وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Anbiya-e-Kiram› حضرت عزیر علیہ السلام: سو سال کی موت اور زندگی کا زندہ ثبوت

حضرت عزیر علیہ السلام: سو سال کی موت اور زندگی کا زندہ ثبوت

نAuthor Nawab
قصص الانبیاء • حضرت عزیر علیہ السلام

حضرت عزیر علیہ السلام: سو سال کی موت اور زندگی کا زندہ ثبوت

ایک اجڑی بستی، ایک سوال — «اللہ اسے موت کے بعد کیسے زندہ کرے گا؟» — اور جواب میں سو سال کی موت، تازہ کھانا، اور آنکھوں کے سامنے ہڈیوں پر گوشت چڑھتا ہوا۔ قیامت پر یقین کا سب سے واضح قرآنی منظر۔

قرآنِ کریم میں «عُزَيْر» کا نام صرف ایک بار آیا ہے — سورۂ توبہ میں، جہاں یہود کے اس باطل عقیدے کی تردید ہے کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں۔ لیکن مفسرین کی بڑی اکثریت کے نزدیک سورۂ بقرہ کا وہ مشہور واقعہ بھی انہی سے متعلق ہے جس میں ایک شخص اجڑی بستی سے گزرا، سوال کیا، اور اللہ نے اسے سو سال موت دے کر پھر زندہ کیا۔ یہ قصہ موت کے بعد زندگی کا ایسا مشاہدہ ہے جو کسی اور نبی کو اس انداز میں نہیں کرایا گیا۔

اس مضمون میں دونوں آیات کو ان کے اصل الفاظ کے ساتھ رکھا گیا ہے اور تفسیر کی ان باتوں کی حیثیت واضح کی گئی ہے جو قرآن میں نہیں: 2:259 والے شخص کا نام، ان کا نبی ہونا، بستی کی شناخت، اور تورات کو دوبارہ لکھنے کی روایت۔

اجڑی بستی کے کھنڈر — غروبِ آفتاب
«ایسی بستی جو اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی» (2:259) — علامتی منظر

حضرت عزیر کون تھے؟

تفسیر اور تاریخ کی کتابوں کے مطابق حضرت عزیر بنی اسرائیل کے عالم اور بزرگ تھے جو بیت المقدس کی تباہی (بخت نصر کے حملے) کے بعد کے زمانے میں ہوئے۔ ان کا نبی ہونا علما کے درمیان اختلافی ہے؛ ابنِ کثیر لکھتے ہیں کہ مشہور قول یہ ہے کہ وہ نبی تھے، اور بعض نے انہیں صرف صالح عالم کہا۔ ہم احتیاطاً «علیہ السلام» لکھتے ہیں اور ان کی عزت کرتے ہیں، مگر یہ جانتے ہوئے کہ قرآن اور صحیح حدیث نے ان کی نبوت کی صراحت نہیں کی۔

ایک مشہور روایت یہ ہے کہ تباہی کے بعد جب تورات ضائع ہو گئی تو عزیر نے اسے حافظے سے دوبارہ لکھ دیا، اور اسی حیرت انگیز کام کی وجہ سے بعض یہود غلو میں پڑ کر انہیں «ابن اللہ» کہنے لگے۔ یہ روایت اہلِ کتاب کے ذریعے آئی ہے؛ اس کی سند قرآن یا صحیح حدیث میں نہیں، اس لیے اسے تاریخی قول سمجھنا چاہیے، دین کا یقینی حصہ نہیں۔

اجڑی بستی کا سوال

سورۂ بقرہ میں اللہ کی قدرت پر تین دلیلیں یکے بعد دیگرے آئی ہیں: نمرود سے ابراہیم علیہ السلام کا مناظرہ (2:258)، کھنڈر بستی والے کا واقعہ (2:259)، اور ابراہیم علیہ السلام کے چار پرندوں کا واقعہ (2:260)۔ درمیان والا واقعہ یوں شروع ہوتا ہے:

أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَىٰ قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحْيِي هَٰذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا
«یا اس شخص کی طرح جو ایک بستی پر گزرا جو اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی۔ اس نے کہا: اللہ اسے اس کی موت کے بعد کیسے زندہ کرے گا؟» (البقرہ 2:259)

یہ سوال انکار کا نہیں تھا؛ قرآن نے اس شخص کو کافروں کی صف میں نہیں رکھا بلکہ اسے «آیت» بنایا۔ یہ قدرت کی کیفیت جاننے کی خواہش تھی — ویسے ہی جیسے ابراہیم علیہ السلام نے اگلی آیت میں پوچھا۔ مفسرین کے مطابق یہ شخص عزیر تھے اور بستی بیت المقدس تھی جو تباہی کے بعد ویران پڑی تھی؛ قرآن نے دونوں نام نہیں لیے۔

سو سال کی موت

فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ ۖ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ۖ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۖ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ
«تو اللہ نے اسے سو سال تک موت دیے رکھی، پھر اسے اٹھایا۔ فرمایا: تم کتنی دیر رہے؟ کہا: ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔ فرمایا: بلکہ تم سو سال رہے۔» (البقرہ 2:259)

قرآن کا لفظ «أَمَاتَهُ» ہے — اللہ نے اسے موت دی؛ یہ نیند نہیں تھی۔ سو سال بعد اٹھنے پر انہیں لگا کہ ایک دن یا اس سے کم گزرا ہے۔ یہی کیفیت قیامت کے دن اٹھنے والوں کی ہوگی: «كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا» — جس دن وہ اسے دیکھیں گے تو یوں لگے گا جیسے (دنیا میں) ایک شام یا ایک صبح ہی ٹھہرے تھے (النازعات 79:46)۔ موت اور زندگی کے درمیان وقت کا احساس مٹ جاتا ہے؛ اصحابِ کہف کو بھی تین سو سال بعد یہی لگا تھا کہ ایک دن گزرا ہے (الکہف 18:19)۔

پرانی دیواروں کے درمیان بیٹھا گدھا
«اور اپنے گدھے کو دیکھو» (2:259) — علامتی منظر

تین نشانیاں: کھانا، گدھا اور خود ان کا وجود

فَانظُرْ إِلَىٰ طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ ۖ وَانظُرْ إِلَىٰ حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِّلنَّاسِ ۖ وَانظُرْ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا
«اپنے کھانے اور پینے کو دیکھو، وہ بگڑا نہیں؛ اور اپنے گدھے کو دیکھو — اور (یہ اس لیے) کہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے نشانی بنائیں۔ اور ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم انہیں کیسے اٹھا کر جوڑتے ہیں، پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں۔» (البقرہ 2:259)

اس ایک آیت میں تین متضاد حقیقتیں ایک ساتھ رکھی گئیں: کھانا، جو چند دن میں خراب ہو جاتا ہے، سو سال بعد ویسا ہی تازہ تھا؛ گدھا، جو زندہ رہ سکتا تھا، ہڈیوں کا ڈھیر بن چکا تھا؛ اور خود وہ شخص، جو مر چکا تھا، زندہ کھڑا تھا۔ پھر ان کی آنکھوں کے سامنے ہڈیاں اٹھیں، جڑیں، اور ان پر گوشت چڑھا۔ اللہ نے انہیں صرف بتایا نہیں، دکھایا — اور «لِنَجْعَلَكَ آيَةً لِّلنَّاسِ» کے مطابق انہیں لوگوں کے لیے زندہ دلیل بنا دیا۔ ایک سو سال بعد واپس آنے والا شخص اپنے زمانے کے لیے خود قیامت کی تصویر تھا۔

«أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»

فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
«پھر جب اس پر (سب کچھ) واضح ہو گیا تو کہا: میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔» (البقرہ 2:259)

سوال «أَنَّىٰ» (کیسے؟) سے شروع ہوا تھا اور جواب «أَعْلَمُ» (میں جانتا ہوں) پر ختم ہوا۔ یہ ایمان سے علم الیقین اور پھر عین الیقین تک کا سفر ہے۔ ایک قراءت میں «اعْلَمْ» (جان لو!) بھی ہے — یعنی اللہ کی طرف سے خطاب۔ دونوں صورتوں میں پیغام ایک ہے: قدرتِ الٰہی کی کوئی حد نہیں۔

ابراہیم علیہ السلام کا سوال اور صحیح بخاری کی حدیث

اگلی ہی آیت میں ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ ہے:

وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِـۧمُ رَبِّ أَرِنِى كَيْفَ تُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ ۖ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن ۖ قَالَ بَلَىٰ وَلَـٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِى ۖ قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَةً مِّنَ ٱلطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ ٱجْعَلْ عَلَىٰ كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ٱدْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا ۚ وَٱعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
«اور جب ابراہیم نے کہا: اے میرے رب! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے۔ فرمایا: کیا تم ایمان نہیں رکھتے؟ کہا: کیوں نہیں، مگر اس لیے کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔ فرمایا: تو چار پرندے لو اور انہیں اپنے ساتھ مانوس کر لو، پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک حصہ رکھ دو، پھر انہیں بلاؤ، وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے؛ اور جان لو کہ اللہ غالب، حکمت والا ہے۔» (البقرہ 2:260)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کے بارے میں فرمایا:

نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن قَالَ بَلَىٰ وَلَٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي
«ہم ابراہیم سے زیادہ شک کے حق دار ہیں، جب انہوں نے کہا: اے میرے رب! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے۔ فرمایا: کیا تم ایمان نہیں رکھتے؟ کہا: کیوں نہیں، مگر تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔» (صحیح بخاری 3372؛ 4537)

اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کو شک تھا۔ علما کہتے ہیں کہ یہ تواضع کا انداز ہے: اگر ابراہیم کا سوال شک ہوتا تو ہم شک کے زیادہ حق دار ہوتے، حالانکہ ہمیں شک نہیں — تو ابراہیم کو کیسے ہوتا؟ ان کا سوال ایمان کے بعد اطمینانِ قلب کی طلب تھا، جیسے عزیر کا سوال انکار نہیں بلکہ کیفیت کا سوال تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت میں یہ واقعہ تفصیل سے ہے۔

«عزیر ابن اللہ»: غلو کی تردید

وَقَالَتِ ٱلْيَهُودُ عُزَيْرٌ ٱبْنُ ٱللَّهِ وَقَالَتِ ٱلنَّصَـٰرَى ٱلْمَسِيحُ ٱبْنُ ٱللَّهِ ۖ ذَٰلِكَ قَوْلُهُم بِأَفْوَٰهِهِمْ ۖ يُضَـٰهِـُٔونَ قَوْلَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَبْلُ ۚ قَـٰتَلَهُمُ ٱللَّهُ ۚ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ
«اور یہود نے کہا: عزیر اللہ کا بیٹا ہے، اور نصاریٰ نے کہا: مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ ان کے منہ کی بات ہے؛ وہ ان لوگوں کی بات کی نقل کرتے ہیں جنہوں نے ان سے پہلے کفر کیا۔ اللہ انہیں ہلاک کرے، وہ کہاں بہکائے جا رہے ہیں۔» (التوبہ 9:30)

اس آیت سے چند باتیں واضح ہیں: عزیر کوئی ایسی شخصیت تھے جنہیں یہود میں بہت بلند مقام حاصل تھا؛ ان کے بعض گروہوں نے اس عزت کو غلو تک پہنچا کر انہیں «ابن اللہ» کہا؛ اور اللہ نے اسے پچھلی مشرک قوموں کی نقل قرار دے کر رد کر دیا۔ مفسرین کے مطابق یہ عقیدہ تمام یہود کا نہیں بلکہ ان کے کچھ لوگوں کا تھا، مگر چونکہ باقیوں نے اس کی تردید نہیں کی، قرآن نے عمومی انداز میں ذکر کیا۔

یہاں ایک عظیم سبق ہے: کسی نیک بندے، عالم یا نبی کی محبت میں غلو اسے اللہ کے مقام تک پہنچا دیتا ہے — اور یہی شرک کا دروازہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ» — مجھے اس طرح نہ بڑھاؤ جیسے نصاریٰ نے ابنِ مریم کو بڑھایا؛ میں تو اس کا بندہ ہوں، سو کہو: اللہ کا بندہ اور اس کا رسول (صحیح بخاری 3445)۔

خشک زمین میں پھوٹتا سبز پودا
«دیکھو اللہ کی رحمت کے آثار، وہ زمین کو اس کی موت کے بعد کیسے زندہ کرتا ہے» (30:50)

زمین کی زندگی: ہر طرف بکھرا ہوا ثبوت

فَٱنظُرْ إِلَىٰٓ ءَاثَـٰرِ رَحْمَتِ ٱللَّهِ كَيْفَ يُحْىِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَآ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
«تو اللہ کی رحمت کے آثار دیکھو کہ وہ زمین کو اس کی موت کے بعد کیسے زندہ کرتا ہے؛ بے شک وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔» (الروم 30:50)

عزیر کا واقعہ ایک بار ہوا؛ زمین کا زندہ ہونا ہر سال ہوتا ہے۔ اور خود انسان کا وجود بھی دلیل ہے: «كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ۖ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» — تم اللہ کا کیسے انکار کرتے ہو حالانکہ تم بے جان تھے تو اس نے تمہیں زندہ کیا، پھر وہ تمہیں مارے گا، پھر زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے (البقرہ 2:28)۔ نیند اور بیداری، خزاں اور بہار، نطفہ اور انسان — سب ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ ہیں جو عزیر نے آنکھوں سے دیکھی۔

عملی سبق

  1. قیامت پر یقین ایمان کی بنیاد ہے: «لِنَجْعَلَكَ آيَةً لِّلنَّاسِ» — یہ واقعہ ہمارے لیے بیان ہوا ہے۔
  2. سوال اور انکار میں فرق: عزیر اور ابراہیم علیہما السلام کا «کیسے؟» ایمان کے اندر رہ کر سمجھنے کی طلب تھی؛ اللہ نے اس کا جواب دیا، ڈانٹا نہیں۔
  3. محبت میں غلو شرک کا دروازہ ہے: «عزیر ابن اللہ» ایک عالم کی عزت سے شروع ہوا؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے بارے میں بھی غلو سے روکا۔
  4. وقت کا احساس موت کے ساتھ مٹ جاتا ہے: «يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ» — دنیا کی لمبی عمر بھی قیامت کے دن ایک شام لگے گی؛ تیاری آج ہے۔
  5. قدرت کی نشانیوں پر غور عبادت ہے: زمین کا زندہ ہونا ہر سال کا «واقعۂ عزیر» ہے؛ اسے دیکھنے والی آنکھ چاہیے۔

خلاصہ

حضرت عزیر علیہ السلام کا قرآنی تذکرہ دو آیتوں میں ہے، مگر دونوں عقیدے کے دو ستونوں سے جڑی ہیں: آخرت پر ایمان (2:259) اور توحید میں غلو سے بچنا (9:30)۔ ایک طرف اللہ نے انہیں سو سال موت دے کر زندہ کیا اور ان کی آنکھوں کے سامنے ہڈیوں پر گوشت چڑھایا؛ دوسری طرف انہی کی عزت میں غلو کرنے والوں کی تردید کی۔ جو شخص یہ دونوں آیتیں ساتھ پڑھے، وہ سمجھ جاتا ہے کہ اللہ کا بندہ کتنا ہی بلند ہو، بندہ ہی رہتا ہے — اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

۱۔ کیا 2:259 میں مذکور شخص یقینی طور پر حضرت عزیر ہیں؟

قرآن نے نام نہیں لیا۔ مفسرین کی اکثریت (ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے منقول قول کے مطابق) انہیں عزیر کہتی ہے؛ بعض نے ارمیا علیہ السلام کا نام بھی لیا ہے۔ پیغام دونوں صورتوں میں ایک ہے۔

۲۔ کیا حضرت عزیر نبی تھے؟

یہ اختلافی مسئلہ ہے۔ ابنِ کثیر کے مطابق مشہور قول نبوت کا ہے، مگر قرآن اور صحیح حدیث میں اس کی صراحت نہیں۔

۳۔ کیا یہ سو سال کی نیند تھی؟

نہیں۔ قرآن کا لفظ «فَأَمَاتَهُ اللَّهُ» ہے — اللہ نے اسے موت دی۔ نیند کہنا قرآن کے الفاظ کے خلاف ہے۔

۴۔ «نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ» کا کیا مطلب ہے؟

یہ تواضع کا اسلوب ہے: ہمیں شک نہیں، تو ابراہیم علیہ السلام کو کیسے ہوتا؟ ان کا سوال اطمینانِ قلب کے لیے تھا، شک کی وجہ سے نہیں۔

۵۔ کیا تمام یہود عزیر کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے؟

مفسرین کے مطابق یہ ان کے بعض گروہوں کا قول تھا؛ قرآن نے اسے عمومی انداز میں بیان کیا کیونکہ باقیوں نے تردید نہیں کی۔ آج کے یہود میں یہ عقیدہ عام نہیں۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم — خطاطی
«أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» — یقین کا کلمہ

دعا

اے اللہ! ہمیں موت کے بعد زندگی پر ایسا یقین عطا فرما جیسا عزیر علیہ السلام کو آنکھوں سے دیکھ کر ہوا، اور ہمیں ہر غلو اور شرک سے محفوظ رکھ۔ «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» (البقرہ 2:201)۔ آمین۔

حوالے

ماخذ کی وضاحت: آیات اور صحیح بخاری کی روایات یقینی ہیں۔ 2:259 والے شخص کی شناخت، حضرت عزیر کی نبوت، بستی کا نام اور تورات دوبارہ لکھنے کا قصہ تفسیری و اسرائیلی اقوال ہیں جن کی حیثیت متن میں بتا دی گئی ہے۔

یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments