حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ: امانت کا اعتبار
حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ: امانت کا اعتبار
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے وفد کے لیے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو «امین، حق امین» کہہ کر بھیجا۔ صحیح روایت میں ان کا نام صرف ایک فضیلت کے طور پر نہیں، بلکہ ذمہ داری اور بھروسے کے ساتھ آتا ہے۔ یمن کے ایک الگ وفد کی روایت تعلیم اور سنت پہنچانے کا پہلو سامنے لاتی ہے۔
امانت کا مطلب بھروسا ملنا بھی ہے اور اسے ادا کرنا بھی۔
تکرار اور دائرے کی وضاحت
عشرہ مبشرہ کے پہلے مضمون میں حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا نام جنت کی بشارت والی فہرست میں آتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مضمون (نمبر ۴) میں قرآن 3:61 اور مباہلہ کا پس منظر بھی بیان ہو چکا ہے۔ نجران کی حدیث کے کچھ متن اسی پس منظر سے شروع ہوتے ہیں، اس لیے یہاں مباہلہ کا قصہ دوبارہ تفصیل سے نہیں سنایا جائے گا۔ مضمون کا مرکز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ پر اعتبار، نجران کے وفد کے لیے ان کا انتخاب، اور یمن کے الگ تعلیمی وفد کی روایت ہے۔ غزوات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد کے واقعات (جیسے طاعونِ عمواس) اس مضمون میں شامل نہیں۔
اس موضوع میں ماخذ کا فرق سمجھنا اہم ہے۔ صحیح بخاری 3745 اور صحیح مسلم 2420a نجران کے لوگوں کی امانت دار شخص بھیجنے کی درخواست اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے انتخاب کو بیان کرتے ہیں۔ بخاری 4380 اسی واقعے کا زیادہ تفصیلی متن ہے جس میں مباہلہ کا پس منظر بھی آتا ہے؛ وہ پہلے مضمون میں بیان ہو چکا۔ صحیح بخاری 3744 اور صحیح مسلم 2419a «ہر امت کا امین» والی عام فضیلت بیان کرتے ہیں۔ صحیح مسلم 2419b یمن کے لوگوں کی سنت اور اسلام سکھانے کی درخواست کا ذکر کرتی ہے۔ یہ متعلقہ مگر الگ روایات ہیں؛ انہیں ملا کر ایک ہی سفر یا ایک ہی گفتگو بنانا درست نہیں۔
ایک صحابی، ایک ذمہ داری اور ایک واضح انتخاب
حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ ان بزرگ صحابہ میں سے ہیں جن کا ذکر عشرہ مبشرہ کے سلسلے میں آتا ہے۔ اس مضمون میں ان کی ابتدائی زندگی اور اسلام قبول کرنے کے مشہور قصوں کو دوبارہ نہیں دہرایا جائے گا۔ جو واقعہ یہاں ہمارے پاس صحیح حدیث کے ذریعے ہے، اس کا مرکزی منظر ایک وفد اور ایک ذمہ داری ہے: لوگ اپنے ساتھ ایسا شخص مانگتے ہیں جسے وہ امانت دار سمجھیں، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو منتخب فرماتے ہیں۔
یہ انتخاب صرف لقب یا تعریفی جملہ نہیں۔ وفد کے ساتھ بھیجا جانا ایک عملی ذمہ داری ہوتی ہے: جو شخص پیغام لے کر جا رہا ہے، اس کی زبان، فیصلہ، وعدہ اور رویہ اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت رکھے گا جنہوں نے اسے بھیجا۔ روایت ہمیں کسی لمبی رپورٹ کا بیان نہیں دیتی، مگر انتخاب کا لمحہ ہی بہت کچھ بتاتا ہے۔ بھروسا یہاں صرف دل کا جذبہ نہیں؛ کسی کو اپنے نام، اپنے معاہدے اور اپنی تعلیم کا نمائندہ بنانے کا فیصلہ ہے۔
صحیح بخاری 3745، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے لوگوں سے فرمایا:
لأَبْعَثَنَّ ـ يَعْنِي عَلَيْكُمْ ـ يَعْنِي أَمِينًا ـ حَقَّ أَمِينٍ
«میں ضرور تمہاری طرف ایک امین بھیجوں گا، حق امین (واقعی امانت دار)۔» پھر صحابہ اس کی طرف متوجہ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ (صحیح بخاری، حدیث 3745)
یہ متن مختصر ہے: اس میں نجران سے گفتگو کی تمام سیاسی یا مذہبی تفصیل نہیں، سفر کا راستہ نہیں، اور وہاں پہنچنے کے بعد کا عمل بھی نہیں۔ جو کچھ اس حدیث میں واضح ہے، وہ درخواست، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ، صحابہ کی توجہ اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا انتخاب ہے۔
صحیح مسلم 2420a میں بھی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ذریعے نجران کے لوگوں کا یہ کہنا آتا ہے کہ ہماری طرف ایک امین شخص بھیجیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جواب میں «حق امین» کا لفظ دو مرتبہ فرماتے ہیں: «لأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ حَقَّ أَمِينٍ»، یعنی ایسا شخص جو واقعی امانت دار ہو۔ پھر لوگ اس انتخاب کی طرف امید سے متوجہ ہوتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو بھیجتے ہیں۔ اس متن کا زور درخواست اور لفظ «حق امین» کی تکرار پر ہے۔ اسے بخاری کے متن کے ساتھ ملا کر ایک لفظی اقتباس نہیں بنانا چاہیے۔
یہ دونوں روایات ایک ہی بنیادی واقعے کی مختلف نقلیں ہیں، مگر ہر ایک کے اپنے الفاظ ہیں۔ اگر ہم دونوں کو ایک ہی واوین کے اندر جوڑ دیں تو قاری کو یہ غلط فہمی ہو سکتی ہے کہ یہ تمام لفظ ایک سند کے ایک ہی متن میں اسی ترتیب سے آئے۔ بہتر ہے کہ ہر روایت کو اس کے اپنے حوالے سے بتایا جائے۔
وفد کے ساتھ بھیجا گیا نمائندہ اپنے ساتھ پیغام کی امانت بھی لے جاتا ہے۔
نجران کے وفد کا پس منظر، صرف ضروری حد تک
نجران کے حوالے سے بخاری 4380 ایک تفصیلی روایت پیش کرتی ہے۔ اس میں نجران کے دو سرداروں، العاقب اور السید، کا نام آتا ہے، اور روایت کے شروع میں مباہلہ کا پس منظر ہے۔ چونکہ مباہلہ اور آیت 3:61 حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پہلے مضمون میں آ چکے ہیں، یہاں اس گفتگو کو دوبارہ بیان کرنے کے بجائے صرف وہ حصہ یاد رکھیں گے جو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے اس مضمون سے متعلق ہے:
قَالَا إِنَّا نُعْطِيكَ مَا سَأَلْتَنَا، وَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا أَمِينًا، وَلَا تَبْعَثْ مَعَنَا إِلَّا أَمِينًا. فَقَالَ: لأَبْعَثَنَّ مَعَكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ. فَاسْتَشْرَفَ لَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ: قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ
«دونوں نے کہا: ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ دیں گے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے مانگا، اور ہمارے ساتھ ایک امین آدمی بھیجیے، اور ہمارے ساتھ امین کے سوا کسی کو نہ بھیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ضرور تمہارے ساتھ ایک امین آدمی بھیجوں گا، حق امین۔ صحابہ اس کے لیے متوجہ ہوئے، تو فرمایا: اے ابو عبیدہ بن الجراح، اٹھو۔» (صحیح بخاری، حدیث 4380)
بخاری 4380 میں آنے والا «جو طلب کیا گیا وہ ہم دیں گے» کا مضمون اور امین نمائندہ مانگنا ایک زیادہ تفصیلی متن کا حصہ ہے۔ بخاری 3745 اور مسلم 2420a مختصر نقلیں ہیں۔ ان روایات کا مشترکہ مرکز امانت دار شخص کا انتخاب ہے؛ مگر ہر متن کا حوالہ الگ ہے۔ یہ احتیاط صرف حدیث کے نمبر صحیح لکھنے کے لیے نہیں، بلکہ سیرت کو دیانت کے ساتھ بیان کرنے کے لیے ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ بخاری 4380 کتاب المغازی کے اندر نجران کے واقعے کے باب میں درج ہے، مگر اس روایت کا یہ حصہ کسی غزوے یا جنگ کا بیان نہیں۔ اس میں وفد، مباہلہ کا پس منظر، امانت دار نمائندے کی درخواست اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا انتخاب ہے۔ ہم مضمون کو اسی سفارتی اور تعلیمی ذمہ داری تک محدود رکھ رہے ہیں؛ کسی فوجی مہم کی تفصیل شامل نہیں کر رہے۔
حدیث یہ نہیں بتاتی کہ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے نجران میں کتنے دن گزارے، ان سے کس کس نے ملاقات کی، کیا لکھا گیا، یا وہاں کے ہر مسئلے کا فیصلہ کیسے ہوا۔ ان سوالات کا جواب کسی اور مستند تاریخی ماخذ سے تلاش کیا جا سکتا ہے، لیکن اس مضمون میں حوالہ شدہ حدیث کے نام پر جواب نہیں گھڑا جائے گا۔ ماخذ کی خاموشی کو اندازے سے بھرنے کے بجائے اسے واضح کرنا قاری کے اعتماد کو قائم رکھتا ہے۔
«امین الامۃ» کا مفہوم
صحیح بخاری 3744 میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا، وَإِنَّ أَمِينَنَا أَيَّتُهَا الأُمَّةُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ
«ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے، اور اے امت، ہمارا امین ابو عبیدہ بن الجراح ہے۔» (صحیح بخاری، حدیث 3744؛ صحیح مسلم 2419a)
صحیح مسلم 2419a میں بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہی بنیادی مضمون انہی الفاظ میں منقول ہے۔ یہ ایک عام فضیلت والی روایت ہے؛ اسے نجران کے وفد کے واقعے کے ساتھ ایک ہی وقت کی گفتگو نہ سمجھا جائے۔
«امین» کا عام مفہوم وہ ہے جس کے پاس امانت رکھی جا سکے، جو سچائی اور بھروسے کے قابل ہو۔ حدیث حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک نمایاں شہادت ہے۔ مگر اس لقب کو کسی انتظامی عہدے، گورنر کے منصب، یا تمام امور کے سرکاری حکم کے طور پر سمجھنا روایت سے زیادہ کہنا ہوگا۔ متن ان کی امانت کی فضیلت کو ظاہر کرتا ہے؛ کسی جدید دفتر کا نام نہیں دیتا۔
امانت صرف پیسہ سنبھالنے کا نام بھی نہیں۔ کسی کا پیغام ٹھیک لفظوں میں پہنچانا، اس کے معاہدے میں خیانت نہ کرنا، کسی کی نجی بات کو بے اجازت نہ پھیلانا، گواہی دیتے وقت سچ بولنا، اور اپنی ذمہ داری کو اپنی مرضی کے مطابق بدل نہ دینا؛ یہ سب امانت کے عام معانی میں شامل ہیں۔ یہ مثالیں دینی اخلاق کی سمجھ کے لیے آج کی تشریح ہیں؛ بخاری 3744 ان سب کی الگ فہرست نہیں بناتی۔ حدیث کا سیدھا پیغام حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی امانت داری کی نبوی تصدیق ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی شخص کو امانت دار کہنا اس کے لیے عزت کے ساتھ بوجھ بھی ہوتا ہے۔ لوگ اس پر زیادہ بھروسا کر سکتے ہیں، اور جس کا نام کسی پیغام کے ساتھ جڑا ہو اس کی غلطی کا اثر دوسروں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امانت صرف شخص کی تعریف نہیں؛ ایک سماجی بھروسے کا رشتہ ہے۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا نجران کے لیے بھیجا جانا اس رشتے کا عملی پہلو دکھاتا ہے، جبکہ بخاری 3744 اور مسلم 2419a اس کی فضیلت کو عام الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔
اس حدیث سے یہ بھی نہیں نکلتا کہ امت کے باقی افراد امین نہیں، یا ایک صحابی کی فضیلت دوسرے صحابہ کی فضیلت کو کم کرتی ہے۔ روایت ایک خاص صحابی کی خاص صفت کو بیان کرتی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مقامات اور فضائل مختلف روایات میں مختلف انداز سے آتے ہیں۔ مقابلہ اور تنازع پیدا کرنے کے بجائے، ہر روایت کو اس کے اپنے مضمون کے ساتھ قبول کرنا زیادہ مناسب ہے۔
یمن کا الگ وفد: تعلیم اور سنت
صحیح مسلم 2419b میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک دوسرا منظر روایت ہوا ہے۔ یمن کے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی کہ ہمارے ساتھ ایسا شخص بھیجیے جو ہمیں سنت اور اسلام سکھائے۔
ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمْنَا السُّنَّةَ وَالإِسْلَامَ. قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ فَقَالَ: هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ
«ہمارے ساتھ ایک آدمی بھیجیے جو ہمیں سنت اور اسلام سکھائے۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: یہ اس امت کا امین ہے۔» (صحیح مسلم، حدیث 2419b)
یہ نجران کے وفد کی روایت سے الگ ہے: یہاں لوگ یمن سے ہیں، ان کی درخواست تعلیم کی ہے، اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کا ہاتھ پکڑنا بھی آتا ہے۔
یمن کی روایت کا مقصد تعلیم اور سنت کی نشر و اشاعت کو سامنے لانا ہے۔ لوگ علم سیکھنا چاہتے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے ایسا شخص منتخب کرتے ہیں جسے امین قرار دیا گیا۔ اس سے ہمیں علم دینے اور علم لینے دونوں کی اہمیت نظر آتی ہے: استاد صرف معلومات نہیں دیتا؛ وہ اپنی زبان اور کردار سے دین کی سمجھ کو متاثر کرتا ہے۔ یہ حدیث کا مفہوم سمجھنے سے نکلا ہوا درس ہے؛ روایت یہ نہیں بتاتی کہ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے وہاں کس طرح پڑھایا یا کتنے شاگرد تھے۔
یمن کی روایت کو نجران کے مشن کا تسلسل کہنا بھی صحیح نہیں ہوگا، کیونکہ حدیث انہیں الگ لوگوں اور الگ طلب کے ساتھ روایت کرتی ہے۔ دونوں موقعوں پر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا انتخاب اور امانت کا مضمون ملتا ہے؛ مگر ایک ہی سفر، ایک ہی تاریخ یا ایک ہی وفد کا کوئی بیان ان ماخذ میں نہیں۔ اسی طرح بخاری 3744 کا عام «ہر امت کا امین» والا جملہ بھی ان دونوں وفود کے کسی ایک مخصوص وقت کو ثابت نہیں کرتا۔
علم پہنچانا امانت کا ایک گہرا پہلو ہے۔ استاد کو معلومات میں اضافہ یا کمی اپنی پسند سے نہیں کرنی چاہیے؛ جو بات قرآن یا صحیح سنت کی ہے اسے وہی کہنا، جہاں اختلاف یا غیر یقینی ہو وہاں واضح کرنا، اور اپنی رائے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہ بنا دینا؛ یہ سب علم کی امانت کے اصول ہیں۔ یہ مضمون کی تشریح ہے، کسی ایک حدیث کا لفظی اقتباس نہیں۔ مگر یمن کے لوگوں کی درخواست اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ پر بھروسا اس بحث کو قدرتی طور پر جوڑتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف کسی کو «معلم» کہہ کر نہیں بھیجا؛ مسلم 2419b کے لفظ میں اسے «امین» کہا۔ یعنی تعلیم کی ذمہ داری اور کردار ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ آج کا قاری اس سے یہ سمجھ سکتا ہے کہ علم دینے والے کا اخلاص اور دیانت بھی اہم ہے۔ یہ سبق کسی مستند دلیل کے بغیر کسی پر الزام لگانے کا جواز نہیں، اور نہ ہر استاد کی نیت کا فیصلہ کرنے کا۔ اصل نکتہ اپنے علم اور اپنی امانت پر نظر رکھنا ہے۔
دین کی تعلیم کا سفر سچائی اور علم کی امانت مانگتا ہے۔
قرآن میں امانت: آیت اور حدیث کا فرق
قرآنِ کریم سورۃ النساء 4:58 میں اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مستحق لوگوں تک پہنچاؤ، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو۔ آیت کا متعلقہ حصہ ہے:
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا
«بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک ادا کرو۔» (سورۃ النساء 4:58)
اس آیت کو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے نجران کے سفر کا سببِ نزول کہنے کی کوئی دلیل یہاں نہیں دی جا رہی۔ یہ قرآنی عام اصول ہے، جبکہ حدیث ایک خاص صحابی کے انتخاب اور فضیلت کا ذکر کرتی ہے۔
یہ فرق قاری کے لیے بہت مفید ہے۔ قرآن کی آیت اللہ کا کلام ہے اور اس کا اپنا سیاق اور تفسیر ہے؛ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یا عمل ہے جو روایت کے ذریعے ہم تک پہنچا؛ سیرت/تاریخ کسی واقعے کا بیان ہو سکتی ہے؛ اور ہمارا اخلاقی سبق ان ماخذ کو پڑھ کر نکلی تشریح ہے۔ ان سب کو ایک ہی درجے میں رکھ دینا الجھن پیدا کرتا ہے۔ اس مضمون میں «امین الامۃ» کی تعریف حدیث ہے، امانت کا قرآنی حکم سورۃ النساء میں، اور آج کے دفتر یا درس گاہ کی مثالیں ہماری تطبیق ہیں۔
قرآن 4:58 میں امانت کے ساتھ انصاف کا ذکر بھی آتا ہے۔ یہ یاددہانی دیتا ہے کہ بھروسے مند ہونا صرف دوست یا اپنے گروہ کے حق میں سچ بولنا نہیں؛ فیصلہ کرتے وقت انصاف کا لحاظ بھی ضروری ہے۔ نجران کی روایت میں حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو امانت دار بنا کر بھیجنے کا ذکر ہے، مگر اس روایت کے اندر کسی مخصوص مقدمے کا فیصلہ بیان نہیں۔ اس لیے آیت اور حدیث کو معنوی طور پر قریب رکھتے ہوئے بھی ہم یہ نہیں کہیں گے کہ حدیث کا سفر اس آیت کی براہِ راست تفسیر ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نمائندے کی ذمہ داری آج کے ہر سفیر، معلم، نمائندے یا عہدے دار سے بالکل ایک جیسی نہیں ہوتی؛ زمانے اور کردار کا فرق ہوتا ہے۔ مگر امانت اور انصاف کے بنیادی اصول ہر دور میں متعلقہ ہیں۔ کسی نمائندے کو چننے سے پہلے اس کی سچائی، اہلیت اور غیر جانبداری کو دیکھنا؛ ذمہ داری ملنے کے بعد اسے مدد اور جوابدہی دینا؛ اور نتیجے کو اپنے فائدے کے لیے مسخ نہ کرنا؛ یہ عملی غور و فکر ہے، حدیث کی لفظی تفصیلات نہیں۔
سیرت کی دیانت: روایت جتنا کہتی ہے اتنا ہی کہنا
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کئی مشہور سوانحی قصے آن لائن ملتے ہیں۔ اس مضمون کا مقصد ہر مشہور قصے کو جمع کرنا نہیں؛ بلکہ صحیح حدیث کے حوالے سے ایک محدود نبوی دور کے موضوع کو سمجھنا ہے۔ اس لیے ان کے والد کے ساتھ مخالفت، ہجرت کی تفصیل، کسی جنگ کا قصہ، یا بعد کے سیاسی اور انتظامی واقعات یہاں نہیں جوڑے جائیں گے۔ کچھ روایات کی صحت، الفاظ یا تاریخ پر الگ تحقیق درکار ہوتی ہے۔ اگر مستحکم بنیادی ماخذ نہ ہو تو انہیں یقین کے ساتھ پیش کرنا دیانت نہیں۔
اسی احتیاط کے تحت ہم نجران کی ملاقات کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مضمون میں بیان شدہ مباہلہ کے واقعے کے ساتھ خلط نہیں کر رہے۔ بخاری 4380 کی روایت دونوں کو ایک وسیع بیان میں رکھتی ہے، مگر ہمارا استعمال حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے انتخاب تک محدود ہے۔ پہلے مضمون کے قاری کو یہاں وہی مباہلہ کی تفصیلات پھر سے نہیں ملیں گی۔ یہ حوالہ صرف اتنا بتاتا ہے کہ ماخذ کا ایک پہلو پہلے سمجھا دیا گیا؛ یہاں نیا پہلو بھروسے پر مبنی تقرری ہے۔
حدیث نمبر کو بھی صاف لکھنا چاہیے۔ صحیح بخاری 3744 اور مسلم 2419a میں عمومی امین والی فضیلت ہے؛ بخاری 3745 اور مسلم 2420a نجران کی درخواست اور انتخاب سے متعلق ہیں؛ بخاری 4380 نجران کی روایت کا تفصیلی متن ہے؛ مسلم 2419b یمن کے لوگوں کی تعلیم والی درخواست ہے۔ مختلف نسخوں میں نمبرنگ یا کتاب کے اندر مقام کا فرق ہو سکتا ہے، اس لیے مجموعہ اور قابلِ شناخت حدیث نمبر دونوں لکھے گئے ہیں۔ ان روایات کے راوی بھی مختلف ہیں: عام فضیلت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، اور نجران کی روایات حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں۔
ایک اور ضروری بات: لقب «امین الامۃ» کو بعد کے قصوں میں ہر جگہ لفظی اقتباس کے طور پر نہ پھیلایا جائے۔ جہاں حدیث کے ٹھیک الفاظ ہیں، اسی کو نقل کریں؛ جہاں ہم اس سے اخلاقی معنی نکالتے ہیں، اسے «سبق» یا «تشریح» کہیں۔ حدیث کا ادب یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب لفظوں کو اپنی تحریر سے الگ رکھا جائے۔ اس طرح قاری کو معلوم رہتا ہے کہ عربی متن کہاں ختم ہوا اور مصنف کی وضاحت کہاں شروع ہوئی۔
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے انتخاب کا منظر چھوٹا ہے، لیکن اس میں سیرت کے لیے ایک گہرا پیغام ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے درمیان امانت کو پہچانتے اور اس پر ذمہ داری رکھتے ہیں۔ نجران کے لیے بھیجنے کی روایت اس بھروسے کو عملی ذمہ داری میں تبدیل کرتی ہے؛ یمن کی روایت اسے تعلیم کے کام سے جوڑتی ہے؛ اور عام حدیث اس فضیلت کو وسیع بیان میں پیش کرتی ہے۔ یہ تین ماخذی دھارے ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں، مگر ہر ایک کا اپنا سیاق محفوظ رہنا چاہیے۔
بھروسا تب روشن ہوتا ہے جب ذمہ داری سچائی سے ادا کی جائے۔
آج کے قاری کے لیے سبق
پہلا سبق یہ کہ بھروسا صرف اچھے الفاظ سے نہیں، ذمہ داری ادا کرنے سے ثابت ہوتا ہے۔ نجران کے لوگوں نے امین شخص کی درخواست کی؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ حدیث ان کے انتخاب کو محفوظ کرتی ہے، اور ہمیں یاد دلاتی ہے کہ نمائندے کا کردار اسے بھیجنے والے کی عزت اور پیغام سے جڑا ہوتا ہے۔ آج ہم کسی کی طرف سے بات کرتے وقت اس کی بات کو صحیح پہنچائیں، اپنی طرف سے وعدہ نہ گھڑیں اور اختلاف کو چھپائیں نہیں۔
دوسرا سبق علم کی امانت ہے۔ یمن کے لوگوں نے سنت اور اسلام سیکھنے کے لیے معلم مانگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ بھیجا اور ان کی امانت کی تصدیق فرمائی۔ آج کوئی بھی دین کی بات سکھاتا ہو تو اسے اپنے علم کی حدود سمجھنی چاہییں، حوالہ دینا چاہیے، اور جہاں نہ معلوم ہو وہاں پوچھنا چاہیے۔ قرآن، صحیح حدیث، سیرت کی روایت اور اپنی سمجھ کو الگ نام سے بیان کرنا بھی علم کی دیانت ہے۔
تیسرا سبق ذمہ داری سونپنے اور جوابدہی کا توازن ہے۔ امانت دار شخص کو ذمہ داری دینا ضروری، مگر ہر ذمہ داری کے ساتھ واضح مقصد، ضروری علم اور حقیقی جوابدہی بھی ہونی چاہیے۔ یہ نظمِ اجتماعی پر آج کا غور ہے، حدیث کا براہِ راست ضابطہ نہیں۔ روایت ہمیں ایک چھوٹا انتخاب دکھاتی ہے؛ ہم اس سے بڑے ڈھانچے کو اپنی طرف سے حدیث کا لفظ کہہ کر پیش نہیں کرتے۔
چوتھا سبق یہ ہے کہ مضمون کی تکرار سے بچنے کے لیے ماخذ کو صحیح جگہ پر رکھیں۔ مباہلہ کے مضمون میں قرآنی واقعے کا پہلو تھا؛ یہاں نجران کے لیے امین نمائندے کا انتخاب۔ ایک ہی تاریخی پس منظر میں دو الگ سبق ہو سکتے ہیں۔ اگر ہر دفعہ پورا پہلا قصہ دوبارہ سنایا جائے تو قاری کا وقت ضائع ہوتا ہے اور نئی بات کم نمایاں ہوتی ہے۔ حوالہ دے کر مرکزی نکتے پر قائم رہنا زیادہ صاف طریقہ ہے۔
خلاصہ
حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کے بارے میں صحیح بخاری 3744 اور صحیح مسلم 2419a انہیں امت کا امین قرار دینے والی عام فضیلت روایت کرتے ہیں۔ بخاری 3745 اور مسلم 2420a نجران کے لوگوں کی امین نمائندے کی درخواست اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے انتخاب کا ذکر کرتے ہیں۔ بخاری 4380 اسی واقعے کا تفصیلی متن ہے، جس کا مباہلہ کا پس منظر پہلے مضمون میں بیان ہو چکا؛ یہاں اسے دوبارہ نہیں دہرایا۔ مسلم 2419b ایک الگ یمنی وفد کو سنت اور اسلام سکھانے کے لیے شخص بھیجنے کی درخواست محفوظ کرتی ہے۔ ان روایات کو ایک سفر میں ملائے بغیر پڑھنے پر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی امانت، تعلیم اور نبوی اعتبار کا پیغام سامنے آتا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ «امین الامۃ» کا لقب کس حدیث میں آتا ہے؟
صحیح بخاری 3744 اور صحیح مسلم 2419a میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو اس امت کا امین قرار دیا۔
۲۔ نجران کے وفد نے کیا درخواست کی تھی؟
بخاری 3745 اور مسلم 2420a کے مطابق انہوں نے اپنے ساتھ ایک امین شخص بھیجنے کو کہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو منتخب فرمایا۔
۳۔ کیا یمن اور نجران کی روایات ایک ہی سفر کا ذکر کرتی ہیں؟
نہیں۔ مسلم 2419b یمن کے لوگوں کی سنت اور اسلام سکھانے کی درخواست ہے؛ نجران کی روایات الگ وفد اور الگ سیاق بیان کرتی ہیں۔
۴۔ کیا یہ نجران کا واقعہ مباہلہ کے مضمون میں بھی آیا تھا؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مضمون نمبر ۴ میں مباہلہ کا پس منظر بیان ہوا تھا۔ یہاں اس قصے کی تکرار نہیں؛ صرف حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے انتخاب اور امانت کی ذمہ داری پر توجہ ہے۔
کتابیں اور حوالے
- صحیح بخاری، حدیث 3744: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے «ہر امت کا امین» والی روایت۔
- صحیح بخاری، حدیث 3745: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نجران کے لیے امین شخص بھیجنے کا ذکر۔
- صحیح بخاری، حدیث 4380: نجران کے وفد کا تفصیلی متن؛ مباہلہ کا پس منظر پہلے مضمون میں بیان ہو چکا ہے۔
- صحیح مسلم، حدیث 2419a: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی عمومی امانت کی فضیلت۔
- صحیح مسلم، حدیث 2419b: یمن کے لوگوں کی سنت اور اسلام سکھانے والے شخص کی درخواست۔
- صحیح مسلم، حدیث 2420a: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نجران کے وفد کی امین شخص کی درخواست اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا انتخاب۔
- القرآن الکریم، سورۃ النساء 4:58: امانت حق دار تک پہنچانے اور انصاف سے فیصلہ کرنے کا عام حکم۔
حدیث کے مختلف متون، قرآنی اصول اور مصنف کے سبق کو الگ رکھا گیا ہے۔ بخاری 4380 کا مباہلہ کا پس منظر یہاں تفصیل سے دہرایا نہیں گیا۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment