وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Anbiya-e-Kiram› حضرت اسماعیل علیہ السلام: نبی، صبر کرنے والے اور کعبہ کے خادم

حضرت اسماعیل علیہ السلام: نبی، صبر کرنے والے اور کعبہ کے خادم

نAuthor Nawab
قصص الانبیاء • حضرت اسماعیل علیہ السلام

حضرت اسماعیل علیہ السلام: نبی، صبر کرنے والے اور کعبہ کے خادم

حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے اور اللہ کے نبی ہیں۔ قرآن انہیں سچے وعدے، صبر، نماز کی تلقین اور اپنے والد کے ساتھ کعبہ کی بنیادیں اٹھانے کے حوالے سے یاد کرتا ہے۔ صحیح بخاری کی طویل روایت (3364–3365) ان کے بچپن، ان کی والدہ کے زمزم تک پہنچنے، جرہم کے ساتھ مکہ میں پرورش اور کعبہ کی تعمیر کے اہم پہلو بیان کرتی ہے۔ قرآن سورۃ الصافات میں قربانی کے امتحان کا واقعہ سناتا ہے، مگر اس بیٹے کا نام صراحتاً نہیں لیتا۔ اس لیے یہاں یقینی قرآنی الفاظ، صحیح حدیث کی تفصیل اور مفسرین کے اختلاف کو الگ الگ رکھا گیا ہے۔

بے آب و گیاہ وادی میں درخت کے نیچے کھجوریں اور پانی کی مشک — توکل کا علامتی منظر

کھجوریں اور پانی کی مشک: بے آباد وادی میں توکل اور اللہ کی حفاظت کا علامتی منظر۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور مکہ کی وادی

سورۃ ابراہیم 14:37 میں حضرت ابراہیم علیہ السلام عرض کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی اولاد میں سے کچھ کو بے کھیتی والی وادی میں، اللہ کے محترم گھر کے پاس بسایا ہے تاکہ وہ نماز قائم کریں (14:37)۔ آیت دعا اور مکہ کا مقام بیان کرتی ہے، اولاد کا نام نہیں لیتی۔ صحیح بخاری 3364 بتاتی ہے کہ وہ بچہ حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں اور ان کی والدہ کو زمزم کے مقام کے قریب ایک درخت کے پاس چھوڑ کر گئے۔ اس وقت وادی میں نہ آبادی تھی نہ پانی؛ آپ علیہ السلام نے کھجوروں کی ایک تھیلی اور پانی کی مشک ان کے پاس رکھی اور واپس چل پڑے۔ والدہ نے پوچھا کہ ہمیں اس وادی میں کس کے سہارے چھوڑ رہے ہیں؛ پھر پوچھا:

آللَّهُ الَّذِي أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَتْ: إِذًا لَا يُضَيِّعُنَا
«کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟» فرمایا: «ہاں۔» کہنے لگیں: «تب وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔» (صحیح بخاری، حدیث 3364)

یہ جملہ ایمان اور توکل کا مرکزی لمحہ ہے: سبب سمجھنے کے بعد اللہ کے فیصلے پر اعتماد۔ قرآن 14:37 دعا کا ذکر کرتا ہے؛ بخاری 3364–3365 منظر اور نام کی پہچان دیتی ہے؛ دونوں کو ایک ہی متن کہہ کر پیش نہ کریں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی توحید اور ہجرت کا وسیع پس منظر ان کی سوانح میں ہے۔

کھجور کے درختوں کے درمیان چشمہ — زمزم کا علامتی منظر

زمزم کا چشمہ: روایت میں پانی کے ظہور اور اسے جمع کرنے کا واقعہ۔

زمزم، صفا و مروہ اور والدہ کی کوشش

مشک کا پانی ختم ہوا تو بچہ پیاسا ہوا اور والدہ پانی کی تلاش میں نکلیں۔ بخاری 3364 میں صفا اور مروہ کے درمیان ان کی بار بار آمد و رفت کا ذکر ہے: وہ ایک پہاڑی پر چڑھ کر دیکھتیں، وادی سے گزرتیں اور دوسری پہاڑی پر پہنچ کر مدد کی امید رکھتیں۔ سات چکر پورے ہوئے تو زمزم کے مقام پر آواز سنی اور فرشتے کو دیکھا؛ زمین سے پانی پھوٹا اور وہ اسے جمع کرنے لگیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

يَرْحَمُ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ، لَوْلَا أَنَّهَا عَجِلَتْ لَكَانَ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا
«اللہ امِ اسماعیل پر رحم کرے؛ اگر وہ جلدی نہ کرتیں تو زمزم بہتا ہوا چشمہ ہوتا۔» (صحیح بخاری، حدیث 3362؛ نیز 3364)

اس روایت میں کوشش اور اللہ کی مدد دونوں ساتھ ہیں: توکل کا مطلب کوشش چھوڑنا نہیں، اور کوشش اللہ کی رحمت کے مقابلے میں نہیں۔ قرآن میں صفا اور مروہ کا ذکر اللہ کی نشانیوں کے طور پر ہے (2:158)؛ سعی آج حج اور عمرے کی عبادت کا حصہ ہے، اور اس مقام کا یہ آغاز بخاری کی روایت بیان کرتی ہے۔

جرہم میں پرورش اور مکہ کی زندگی

بخاری 3364 کے مطابق جرہم کے کچھ لوگ پانی دیکھ کر وادی میں آئے اور امِ اسماعیل سے وہاں قیام کی اجازت مانگی؛ انہوں نے ساتھ رہنے کی اجازت دی مگر پانی پر ان کا حق تسلیم نہ کیا۔ قبیلہ آباد ہوا، حضرت اسماعیل علیہ السلام ان کے درمیان پروان چڑھے اور ان سے عربی سیکھی۔ روایت ان کی جوانی، شادی اور بعد کے واقعات کا مختصر ذکر کرتی ہے، مگر پیدائش کا سال یا عمر معین نہیں کرتی۔

حدیث میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد میں دو بار آنے کا قصہ بھی ہے۔ پہلی بار حضرت اسماعیل علیہ السلام گھر پر نہ تھے؛ ان کی بیوی نے تنگی کی شکایت کی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پیغام چھوڑا: «اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل دو۔» حضرت اسماعیل علیہ السلام اشارہ سمجھ گئے اور اسے الگ کر دیا۔ دوسری بار دوسری بیوی نے اللہ کا شکر کرتے ہوئے خوشحالی بیان کی؛ آپ علیہ السلام نے ان کے گوشت اور پانی میں برکت کی دعا کی اور پیغام دیا کہ چوکھٹ کو مضبوط رکھیں۔ یہ گھریلو واقعہ بخاری کی روایت کا حصہ ہے، لیکن اسے ہر گھر کے لیے عام قانون نہ بنایا جائے؛ حدیث جو واقعہ نقل کرتی ہے اسے انہی کرداروں اور اسی پس منظر میں سمجھیں۔ رزق کی کمی یا وسعت میں شکر اور حسنِ معاشرت کے عملی پہلو کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ حسنہ کا مطالعہ مفید ہے۔

پتھر کے صحن میں بنیاد کے پتھر اور سادہ اوزار — کعبہ کی تعمیر کا علامتی منظر

بنیاد کے پتھر اور سادہ اوزار: حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی مشترکہ تعمیر کا علامتی منظر۔

کعبہ کی بنیادیں: باپ اور بیٹے کی مشترکہ عبادت

سورۃ البقرہ 2:125–129 حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا اللہ کے گھر کے ساتھ رشتہ بیان کرتی ہے۔ آیت 2:125 میں اس گھر کو لوگوں کے لیے مرجع اور امن کی جگہ بنانے کا ذکر ہے اور دونوں کو حکم ہے کہ اسے طواف، اعتکاف، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھیں۔ آیت 2:127:

وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
«اور جب ابراہیم اور اسماعیل اس گھر کی بنیادیں اٹھا رہے تھے (تو دعا کرتے جاتے تھے): اے ہمارے رب! ہماری طرف سے قبول فرما؛ بے شک تو ہی سننے والا، جاننے والا ہے۔» (سورۃ البقرہ 2:127)

صحیح بخاری 3365 میں حضرت اسماعیل علیہ السلام تیر درست کر رہے تھے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے اور بتایا کہ اللہ نے یہاں گھر بنانے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا: اپنے رب کا حکم پورا کیجیے؛ اور مدد مانگنے پر ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔ روایت میں دونوں کے پتھر لا کر بنیاد اٹھانے اور «ربنا تقبل منا» کی دعا کا ذکر ہے (صحیح بخاری 3365)۔ قرآن اور حدیث یہاں ایک دوسرے کی تصدیق میں ہیں۔ کعبہ کی تعمیر کا قصہ کسی نسب یا فرد کی عزت کے لیے نہیں، عبادت اور بندگی کے لیے ہے: انہوں نے صرف عمارت بلند نہیں کی، اللہ سے اس عمل کی قبولیت بھی مانگی۔

«صادق الوعد»: وعدہ نبھانا اور نبوت

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَّبِيًّا ۝ وَكَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَكَانَ عِندَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا
«اور کتاب میں اسماعیل کا ذکر کیجیے؛ بے شک وہ وعدے کے سچے تھے اور رسول اور نبی تھے۔ اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے اور اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھے۔» (سورۃ مریم 19:54–55)

یہ ان کے مقام پر سب سے صاف قرآنی حوالہ ہے۔ «صادق الوعد» کا مطلب وعدہ پورا کرنے والا ہے؛ آیت صفت بتاتی ہے، مگر کس واقعے میں کون سا وعدہ، یہ نہیں بتاتی۔ تفسیر و قصص میں انتظار یا کسی معاہدے کے قصے ملتے ہیں؛ انہیں صحیح حدیث کے بغیر آیت کی یقینی تشریح نہ کہیں۔ سورۃ الانبیاء 21:85 اور سورۃ ص 38:48 میں وہ حضرت ادریس اور ذوالکفل علیہ السلام کے ساتھ صبر کرنے والوں اور «اخیار» میں یاد کیے گئے ہیں (21:85، 38:48)۔ ان کی سیرت کا مرکز وہی ہے جو نصوص سامنے لاتی ہیں: اللہ کی اطاعت، صبر، وعدے کی سچائی، نماز اور گھر والوں کی تربیت۔ ان کے بھائی حضرت اسحاق علیہ السلام کا قرآنی مقام الگ مضمون میں ہے۔

پہاڑی چراگاہ میں پرسکون مینڈھا — «ذبح عظیم» کا علامتی اشارہ

پہاڑی چراگاہ میں مینڈھا: سورۃ الصافات کے «ذبح عظیم» کا علامتی اشارہ۔

قربانی کا امتحان: قرآن کیا کہتا ہے، اور نام کا اختلاف

سورۃ الصافات 37:100–107 حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا، ایک بردبار بیٹے «غُلَامٍ حَلِيمٍ» کی خوشخبری، اس کے جوان ہونے پر خواب، باپ بیٹے کی اطاعت اور اللہ کی طرف سے «ذبح عظیم» کے فدیے کا بیان کرتی ہے (37:100–107)۔ آیت 37:102 میں بیٹا کہتا ہے: «ابا جان! جو حکم آپ کو دیا جا رہا ہے کر گزریے؛ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔»

ان آیات میں قرآن بیٹے کا نام نہیں لیتا۔ اسی سورت کی آیت 37:112 میں بعد میں حضرت اسحاق علیہ السلام کی بشارت آتی ہے؛ مفسرین نے اس ترتیب سے استدلال کیا۔ مسلم تفسیر میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربانی کا بیٹا ماننا بہت مشہور اور راجح رائے ہے؛ کچھ پرانے مفسرین نے حضرت اسحاق علیہ السلام کا نام بھی نقل کیا ہے۔ اس لیے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربانی کا بیٹا کہنا مضبوط تفسیری رائے کے طور پر درست ہے، مگر «قرآن نے نام لے کر کہا» یا «صحیح حدیث نے قطعی ثابت کر دیا» کہنا احتیاط کے خلاف ہے۔ بیٹے کی عمر، جگہ اور آلات کی تفصیلات تفسیر کی کتابوں میں مختلف ہیں؛ سند مضبوط نہ ہو تو انہیں قرآن یا حدیث کا متن کہہ کر نہ سنایا جائے۔ آیات کا زور فرماں برداری اور اللہ کے حکم پر ہے، جذباتی ڈرامے پر نہیں۔

والدہ کا نام، نسب اور دوسری مشہور تفصیلات

بخاری 3364–3365 انہیں زیادہ تر «امِ اسماعیل» کہتی ہے؛ صحیح بخاری 3358 کے آخر میں ان کا نام «ہاجر» آتا ہے، جو سارہ کی خدمت میں دی گئیں (صحیح بخاری 3358)۔ قرآن ان کا نام نہیں لیتا۔ حدیث میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے جرہم میں پلنے اور ان سے عربی سیکھنے کا ذکر ہے؛ یہ نہیں کہ انہوں نے دنیا میں سب سے پہلے عربی بولی۔ مکہ میں ان کی قبر کی جگہ (حطیم کے اندر مدفن ہونا)، عمر یا وفات کے سال کے بارے میں بہت سی روایات سنی جاتی ہیں؛ قرآن اور یہاں درج صحیح حدیث ان کی قطعی تعیین نہیں کرتیں۔ مقدس مقامات سے جڑی بات میں محبت کے ساتھ دلیل بھی ضروری ہے۔

آج کے لیے سبق

  • توکل کے ساتھ عمل: امِ اسماعیل نے اللہ کے حکم پر بھروسا کیا اور پھر صفا مروہ کے درمیان کوشش کی (بخاری 3364)۔
  • کام میں شریک ہونا: حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہا «اپنے رب کا حکم پورا کیجیے، میں مدد کروں گا» (بخاری 3365)؛ عبادت اور خدمت جدا نہیں۔
  • وعدہ، نماز اور تربیت: ذمہ داری گھر سے شروع ہوتی ہے (مریم 19:54–55)۔
  • روایت کی امانت: قربانی کے بیٹے کی پہچان پر اختلاف نقل کرنا کمزوری نہیں، متن اور تفسیر کے فرق کو ایمانداری سے رکھنا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے آج کے مسلمان کے لیے عملی سبق اس سوانحی مطالعے میں ہے؛ قصے کا بنیادی حوالہ پھر بھی قرآن اور صحیح روایت ہی رہیں گے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

۱۔ کیا حضرت اسماعیل علیہ السلام نبی تھے؟

جی ہاں۔ سورۃ مریم 19:54 صاف کہتی ہے کہ وہ رسول اور نبی تھے؛ 19:55 گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کی تلقین کا ذکر کرتی ہے۔

۲۔ کیا قرآن بتاتا ہے کہ قربانی کے لیے کون سا بیٹا تھا؟

سورۃ الصافات 37:100–107 نام نہیں لیتی۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پہچان مسلم تفسیر میں بہت مشہور اور راجح ہے، مگر پرانا اختلاف بھی نقل ہوا ہے۔

۳۔ کیا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کا نام ہاجرہ قرآن میں ہے؟

نہیں؛ قرآن نام نہیں لیتا۔ صحیح بخاری 3358 میں «ہاجر» کا نام آتا ہے، اور 3364–3365 انہیں امِ اسماعیل کہتی ہیں۔

۴۔ کیا حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے مل کر کعبہ بنایا؟

قرآن 2:127 دونوں کو بنیادیں اٹھاتے اور قبولیت کی دعا کرتے دکھاتا ہے؛ صحیح بخاری 3365 میں تعمیر کا واقعہ تفصیل سے ہے۔

کتابیں اور حوالے

تفسیر کو صحیح مرفوع حدیث کا درجہ نہ دیا جائے؛ قرآن اور صحیحین کی روایت بنیاد ہیں۔

یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments