حضرت ہارون علیہ السلام: موسیٰ کے وزیر، فصیح زبان اور بنی اسرائیل کے نبی
حضرت ہارون علیہ السلام: موسیٰ کے وزیر، فصیح زبان اور بنی اسرائیل کے نبی
وہ نبی جنہیں اللہ نے ایک بھائی کی دعا پر نبوت دی، جن کی زبان کی فصاحت کو خود قرآن نے بیان کیا، اور جنہوں نے سب سے سخت فتنے میں امت کو تفرقے سے بچانے کو ترجیح دی۔
حضرت ہارون علیہ السلام کا نام قرآنِ کریم میں بیس مرتبہ آیا ہے، اور تقریباً ہر جگہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ۔ یہ ساتھ محض بھائی کا ساتھ نہیں تھا؛ اللہ نے انہیں موسیٰ علیہ السلام کا «وزیر» اور «شریکِ کار» بنایا، انہیں نبوت دی، اور فرعون جیسے سرکش کے سامنے دونوں بھائیوں کو ایک ساتھ بھیجا۔ ان کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ دعوت میں ساتھی کی قدر کیا ہے، زبان کی فصاحت کس کام آتی ہے، اور سخت ترین فتنے میں حکمت اور صبر کیسے کام کرتے ہیں۔
یہ مضمون صرف قرآنِ کریم اور صحیح احادیث کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ جن باتوں کا ذکر قرآن اور صحیح حدیث میں نہیں — جیسے پیدائش کا سال، عمر، وفات کی جگہ یا قبر — انہیں ہم نے یا تو چھوڑ دیا ہے یا ان کی حیثیت واضح کر دی ہے۔

نسب: ہارون، موسیٰ کے بھائی
قرآن حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بھائی کہتا ہے اور انہیں بنی اسرائیل کے ان انبیا میں شمار کرتا ہے جن کا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے ہے (الانعام 6:84)۔ سورۂ مریم میں ان کی نبوت کو موسیٰ علیہ السلام پر اللہ کی خاص رحمت کہا گیا:
وَوَهَبْنَا لَهُۥ مِن رَّحْمَتِنَآ أَخَاهُ هَـٰرُونَ نَبِيًّا
«اور ہم نے اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر انہیں عطا کیا۔» (مریم 19:53)
یہ آیت ایک انوکھی بات بتاتی ہے: ہارون علیہ السلام کی نبوت ایک «عطا» تھی جو موسیٰ علیہ السلام کو دی گئی۔ یعنی اللہ نے ایک نبی کی دعا قبول کر کے دوسرے نبی کو کھڑا کیا۔ بعض تفاسیر میں ان کے والد کا نام عمران اور یہ ذکر ملتا ہے کہ وہ موسیٰ علیہ السلام سے عمر میں بڑے تھے؛ یہ باتیں اہلِ کتاب کے ذرائع سے آئی ہیں، قرآن یا صحیح حدیث نے ان کی تصریح نہیں کی۔
طور پر موسیٰ کی دعا: «میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا دے»
جب اللہ نے وادیِ طویٰ میں موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا اور انہیں فرعون کی طرف جانے کا حکم دیا، تو موسیٰ علیہ السلام نے چند دعائیں مانگیں۔ ان میں ایک دعا اپنے بھائی کے لیے تھی:
وَٱجْعَل لِّى وَزِيرًا مِّنْ أَهْلِى هَـٰرُونَ أَخِى ٱشْدُدْ بِهِۦٓ أَزْرِى وَأَشْرِكْهُ فِىٓ أَمْرِى
«اور میرے گھر والوں میں سے میرے لیے ایک وزیر بنا دے، میرے بھائی ہارون کو؛ اس کے ذریعے میری کمر مضبوط کر، اور اسے میرے کام میں شریک کر دے۔» (طٰہٰ 20:29–32)
اللہ نے جواب دیا: «قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يَا مُوسَىٰ» — اے موسیٰ! تمہاری درخواست قبول کر لی گئی (طٰہٰ 20:36)۔ سورۂ قصص میں موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے اس دعا کی وجہ بھی بیان ہوئی:
وَأَخِى هَـٰرُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّى لِسَانًا فَأَرْسِلْهُ مَعِىَ رِدْءًا يُصَدِّقُنِىٓ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَـٰنًا فَلَا يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا ۚ بِـَٔايَـٰتِنَآ أَنتُمَا وَمَنِ ٱتَّبَعَكُمَا ٱلْغَـٰلِبُونَ
«اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح زبان والا ہے، سو اسے میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج کہ وہ میری تصدیق کرے؛ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے۔ فرمایا: ہم تمہارے بھائی کے ذریعے تمہارا بازو مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے؛ وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ تم دونوں اور تمہاری پیروی کرنے والے ہی غالب رہو گے۔» (القصص 28:34–35)
یہاں سے ہمیں ہارون علیہ السلام کی پہلی نمایاں صفت معلوم ہوتی ہے: فصاحتِ زبان۔ موسیٰ علیہ السلام کو خود اللہ نے کلیم بنایا تھا، پھر بھی انہوں نے فرعون کے دربار میں اپنے بھائی کی زبان کی ضرورت محسوس کی۔ اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ دین کا کام ٹیم کا کام ہے اور ساتھی مانگنا کمزوری نہیں، حکمت ہے۔

فرعون کے سامنے دو بھائی
اللہ نے دونوں بھائیوں کو ایک ساتھ حکم دیا:
ٱذْهَبَآ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ فَقُولَا لَهُۥ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُۥ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَىٰ
«تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ، بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے۔ پس اس سے نرم بات کہو، شاید وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔» (طٰہٰ 20:43–44)
یہ آیت دعوت کا ایک سنہری اصول دیتی ہے: مخاطب خواہ فرعون ہی کیوں نہ ہو، بات نرمی سے کہی جائے۔ قرآن کی دوسری سورتوں میں فرعون سے مکالمے کی تفصیل ہے (الشعراء 26:16–51، الاعراف 7:103–137)۔ ان میں زیادہ تر مکالمہ موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے نقل ہوا ہے، مگر سورۂ شعراء میں اللہ نے دونوں کو ایک ساتھ مخاطب کیا اور فرمایا کہ «ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں»۔ جادوگروں کے مقابلے میں جب حق غالب ہوا تو جادوگر سجدے میں گر گئے اور بولے: «ہم رب العالمین پر ایمان لائے، جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے» (الاعراف 7:121–122)۔ یعنی مصر کے سب سے بڑے دن پر جو کلمہ پکارا گیا اس میں ہارون علیہ السلام کا نام بھی شامل تھا۔
سورۂ یونس میں ذکر ہے کہ اللہ نے موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو حکم دیا کہ مصر میں اپنی قوم کے لیے گھر بنائیں، انہیں قبلہ بنائیں اور نماز قائم کریں (یونس 10:87)۔ یعنی دعوت کے ساتھ ساتھ قوم کی تنظیم اور تربیت بھی دونوں بھائیوں کی ذمہ داری تھی۔
طور کے چالیس دن: «میری قوم میں میرا خلیفہ رہو»
فرعون کے غرق ہونے کے بعد جب موسیٰ علیہ السلام کو تورات لینے کے لیے طور پر بلایا گیا تو انہوں نے قوم کی قیادت اپنے بھائی کو سونپی:
۞ وَوَٰعَدْنَا مُوسَىٰ ثَلَـٰثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَـٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقَـٰتُ رَبِّهِۦٓ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ۚ وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَـٰرُونَ ٱخْلُفْنِى فِى قَوْمِى وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ ٱلْمُفْسِدِينَ
«اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس مزید سے انہیں پورا کیا، تو ان کے رب کی میعاد چالیس راتیں پوری ہوئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا: میری قوم میں میرا خلیفہ رہو، اصلاح کرتے رہو اور فساد کرنے والوں کے راستے پر نہ چلنا۔» (الاعراف 7:142)
یہ وہ لمحہ ہے جس کا حوالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ تبوک کے موقع پر دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا نائب بنایا اور انہوں نے عرض کیا کہ کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جا رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَلاَ تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلاَّ أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِي
«کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تم میرے لیے ویسے ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے تھے، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں؟» (صحیح بخاری 4416؛ صحیح مسلم 2404)
اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں: ایک یہ کہ ہارون علیہ السلام کی «منزلت» — بھائی، وزیر اور نائب ہونا — امت کے سامنے ایک معروف مثال تھی؛ دوسری یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مثال سے نبوت کے پہلو کو صاف الفاظ میں الگ کر دیا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔
بچھڑے کا فتنہ: سب سے سخت امتحان
موسیٰ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں سامری نے زیورات سے ایک بچھڑا بنایا جس سے آواز نکلتی تھی، اور قوم کا بڑا حصہ اس کی پوجا کرنے لگا۔ قرآن گواہی دیتا ہے کہ ہارون علیہ السلام نے انہیں پہلے ہی روکا تھا:
وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَـٰرُونُ مِن قَبْلُ يَـٰقَوْمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِۦ ۖ وَإِنَّ رَبَّكُمُ ٱلرَّحْمَـٰنُ فَٱتَّبِعُونِى وَأَطِيعُوٓا۟ أَمْرِى
«اور ہارون نے اس سے پہلے ان سے کہہ دیا تھا: اے میری قوم! تمہیں اس کے ذریعے صرف آزمایا گیا ہے، اور تمہارا رب تو رحمٰن ہے؛ سو میری پیروی کرو اور میرا حکم مانو۔» (طٰہٰ 20:90)
قوم نے جواب دیا کہ جب تک موسیٰ واپس نہ آئیں ہم اسی پر جمے رہیں گے۔ جب موسیٰ علیہ السلام غصے اور غم میں واپس آئے تو انہوں نے اپنے بھائی سے سخت بازپرس کی:
قَالَ يَـٰهَـٰرُونُ مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَهُمْ ضَلُّوٓا۟ أَلَّا تَتَّبِعَنِ ۖ أَفَعَصَيْتَ أَمْرِى قَالَ يَبْنَؤُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِى وَلَا بِرَأْسِىٓ ۖ إِنِّى خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِى
«کہا: اے ہارون! جب تم نے انہیں گمراہ ہوتے دیکھا تو تمہیں کس چیز نے روکا کہ تم میرے پیچھے نہ آئے؟ کیا تم نے میرے حکم کی نافرمانی کی؟ ہارون نے کہا: اے میری ماں کے بیٹے! میری داڑھی اور سر نہ پکڑو؛ مجھے ڈر تھا کہ تم کہو گے: تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کا انتظار نہ کیا۔» (طٰہٰ 20:92–94)
سورۂ اعراف میں اسی منظر کی ایک اور جھلک ہے: موسیٰ علیہ السلام نے تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر اپنی طرف کھینچا؛ ہارون علیہ السلام نے کہا: «اے میری ماں کے بیٹے! قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے قتل کر دیں؛ سو دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دو اور مجھے ظالموں کے ساتھ شمار نہ کرو»۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی:
قَالَ رَبِّ ٱغْفِرْ لِى وَلِأَخِى وَأَدْخِلْنَا فِى رَحْمَتِكَ ۖ وَأَنتَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ
«کہا: اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما، اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔» (الاعراف 7:150–151)
اس واقعے کو سمجھنے میں دو باتیں ضروری ہیں۔ پہلی: ہارون علیہ السلام نے شرک سے نہ خاموشی اختیار کی، نہ سمجھوتہ کیا؛ انہوں نے کھل کر روکا اور توحید کی دعوت دی، یہ قرآن کی صریح گواہی ہے۔ دوسری: جب قوم نے نہ مانا اور قتل تک کی نوبت آ گئی تو انہوں نے طاقت کے استعمال کے بجائے موسیٰ علیہ السلام کے آنے کا انتظار کیا تاکہ قوم دو ٹکڑوں میں نہ بٹے۔ موسیٰ علیہ السلام کا سخت رویہ شرک پر غیرت کا اظہار تھا، اور اس کے فوراً بعد دونوں بھائیوں کے لیے دعا اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے بھائی کی معذرت قبول کر لی۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ انبیا کے درمیان اختلاف اصول کا نہیں، طریقۂ کار کے اجتہاد کا ہوتا ہے، اور اس کا انجام دعا اور بخشش ہے۔

«سلامٌ علیٰ موسیٰ و ہارون»: دونوں بھائیوں کی مشترکہ فضیلت
سورۂ صافات میں اللہ نے دونوں بھائیوں پر اپنے احسانات ایک ساتھ گنوائے:
وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَـٰرُونَ وَنَجَّيْنَـٰهُمَا وَقَوْمَهُمَا مِنَ ٱلْكَرْبِ ٱلْعَظِيمِ وَنَصَرْنَـٰهُمْ فَكَانُوا۟ هُمُ ٱلْغَـٰلِبِينَ وَءَاتَيْنَـٰهُمَا ٱلْكِتَـٰبَ ٱلْمُسْتَبِينَ وَهَدَيْنَـٰهُمَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلْمُسْتَقِيمَ وَتَرَكْنَا عَلَيْهِمَا فِى ٱلْـَٔاخِرِينَ سَلَـٰمٌ عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَـٰرُونَ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ إِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِينَ
«اور بے شک ہم نے موسیٰ اور ہارون پر احسان کیا، اور ان دونوں کو اور ان کی قوم کو بڑی مصیبت سے نجات دی، اور ان کی مدد کی تو وہی غالب رہے، اور ان دونوں کو واضح کتاب دی، اور انہیں سیدھے راستے کی ہدایت دی، اور بعد والوں میں ان کا ذکرِ خیر باقی رکھا۔ سلام ہو موسیٰ اور ہارون پر۔ بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں؛ بے شک وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔» (الصافات 37:114–122)
غور کیجیے: نجات، مدد، کتاب، ہدایت، ذکرِ خیر اور سلام — ہر نعمت میں «دونوں» کا لفظ ہے۔ اللہ نے ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے سائے میں نہیں رکھا بلکہ ان کے برابر کھڑا کر کے سلام بھیجا۔ یہ اس بات کا جواب بھی ہے کہ جو بھائی اپنے بھائی کی دعوت میں مددگار بنا، اللہ نے اس کا نام قیامت تک بھائی کے ساتھ جوڑ دیا۔
معراج کی رات پانچویں آسمان پر ملاقات
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے سفر کی تفصیل میں بتایا کہ ہر آسمان پر کسی نبی سے ملاقات ہوئی۔ صحیح بخاری کی طویل حدیث میں ہے کہ پانچویں آسمان پر حضرت ہارون علیہ السلام سے ملاقات ہوئی:
ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ... فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا هَارُونُ، قَالَ هَذَا هَارُونُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ
«پھر جبریل مجھے لے کر چڑھے یہاں تک کہ پانچویں آسمان پر پہنچے... جب میں وہاں پہنچا تو ہارون تھے۔ جبریل نے کہا: یہ ہارون ہیں، انہیں سلام کیجیے۔ میں نے سلام کیا، انہوں نے جواب دیا اور کہا: نیک بھائی اور نیک نبی کو خوش آمدید۔» (صحیح بخاری 3207؛ نیز صحیح بخاری 3887)
یہ حدیث بتاتی ہے کہ انبیا کے درمیان رشتہ بھائی چارے کا ہے؛ ہارون علیہ السلام نے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو «بھائی» اور «نبی» دونوں کہہ کر خوش آمدید کہا۔ ہماری امت کے لیے اس میں پیغام ہے کہ تمام انبیا ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں اور سب پر ایمان لازم ہے۔
وفات: جو ہم نہیں جانتے
حضرت ہارون علیہ السلام کی وفات کا وقت، جگہ اور کیفیت قرآنِ کریم اور صحیح احادیث میں بیان نہیں ہوئی۔ اہلِ کتاب کی کتابوں اور بعض تفاسیر میں ہے کہ وہ موسیٰ علیہ السلام سے پہلے، بنی اسرائیل کے صحرا کے زمانے میں، ایک پہاڑ پر فوت ہوئے؛ یہ تاریخی اقوال ہیں جنہیں دین کا یقینی حصہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایک مسلمان کے لیے اتنا کافی ہے جو اللہ نے بتایا: وہ نبی تھے، مومن بندوں میں سے تھے، اور ان پر اللہ کا سلام ہے۔
نوٹ: اس مضمون میں ہر حدیث کا حوالہ صحیح بخاری یا صحیح مسلم سے ہے اور ہر آیت کے ساتھ قرآن کا لنک دیا گیا ہے۔ جو تفصیل تفسیری یا تاریخی ہے اسے الگ سے بتایا گیا ہے۔
ہارون علیہ السلام کی سیرت سے سبق
- دعوت میں ساتھی مانگنا حکمت ہے: موسیٰ علیہ السلام نے «اسے میرے کام میں شریک کر» کی دعا کی اور اللہ نے قبول فرمائی (20:32، 20:36)۔ اکیلا ہیرو بننے کے بجائے ٹیم بنانا سنتِ انبیا ہے۔
- زبان کی فصاحت ایک نعمت اور ذمہ داری ہے: ہارون علیہ السلام کی زبان کی تعریف قرآن میں محفوظ ہے (28:34)۔ اچھی بات اچھے انداز میں کہنا دین کا حصہ ہے۔
- سرکش سے بھی نرم بات: «فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا» (20:44) ہر داعی، استاد اور والدین کے لیے اصول ہے۔
- شرک پر کھلا انکار، مگر امت کو توڑنے سے پرہیز: بچھڑے کے فتنے میں ہارون علیہ السلام نے حق واضح کہا اور ساتھ ہی تفرقے سے بچنے کی فکر کی (20:90، 20:94)۔
- بھائیوں کا اختلاف دعا پر ختم ہو: موسیٰ علیہ السلام کی سختی کے فوراً بعد «رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِأَخِي» (7:151) ہمیں سکھاتی ہے کہ رشتہ اصول سے بڑا نہیں، مگر اصول کے بعد رشتہ جوڑنا بھی فرض ہے۔
- نائب کی ذمہ داری امانت ہے: «اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ» (7:142) — جسے بھی کسی کی غیر موجودگی میں ذمہ داری ملے، اس کا کام اصلاح ہے، اپنی حکومت نہیں۔
خلاصہ
حضرت ہارون علیہ السلام کی زندگی ایک ایسے نبی کی زندگی ہے جس نے «دوسرے نمبر» پر رہ کر پہلے درجے کا کام کیا۔ انہوں نے اپنے بھائی کی کمر مضبوط کی، فرعون کے سامنے سچ بولا، قوم کو شرک سے روکا، اور جب قوم نے نہ مانا تو صبر اور حکمت سے وقت کا انتظار کیا۔ اللہ نے ان پر سلام بھیجا، ان کا ذکرِ خیر باقی رکھا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات ان سے ملاقات کی۔ ان کی سیرت ہر اس شخص کے لیے مشعلِ راہ ہے جو کسی بڑے کام میں مددگار کا کردار ادا کرتا ہے۔

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment