حضرت داؤد علیہ السلام: زبور، لوہے کی نرمی اور عدل کی خلافت
حضرت داؤد علیہ السلام: زبور، لوہے کی نرمی اور عدل کی خلافت
اللہ نے جنہیں بادشاہت، حکمت اور زبور دی؛ جن کے ساتھ پہاڑ اور پرندے تسبیح کرتے تھے، جن کے ہاتھ میں لوہا نرم ہو گیا، اور جنہیں زمین میں خلیفہ بنا کر عدل کا حکم دیا گیا۔
حضرت داؤد علیہ السلام ان چند انبیا میں سے ہیں جنہیں اللہ نے نبوت کے ساتھ بادشاہت بھی عطا فرمائی۔ قرآن ان کا نام سولہ مرتبہ لیتا ہے اور ان کی شخصیت کے کئی رخ دکھاتا ہے: جالوت کے مقابلے میں نوجوان مجاہد، زبور کے قاری، لوہے کے کاریگر، عادل حکمران، اور سب سے بڑھ کر «أوّاب» — بار بار اللہ کی طرف پلٹنے والا بندہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے روزے اور نماز کو اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عبادت قرار دیا۔
اس مضمون میں ان کی سیرت صرف قرآنِ کریم اور صحیح احادیث سے مرتب کی گئی ہے۔ تفسیر اور تاریخ کی کتابوں کی وہ تفصیلات جو سند کے اعتبار سے یقینی نہیں (جیسے جائے پیدائش، والد کا نام، یا واقعات کی تاریخیں) یا تو چھوڑ دی گئی ہیں یا ان کی حیثیت واضح کر دی گئی ہے۔
نسب اور ابتدائی حالات: قرآن کیا بتاتا ہے، کیا نہیں
قرآن حضرت داؤد علیہ السلام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں شمار کرتا ہے اور ان کا نام سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون علیہم السلام کے ساتھ لیتا ہے (الانعام 6:84)۔ سورۂ بنی اسرائیل میں فرمایا: «وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا» — اور ہم نے داؤد کو زبور دی (بنی اسرائیل 17:55)۔
ان کی جائے پیدائش، والد کا نام، بچپن کی تفصیلات اور زمانے کا تعین قرآن اور صحیح حدیث میں نہیں ہے۔ اہلِ کتاب کی روایات اور بعض تفاسیر میں جو تفصیلات ملتی ہیں (بیت اللحم، یسّیٰ، تقریباً تین ہزار سال پہلے وغیرہ) انہیں تاریخی اقوال سمجھنا چاہیے، دین کا یقینی حصہ نہیں۔ قرآن کا انداز یہ ہے کہ وہ تاریخ کی جزئیات کے بجائے عبرت اور ہدایت پر زور دیتا ہے۔
طالوت کا لشکر اور جالوت کا قتل
حضرت داؤد علیہ السلام کا پہلا ذکر قرآن میں سورۂ بقرہ کے اس واقعے میں آتا ہے جب بنی اسرائیل نے اپنے نبی سے ایک بادشاہ مقرر کرنے کی درخواست کی تاکہ وہ اللہ کی راہ میں لڑیں۔ اللہ نے طالوت کو بادشاہ بنایا۔ طالوت نے نہر کے پانی سے اپنے لشکر کا امتحان لیا؛ اکثر ناکام ہوئے اور تھوڑے سے اہلِ ایمان باقی رہے۔ جب وہ جالوت اور اس کے لشکر کے سامنے آئے تو دعا کی:
وَلَمَّا بَرَزُوا۟ لِجَالُوتَ وَجُنُودِهِۦ قَالُوا۟ رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَٱنصُرْنَا عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَـٰفِرِينَ
«اور جب وہ جالوت اور اس کے لشکروں کے مقابل ہوئے تو کہا: اے ہمارے رب! ہم پر صبر انڈیل دے، ہمارے قدم جما دے اور کافر قوم پر ہماری مدد فرما۔» (البقرہ 2:250)
فَهَزَمُوهُم بِإِذْنِ ٱللَّهِ وَقَتَلَ دَاوُۥدُ جَالُوتَ وَءَاتَىٰهُ ٱللَّهُ ٱلْمُلْكَ وَٱلْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُۥ مِمَّا يَشَآءُ ۗ وَلَوْلَا دَفْعُ ٱللَّهِ ٱلنَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ ٱلْأَرْضُ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلْعَـٰلَمِينَ
«پس انہوں نے اللہ کے حکم سے انہیں شکست دی، اور داؤد نے جالوت کو قتل کیا، اور اللہ نے اسے بادشاہت اور حکمت دی اور جو چاہا اسے سکھایا۔» (البقرہ 2:251)
قرآن نے یہاں تین باتیں بتائیں: جالوت کو داؤد علیہ السلام نے قتل کیا؛ اللہ نے انہیں بادشاہت اور حکمت دی؛ اور جو چاہا سکھایا۔ ان کی عمر، ہتھیار (گوپھن اور پتھر) اور طالوت سے رشتہ داری جیسی تفصیلات قرآن میں نہیں؛ یہ اہلِ کتاب کی کتابوں اور تفاسیر سے آئی ہیں۔ البتہ قرآن کا سبق واضح ہے: «كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ» — کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئیں (2:249)۔

اللہ کی خاص عطائیں: پہاڑ، پرندے اور نرم لوہا
سورۂ سبا میں اللہ نے حضرت داؤد علیہ السلام پر اپنے فضل کا ذکر یوں فرمایا:
۞ وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ مِنَّا فَضْلًا ۖ يَـٰجِبَالُ أَوِّبِى مَعَهُۥ وَٱلطَّيْرَ ۖ وَأَلَنَّا لَهُ ٱلْحَدِيدَ أَنِ ٱعْمَلْ سَـٰبِغَـٰتٍ وَقَدِّرْ فِى ٱلسَّرْدِ ۖ وَٱعْمَلُوا۟ صَـٰلِحًا ۖ إِنِّى بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
«اور بے شک ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے فضل عطا کیا: اے پہاڑو! اس کے ساتھ تسبیح دہراؤ، اور پرندوں کو بھی (مسخر کیا)؛ اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کر دیا۔ کہ کشادہ زرہیں بناؤ اور کڑیوں کا اندازہ ٹھیک رکھو، اور نیک عمل کرو؛ بے شک جو تم کرتے ہو میں اسے دیکھنے والا ہوں۔» (سبا 34:10–11)
سورۂ ص میں ارشاد ہے: «إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ» — ہم نے پہاڑوں کو مسخر کیا کہ ان کے ساتھ شام اور صبح تسبیح کرتے تھے، اور پرندے بھی جمع ہو کر؛ سب ان کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے (ص 38:18–19)۔ یہ حقیقی معجزہ تھا؛ قرآن نے اسے تمثیل نہیں کہا۔
زرہ سازی کے بارے میں سورۂ انبیاء میں فرمایا: «وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُم مِّن بَأْسِكُمْ» — ہم نے انہیں تمہارے لیے زرہ بنانے کی صنعت سکھائی تاکہ وہ تمہیں تمہاری لڑائی میں بچائے؛ تو کیا تم شکر کرنے والے ہو؟ (الانبیاء 21:80)۔ یہاں ایک نکتہ یہ ہے کہ ایک نبی اور بادشاہ کو اللہ نے ہنر سکھایا اور اس ہنر کو «لوگوں کے فائدے» سے جوڑا۔
اپنے ہاتھ کی کمائی: صحیح بخاری کی گواہی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ، وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ
«کسی نے کبھی اس سے بہتر کھانا نہیں کھایا جو اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھائے؛ اور اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔» (صحیح بخاری 2072)
ایک اور حدیث میں ہے کہ داؤد علیہ السلام پر «قرآن» یعنی زبور کی تلاوت آسان کر دی گئی تھی؛ وہ اپنی سواریوں پر زین کسنے کا حکم دیتے اور زین کسے جانے سے پہلے پوری زبور پڑھ لیتے؛ اور وہ صرف اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے (صحیح بخاری 3417)۔ حدیث میں لفظ «القرآن» آیا ہے جس سے مراد ان پر نازل ہونے والی کتاب زبور ہے؛ «تُسرج» کا مطلب سواری پر زین باندھنا ہے۔ ایک بادشاہ کا اپنے ہاتھ سے کما کر کھانا حلال رزق کی عظمت اور خودداری کا درس ہے۔
زبور: اللہ کی کتاب
زبور کا ذکر قرآن میں تین جگہ ہے (النساء 4:163، بنی اسرائیل 17:55، الانبیاء 21:105)۔ سورۂ انبیاء میں زبور کی ایک بات نقل کی گئی:
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِى ٱلزَّبُورِ مِنۢ بَعْدِ ٱلذِّكْرِ أَنَّ ٱلْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ ٱلصَّـٰلِحُونَ
«اور بے شک ہم نے نصیحت کے بعد زبور میں لکھ دیا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔» (الانبیاء 21:105)
آج کی موجودہ «زبور» (Psalms) اصل کتاب کا محفوظ متن نہیں؛ مسلمان صرف اتنا مانتے ہیں جو قرآن اور صحیح حدیث میں آیا ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کی خوش الحانی کا ذکر صحیح بخاری میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی تلاوت سن کر فرمایا کہ انہیں «آلِ داؤد کی خوش آوازیوں» میں سے ایک آواز دی گئی ہے (صحیح بخاری 5048)۔
عدل اور خلافت: «اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا»
سورۂ انبیاء میں ایک مقدمے کا ذکر ہے جس میں داؤد اور سلیمان علیہما السلام دونوں نے فیصلہ کیا: ایک قوم کی بکریاں رات کو کسی کی کھیتی میں جا گھسیں۔ اللہ نے فرمایا: «فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ ۚ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا» — ہم نے اس کا فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا، اور ہر ایک کو ہم نے حکم اور علم دیا تھا (الانبیاء 21:78–79)۔ دونوں فیصلوں کی تفصیل (کہ بکریاں کھیت والے کو دے دی جائیں یا عارضی طور پر فائدہ اٹھانے دیا جائے) تفسیروں میں ہے؛ قرآن نے صرف یہ بتایا کہ دونوں کو علم و حکمت عطا ہوئی اور سلیمان علیہ السلام کا فیصلہ زیادہ موزوں تھا۔
پھر سورۂ ص میں دو جھگڑنے والوں کا واقعہ ہے جو دیوار پھلانگ کر داؤد علیہ السلام کی عبادت گاہ میں آئے؛ ایک نے کہا کہ میرے بھائی کی ننانوے دنبیاں ہیں اور میری ایک، اور وہ میری ایک بھی مانگتا ہے۔ داؤد علیہ السلام نے فرمایا کہ اس نے تمہاری دنبی مانگ کر تم پر زیادتی کی، اور پھر انہوں نے سمجھا کہ یہ ان کی آزمائش تھی؛ وہ رکوع میں گر گئے اور اللہ سے بخشش مانگی۔ اللہ نے فرمایا:
فَغَفَرْنَا لَهُۥ ذَٰلِكَ ۖ وَإِنَّ لَهُۥ عِندَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَـَٔابٍ يَـٰدَاوُۥدُ إِنَّا جَعَلْنَـٰكَ خَلِيفَةً فِى ٱلْأَرْضِ فَٱحْكُم بَيْنَ ٱلنَّاسِ بِٱلْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ ٱلْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌۢ بِمَا نَسُوا۟ يَوْمَ ٱلْحِسَابِ
«پس ہم نے ان کی وہ بات معاف کر دی؛ اور بے شک ہمارے ہاں ان کے لیے قرب اور اچھا ٹھکانا ہے۔ اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے، سو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے۔» (ص 38:24–26)
اس مقام پر بعض تفاسیر میں اہلِ کتاب کی وہ کہانیاں نقل ہوئی ہیں جو انبیا کی عصمت کے خلاف ہیں؛ محققین نے انہیں رد کیا ہے۔ قرآن کے الفاظ سے صرف اتنا ثابت ہے کہ یہ ایک آزمائش تھی، داؤد علیہ السلام فوراً اللہ کی طرف پلٹے، اور اللہ نے انہیں معاف فرما کر اپنے قرب کی بشارت دی۔ اصل پیغام آیت 26 میں ہے: حاکم کا فرض حق کے ساتھ فیصلہ کرنا ہے، اور خواہش کی پیروی بھٹکنے کا راستہ ہے۔
داؤدی روزہ اور داؤدی نماز: سب سے محبوب عبادت
حضرت داؤد علیہ السلام کی عبادت امت کے لیے ایک معیار بن گئی۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے عہد کیا تھا کہ وہ ہمیشہ دن کو روزہ رکھیں گے اور ساری رات قیام کریں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اعتدال سکھایا اور فرمایا:
أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ
«اللہ کو سب سے محبوب روزہ داؤد کا روزہ ہے: وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے۔ اور اللہ کو سب سے محبوب نماز داؤد کی نماز ہے: وہ آدھی رات سوتے، تہائی رات قیام کرتے اور چھٹا حصہ پھر سوتے۔» (صحیح بخاری 3420؛ صحیح مسلم 1159)
اس حدیث میں دو سبق ہیں: ایک یہ کہ عبادت میں دوام اور اعتدال افضل ہے، اور دوسرا یہ کہ جسم اور گھر والوں کا بھی حق ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ اس سے زیادہ نہ کرو؛ اور وہ بڑھاپے میں کہا کرتے تھے: کاش میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی۔
«أوّاب»: بار بار پلٹنے والا بندہ
سورۂ ص کا آغاز ہی داؤد علیہ السلام کے تذکرے سے ہوتا ہے: «وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ» — ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو جو قوت والے تھے؛ بے شک وہ بہت رجوع کرنے والے تھے (ص 38:17)۔ «ذَا الأيد» کا مطلب عبادت اور دین میں قوت ہے، اور «أوّاب» وہ جو ہر حال میں اللہ کی طرف لوٹے۔ ایک بادشاہ کی تعریف میں قرآن نے نہ لشکر گنوائے نہ خزانے؛ صرف یہ کہ وہ اللہ کی طرف پلٹتے تھے۔ اور ارشاد ہے: «يَا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا ۚ وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ» — اے آلِ داؤد! شکر کے طور پر عمل کرو، اور میرے بندوں میں شکر گزار کم ہیں (سبا 34:13)۔
سلیمان علیہ السلام: علم اور نبوت کی وراثت
اللہ نے داؤد علیہ السلام کو سلیمان علیہ السلام جیسا بیٹا عطا کیا: «وَوَهَبْنَا لِدَاوُودَ سُلَيْمَانَ ۚ نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ» — کیا ہی اچھا بندہ، بے شک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (ص 38:30)۔ سورۂ نمل میں فرمایا: «وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ» — سلیمان داؤد کے وارث ہوئے (النمل 27:16)؛ یہ علم اور نبوت کی وراثت تھی، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انبیا کا مال وراثت میں تقسیم نہیں ہوتا (صحیح بخاری 3093)۔ دونوں نے کہا: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ» (27:15)۔ حضرت داؤد علیہ السلام کی وفات کی تاریخ، عمر اور مدفن قرآن اور صحیح حدیث میں مذکور نہیں۔
عملی سبق
- حلال کمائی عبادت ہے: بادشاہ اور نبی ہو کر بھی اپنے ہاتھ سے کما کر کھانا؛ یہی «سب سے بہتر کھانا» ہے (بخاری 2072)۔
- طاقت کے ساتھ رجوع: «ذَا الأيد» اور «أوّاب» ایک ہی آیت میں ہیں؛ قوت تب نعمت ہے جب اللہ کی طرف پلٹنا نہ چھوٹے۔
- عدل میں خواہش کی پیروی نہیں: خلافت کا پہلا حکم «فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ» ہے (38:26)؛ یہ ہر اس شخص کے لیے ہے جس کے ہاتھ میں کسی کا فیصلہ ہو۔
- عبادت میں اعتدال اور دوام: ایک دن روزہ ایک دن افطار، اور رات کا مناسب حصہ قیام — یہی اللہ کو سب سے محبوب ہے (بخاری 3420)۔
- ہنر اور شکر: لوہے کی نرمی کے ساتھ حکم آیا «وَاعْمَلُوا صَالِحًا» اور «اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا»؛ نعمت کا جواب شکر اور نیک عمل ہے۔
خلاصہ
حضرت داؤد علیہ السلام کی سیرت میں قوت اور عاجزی، بادشاہت اور بندگی، ہنر اور عبادت ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ جالوت کو قتل کرنے والا نوجوان، زبور کا خوش الحان قاری، زرہ بنانے والا کاریگر، عدل کا حکم پانے والا خلیفہ، اور ایک دن روزہ ایک دن افطار کرنے والا عابد — یہ سب ایک ہی شخصیت کے رخ ہیں۔ قرآن نے ان کے لیے جو لفظ بار بار چنا وہ «أوّاب» ہے؛ یہی ان کی سوانح کا خلاصہ ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ کیا حضرت داؤد علیہ السلام نبی تھے یا صرف بادشاہ؟
دونوں۔ اللہ نے انہیں نبوت کے ساتھ بادشاہت اور حکمت دی (2:251) اور ان پر زبور نازل فرمائی (4:163، 17:55)۔
۲۔ داؤدی روزہ کیا ہے؟
ایک دن روزہ اور ایک دن افطار۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اللہ کے نزدیک سب سے محبوب روزہ فرمایا (صحیح بخاری 3420)۔
۳۔ کیا جالوت کو واقعی داؤد علیہ السلام نے قتل کیا؟
ہاں، قرآن کے صریح الفاظ ہیں: «وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ» (2:251)۔ قتل کا طریقہ اور ان کی اس وقت کی عمر قرآن میں نہیں۔
۴۔ سورۂ ص کے دو جھگڑنے والوں کے واقعے کی اصل حقیقت کیا ہے؟
قرآن نے صرف اتنا بتایا کہ یہ داؤد علیہ السلام کی آزمائش تھی، وہ فوراً اللہ کی طرف پلٹے اور اللہ نے معاف فرما دیا۔ اس پر اہلِ کتاب کی روایات کو مفسرین نے رد کیا ہے؛ انبیا معصوم ہیں۔
۵۔ کیا آج کی زبور وہی کتاب ہے جو داؤد علیہ السلام پر اتری؟
نہیں۔ مسلمان اصل زبور پر ایمان رکھتے ہیں جو اللہ کی کتاب تھی؛ موجودہ متن کے بارے میں صرف وہی بات مانی جائے گی جس کی قرآن و سنت تصدیق کریں۔
دعا
اے اللہ! ہمیں داؤد علیہ السلام کی طرح «أوّاب» بنا؛ حلال کمائی، عدل کے فیصلے، اعتدال کی عبادت اور نعمتوں پر شکر کی توفیق دے۔ «رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ» (النمل 27:19)۔ آمین۔
حوالے
- القرآن الکریم: البقرہ 2:246–251؛ النساء 4:163؛ الانعام 6:84؛ بنی اسرائیل 17:55؛ الانبیاء 21:78–80، 21:105؛ النمل 27:15–16؛ سبا 34:10–13؛ ص 38:17–30۔
- صحیح بخاری 2072: اپنے ہاتھ کی کمائی؛ 3417: زبور کی تلاوت اور ہاتھ کی کمائی؛ 3420 اور صحیح مسلم 1159: داؤدی روزہ و نماز؛ بخاری 5048: آلِ داؤد کی خوش آوازی؛ بخاری 3093: انبیا کی وراثت۔
- تفسیر ابنِ کثیر اور تفسیر طبری (البقرہ 2:251، الانبیاء 21:78–79، ص 38:21–26): تفسیری اقوال اور اسرائیلیات پر مؤلفین کی تنقید کے ساتھ۔
ماخذ کی وضاحت: اس مضمون میں صرف قرآنِ کریم اور صحیح بخاری و مسلم کی روایات کو یقینی سمجھا گیا ہے۔ جائے پیدائش، والد کا نام، زمانہ، جالوت کے قتل کا طریقہ اور مقدمات کی تفصیلات تفسیر و تاریخ کے اقوال ہیں جن کی حیثیت متن میں واضح کر دی گئی ہے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment