ہجرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم: غارِ ثور کی تین راتیں، سراقہ کا واقعہ اور قبا تک کا سفر
ہجرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم: غارِ ثور کی تین راتیں، سراقہ کا واقعہ اور قبا تک کا سفر
صحابہ کے قافلے یثرب کی طرف نکل چکے تھے۔ اب قریش کی نظر اس گھر پر تھی جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مکہ میں موجود تھے۔ قرآن سورۃ الانفال 8:30 میں اس سازش کا ذکر کرتا ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قید کرنے، قتل کرنے یا مکہ سے نکالنے کی تجویزیں تھیں۔ اس خطرے کے درمیان اللہ تعالیٰ نے ہجرت کا راستہ کھولا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اپنا ہم سفر چنا، اور دونوں نے ایک ایسا سفر شروع کیا جس نے مکہ اور یثرب کی تاریخ بدل دی۔
تین راتیں غارِ ثور میں؛ سفر کا اگلا قدم منتظر تھا۔
قریش کی سازش اور اللہ کی تدبیر
وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ ۚ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ
«اور جب کافر آپ کے خلاف تدبیریں کر رہے تھے کہ آپ کو قید کر دیں یا قتل کر دیں یا نکال دیں؛ وہ تدبیر کر رہے تھے اور اللہ بھی تدبیر کر رہا تھا، اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔» (سورۃ الانفال 8:30)
سیرت کے مطابق قریش نے دار الندوہ میں مشورہ کیا اور طے پایا کہ ہر قبیلے کا ایک جوان مل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرے تاکہ خون سب قبیلوں میں بٹ جائے۔ اسی رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پر سلایا تاکہ لوگوں کی امانتیں واپس کریں، اور خود نکل گئے۔ یہ تفصیل ابن اسحاق کی سیرت سے ہے؛ صحیح بخاری کی روایت اس رات کی جگہ دوپہر کے وقت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر آنے سے سفر کا بیان شروع کرتی ہے۔
ہجرت کی اجازت اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تیاری
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن دوپہر کی سخت گرمی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر ڈھانپے ہوئے تشریف لائے، ایسے وقت جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر نہ آتے تھے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ قربان، اس وقت آپ کسی خاص بات ہی سے آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مجھے نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔» حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: «ساتھ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟» فرمایا: «ہاں۔» انہوں نے اپنی دو سواریوں میں سے ایک پیش کی؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قیمت کے بدلے» (صحیح بخاری 3905)۔ اس چھوٹی سی تفصیل میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت اور معاملے کی صفائی نظر آتی ہے۔
اسی روایت میں ہے کہ دونوں کے لیے کھانا ایک چمڑے کے تھیلے میں رکھا گیا؛ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے اپنے کمر بند کا ٹکڑا کاٹ کر تھیلے کا منہ باندھا، اسی لیے انہیں «ذات النطاقین» کہا گیا۔ گھر کے اندر تیاری خاموشی سے ہو رہی تھی؛ اس ہجرت میں توکل کے ساتھ تدبیر بھی تھی۔
سفر کے لیے پانی اور کھانا احتیاط سے تیار کیا گیا۔
غارِ ثور میں تین راتیں
مکہ سے سیدھا شمال کی طرف جانے کے بجائے دونوں جنوب میں جبلِ ثور کے غار میں پناہ گزین ہوئے۔ صحیح بخاری 3905 کے مطابق وہ وہاں تین راتیں رہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبداللہ، جو سمجھ دار نوجوان تھے، رات کو خبریں لاتے اور سحری سے پہلے مکہ لوٹ جاتے؛ دن میں قریش کے درمیان یوں رہتے جیسے رات کو وہیں سوئے ہوں۔ ان کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ بکریاں چراتے ہوئے رات کو غار کے پاس لاتے، جن کا دودھ ملتا اور صبح قدموں کے نشان بھی مٹ جاتے۔ انہوں نے بنو دیل کے ایک ماہر راستہ شناس کو اجرت پر رکھا جو قریش کے دین پر تھا، مگر قابلِ اعتماد تھا؛ سیرت میں اس کا نام عبداللہ بن اریقط آتا ہے۔
غار میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا فِي الْغَارِ: لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ تَحْتَ قَدَمَيْهِ لأَبْصَرَنَا. فَقَالَ: مَا ظَنُّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا
«میں غار میں تھا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اگر ان میں سے کوئی اپنے قدموں کے نیچے دیکھ لے تو ہمیں دیکھ لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر! ان دو کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے جن کا تیسرا اللہ ہے؟» (صحیح بخاری، حدیث 3653)
إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ۖ فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا
«اگر تم اس کی مدد نہ کرو تو اللہ نے اس کی مدد کی جب کافروں نے اسے نکالا، وہ دو میں سے دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا: غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تو اللہ نے اس پر اپنی سکینت نازل کی اور ایسے لشکروں سے اس کی مدد کی جنہیں تم نے نہیں دیکھا۔» (سورۃ التوبہ 9:40)
غار کے منہ پر مکڑی کے جالے اور کبوتر کے انڈوں کا قصہ سیرت کی بعض کتابوں میں ہے؛ اس کی سند کمزور ہے اور صحیحین میں نہیں۔ قرآن اور صحیح حدیث اللہ کی حفاظت کو «ان دیکھے لشکروں» اور سکینت سے بیان کرتے ہیں، اور یہی کافی ہے۔
سراقہ کے گھوڑے کے پاؤں زمین میں دھنس گئے؛ پرسکون رہنمائی نے خطرہ ٹال دیا۔
سراقہ بن مالک کا واقعہ
تین راتوں کے بعد قافلہ ساحل کے راستے یثرب کی طرف نکلا۔ قریش نے دونوں میں سے ہر ایک کو قتل یا گرفتار کرنے والے کے لیے سو اونٹ کے برابر انعام رکھا تھا۔ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ خود بیان کرتے ہیں:
حَتَّى إِذَا سَمِعْتُ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ لاَ يَلْتَفِتُ، وَأَبُو بَكْرٍ يُكْثِرُ الاِلْتِفَاتَ، سَاخَتْ يَدَا فَرَسِي فِي الأَرْضِ حَتَّى بَلَغَتَا الرُّكْبَتَيْنِ، فَخَرَرْتُ عَنْهَا … وَوَقَعَ فِي نَفْسِي حِينَ لَقِيتُ مَا لَقِيتُ مِنَ الْحَبْسِ عَنْهُمْ أَنْ سَيَظْهَرُ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
«یہاں تک کہ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت سنی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مڑ کر نہیں دیکھتے تھے اور ابو بکر بار بار مڑ کر دیکھتے تھے، تو میرے گھوڑے کے اگلے پاؤں زمین میں گھٹنوں تک دھنس گئے اور میں اس سے گر پڑا … اور جب میں نے ان تک پہنچنے سے اس طرح روکے جانے کا سامنا کیا تو میرے دل میں آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ ضرور غالب آئے گا۔» (صحیح بخاری، حدیث 3906)
سراقہ نے امان مانگی، زادِ راہ پیش کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہ کیا، اور صرف یہ فرمایا: «ہمارے بارے میں خبر چھپائے رکھو۔» ان کی درخواست پر عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ نے چمڑے کے ٹکڑے پر امان نامہ لکھ دیا۔ حدیث کا یہ واقعہ ہجرت کے سفر میں اللہ کی حفاظت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پرسکون رویے کو دکھاتا ہے۔ اسی سفر میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ شام سے لوٹتے تاجروں کے قافلے میں ملے اور دونوں کو سفید کپڑے پہنائے (بخاری 3906)۔ سیرت میں ام معبد کے خیمے اور دوسرے مسافروں سے ملاقات کی مزید تفصیل ملتی ہے؛ انہیں صحیح حدیث کے الفاظ کے ساتھ ملا کر نہیں بتانا چاہیے۔
قبا میں پہلی منزل
بخاری 3906 کے مطابق مدینہ کے مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکلنے کی خبر سن کر روزانہ صبح حرّہ تک جا کر انتظار کرتے، یہاں تک کہ دوپہر کی گرمی انہیں لوٹا دیتی۔ ایک دن جب وہ لوٹ چکے تھے تو ایک یہودی نے اپنے قلعے سے سفید کپڑوں میں قافلہ دیکھا اور پکارا: «اے عرب! یہ تمہارا وہ نصیب (سردار) آ گیا جس کا تم انتظار کرتے ہو۔» مسلمان ہتھیار لے کر دوڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف مڑ کر بنو عمرو بن عوف (قبا) میں اترے؛ یہ ربیع الاول کا پیر کا دن تھا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر لوگوں سے ملتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش بیٹھے رہے، یہاں تک کہ جن انصار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے نہ دیکھا تھا وہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کو سلام کرنے لگے؛ جب دھوپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آئی اور ابو بکر رضی اللہ عنہ نے چادر سے سایہ کیا تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبا میں دس سے کچھ زیادہ راتیں ٹھہرے اور وہاں وہ مسجد قائم کی «جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی»؛ تفصیل مسجدِ قبا کے مضمون میں ہے۔
قبا پہنچ کر ہجرت کا ایک نیا منظر سامنے آیا۔
اس سفر کا پیغام
اس واقعے میں توکل اور تدبیر ساتھ ساتھ چلتے نظر آتے ہیں: سواری اور رہنما تیار کیا گیا، خبر پہنچانے اور راستہ دھندلانے کی ذمہ داری بانٹی گئی، لیکن دل اللہ پر بھروسے سے جڑا رہا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رفاقت، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی تیاری اور عبداللہ اور عامر رضی اللہ عنہما کی خدمت نے بھی اس سفر میں اپنا حصہ ادا کیا۔ ہجرت کا مقصد مشکل سے بچ کر آرام طلب کرنا نہیں تھا؛ یہ اللہ کے دین پر عمل اور دعوت کے لیے امن کی جگہ کی طرف روانگی تھی۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے مقام پر الگ مضمون یہاں ہے۔
عملی سبق
- توکل کا مطلب تدبیر چھوڑ دینا نہیں؛ دونوں ایک ساتھ ہو سکتے ہیں۔
- مشکل سفر میں ذمہ داری بانٹنا اور ایک دوسرے پر بھروسا کرنا بہت اہم ہے۔
- کسی عظیم کام میں گھر والوں اور ساتھیوں کی چھوٹی، خاموش خدمت بھی بڑی قیمت رکھتی ہے۔
- «لا تحزن ان اللہ معنا» ہر خوف کے لمحے کے لیے مومن کا سہارا ہے۔
- دشمن کے ساتھ بھی وعدہ اور امان نبھائی جاتی ہے؛ سراقہ کو امان نامہ لکھ کر دیا گیا۔
خلاصہ
قریش کی سازش (8:30) کے بعد اللہ کی اجازت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نکلے؛ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کمر بند سے تھیلا باندھا؛ تین راتیں غارِ ثور میں گزریں جہاں عبداللہ بن ابی بکر خبریں اور عامر بن فہیرہ بکریاں لاتے (بخاری 3905)؛ «ما ظنک باثنین اللہ ثالثہما» (بخاری 3653) اور «لا تحزن» (9:40)۔ راستے میں سراقہ کا گھوڑا دھنسا اور اسے امان نامہ ملا (بخاری 3906)؛ ربیع الاول کے پیر کو قبا میں ورود ہوا۔ مکڑی کے جالے کا قصہ ضعیف ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت میں کون تھے؟
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ (التوبہ 9:40؛ بخاری 3905)۔ راستہ دکھانے کے لیے بنو دیل کا ایک غیر مسلم رہنما اجرت پر تھا، اور عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ ساتھ ہوئے۔
۲۔ غار میں کتنی راتیں رہے؟
صحیح بخاری 3905 کے مطابق تین راتیں۔
۳۔ کیا مکڑی کے جالے اور کبوتر کا قصہ صحیح ہے؟
یہ سیرت کی بعض کتابوں میں ہے مگر اس کی سند ضعیف ہے؛ صحیح بخاری اور مسلم میں نہیں۔ قرآن اللہ کی حفاظت کو سکینت اور ان دیکھے لشکروں سے بیان کرتا ہے۔
۴۔ سراقہ کا واقعہ کس حدیث میں ہے؟
صحیح بخاری 3906 میں خود سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کی زبانی۔
کتابیں اور حوالے
- القرآن الکریم: الانفال 8:30؛ التوبہ 9:40۔
- صحیح بخاری 3905: اجازت، سواری کی قیمت، ذات النطاقین، غار کی تین راتیں، عبداللہ بن ابی بکر، عامر بن فہیرہ، رہنما۔
- صحیح بخاری 3653: «ما ظنک باثنین اللہ ثالثہما»۔
- صحیح بخاری 3906: سراقہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے سفید کپڑے، قبا میں استقبال۔
- ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ: دار الندوہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بستر پر سونا، ام معبد، عبداللہ بن اریقط۔
صحیح بخاری کی روایات بنیاد ہیں؛ سیرت کی تفصیلات اور ضعیف قصے الگ بتائے گئے ہیں۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment