حجۃ الوداع: آخری حج، خطبۂ عرفات اور امت کے لیے رہنمائی
حجۃ الوداع: آخری حج، خطبۂ عرفات اور امت کے لیے رہنمائی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری سال میں ادا کیا گیا حج سیرت کا ایک ایسا منظر ہے جہاں عبادت کا طریقہ، امت سے خطاب اور قرآنی ہدایت ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ اسے حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی لمبی روایت اس حج کے مناسک کا سلسلہ بیان کرتی ہے۔ یہ مقالہ اسی حدیث کے بنیادی مناظر اور قرآنی دلیل کو الگ الگ رکھتے ہوئے واقعہ سمجھاتا ہے۔
مکہ کی طرف روانہ ہوتا حجاج کا قافلہ: روایت میں بہت سے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے۔
مدینہ سے مکہ کا سفر
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں نو سال گزارے جن میں حج نہیں کیا، پھر دسویں سال حج کے لیے روانگی کا اعلان فرمایا۔ لوگ کثرت سے مدینہ آئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی پیروی کریں (صحیح مسلم 1218)۔ اسی روایت میں ہے کہ ذوالحلیفہ پہنچ کر حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی اور انہوں نے احرام کے بارے میں رہنمائی پوچھی؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کر کے کپڑا باندھنے اور احرام باندھ لینے کی ہدایت دی۔ اس منظر میں حج کا سفر صرف ایک بڑا مجمع نہیں؛ سوال کرنے اور ہر حال میں عبادت کا طریقہ سیکھنے کا موقع بھی تھا۔ قرآن نے فرمایا کہ استطاعت رکھنے والے لوگوں پر بیت اللہ کا حج اللہ کا حق ہے (آل عمران 3:97)۔
روانگی پر تلبیہ کہا گیا: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ»؛ بندہ اللہ کی پکار پر حاضر ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، حمد اور نعمت اور بادشاہی اسی کے لیے ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ لوگوں نے بھی تلبیہ کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو روکا نہیں۔ اس ایک صدا میں توحید، اطاعت اور اللہ کے حضور حاضری کا اظہار تھا۔
احرام کی سادگی: عبادت میں تواضع اور برابری کی یاد۔
حج کے مناسک عمل سے سمجھانا
صحیح مسلم 1218 میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ طواف، صفا مروہ کی سعی اور منیٰ کی طرف روانگی کا تفصیلی بیان دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرِ اسود کا استلام کیا، تین چکر رمل اور چار معمول کی چال سے طواف کیا، مقامِ ابراہیم کے پاس دو رکعت پڑھیں اور صفا پر چڑھ کر فرمایا: «ہم وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں سے اللہ نے شروع کیا» (البقرہ 2:158)۔ روایت بتاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسک کو اپنے عمل سے واضح کیا؛ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر سیکھتے اور سوال کرتے۔ جن صحابہ کے پاس قربانی کا جانور نہ تھا، انہیں عمرہ کر کے احرام کھولنے کا حکم دیا گیا؛ یہ حکم فقہی مباحث کا اہم مأخذ ہے، جس کی تفصیل مختلف مسالک میں دلائل کے ساتھ سمجھی جاتی ہے۔ یہاں مقالہ واقعے کی سیرتی روایت تک محدود ہے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے بیان میں عرفات پر وقوف، مزدلفہ میں رات گزارنے اور منیٰ کے مناسک کا ذکر بھی آتا ہے۔ قریش کا خیال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پرانی روایت کے مطابق مزدلفہ (مشعرِ حرام) پر ہی رکیں گے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ کر عرفات تشریف لے گئے، جیسا کہ قرآن نے فرمایا: «پھر وہیں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں» (البقرہ 2:199)۔ اس سے حج کے مناسک میں جاہلی روایت کی پیروی کے بجائے وحی اور سنت کی پیروی سامنے آتی ہے۔ حج کا مرکزی پیغام صرف مقدس مقامات پر پہنچنا نہیں، بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق عمل کرنا ہے۔
عرفات کا سکون اور وقوفِ عرفہ کا مرکزی مقام۔
عرفات کا خطبہ: جان، مال اور ذمہ داری
عرفات میں بطنِ وادی (عرنہ) کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصواء پر سوار ہو کر خطبہ دیا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ اس کا ایک اہم حصہ نقل کرتے ہیں:
إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلاَ كُلُّ شَىْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَىَّ مَوْضُوعٌ، وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ … وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُ رِبَانَا رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ
«بے شک تمہارا خون اور تمہارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت، تمہارے اس مہینے میں، تمہارے اس شہر میں۔ سنو! جاہلیت کی ہر چیز میرے قدموں کے نیچے رکھ دی گئی، اور جاہلیت کے خون (کے دعوے) ختم کر دیے گئے … اور جاہلیت کا سود ختم کر دیا گیا، اور سب سے پہلا سود جو میں ختم کرتا ہوں ہمارا اپنا سود، عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے؛ وہ سارا ختم ہے۔» (صحیح مسلم، حدیث 1218)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اپنے خاندان کے خون بہا (ربیعہ بن حارث کے بیٹے کا خون) اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے سود کو ختم کرنے کی مثال دی: اصلاح کا آغاز اپنے گھر سے۔ اسی خطبے میں عورتوں کے حقوق کے بارے میں فرمایا:
فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللَّهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ … وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ كِتَابَ اللَّهِ
«عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امان کے ساتھ لیا ہے اور اللہ کے کلمے سے انہیں اپنے لیے حلال کیا ہے … اور تم پر ان کا حق ہے کہ انہیں دستور کے مطابق کھانا اور کپڑا دو۔ اور میں تم میں وہ چیز چھوڑے جا رہا ہوں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو گے اگر اسے مضبوطی سے تھامے رکھو: اللہ کی کتاب۔» (صحیح مسلم، حدیث 1218)
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو کیا کہو گے؟» لوگوں نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے پہنچا دیا، ادا کر دیا اور خیر خواہی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے تین بار فرمایا: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ» (اے اللہ! گواہ رہ)۔ منیٰ میں یومِ النحر کے خطبے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جان، مال اور عزت کی حرمت دہرائی اور فرمایا: «أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ؟ … فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ» (کیا میں نے پہنچا دیا؟ … حاضر غائب تک پہنچا دے) (صحیح بخاری 1741؛ 4406)۔ عام طور پر مشہور «خطبۂ حجۃ الوداع» کے تمام جملوں کو ایک ہی صحیح حدیث کا لفظی متن کہنا درست نہیں؛ مختلف جملے مختلف روایات میں آئے ہیں، اور یہاں صرف وہی نقل کیے گئے ہیں جن کا حوالہ متعین ہے۔
دین کی تکمیل اور قرآنی آیت
حجۃ الوداع کے دوران سورۃ المائدہ کی آیت 3 نازل ہونے کا ذکر صحیح بخاری میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت سے ملتا ہے۔ ایک یہودی نے ان سے کہا: اے امیر المومنین! آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے جو اگر ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے۔ پوچھا: کون سی آیت؟ اس نے کہا:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا
«آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔» (سورۃ المائدہ 5:3)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «ہم اس دن اور اس مقام کو جانتے ہیں جہاں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں کھڑے تھے اور جمعہ کا دن تھا» (صحیح بخاری 45)۔ آیت کا پیغام دین کی تکمیل اور اللہ کی نعمت کی تمامیت ہے۔ اس لیے حجۃ الوداع کو صرف ایک سفر یا مجمع کے طور پر نہیں، بلکہ امت کو ملنے والی رہنمائی کے ایک بڑے لمحے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ اس آیت کے نزول کی روایت کو خطبے کے تمام مشہور جملوں کے ثبوت کے ساتھ ملانا نہیں چاہیے: ہر دلیل کا اپنا متن اور اپنا دائرہ ہے۔
حج کا سفر، جہاں سنت عمل سے سمجھائی گئی۔
حجۃ الوداع سے ملنے والے سبق
اس حج میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے مناسک سکھائے، سوالوں کا جواب دیا اور عرفات میں لوگوں کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلائیں۔ توحید تلبیہ کا مرکز تھی۔ جان اور مال کی حرمت خطبے کے نقل شدہ الفاظ میں واضح تھی۔ جاہلیت کے خون بہا اور سود کو ختم کرنے کا اعلان انصاف اور سماجی اصلاح کا پہلو دکھاتا ہے، اور اس کا آغاز اپنے خاندان سے ہوا۔ عورتوں کے معاملات پر اللہ سے ڈرنے کی تلقین گھریلو ذمہ داری کو دین کے دائرے میں لاتی ہے۔ کتاب اللہ کو تھامے رکھنے کی وصیت امت کے لیے مستقل رہنمائی ہے۔ قرآن کی تکمیل والی آیت نے اس سفر کو ایک خاص تاریخی مقام دیا۔ اس حج کے چند ہی مہینے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا؛ اسی لیے اسے «الوداع» کا حج کہا جاتا ہے۔
عملی سبق
- عبادت کا طریقہ سنت سے سیکھیں؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مجھ سے اپنے مناسک سیکھ لو» (مسلم 1297)۔
- جان، مال اور عزت کی حرمت مسلمان کے لیے حرمت والے دن اور شہر جیسی ہے۔
- اصلاح اپنے گھر سے شروع کریں، جیسے سود اور خون بہا کا خاتمہ اپنے خاندان سے شروع ہوا۔
- عورتوں کے حقوق — نان و نفقہ معروف کے مطابق — اللہ سے ڈرنے کا تقاضا ہیں۔
- کتاب اللہ کو تھامے رکھنا گمراہی سے بچاؤ ہے؛ حاضر غائب تک بات پہنچائے۔
خلاصہ
حجۃ الوداع 10 ہجری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واحد حج تھا جس کی تفصیل حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت (صحیح مسلم 1218) میں محفوظ ہے: تلبیہ، طواف، سعی، عرفات کا وقوف اور خطبہ، مزدلفہ اور منیٰ۔ خطبۂ عرفات میں جان و مال کی حرمت، جاہلیت کے خون بہا اور سود کا خاتمہ (اپنے خاندان سے شروع)، عورتوں کے حقوق اور کتاب اللہ کو تھامنے کی وصیت شامل تھی؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللہم اشہد» تین بار فرمایا۔ جمعہ کے دن عرفات میں المائدہ 5:3 نازل ہوئی (بخاری 45)۔ مشہور خطبے کے تمام جملے ایک ہی روایت میں نہیں؛ یہاں صرف متعین حوالوں والے الفاظ نقل کیے گئے ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ حجۃ الوداع کس سال ادا ہوا؟
صحیح مسلم 1218 کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے دسویں سال حج کیا۔
۲۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کی تفصیلی روایت کہاں ملتی ہے؟
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی تفصیلی روایت صحیح مسلم، حدیث 1218 میں ہے۔
۳۔ عرفات کے خطبے میں کیا اہم اصول بیان ہوئے؟
جان اور مال کی حرمت، جاہلیت کے خون بہا اور سود کا خاتمہ، عورتوں کے حقوق میں اللہ سے ڈرنا، اور کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامنا (مسلم 1218)؛ منیٰ کے خطبے میں عزت کی حرمت بھی (بخاری 1741)۔
۴۔ دین کی تکمیل والی آیت کب نازل ہوئی؟
صحیح بخاری 45 میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق جمعہ کے دن عرفات میں سورۃ المائدہ 5:3 نازل ہوئی۔
کتابیں اور حوالے
- صحیح مسلم 1218: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کی تفصیلی روایت، خطبے کے نقل شدہ حصوں سمیت۔
- صحیح بخاری 1741؛ 4406: یومِ النحر کا خطبہ، جان و مال و عزت کی حرمت، «ألا هل بلغت»۔
- صحیح بخاری 45: سورۃ المائدہ 5:3 کے نزول کے دن اور مقام کے بارے میں عمر رضی اللہ عنہ کی روایت۔
- القرآن الکریم: المائدہ 5:3؛ آل عمران 3:97؛ البقرہ 2:158؛ 2:199۔
- صحیح مسلم 1297: «لتأخذوا مناسككم»۔
خطبے کے جملوں میں صرف وہی پہلو بیان کیے گئے ہیں جو متعین حدیثی حوالوں میں ملتے ہیں؛ مشہور مکمل خطبے کے تمام الفاظ ایک ہی روایت کے نام پر نہیں دیے گئے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment