، دو عورتیں اور ابوبکر) یاد دلاتی ہے کہ حق کی قدر تعداد سے نہیں ہوتی۔
  • فضیلت کی حدیث اور تاریخی رپورٹ کو الگ رکھنا سیکھیں؛ یہی طریقہ صحابہ کے ادب اور علم کی دیانت دونوں کی حفاظت کرتا ہے۔
  • حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مثال بتاتی ہے کہ پہلے مخالفت کرنے والا بعد میں دین کا ستون بن سکتا ہے؛ کسی کے بارے میں جلد فیصلہ نہ کریں۔

خلاصہ

عشرہ مبشرہ وہ دس صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں جن کے نام جامع ترمذی 3747 اور سنن ابی داود 4649/4650 میں جنت کی بشارت کے ساتھ آتے ہیں۔ ان کا قبولِ اسلام ایک ہی وقت میں نہیں ہوا۔ حضرت ابوبکر، علی، سعد، سعید بن زید اور دیگر رضی اللہ عنہم مکہ کے ابتدائی مسلمانوں میں تھے؛ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کچھ بعد کے مرحلے میں اسلام لائے۔ صحیح بخاری کی روایات چند یقینی جھلکیاں دیتی ہیں، باقی تفصیل سیرت کی کتابوں سے ہے جس میں فرق ممکن ہے۔ فضیلت کی حدیث اور قبولِ اسلام کی تاریخی رپورٹ کو الگ رکھنا بنیادی اصول ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

۱۔ عشرہ مبشرہ کون ہیں؟

حضرت ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید اور ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہم۔ ان ناموں کی بشارت جامع ترمذی 3747 اور سنن ابی داود 4649/4650 میں ہے۔

۲۔ کیا سب دس نے ایک ساتھ اسلام قبول کیا؟

نہیں۔ یہ مختلف افراد تھے جو مکہ کے ابتدائی دور کے مختلف مرحلوں میں اسلام لائے۔ حدیثِ بشارت ان کے قبولِ اسلام کی مجلس یا ترتیب بیان نہیں کرتی۔

۳۔ کیا ان کے اسلام لانے کی قطعی ترتیب معلوم ہے؟

نہیں۔ صحیح بخاری سے چند باتیں ثابت ہیں، مثلاً حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا ابتدائی تین میں ہونا اور حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے مسلمان ہونا؛ مگر دسوں کی مکمل ترتیب کسی صحیح حدیث میں نہیں۔

۴۔ کیا جنت کی بشارت صرف انہی دس کے لیے ہے؟

یہ حدیث ان دس کی خاص فضیلت بیان کرتی ہے؛ دوسرے صحابہ کے لیے بھی قرآن (9:100) اور دیگر احادیث میں جنت کی خوشخبری موجود ہے۔

کتابیں اور حوالے

  • جامع ترمذی، حدیث 3747: دس صحابہ کے نام اور جنت کی بشارت؛ امام ترمذی کا سعید بن زید والی سند کے «اصح» ہونے کا نوٹ۔
  • سنن ابی داود 4649 اور 4650: حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی گواہی۔
  • صحیح بخاری 3858: حضرت سعد رضی اللہ عنہ «اسلام کا تہائی»۔
  • صحیح بخاری 3857: حضرت عمار رضی اللہ عنہ کا ابتدائی مسلمانوں کی تعداد کا بیان۔
  • صحیح بخاری 3865 اور 3867: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام اور حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی گواہی۔
  • سنن ابن ماجہ 150 (حسن): سب سے پہلے اسلام ظاہر کرنے والے سات افراد۔
  • القرآن الکریم، سورۃ التوبہ 9:100: سابقین اولین کی فضیلت۔
  • ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ؛ ابن سعد، الطبقات الکبریٰ؛ الذہبی، سیر اعلام النبلاء: قبولِ اسلام کے تاریخی بیانات (سند کے فرق کے ساتھ)۔

جنت کی بشارت حدیث کا متن ہے؛ قبولِ اسلام کی ترتیب سیرت اور طبقات کی رپورٹوں سے آتی ہے۔ دونوں کو الگ ماخذ کے طور پر پڑھیں۔

یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments