حضرت ایوب علیہ السلام: صبر کی مثال، «مَسَّنِيَ الضُّرُّ» کی دعا اور شفا
حضرت ایوب علیہ السلام: صبر کی مثال، «مَسَّنِيَ الضُّرُّ» کی دعا اور شفا
ایک نبی جن کا نام صبر کا دوسرا نام بن گیا۔ مال گیا، اولاد گئی، جسم بیماری سے نڈھال ہوا — مگر زبان پر شکوہ نہ آیا۔ پھر ایک دعا، ایک چشمہ، اور سب کچھ دوگنا واپس۔
قرآنِ کریم نے حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر چار سورتوں میں کیا ہے اور ان کے لیے تین الفاظ چنے ہیں: «صابر»، «نِعْمَ الْعَبْد» اور «أوّاب»۔ ان کا قصہ طویل نہیں، مگر اس میں آزمائش، دعا، شفا اور شکر کا پورا نصاب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کا ایک واقعہ بیان فرمایا جو صحیح بخاری میں محفوظ ہے۔
یہ مضمون قرآن اور صحیح حدیث کی بنیاد پر لکھا گیا ہے۔ تفسیر اور قصص کی کتابوں میں حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں بہت سی تفصیلات ہیں — بیماری کی نوعیت اور مدت، بیوی کا نام، مال و اولاد کی تعداد — جن میں سے اکثر اہلِ کتاب کی روایات سے آئی ہیں۔ ایسی باتوں کو ہم نے یا تو چھوڑ دیا ہے یا ان کی حیثیت واضح کر دی ہے۔
نسب اور مقام: قرآن کی گواہی
قرآن نے حضرت ایوب علیہ السلام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں شمار کیا ہے: «وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَارُونَ» (الانعام 6:84)۔ سورۂ نساء میں ان پر وحی کا ذکر دوسرے انبیا کے ساتھ ہے (النساء 4:163)۔
مفسرین کے مشہور قول کے مطابق وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے (عیص کی نسل سے) تھے اور ان کا علاقہ شام یا حوران کی طرف بتایا جاتا ہے۔ یہ تاریخی اقوال ہیں؛ قرآن نے صرف ابراہیمی نسب بیان کیا ہے۔ انہیں «بنی اسرائیل کا نبی» کہنا درست نہیں، کیونکہ بنی اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد ہیں اور ایوب علیہ السلام کا نسب تفسیر کے مطابق اس شاخ سے نہیں۔
آزمائش: مال، اولاد اور جسم
قرآن نے آزمائش کی تفصیل بیان کرنے کے بجائے اسے حضرت ایوب علیہ السلام ہی کی زبان سے دو لفظوں میں سمیٹ دیا: «مَسَّنِيَ الضُّرُّ» — مجھے تکلیف پہنچی ہے۔ سورۂ ص میں فرمایا:
وَٱذْكُرْ عَبْدَنَآ أَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُۥٓ أَنِّى مَسَّنِىَ ٱلشَّيْطَـٰنُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ
«اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے تکلیف اور اذیت پہنچائی ہے۔» (ص 38:41)
«شیطان نے مجھے تکلیف پہنچائی» کا مطلب مفسرین نے یہ بیان کیا کہ بیماری اور نقصان میں شیطان کے وسوسوں اور اس کی پیدا کردہ مشقت کی طرف اشارہ ہے؛ کیونکہ نفع و نقصان صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ایوب علیہ السلام نے اپنی دعا میں یہی اقرار کیا۔ آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنا اہل کھویا (38:43: «وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ») اور جسمانی تکلیف اٹھائی (38:42 میں غسل اور پینے کا پانی شفا کے لیے)۔ بیماری کی نوعیت، اس کی مدت (تفسیروں میں سات، تیرہ یا اٹھارہ سال) اور یہ کہ لوگوں نے انہیں بستی سے باہر ڈال دیا — یہ سب تفسیری روایات ہیں، قرآن یا صحیح حدیث میں نہیں۔
«أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ»: ادب کی انتہا
سورۂ انبیاء میں ان کی دعا اور اللہ کا جواب یوں آیا ہے:
۞ وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُۥٓ أَنِّى مَسَّنِىَ ٱلضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ فَٱسْتَجَبْنَا لَهُۥ فَكَشَفْنَا مَا بِهِۦ مِن ضُرٍّ ۖ وَءَاتَيْنَـٰهُ أَهْلَهُۥ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَـٰبِدِينَ
«اور ایوب کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور جو تکلیف اسے تھی دور کر دی، اور اسے اس کے گھر والے دیے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور، اپنی طرف سے رحمت کے طور پر اور عبادت کرنے والوں کے لیے نصیحت کے طور پر۔» (الانبیاء 21:83–84)
اس دعا پر غور کیجیے: نہ یہ کہا «مجھے شفا دے»، نہ شکایت کی، نہ مدت گنوائی۔ صرف اپنی حالت بیان کی اور اللہ کی صفت کا واسطہ دیا: «وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ»۔ یہی ادبِ دعا ہے۔ علما کہتے ہیں کہ اپنی تکلیف اللہ کے سامنے رکھنا صبر کے خلاف نہیں؛ صبر کے خلاف مخلوق سے شکوہ اور اللہ کے فیصلے پر اعتراض ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے بھی کہا تھا: «إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ» (یوسف 12:86)۔
شفا: چشمہ، اہل کی واپسی اور قسم کا حل
اللہ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو حکم دیا:
ٱرْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَـٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَشَرَابٌ وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ أَهْلَهُۥ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَذِكْرَىٰ لِأُو۟لِى ٱلْأَلْبَـٰبِ وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَٱضْرِب بِّهِۦ وَلَا تَحْنَثْ ۗ إِنَّا وَجَدْنَـٰهُ صَابِرًا ۚ نِّعْمَ ٱلْعَبْدُ ۖ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ
«اپنا پاؤں (زمین پر) مارو؛ یہ ٹھنڈا غسل اور پینے کا پانی ہے۔ اور ہم نے اسے اس کے گھر والے عطا کیے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور، اپنی رحمت سے اور عقل والوں کے لیے نصیحت کے طور پر۔ اور اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔ بے شک ہم نے اسے صابر پایا؛ کیا ہی اچھا بندہ، بے شک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔» (ص 38:42–44)
تین باتیں یہاں قرآن سے ثابت ہیں: (۱) پاؤں مارنے سے چشمہ نکلا جس کے پانی سے غسل اور پینے میں شفا تھی؛ (۲) ان کا اہل انہیں واپس ملا اور اتنا ہی مزید؛ (۳) انہوں نے کسی کو مارنے کی قسم کھائی تھی، اور اللہ نے اس کا حل یہ بتایا کہ تنکوں کا مٹھا لے کر ایک بار مار دیں تاکہ قسم بھی پوری ہو اور سختی بھی نہ ہو۔
قسم کس پر اور کیوں کھائی گئی، قرآن نے یہ نہیں بتایا۔ مفسرین کے مطابق یہ ان کی بیوی کے بارے میں تھی، جنہوں نے بیماری کے زمانے میں ان کی خدمت کی تھی اور کسی بات پر ایوب علیہ السلام نے انہیں سو کوڑے مارنے کی قسم کھا لی تھی۔ بیوی کا نام (رحمہ یا لیا)، بالوں کے بیچنے کی کہانی اور اس جیسی تفصیلات اسرائیلی روایات ہیں جن پر دین کا کوئی حکم نہیں بنتا۔ قرآن کا سبق واضح ہے: اللہ نے ایک صابر بندے کی قسم کا ایسا راستہ نکالا جس میں نرمی بھی تھی اور عہد کی پاسداری بھی۔
صحیح بخاری میں حضرت ایوب علیہ السلام
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ رِجْلُ جَرَادٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَى رَبُّهُ: يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لَا غِنَى لِي عَنْ بَرَكَتِكَ
«ایوب (علیہ السلام) غسل کر رہے تھے کہ ان پر سونے کی ٹڈیوں کا ایک جھنڈ گرا؛ وہ انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے۔ ان کے رب نے پکارا: اے ایوب! کیا میں نے تمہیں اس سے بے نیاز نہیں کر دیا تھا جو تم دیکھ رہے ہو؟ عرض کیا: کیوں نہیں، اے میرے رب! مگر تیری برکت سے میں بے نیاز نہیں ہو سکتا۔» (صحیح بخاری 3391)
اس حدیث میں ایک نبی کا اللہ سے تعلق دکھایا گیا ہے: دنیا کی چیز کو اللہ کی «برکت» سمجھ کر لینا، اور بے نیازی کے باوجود اللہ کے فضل کا طالب رہنا۔ یہ لالچ نہیں، بندگی ہے — کیونکہ جو چیز رب کی طرف سے آئے، اس کا شکر کے ساتھ قبول کرنا بھی عبادت ہے۔
آزمائش کیوں؟ حدیث کی روشنی میں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ» — اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے مصیبت میں ڈالتا ہے (صحیح بخاری 5645)۔ اور فرمایا کہ مسلمان کو جو بھی تھکن، بیماری، فکر، غم، تکلیف یا رنج پہنچے، یہاں تک کہ ایک کانٹا بھی چبھے، اللہ اس کے ذریعے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے (صحیح بخاری 5641)۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے پوچھا: سب سے سخت آزمائش کس پر آتی ہے؟ فرمایا: انبیا پر، پھر جو ان کے بعد بہتر ہوں، پھر جو ان کے بعد؛ آدمی کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے (جامع ترمذی 2398، حسن صحیح)۔
یہی حضرت ایوب علیہ السلام کے قصے کی کنجی ہے: آزمائش اللہ کی ناراضی کی علامت نہیں؛ بعض اوقات وہ قرب اور درجات کی بلندی کا راستہ ہوتی ہے۔ قرآن نے اس قصے کو دو بار «ذِكْرَىٰ» — نصیحت — کہا: ایک بار «لِلْعَابِدِينَ» (عبادت کرنے والوں کے لیے) اور ایک بار «لِأُولِي الْأَلْبَابِ» (عقل والوں کے لیے)۔
عملی سبق
- شکوہ اللہ سے، مخلوق سے نہیں: «مَسَّنِيَ الضُّرُّ» رب کے سامنے کہا گیا؛ یہ صبر کے منافی نہیں بلکہ اس کی روح ہے۔
- دعا میں ادب: اپنی حالت بیان کرو اور اللہ کی رحمت کا واسطہ دو؛ تقاضا اور شرطیں نہ لگاؤ۔
- آزمائش گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی ہے: کانٹا چبھنے پر بھی گناہ جھڑتے ہیں (بخاری 5641)۔
- قسم اور نرمی کا جمع: تنکوں کا مٹھا (38:44) بتاتا ہے کہ شریعت میں عہد کی پاسداری اور رحم دونوں کا راستہ موجود ہے۔
- نعمت ملے تو برکت سمجھ کر لو: «لَا غِنَى لِي عَنْ بَرَكَتِكَ» — اللہ کے فضل سے کوئی بے نیاز نہیں۔
خلاصہ
حضرت ایوب علیہ السلام کا قصہ قرآن میں مختصر ہے مگر مکمل ہے: آزمائش آئی، بندے نے صبر کیا، ادب کے ساتھ پکارا، اللہ نے شفا دی، اہل و مال دوگنا لوٹایا اور قسم کا نرم راستہ بتایا۔ آخر میں اللہ کی گواہی: «إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ۚ نِّعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ»۔ جو شخص بیماری، نقصان یا غم میں ہو، اس کے لیے یہ قصہ «ذکریٰ» ہے — ایک نصیحت کہ رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا سن رہا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری کتنے سال رہی؟
قرآن اور صحیح حدیث میں مدت بیان نہیں ہوئی۔ تفسیروں میں سات، تیرہ اور اٹھارہ سال کے اقوال ملتے ہیں جو یقینی نہیں۔
۲۔ کیا حضرت ایوب علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبی تھے؟
قرآن انہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت میں شمار کرتا ہے (6:84)۔ مفسرین کے مطابق وہ اسحاق علیہ السلام کی نسل سے تھے مگر یعقوب (اسرائیل) علیہ السلام کی شاخ سے نہیں؛ اس لیے «بنی اسرائیل کے نبی» کہنا درست نہیں۔
۳۔ «تنکوں کا مٹھا» والی آیت کا مطلب کیا ہے؟
انہوں نے کسی کو مارنے کی قسم کھائی تھی؛ اللہ نے فرمایا کہ تنکوں کا ایک مٹھا لے کر ایک بار مار دو تاکہ قسم پوری ہو اور سختی بھی نہ ہو (38:44)۔ قسم کس پر تھی، قرآن نے نہیں بتایا۔
۴۔ سونے کی ٹڈیوں کا واقعہ کہاں ہے؟
صحیح بخاری 3391 میں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ غسل کے وقت ان پر سونے کی ٹڈیاں گریں اور انہوں نے کہا کہ وہ اللہ کی برکت سے بے نیاز نہیں۔
۵۔ کیا بیماری میں اللہ سے شکایت کرنا صبر کے خلاف ہے؟
نہیں۔ اللہ کے سامنے اپنی تکلیف رکھنا دعا ہے، جیسے ایوب اور یعقوب علیہما السلام نے کیا۔ صبر کے خلاف مخلوق سے شکوہ اور اللہ کے فیصلے پر اعتراض ہے۔
دعا
اے اللہ! ہمیں آزمائش میں صبر، دعا میں ادب اور نعمت میں شکر عطا فرما۔ ہماری بیماریوں کو گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی بنا دے۔ «رَبِّ إِنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ»۔ آمین۔
حوالے
- القرآن الکریم: النساء 4:163؛ الانعام 6:84؛ الانبیاء 21:83–84؛ ص 38:41–44؛ یوسف 12:86۔
- صحیح بخاری 3391: سونے کی ٹڈیاں؛ 5645: «من يرد الله به خيرا يصب منه»؛ 5641: تکلیف گناہوں کا کفارہ؛ جامع ترمذی 2398: انبیا پر سخت ترین آزمائش۔
- تفسیر ابنِ کثیر (الانبیاء 21:83–84، ص 38:41–44) اور البدایہ والنہایہ: نسب، بیماری کی مدت اور قسم کے واقعے کے تفسیری اقوال — مؤلف کی تنقید کے ساتھ۔
ماخذ کی وضاحت: اس مضمون میں قرآن اور صحیح احادیث کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ بیماری کی نوعیت و مدت، بیوی کا نام اور قسم کی تفصیلات تفسیری و اسرائیلی روایات ہیں جن کی حیثیت متن میں بتا دی گئی ہے؛ انہیں دین کا یقینی حصہ نہ سمجھا جائے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment