مدینہ میں مؤاخات: مہاجرین اور انصار کا بھائی چارہ
مدینہ میں مؤاخات: مہاجرین اور انصار کا بھائی چارہ
مدینہ میں ہجرت کے بعد زندگی کا نیا سفر شروع ہو رہا تھا۔ مکہ سے آنے والے مہاجرین اپنے گھر، مال، تجارت اور پرانا ماحول پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ دوسری طرف انصار، یعنی اوس اور خزرج کے مسلمان، اپنے شہر میں ان کا استقبال کر رہے تھے۔ مسجد کی بنیاد نے عبادت اور جماعت کا مرکز دیا؛ اب ضرورت تھی کہ مختلف گھروں اور قبائل سے آنے والے لوگ ایک دوسرے کے لیے واقعی اپنے بن جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا؛ اس بندھن کو «مؤاخات» کہا جاتا ہے۔
مہاجرین اور انصار کے درمیان قائم ہونے والے بھائی چارے کی علامت۔
بھائی چارہ جو صرف نام کا نہیں تھا
صحیح بخاری میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف اور حضرت سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہما کا واقعہ اس بھائی چارے کی زندہ تصویر ہے:
لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ آخَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: إِنِّي أَكْثَرُ الأَنْصَارِ مَالاً فَأَقْسِمُ مَالِي نِصْفَيْنِ … فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، أَيْنَ سُوقُكُمْ؟ فَدَلُّوهُ عَلَى سُوقِ بَنِي قَيْنُقَاعَ
«جب مہاجرین مدینہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔ سعد نے عبدالرحمٰن سے کہا: میں انصار میں سب سے زیادہ مال دار ہوں، میں اپنا مال دو حصوں میں بانٹتا ہوں … عبدالرحمٰن نے کہا: اللہ تمہارے گھر والوں اور مال میں برکت دے؛ تمہارا بازار کہاں ہے؟ لوگوں نے انہیں بنو قینقاع کے بازار کا پتا بتایا۔» (صحیح بخاری، حدیث 3780؛ نیز 2048، 3937)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے نئے بھائی کے سامنے دل کھول کر رکھ دیا: آدھا مال، اور گھر کی سہولتوں میں بھی شرکت کی پیشکش۔ یہ محض جذباتی استقبال نہیں تھا؛ ہجرت کے بعد ضرورت مند ساتھی کو حقیقی سہارا دینے کی کوشش تھی۔ لیکن حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے جواب نہایت وقار اور دعا کے ساتھ دیا: برکت کی دعا کی اور بازار کا پتا پوچھا۔ وہ اپنی محنت سے حلال رزق کمانا چاہتے تھے۔ روایت کا باقی حصہ بتاتا ہے کہ وہ تجارت سے کچھ پنیر اور گھی کما کر لوٹے؛ کچھ دن بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر زردی (خوشبو) کا نشان دیکھا اور پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ایک انصاری خاتون سے نکاح کیا ہے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہر پوچھا، انہوں نے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونا بتایا؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ولیمہ کرو، چاہے ایک بکری سے» (بخاری 2048)۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے مضمون میں اس کی تفصیل ہے۔
اس جواب میں دونوں صحابہ کا کردار نمایاں ہے: ایک طرف بے مثال احسان، دوسری طرف خودداری، شکر اور اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی خواہش۔ بھائی چارہ کسی کو ہمیشہ دینے والا اور کسی کو ہمیشہ لینے والا بنا دینا نہیں؛ ضرورت پر سہارا دینا اور پھر اسے اپنی صلاحیت سے آگے بڑھنے کا موقع دینا بھی ہے۔
انصار کی سخاوت اور نئی زندگی میں بانٹ کر ساتھ دینے کا جذبہ۔
انصار کے باغ اور مہاجرین کی محنت
یہ بھائی چارہ صرف دو افراد تک محدود نہ تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ مِنْ مَكَّةَ وَلَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ، وَكَانَتِ الأَنْصَارُ أَهْلَ الأَرْضِ وَالْعَقَارِ، فَقَاسَمَهُمُ الأَنْصَارُ عَلَى أَنْ يُعْطُوهُمْ ثِمَارَ أَمْوَالِهِمْ كُلَّ عَامٍ وَيَكْفُوهُمُ الْعَمَلَ وَالْمَئُونَةَ
«جب مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے تو ان کے ہاتھ میں کچھ نہ تھا، اور انصار زمین اور جائیداد والے تھے۔ انصار نے ان کے ساتھ یہ معاملہ کیا کہ ہر سال اپنے باغوں کی پیداوار انہیں دیں گے اور مہاجرین (ان کے بدلے) کام اور محنت میں ان کا ہاتھ بٹائیں گے۔» (صحیح بخاری، حدیث 2630)
اسی روایت میں ہے کہ خیبر کی فتح کے بعد، جب مہاجرین کے پاس اپنا ذریعہ آ گیا، تو انہوں نے انصار کے وہ عطیے واپس لوٹا دیے۔ یہ پہلو بہت اہم ہے: انصار نے بغیر مانگے دیا، اور مہاجرین نے جیسے ہی ممکن ہوا، احسان کا بوجھ اتارا۔ ایک اور روایت میں انصار نے عرض کیا کہ کھجور کے درخت ہمارے اور ہمارے مہاجر بھائیوں کے درمیان بانٹ دیجیے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا اور باغبانی میں شرکت کی صورت رکھی (بخاری 2325)۔ قرآن نے انصار کی اس صفت کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا:
وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
«اور جو لوگ ان سے پہلے اس گھر (مدینہ) اور ایمان میں جگہ بنا چکے تھے، وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کے پاس آئیں، اور جو کچھ انہیں (مہاجرین کو) دیا جائے اس کی اپنے دلوں میں کوئی خواہش نہیں پاتے، اور انہیں اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود تنگی میں ہوں۔ اور جو اپنے نفس کے بخل سے بچا لیا گیا، وہی کامیاب ہیں۔» (سورۃ الحشر 59:9)
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے لیے بازار کا رخ کیا۔
مؤاخات کا نظام اور اس کے احکام
سیرت کے مطابق یہ بھائی چارہ مسجدِ نبوی کی تعمیر کے بعد، ہجرت کے پہلے سال، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھر میں قائم ہوا؛ ابن اسحاق نے مہاجرین اور انصار کے جوڑوں کی ایک فہرست دی ہے (تقریباً نوے افراد، پینتالیس جوڑے)، جس میں مثلاً حضرت ابو بکر اور خارجہ بن زید، حضرت عمر اور عتبان بن مالک، حضرت ابو عبیدہ اور سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے نام ہیں۔ یہ فہرست سیرت کی روایت ہے اور اس کی ہر جوڑی پر ایک جیسی سند نہیں؛ اس لیے یہاں صحیح بخاری سے ثابت حضرت عبدالرحمٰن اور حضرت سعد رضی اللہ عنہما کا واقعہ بنیادی مثال رکھا گیا ہے۔ مکہ میں ہجرت سے پہلے صحابہ کے درمیان ایک بھائی چارے کا ذکر بھی سیرت میں آتا ہے؛ مدینہ کی مؤاخات اس سے الگ اور زیادہ مشہور ہے۔
اس بھائی چارے کا ایک قانونی پہلو بھی تھا جو صحیح بخاری سے ثابت ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما آیت «وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ» کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
كَانَ الْمُهَاجِرُونَ لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَرِثُ الْمُهَاجِرُ الأَنْصَارِيَّ دُونَ ذَوِي رَحِمِهِ، لِلأُخُوَّةِ الَّتِي آخَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمْ، فَلَمَّا نَزَلَتْ {وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ} نُسِخَتْ، ثُمَّ قَالَ {وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ} إِلاَّ النَّصْرَ وَالرِّفَادَةَ وَالنَّصِيحَةَ، وَقَدْ ذَهَبَ الْمِيرَاثُ
«مہاجرین جب مدینہ آئے تو اس بھائی چارے کی وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان قائم کیا تھا، مہاجر اپنے انصاری بھائی کا وارث ہوتا تھا، اس کے رشتہ داروں کے بجائے۔ جب آیت «ولکل جعلنا موالی» نازل ہوئی تو یہ منسوخ ہو گیا؛ پھر «والذین عقدت ایمانکم» کا مطلب رہ گیا: مدد، تعاون اور خیرخواہی، اور میراث ختم ہو گئی۔» (صحیح بخاری، حدیث 2292؛ آیت: النساء 4:33)
یعنی ابتدا میں یہ رشتہ اتنا مضبوط تھا کہ وراثت تک اس پر چلتی تھی؛ بعد میں وراثت نسبی رشتہ داروں کی طرف لوٹ آئی اور بھائی چارے کا مطلب مدد، تعاون اور خیرخواہی رہ گیا۔ انصار سے محبت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کی علامت قرار دیا: «انصار سے مومن ہی محبت کرتا ہے اور منافق ہی بغض رکھتا ہے؛ جو ان سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرتا ہے» (صحیح بخاری 3783)۔
مدینہ کے معاشرے کی بنیاد
مؤاخات کا مقصد صرف چند افراد کی دوستی نہیں تھا۔ نئی مسلم جماعت میں مکہ کے مہاجر اور مدینہ کے انصار شامل تھے؛ ان کے تجربے، حالات اور روزگار کے طریقے مختلف تھے۔ بھائی چارے نے اجنبیت کم کی اور لوگوں کو ایک دوسرے کی ذمہ داری سمجھنے کی تعلیم دی۔ مسجد میں عبادت، گھروں میں مہمان نوازی، بازار میں تجارت اور مشکل وقت میں مدد؛ یہ سب مل کر ایک معاشرہ بناتے ہیں۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مدینہ کی ترقی ایک دن میں نہیں ہوئی۔ ہجرت کے بعد لوگوں کو روزگار، رہنے کی جگہ، رشتوں کی تقسیم اور امن کے مسائل کا سامنا تھا؛ بھائی چارہ ان مسائل کا ایک انسانی اور دینی جواب تھا۔ اسی دور میں میثاقِ مدینہ کے ذریعے شہر کے دوسرے قبائل کے ساتھ بھی امن کا معاہدہ ہوا۔
محنت، تجارت اور حلال رزق کی تلاش ایک نئی زندگی کا حصہ بنی۔
آج کے لیے سبق
- نئے آنے والے یا مشکل میں پھنسے شخص کو صرف تسلی نہیں، عملی سہارا بھی چاہیے۔
- سخاوت میں عزت اور سمجھداری رکھیں؛ دوسرے کو اپنی صلاحیت استعمال کرنے کا موقع دیں۔
- حلال روزگار کی تلاش عبادت اور وقار کے خلاف نہیں؛ محنت پر بھروسا رکھیں۔
- احسان لینے والا موقع ملتے ہی احسان کا بوجھ اتارے؛ مہاجرین نے خیبر کے بعد انصار کے عطیے لوٹا دیے (بخاری 2630)۔
- رشتے صرف جذبات سے نہیں، ذمہ داری، دعا اور وقت دینے سے مضبوط ہوتے ہیں۔
- اپنی فراخی میں دوسروں کو شامل کرنا اللہ کی دی ہوئی نعمت کا شکر ہے (الحشر 59:9)۔
خلاصہ
ہجرت کے پہلے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا۔ حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ نے آدھا مال پیش کیا اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے برکت کی دعا دے کر بازار کا راستہ پوچھا (بخاری 3780، 2048)؛ انصار نے اپنے باغوں کی پیداوار بانٹی اور مہاجرین نے خیبر کے بعد اسے لوٹا دیا (بخاری 2630)؛ ابتدا میں اس بھائی چارے پر وراثت بھی چلتی تھی جو النساء 4:33 سے منسوخ ہوئی (بخاری 2292)۔ قرآن نے انصار کے ایثار کو الحشر 59:9 میں یاد رکھا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ مؤاخات سے کیا مراد ہے؟
مدینہ میں مہاجرین اور انصار کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم کیا ہوا بھائی چارہ، جس کی صحیح حدیث کی مثال حضرت عبدالرحمٰن بن عوف اور حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہما کا واقعہ ہے (بخاری 3780)۔
۲۔ حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ نے کیا پیشکش کی؟
اپنا آدھا مال اور گھر کے معاملات میں بھی شرکت؛ حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے دعا دے کر بازار کا راستہ پوچھا۔
۳۔ کیا مؤاخات کی وجہ سے وراثت بھی ملتی تھی؟
جی ہاں، ابتدا میں؛ پھر سورۃ النساء 4:33 کے نزول سے وراثت رشتہ داروں کی طرف لوٹ گئی اور مدد و خیرخواہی باقی رہی (بخاری 2292)۔
۴۔ قرآن میں انصار کی سخاوت کہاں بیان ہوئی؟
سورۃ الحشر 59:9 میں، جہاں ہجرت کر کے آنے والوں سے محبت اور اپنے اوپر ترجیح دینے (ایثار) کا ذکر ہے۔
کتابیں اور حوالے
- القرآن الکریم: الحشر 59:9؛ النساء 4:33؛ الانفال 8:72۔
- صحیح بخاری 3780، 2048، 3937: عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ربیع رضی اللہ عنہما۔
- صحیح بخاری 2630: انصار کا پیداوار بانٹنا اور خیبر کے بعد واپسی۔
- صحیح بخاری 2292: مؤاخات کی وراثت اور اس کا نسخ۔
- صحیح بخاری 3783: انصار کی محبت ایمان کی نشانی۔
- ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ: مؤاخات کے جوڑوں کی فہرست اور پس منظر۔
حدیث کے حوالے صحیح بخاری سے ہیں؛ جوڑوں کی عمومی فہرست سیرت کی روایت ہے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment